پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کئی ماہ تک مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی شادہ شدہ خاتون نے اپنی داد رسی کے لیے پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ سے رجوع کیا ہے۔ متاثرہ خاتون نے بدھ کو ہونے والےسینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ ظلم کی داستان سے ارکان کو آگاہ کیا۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ اس کے خاندان کے بعض افراد نے اسے کئی ماہ تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسے خاندان سے سماجی تعلقات بھی ختم کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ انسانی حقوق کی کمیٹی کی سربراہ سینیٹر نسرین جلیل نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ متاثر خاتون کی سینیٹ چئیرمین کے نام درخواست کے بعد انہوں نے خاتون کو طلب کر کے اس کے ساتھ ہونے والے واقعہ کی تفصیل معلوم کی۔ خاتون نے کمیٹی کے سامنے موقف اخیتار کیا کہ اس کے شوہر کے بھیتیجے نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کئی ماہ تک اس سے جنسی زیادتی کرتا رہا  اور اس کی قابل اعتراض وڈیو بنا کر اسے بلیلک میل کر اس سے ہزاروں روپے حاصل کیے۔ نسرین جلیل کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے عہدیداروں نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور انہوں نے کہا کہ خاتون کا دعویٰ مکمل طور صداقت پر مبنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم نے اس معاملے پر کمیٹی میں غور کیا تاہم اگر کہیں مجرمانہ فعل کا ارتکاب ہو تو اس بارے ہمارا فورم فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور بے شمار خواتین کے ساتھ تشدد ہوتا ہے لیکن وہ سامنے نہیں آتیں لیکن اگر سامنے آ جائیں تو پھر بھی ان کی داد رسی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا جو کچھ متاثر خاتون نے کہا ان کے بیان میں کچھ نہ کچھ صداقت ہو سکتی ہے اس لیے وہ اس معاملے کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر کے پاس بھیج رہے ہیں تاکہ وہ اس معاملے کو دیکھیں۔ نسرین جلیل کا کہنا ہے کہ معاشرے میں خواتین کے ساتھ تشدد کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ان کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیمیں ایسے واقعات کے خلاف آواز بلند کرتی رہتی ہیں۔ اگرچہ حکومت نے ان کےتدارک کے لیے کئی قوانین متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ انتظامی سطح پر بھی کئی اقدامات کیے ہیں تاہم ایسے واقعات کسی طور کم نہیں ہورہے ہیں۔

مبینہ جنسی زیادتی کی شکار خاتون سینیٹ کمیٹی میں پیش

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کئی ماہ تک مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی شادہ شدہ خاتون نے اپنی داد رسی کے لیے پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ سے رجوع کیا ہے۔

متاثرہ خاتون نے بدھ کو ہونے والےسینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ ظلم کی داستان سے ارکان کو آگاہ کیا۔

خاتون نے الزام عائد کیا کہ اس کے خاندان کے بعض افراد نے اسے کئی ماہ تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسے خاندان سے سماجی تعلقات بھی ختم کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔

انسانی حقوق کی کمیٹی کی سربراہ سینیٹر نسرین جلیل نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ متاثر خاتون کی سینیٹ چئیرمین کے نام درخواست کے بعد انہوں نے خاتون کو طلب کر کے اس کے ساتھ ہونے والے واقعہ کی تفصیل معلوم کی۔

خاتون نے کمیٹی کے سامنے موقف اخیتار کیا کہ اس کے شوہر کے بھیتیجے نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کئی ماہ تک اس سے جنسی زیادتی کرتا رہا اور اس کی قابل اعتراض وڈیو بنا کر اسے بلیلک میل کر اس سے ہزاروں روپے حاصل کیے۔

نسرین جلیل کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے عہدیداروں نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور انہوں نے کہا کہ خاتون کا دعویٰ مکمل طور صداقت پر مبنی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم نے اس معاملے پر کمیٹی میں غور کیا تاہم اگر کہیں مجرمانہ فعل کا ارتکاب ہو تو اس بارے ہمارا فورم فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور بے شمار خواتین کے ساتھ تشدد ہوتا ہے لیکن وہ سامنے نہیں آتیں لیکن اگر سامنے آ جائیں تو پھر بھی ان کی داد رسی نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا جو کچھ متاثر خاتون نے کہا ان کے بیان میں کچھ نہ کچھ صداقت ہو سکتی ہے اس لیے وہ اس معاملے کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر کے پاس بھیج رہے ہیں تاکہ وہ اس معاملے کو دیکھیں۔

نسرین جلیل کا کہنا ہے کہ معاشرے میں خواتین کے ساتھ تشدد کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ان کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیمیں ایسے واقعات کے خلاف آواز بلند کرتی رہتی ہیں۔ اگرچہ حکومت نے ان کےتدارک کے لیے کئی قوانین متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ انتظامی سطح پر بھی کئی اقدامات کیے ہیں تاہم ایسے واقعات کسی طور کم نہیں ہورہے ہیں۔

Leave a Reply

x

Check Also

آج رات آسمان پر روشنیوں کی بارش ہو گی

اگر آپ دنیا کے شمالی حصے میں ہیں تو آپ کے لیے خوش خبری یہ ہے کہ آج یعنی بدھ کی رات کی آپ آسمان پر دم دار ستاروں کے جھرمٹ اور دل لکش روشنیوں کی چمک دمک کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ یہ خوبصورت منظر دیکھنے کے لیے آپ کو کسی دور بین کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنے کمرے کی کھڑکی سے بھی اس خوبصورت منظر کا لطف اٹھا سکتے ہیں ۔ بس شرط یہ ہے کہ آسمان صاف ہو اور اس پر بادل نہ ہوں۔ یہ خوبصورت منظر ان لوگوں کے لیے ایک شاندار موقع ہے آسمان پر ٹوٹتے ستارے کو دیکھ کر دعا مانگتے ہیں۔ کیونکہ انہیں تقریباً ہر ایک منٹ کے بعد آسمان پر ٹوٹتے ہوئے ستارے نظر آئیں گے اور ان کی چکاچوند آنکھوں کو خیرہ کر دے گی۔ اگر آسمان صاف اور تاریک ہو۔ اردگرد بھی روشنی کم ہو تو کبھی کبھار آسمان سے روشنی کی ایک چمکدار لکیر تیزی سے زمین کی جانب بڑھتی اور اچانک غائب ہوتی ہوئی  نظر آتی ہے ، لیکن ایسا کم  ہی ہوتا ہے کہ روشنیوں کا مینہ برسنا شروع ہو جائے ۔ بدھ کی رات ایک ایسی ہی خاص رات ہے۔ آئرلینڈ کے فلکیاتی ماہرین کی تنظیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دم دار ستاروں کی بارش ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب آسمان پر چاند بھی نہیں ہوگا اس لیے یہ اس سال کا بہترین نظارہ ہوگا۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ یہ دم دار ستارے کیا ہوتے ہیں۔ اور ان میں اتنی روشنی اور چمک کہاں سے آتی ہے اور پھر وہ اچانک نظروں سے اوجھل ہو کر کہا ں چلے جاتے ہیں۔ اس سوال کا جواب بہت دلچسپ ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جنہیں آپ دم دار ستارہ کہتے ہیں، وہ سرے سے ستارا ہوتے ہی نہیں بلکہ وہ شہاب ثاقب ہوتے ہیں ۔ انہیں شہابیئے بھی کہا جاتا ہے۔ شہاب  ثاقت  خلا میں بھٹکتے ہوئے چٹانی ٹکڑے ہیں ۔ یہ ٹکڑے اسی مواد سے بنے ہیں جس سے كائنات کے دوسرے اجرام فلکی بنے ہیں۔ یہ ستاروں کے آپس میں ٹکرانے، یا تباہ ہو جانے کے بعد اپنے مرکز سے بچھڑ کر خلا میں بھٹکنے لگتے ہیں اور جب وہ کسی سیارے کے قریب سے گذرتے ہیں تو اس کی کشش انہیں اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔ ​ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین کے گرد ہوا کا ایک خلاف موجود ہے۔ یہ خلاف زمین پر زندگی کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ جب کسی شہاب ثاقب کو زمین کی کشش ثقل اپنی جانب کھینچتی ہے تو ہوا کی  رگڑ سے اس میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے ۔  اگر وہ تیز رفتار گولہ زمین سے ٹکرا جائے تو ہولناک تباہی لا سکتا ہے۔ جب ہمیں کوئی دم دار ستارہ تیزی سے زمین کی جانب بڑھتا اور غائب ہوتا ہوا نظر آتا ہے تو دراصل اس وقت وہ زمین کے کرہ ہوائی میں جل رہا ہوتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ شہابیوں کی اشکال مختلف ہوتی ہیں اور ان میں شامل عناصر اور اجزأ بھی اور سائز بھی مختلف ہوتے ہیں۔ جن شہابیوں کا قطر تین میل یا اس سے زیادہ ہو انہیں فلکیات کی زبان میں فائی تھون کہا جاتا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے ایک سائنس دان بل کک کا کہنا ہے کہ فائی تھون یا تو  کرہ ارض کے قریب خلا میں تیر  رہے ہیں یا وہ  کہکشاں کے کسی حصے سے بھٹکتے ہوئے زمین کے قریب آ جا تے ہیں۔     فلکیاتی ماہرین کے مطابق اس سال لوگوں کو دم دار ستاروں کی چمک دمک دیکھنے کا ایک اور موقع بھی ملے گا۔ آسمان کو روشنیوں سے نہلانے والی آج کی بارش کے تین دن بعد دم دار ستاروں کا ایک اور جھرمٹ زمین کے قریب سے گذرے گا۔ لیکن اس کا زمین سے ان کا فاصلہ تقریباً 64 لاکھ میل ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھ کی ر ات دم دار ستاروں کی بارش سے زمین کو کوئی خطر ہ نہیں ہے، لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مستقبل میں ایسا بدقسمت لمحہ آسکتا ہے جب کوئی فائی تھون زمین کے مدار میں داخل ہو جائے اور  میلوں بڑے سائز کی اس چٹان کو  زمین کا کرہ ہوائی اسے پوری طرح جلا نہ پائے ، تو پھر جب جلتا ہوا اور آگ اگلتا ہوا فائی تھون زمین سے ٹکرا ئے گا تو ایک قیامت کا منظر ہوگا اور لاکھوں افراد آناً فاناً ہلاک ہو جائیں گے۔ بدھ کی رات دم دار ستاروں کی بارش کا نظارہ آپ دنیا کے کسی بھی حصے سے دیکھ سکتے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ آسمان صاف ہو۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow