جہلم شہر و گردونواح میں میرج ہال و میرج گارڈن ون ڈش کی خلاف ورزی میں نمایاں حیثیت اختیار کر لی

جہلم(چوہدری عابد محمود +چوہدری ظفرنور)جہلم شہر و گردونواح میں میرج ہال و میرج گارڈن ون ڈش کی خلاف ورزی میں نمایاں حیثیت اختیار کر لی ، میرج ہال و میرج گارڈن مالکان نے فی کس نرخ بھی بڑھا دئیے، کمیونٹی ہال نہ ہونے اور سکولوں میں نکا ح کی تقریب پر پابندی عائد ہونے سے میرج ہال و میرج گارڈن والوں کی چاندی ، نچلے اور درمیانے طبقے کے والدین زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، میرج ہالز وو میرج گارڈنز میں 5 سے 7 چٹ پٹے کھانوں کی ڈشز تیار کر کے مہمانوں کی تواضع کی جاتی ہے، انتظامیہ نے میرج گاڑونز و میرج ہالز مالکان کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کر رکھی ہے شہریوں کا وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کیمطابق جہلم شہر و گردونواح میں شادیوں کاموسم شروع ہونے کے ساتھ ہی میرج ہال و میرج گارڈن مالکان نے حکومتی احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے اپنے ضابطے لاگو کر دئیے ہیں ۔ قانون کے مطابق پنجاب حکومت نے ون ڈش کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کرنے کا عندیہ دے رکھا ہے جبکہ جہلم میں موجود میرج ہال و میرج گارڈن کے مالکان نے چٹ پٹے مختلف کھانوں کی ڈشز تیار کرنے کی بکنگ شروع کر رکھی ہے ۔جبکہ ان میرج ہال و میرج گارڈن میں دولہا یا دولہن والے اپنا کھانا خود تیار کر کے مہمانوں میں تقسیم نہیں کروا سکتے ،میرج ہال و میرج گارڈن مالکان ان پارٹیوں کو ترجیح دیتے ہیں جو ایک سے زیادہ ڈشیں تیار کروائے ،مزید برآں میرج ہال مالکان نے فی کس نرخوں میں ڈشز کی زیادتی کے باعث خود ساختہ اضافہ کر دیا ہے جو 500 سو سے 1500 سو روپے تک کم از کم نرخ ہیں اگر سالم دنبہ ، سالم بکرا ، تیتر بٹیر، بکرا سجی، دنبہ سجی وغیرہ کے آرڈر دئے جائیں تو نرخوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا جاتا ہے ۔ میرج ہال مالکان و میرج گارڈن کے مطابق ون ڈش یا بغیر کھانے کی بکنگ سے انکے منافع میں واضح کمی آتی ہے ، جہلم شہر و گردونواح میں اے ، بی اور سی گریڈ کے درجنوں میرج ہال و میرج گارڈن موجود ہیں جنہوں نے آپس میں صلح مشورہ کر کے شہریوں کی چمڑی ادھیڑنا شروع کر رکھی ہے ۔ میرج ہال و میرج گارڈن والوں کے بھاری نرخ اور نخروں کیوجہ سے نچلے اور درمیانے طبقے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے، جہلم شہر میں کمیونٹی ہال نہ ہونے اور محکمہ تعلیم کی جانب سے سکولوں میں نکاح کی تقریب پر پابندی کیوجہ سے شہریوں کو میرج ہال و میرج گارڈن کے مالکان اور انتظامیہ کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑتے ہیں، شہری علاقوں میں کھلی جگہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے شادی بیاہ کی تقاریب منعقد کرنے میں شہریوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ جو والدین قانون کے مطابق ون ڈش کے قانون پر عمل کرنا چاہتے ہیں یا مہمانوں کے لئے خود کھانا تیار کروانے کی خواہش رکھتے ہیں انہیں بااثر میرج ہال و میرج گارڈن کے مالکان ٹرخا دیتے ہیں کیونکہ اس طرح انکی آمدنی میں کمی آتی ہے عوامی سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے میرج ہالز و میرج گارڈنز کے مالکان کے خلاف قانون کے مطابق سخت سے سخت کارروائی کی جائے جو ون ڈش فروخت کرنے کی بجائے رنگ برنگی ڈشیں فروخت کر کے غریب اور سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے والدین کے ساتھ بھونڈا مذاق کر رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ تعلیم کے ارباب اختیار نے سکولوں کی عمارتوں اور صحنوں میں نکاح کی تقاریب منعقد کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس کی وجہ سے غریب والدین معاشی بدحالی کے دور میں میرج ہالز و میرج گارڈن مالکان کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہیں اورشہریوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت ایسی اجتماعی تقاریب کے لئے خصوصی منصوبہ بندی کرے اورشہر کے عین وسط اور مضافاتی علاقوں میں کمیونٹی ہال تعمیر کروائے تاکہ شہری اپنے بچوں ، بچیوں کے ہاتھ پیلے کر سکیں ۔

x

Check Also

تھانہ سول لائن پولیس کے دبنگ سب انسپکٹر راجہ سرفراز کی کاروائی بدنام زمانہ منشیات فروش خاتون عاصمہ گرفتار

جہلم(عامر کیانی)تھانہ سول لائن پولیس کے دبنگ سب انسپکٹر راجہ سرفراز کی کاروائی بدنام زمانہ ...

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow