رضا خان دو دسمبر کو لاہور سے اس وقت لاپتا ہوئے تھے جب وہ اپنے گھر سے دفتر کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اس کے بعد اُن کا کسی سے رابطہ نہیں ہوا ہے۔

لاپتا پاکستانی کارکن کو بازیاب کرایا جائے: ایمنیسٹی انٹرنیشنل

انسانی حقوق کی ایک مؤقر بین الاقوامی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے لاہور سے لاپتا ہونے والے ایک سماجی کارکن رضا خان کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی حکام رضا خان کے بارے میں جاننے کے لیے فوری طور پر تمام ضروری اقدامات اور تحقیقات کریں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ حال ہی میں پاکستان سے کئی افراد لاپتا ہوئے، جنہیں جبری گمشدگیاں قرار دیا جا رہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر میں پاکستان اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب ہوا تھا اور اس نے وعدہ کیا تھا کہ عالمی سطحی پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود پاکستان میں لاپتا افراد سے متعلق تحقیقات میں ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے اور نہ ہی اب تک کسی کو ایسے واقعات کا ذمہ دار ٹہرایا گیا ہے۔

ایمنٹسی انٹرنیشنل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ رضا خان کی مبینہ گمشدگی کی خبر ایسے وقت آئی ہے جب لندن کے میئر صادق خان بھی لاہور میں ہیں اور توقع ہے کہ وہ اس معاملے کو پاکستانی حکام کے سامنے اٹھائیں گے۔

رضا خان دو دسمبر کو لاہور سے اس وقت لاپتا ہوئے تھے جب وہ اپنے گھر سے دفتر کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اس کے بعد اُن کا کسی سے رابطہ نہیں ہوا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ رضا خان ’’آغازِ دوستی‘‘ نامی غیر سرکاری تنظیم کے رکن ہیں جو پاکستان اور بھارت کے عوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔

رضا خان کی مبینہ گمشدگی پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر سماجی کارکن خاصی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

لاہور سے سماجی کارکن کی مبینہ گمشدگی کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے عدالت عظمیٰ کو بتایا تھا کہ اب بھی ملک میں 1498 لاپتا افراد کے کیسز حل ہونا باقی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد کی بازیابی اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔

Leave a Reply

x

Check Also

آج رات آسمان پر روشنیوں کی بارش ہو گی

اگر آپ دنیا کے شمالی حصے میں ہیں تو آپ کے لیے خوش خبری یہ ہے کہ آج یعنی بدھ کی رات کی آپ آسمان پر دم دار ستاروں کے جھرمٹ اور دل لکش روشنیوں کی چمک دمک کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ یہ خوبصورت منظر دیکھنے کے لیے آپ کو کسی دور بین کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنے کمرے کی کھڑکی سے بھی اس خوبصورت منظر کا لطف اٹھا سکتے ہیں ۔ بس شرط یہ ہے کہ آسمان صاف ہو اور اس پر بادل نہ ہوں۔ یہ خوبصورت منظر ان لوگوں کے لیے ایک شاندار موقع ہے آسمان پر ٹوٹتے ستارے کو دیکھ کر دعا مانگتے ہیں۔ کیونکہ انہیں تقریباً ہر ایک منٹ کے بعد آسمان پر ٹوٹتے ہوئے ستارے نظر آئیں گے اور ان کی چکاچوند آنکھوں کو خیرہ کر دے گی۔ اگر آسمان صاف اور تاریک ہو۔ اردگرد بھی روشنی کم ہو تو کبھی کبھار آسمان سے روشنی کی ایک چمکدار لکیر تیزی سے زمین کی جانب بڑھتی اور اچانک غائب ہوتی ہوئی  نظر آتی ہے ، لیکن ایسا کم  ہی ہوتا ہے کہ روشنیوں کا مینہ برسنا شروع ہو جائے ۔ بدھ کی رات ایک ایسی ہی خاص رات ہے۔ آئرلینڈ کے فلکیاتی ماہرین کی تنظیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دم دار ستاروں کی بارش ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب آسمان پر چاند بھی نہیں ہوگا اس لیے یہ اس سال کا بہترین نظارہ ہوگا۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ یہ دم دار ستارے کیا ہوتے ہیں۔ اور ان میں اتنی روشنی اور چمک کہاں سے آتی ہے اور پھر وہ اچانک نظروں سے اوجھل ہو کر کہا ں چلے جاتے ہیں۔ اس سوال کا جواب بہت دلچسپ ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جنہیں آپ دم دار ستارہ کہتے ہیں، وہ سرے سے ستارا ہوتے ہی نہیں بلکہ وہ شہاب ثاقب ہوتے ہیں ۔ انہیں شہابیئے بھی کہا جاتا ہے۔ شہاب  ثاقت  خلا میں بھٹکتے ہوئے چٹانی ٹکڑے ہیں ۔ یہ ٹکڑے اسی مواد سے بنے ہیں جس سے كائنات کے دوسرے اجرام فلکی بنے ہیں۔ یہ ستاروں کے آپس میں ٹکرانے، یا تباہ ہو جانے کے بعد اپنے مرکز سے بچھڑ کر خلا میں بھٹکنے لگتے ہیں اور جب وہ کسی سیارے کے قریب سے گذرتے ہیں تو اس کی کشش انہیں اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔ ​ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین کے گرد ہوا کا ایک خلاف موجود ہے۔ یہ خلاف زمین پر زندگی کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ جب کسی شہاب ثاقب کو زمین کی کشش ثقل اپنی جانب کھینچتی ہے تو ہوا کی  رگڑ سے اس میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے ۔  اگر وہ تیز رفتار گولہ زمین سے ٹکرا جائے تو ہولناک تباہی لا سکتا ہے۔ جب ہمیں کوئی دم دار ستارہ تیزی سے زمین کی جانب بڑھتا اور غائب ہوتا ہوا نظر آتا ہے تو دراصل اس وقت وہ زمین کے کرہ ہوائی میں جل رہا ہوتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ شہابیوں کی اشکال مختلف ہوتی ہیں اور ان میں شامل عناصر اور اجزأ بھی اور سائز بھی مختلف ہوتے ہیں۔ جن شہابیوں کا قطر تین میل یا اس سے زیادہ ہو انہیں فلکیات کی زبان میں فائی تھون کہا جاتا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے ایک سائنس دان بل کک کا کہنا ہے کہ فائی تھون یا تو  کرہ ارض کے قریب خلا میں تیر  رہے ہیں یا وہ  کہکشاں کے کسی حصے سے بھٹکتے ہوئے زمین کے قریب آ جا تے ہیں۔     فلکیاتی ماہرین کے مطابق اس سال لوگوں کو دم دار ستاروں کی چمک دمک دیکھنے کا ایک اور موقع بھی ملے گا۔ آسمان کو روشنیوں سے نہلانے والی آج کی بارش کے تین دن بعد دم دار ستاروں کا ایک اور جھرمٹ زمین کے قریب سے گذرے گا۔ لیکن اس کا زمین سے ان کا فاصلہ تقریباً 64 لاکھ میل ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھ کی ر ات دم دار ستاروں کی بارش سے زمین کو کوئی خطر ہ نہیں ہے، لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مستقبل میں ایسا بدقسمت لمحہ آسکتا ہے جب کوئی فائی تھون زمین کے مدار میں داخل ہو جائے اور  میلوں بڑے سائز کی اس چٹان کو  زمین کا کرہ ہوائی اسے پوری طرح جلا نہ پائے ، تو پھر جب جلتا ہوا اور آگ اگلتا ہوا فائی تھون زمین سے ٹکرا ئے گا تو ایک قیامت کا منظر ہوگا اور لاکھوں افراد آناً فاناً ہلاک ہو جائیں گے۔ بدھ کی رات دم دار ستاروں کی بارش کا نظارہ آپ دنیا کے کسی بھی حصے سے دیکھ سکتے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ آسمان صاف ہو۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow