راجستھان کے وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بہت تکلیف دہ ہے کہ ایک شخص کسی کو ہلاک کرتا ہے اور پھر اس کی فلم بھی بناتا ہے۔

راجستھان میں ’لو جہاد‘ کے الزام میں قتل کی ویڈیو وائرل

سہیل انجم

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک خوفناک ویڈیو میں ایک شخص ایک دوسرے شخص کو کلہاڑی اور دیگرتیز دھار آلے سے ہلاک کرتا ہے اور پھر اسے پٹرول چھڑک کر نذر آتش کرنے کے بعد کیمرے کے سامنے آکر مبینہ لو جہاد کے خلاف اشتعال انگیز فقرے ادا کرتا ہے اور دھمکی آمیز انداز میں کہتا ہے کہ” جہادیو ہمارے ملک سے نکل جاؤ، ورنہ تمہارا یہی انجام ہوگا“۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ25 سال قبل بابری مسجد گرا دی گئی اور کچھ نہیں ہوا۔

لو جہاد کا اصطلاح دائیں بازو کے ہندو نواز گروپ استعمال کرتے ہیں اور الزام عائد کرتے ہیں کہ مسلم نوجوان ہندو لڑکیوں سے محبت کرکے ان کا مذہب تبدیل کرانے کا جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسلم تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے اس الزام کی سختی سے ترديد کی جاتی ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ ویڈیو راجستھان کے راج سمند علاسے کی ہے۔ راجستھان کے وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بہت تکلیف دہ ہے کہ ایک شخص کسی کو ہلاک کرتا ہے اور پھر اس کی فلم بھی بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کو، جس کا نام شمبھو لال ہے، گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کے اہل خانہ کے مطابق وہ دماغی مریض ہے۔

پولیس کا خیال ہے کہ اس کو راج سمند میں سڑک کے کنارے جو ادھ جلی لاش ملی ہے وہ اسی شخص کی ہے جسے ہلاک کیا گیا ہے۔ مرنے کا نام افروز الحسن ہے۔ اس کی عمر 45 سال ہے اور وہ مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والا ایک مزدور ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں سرخ رنگ کی قمیص، سفید پینٹ اور مفلر میں نظر آنے والا شمبھو ، لال افروز کو جھاڑیوں میں لے جاتا ہے اور پھر اس پر حملہ کر دیتا ہے۔ پولیس کے مطابق وہ اسے کام دینے کے بہانے لے گیا تھا۔

حملے کے دوران چیخنے چلانے اور جان بخش دینے کی فریاد سنائی دیتی ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ اس موقع پر کوئی تیسرا شخص بھی رہا ہوگا جس نے اس دلخراش واقعہ کی فلم بندی کی۔ پولیس اس کی شناخت کرکے گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

راج سمند کے ایس پی منوج کمار کا کہنا ہے کہ پہلی نظر میں یہی لگتا ہے کہ شمبھو نے ہی افروز کا قتل کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فورنسک ٹیم نے جائے واردات کا دورہ کیا جہاں سے کلہاڑی اور اسکوٹر برآمد کیا گیا ہے۔

افروز کی ماں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ملزم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس نے بتایا کے صبح ہی اس نے اپنے بیٹے سے بات کی تھی۔ اسے نہیں معلوم کہ اسے کیوں ہلاک کیا گیا۔

حزب اختلاف کانگریس اور انسانی حقوق کے گروپوں نے اس واقعہ کی شديد الفاظ میں مذمت کی اور ملزم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

ریاستی حکومت نے واقعہ کی جانچ کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے اور ویڈیو کے مزید وائرل ہونے سے روکنے کے لیے راج سمند میں انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں۔

x

Check Also

وائٹ ہاؤس کا روس کے خلاف نئی تعزیرات عائد کرنے پر غور: عہدیدار

وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ روس پر اضافی تعزیرات عائد کرنے کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کے ساتھ وہ نومبر میں ہونے والے کانگرس کے انتخابات میں ممکنہ مداخلت کو روکنے کے لیے بھی تیار ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹس اراکین 2016ء کے انتخاب میں مداخلت کے معاملے پر کانگرس کی طرف سے منظور کردہ تعزیرات روس پر عائد نا کرنے کی وجہ سے صدر ٹرمپ پر تنقید کر چکے ہیں۔ عہدیداروں نے بدھ کو کہا کہ قانونی وجوہات کی بنا پر تعزیرات عائد کرنے کا عمل آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے اور (وہ) تنقید اور میڈیا پر آنے والی خبروں پر ردعمل کا اظہار نہیں کر سکتے ہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ "تعزیرات کا طریقہ کار طویل ہے۔ یہ ایک مشکل عمل ہے، اتنا اچھا نہیں ہے۔ لیکن جب شواہد موجود ہوں ۔۔۔ تو تعزیرات عائد کر دی جاتی ہیں۔" دوسری طرف بد ھ کو ہی صدر ٹرمپ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اوباما کی سابق انتظامیہ کو 2016 ء میں روسی مداخلت کو نا روکنے پر تحقیقات کا کیوں سامنا نہیں ہے۔ تاہم وہ ایسا کوئی مطالبہ کرنے سے رک گئے کہ اٹارنی جنرل جید سیشنز اوباما کے دور کے وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ کی تحقیقات کریں۔ ٹرمپ نے اپنی مہم کے عہدیداروں کے روسیوں کی ساتھ مبینہ ساز باز کے معاملے کی فوجداری تحقیقات سے توجہ ہٹانے کے لیے اوباما انتظامیہ کی بات کی جو 2016ء میں برسر اقتدار تھی۔ ٹرمپ اس بات سے بھی نالاں ہیں کہ سیسثنز نے محکمہ انصاف کی طرف سے کیے جانے والے تحقیقاتی عمل سے خود کو کیوں الگ کر لیا تھا کیونکہ 2016ء میں وہ بھی واشنگٹن میں روس سفیر کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ٹرمپ کا یہ بیان خصوصی وکیل رابرٹ میولر کی طرف سے گزشتہ ہفتے 13 روسی شہریوں اور تین اداروں کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ وہ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ’’انتخابات اور سیاسی عمل سے متعلق کارروائیوں‘‘ میں ملوث رہی ہے۔ اپنی صدارت کے آخری ہفتے کے دوران اوباما نے انتخاب میں مداخلت کرنے پر نو روسی افراد اور اداروں کے خلاف تعیزات عائد کی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ اوباما نے 35 روسی حکومت کے عہدیداروں کو ملک بدر کر دیا تھا اور دو کمپاؤنڈ کو بھی بند کر دیا تھا جن کے بارے میں امریکہ نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں روسی خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow