پوٹن کے دورے سے قبل گذشتہ ہفتے حکومتِ روس اعلان کر چکی ہے کہ روس اور مصر نے سمجھوتے کا ایک مسودہ تیار کیا ہے جس کے تحت روسی طیارے مصر کے فوجی اڈے استعمال کر سکیں گے

پوٹن کا دورہ مصر، دفاع سمیت کئی شعبہ جات میں سمجھوتے متوقع

پوٹن کے دورے سے قبل گذشتہ ہفتے حکومتِ روس اعلان کر چکی ہے کہ روس اور مصر نے سمجھوتے کا ایک مسودہ تیار کیا ہے جس کے تحت روسی طیارے مصر کے فوجی اڈے استعمال کر سکیں گے

روس کا کہنا ہے کہ صدر ولادیمیر پوٹن آئندہ ہفتے مصر کا دورہ کریں گے، جس دوران سیاسی، معاشی، توانائی اور تجارتی تعلقات کو وسعت دینے پر گفتگو ہوگی۔

پیر کے روز ہونے والے دورہ مصر کے دوران، روسی سربراہ مصر کے صدر عبدالفتح السیسی سے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں استحکام اور سلامتی سے متعلق امور پر بات چیت کریں گے۔

پوٹن کے دورے سے قبل گذشتہ ہفتے روسی حکومت اعلان کر چکی ہے کہ روس اور مصر نےسمجھوتے کا ایک مسودہ تیار کیا ہے، جس کے تحت روسی طیارے مصر کے فوجی اڈے استعمال کر سکیں گے۔

یہ سمجھوتا شام میں روس کی فوجی مہم جوئی کے بعد ہو رہا ہے، جن روسی کوششوں کا مقصد خطے میں فوجی نقش قدم جمانا ہے۔

سیسی کے دور میں مصر نے روس کے ساتھ فوجی تعلقات کو فروغ دیا ہے اور روسی ہتھیار خریدنے کے لیے متعدد سمجھوتوں پر دستخط کیے ہیں۔

x

Check Also

وائٹ ہاؤس کا روس کے خلاف نئی تعزیرات عائد کرنے پر غور: عہدیدار

وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ روس پر اضافی تعزیرات عائد کرنے کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کے ساتھ وہ نومبر میں ہونے والے کانگرس کے انتخابات میں ممکنہ مداخلت کو روکنے کے لیے بھی تیار ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹس اراکین 2016ء کے انتخاب میں مداخلت کے معاملے پر کانگرس کی طرف سے منظور کردہ تعزیرات روس پر عائد نا کرنے کی وجہ سے صدر ٹرمپ پر تنقید کر چکے ہیں۔ عہدیداروں نے بدھ کو کہا کہ قانونی وجوہات کی بنا پر تعزیرات عائد کرنے کا عمل آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے اور (وہ) تنقید اور میڈیا پر آنے والی خبروں پر ردعمل کا اظہار نہیں کر سکتے ہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ "تعزیرات کا طریقہ کار طویل ہے۔ یہ ایک مشکل عمل ہے، اتنا اچھا نہیں ہے۔ لیکن جب شواہد موجود ہوں ۔۔۔ تو تعزیرات عائد کر دی جاتی ہیں۔" دوسری طرف بد ھ کو ہی صدر ٹرمپ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اوباما کی سابق انتظامیہ کو 2016 ء میں روسی مداخلت کو نا روکنے پر تحقیقات کا کیوں سامنا نہیں ہے۔ تاہم وہ ایسا کوئی مطالبہ کرنے سے رک گئے کہ اٹارنی جنرل جید سیشنز اوباما کے دور کے وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ کی تحقیقات کریں۔ ٹرمپ نے اپنی مہم کے عہدیداروں کے روسیوں کی ساتھ مبینہ ساز باز کے معاملے کی فوجداری تحقیقات سے توجہ ہٹانے کے لیے اوباما انتظامیہ کی بات کی جو 2016ء میں برسر اقتدار تھی۔ ٹرمپ اس بات سے بھی نالاں ہیں کہ سیسثنز نے محکمہ انصاف کی طرف سے کیے جانے والے تحقیقاتی عمل سے خود کو کیوں الگ کر لیا تھا کیونکہ 2016ء میں وہ بھی واشنگٹن میں روس سفیر کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ٹرمپ کا یہ بیان خصوصی وکیل رابرٹ میولر کی طرف سے گزشتہ ہفتے 13 روسی شہریوں اور تین اداروں کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ وہ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ’’انتخابات اور سیاسی عمل سے متعلق کارروائیوں‘‘ میں ملوث رہی ہے۔ اپنی صدارت کے آخری ہفتے کے دوران اوباما نے انتخاب میں مداخلت کرنے پر نو روسی افراد اور اداروں کے خلاف تعیزات عائد کی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ اوباما نے 35 روسی حکومت کے عہدیداروں کو ملک بدر کر دیا تھا اور دو کمپاؤنڈ کو بھی بند کر دیا تھا جن کے بارے میں امریکہ نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں روسی خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow