بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی دو بستیاں ہیں جن میں لگ بھگ چار لاکھ افراد آباد ہیں۔

کوئٹہ: ہزارہ برادری پر حملے، ٹارگٹ کلنگ ختم کرنے کا دعویٰ

پاکستان کے صوبے بلوچستان کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں شیعہ، بالخصوص ہزارہ برادری کو ہدف بنا کر کارروائیاں کر نے والے عناصر کے خلاف سکیورٹی اداروں نے بھرپور کاروائیاں کی ہیں جس کی وجہ سے اب صوبائی دارالحکومت میں ہزارہ برادری کے لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ تقریباً ختم ہوگئی ہے۔

صوبائی وزیرِ داخلہ میر سر فراز بگٹی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ہزارہ برادری کے لوگوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا قلع قمع کردیا گیا ہے جس کے باعث اب ان کے بقول دیگر لوگوں کی طرح ہزارہ برادری کے افراد بھی کافی راحت محسوس کر رہے ہیں۔

انہوں نے اسے اپنی حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہزارہ برادری کے لوگوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ قتل کیا جارہا تھا جس کے باعث یہ برادری تنہائی محسوس کر رہی تھی۔

سرفراز بگٹی نے الزام عائد کیا کہ ہزارہ برادری کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ پر سابق صوبائی حکومتوں کی کارکردگی شفاف اور انصاف پر مبنی نہیں تھی لیکن اب ان کے بقول معاملات بہتر ہورہے ہیں۔

بلوچستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی ہزارہ برادری کے لوگوں پر بعض شدت پسند کالعدم تنظیموں کی طرف سے متعدد خودکش حملے کیے گئے جب کہ اس برادری کے افراد کو ہدف بنا کر بھی قتل کیا جاتا رہا۔ ان حملوں میں مرد و خواتین اور بچوں سمیت سیکڑوں لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کے باعث حالیہ چند ماہ کے دوران ہزارہ برادری پر خودکش حملے کی کئی کوششیں ناکام بنائی جاچکی ہیں جب کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کی بدولت ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کا تناسب بھی کافی کم ہوا ہے۔

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ضلع کو ئٹہ کے صدر بوستان علی ہزارہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف جو کاروائیاں کر رہے ہیں انہیں جاری رکھتے ہوئے مزید اقدامات بھی کر نے چاہئیں۔

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی دو بستیاں ہیں جن میں لگ بھگ چار لاکھ افراد آباد ہیں۔

ایک دہائی قبل تک کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں اس برادری کے لوگوں کی سیکڑوں دُکانیں ہوا کرتی تھیں۔ لیکن مسلسل ٹارگٹ کلنگ کے بعد اب مرکزی بازاروں میں اس برادری کے لوگوں کی تقریباً تمام دُکانیں بند ہوچکی ہیں۔

خودکش حملوں اور ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کے باعث اس برادری کے ہزاروں نوجوان مغربی ممالک کا رُخ کرچکے ہیں جب کہ بعض اندرونِ ملک ہی نسبتاً پرامن شہروں میں منتقل ہوچکے ہیں۔

Leave a Reply

x

Check Also

آج رات آسمان پر روشنیوں کی بارش ہو گی

اگر آپ دنیا کے شمالی حصے میں ہیں تو آپ کے لیے خوش خبری یہ ہے کہ آج یعنی بدھ کی رات کی آپ آسمان پر دم دار ستاروں کے جھرمٹ اور دل لکش روشنیوں کی چمک دمک کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ یہ خوبصورت منظر دیکھنے کے لیے آپ کو کسی دور بین کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنے کمرے کی کھڑکی سے بھی اس خوبصورت منظر کا لطف اٹھا سکتے ہیں ۔ بس شرط یہ ہے کہ آسمان صاف ہو اور اس پر بادل نہ ہوں۔ یہ خوبصورت منظر ان لوگوں کے لیے ایک شاندار موقع ہے آسمان پر ٹوٹتے ستارے کو دیکھ کر دعا مانگتے ہیں۔ کیونکہ انہیں تقریباً ہر ایک منٹ کے بعد آسمان پر ٹوٹتے ہوئے ستارے نظر آئیں گے اور ان کی چکاچوند آنکھوں کو خیرہ کر دے گی۔ اگر آسمان صاف اور تاریک ہو۔ اردگرد بھی روشنی کم ہو تو کبھی کبھار آسمان سے روشنی کی ایک چمکدار لکیر تیزی سے زمین کی جانب بڑھتی اور اچانک غائب ہوتی ہوئی  نظر آتی ہے ، لیکن ایسا کم  ہی ہوتا ہے کہ روشنیوں کا مینہ برسنا شروع ہو جائے ۔ بدھ کی رات ایک ایسی ہی خاص رات ہے۔ آئرلینڈ کے فلکیاتی ماہرین کی تنظیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دم دار ستاروں کی بارش ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب آسمان پر چاند بھی نہیں ہوگا اس لیے یہ اس سال کا بہترین نظارہ ہوگا۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ یہ دم دار ستارے کیا ہوتے ہیں۔ اور ان میں اتنی روشنی اور چمک کہاں سے آتی ہے اور پھر وہ اچانک نظروں سے اوجھل ہو کر کہا ں چلے جاتے ہیں۔ اس سوال کا جواب بہت دلچسپ ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جنہیں آپ دم دار ستارہ کہتے ہیں، وہ سرے سے ستارا ہوتے ہی نہیں بلکہ وہ شہاب ثاقب ہوتے ہیں ۔ انہیں شہابیئے بھی کہا جاتا ہے۔ شہاب  ثاقت  خلا میں بھٹکتے ہوئے چٹانی ٹکڑے ہیں ۔ یہ ٹکڑے اسی مواد سے بنے ہیں جس سے كائنات کے دوسرے اجرام فلکی بنے ہیں۔ یہ ستاروں کے آپس میں ٹکرانے، یا تباہ ہو جانے کے بعد اپنے مرکز سے بچھڑ کر خلا میں بھٹکنے لگتے ہیں اور جب وہ کسی سیارے کے قریب سے گذرتے ہیں تو اس کی کشش انہیں اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔ ​ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین کے گرد ہوا کا ایک خلاف موجود ہے۔ یہ خلاف زمین پر زندگی کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ جب کسی شہاب ثاقب کو زمین کی کشش ثقل اپنی جانب کھینچتی ہے تو ہوا کی  رگڑ سے اس میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے ۔  اگر وہ تیز رفتار گولہ زمین سے ٹکرا جائے تو ہولناک تباہی لا سکتا ہے۔ جب ہمیں کوئی دم دار ستارہ تیزی سے زمین کی جانب بڑھتا اور غائب ہوتا ہوا نظر آتا ہے تو دراصل اس وقت وہ زمین کے کرہ ہوائی میں جل رہا ہوتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ شہابیوں کی اشکال مختلف ہوتی ہیں اور ان میں شامل عناصر اور اجزأ بھی اور سائز بھی مختلف ہوتے ہیں۔ جن شہابیوں کا قطر تین میل یا اس سے زیادہ ہو انہیں فلکیات کی زبان میں فائی تھون کہا جاتا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے ایک سائنس دان بل کک کا کہنا ہے کہ فائی تھون یا تو  کرہ ارض کے قریب خلا میں تیر  رہے ہیں یا وہ  کہکشاں کے کسی حصے سے بھٹکتے ہوئے زمین کے قریب آ جا تے ہیں۔     فلکیاتی ماہرین کے مطابق اس سال لوگوں کو دم دار ستاروں کی چمک دمک دیکھنے کا ایک اور موقع بھی ملے گا۔ آسمان کو روشنیوں سے نہلانے والی آج کی بارش کے تین دن بعد دم دار ستاروں کا ایک اور جھرمٹ زمین کے قریب سے گذرے گا۔ لیکن اس کا زمین سے ان کا فاصلہ تقریباً 64 لاکھ میل ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھ کی ر ات دم دار ستاروں کی بارش سے زمین کو کوئی خطر ہ نہیں ہے، لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مستقبل میں ایسا بدقسمت لمحہ آسکتا ہے جب کوئی فائی تھون زمین کے مدار میں داخل ہو جائے اور  میلوں بڑے سائز کی اس چٹان کو  زمین کا کرہ ہوائی اسے پوری طرح جلا نہ پائے ، تو پھر جب جلتا ہوا اور آگ اگلتا ہوا فائی تھون زمین سے ٹکرا ئے گا تو ایک قیامت کا منظر ہوگا اور لاکھوں افراد آناً فاناً ہلاک ہو جائیں گے۔ بدھ کی رات دم دار ستاروں کی بارش کا نظارہ آپ دنیا کے کسی بھی حصے سے دیکھ سکتے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ آسمان صاف ہو۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow