الیکشن کمیشن حکام کے مطابق ملک بھر میں ڈویژن اور ضلعے کی سطح پر بھی قومی ووٹر ڈے سے متعلق تقاریب منعقد کی جارہی ہیں۔

پاکستان میں ووٹروں کا قومی دن

پاکستان میں ووٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور اس حق کو استعمال کرنے کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان 7 دسمبر کو ملک بھر میں ’’قومی ووٹر ڈے‘‘ منا رہا ہے۔

اس سلسلے میں مرکزی تقریب جمعرات کو ایوانِ صدر میں ہوئی جس کے علاوہ چاروں صوبوں میں بھی خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔

صدر ممنون حسین نے مرکزی تقریب سے خطاب میں کہا کہ الیکشن کمیشن کے زیرِ اہتمام ایک موبائل فون اپیلیکشن کا افتتاح بھی ہوا ہے جس کی مدد سے پاکستان کا ہر ووٹر اپنے ووٹ سے متعلق تمام تر تفصیلات سے آگاہ ہو سکے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ انتخابی نظام میں بہتری اور شفافیت کے لیے ’’بائیو میٹرک اور الیکٹرانک ووٹنگ جیسے تجربات بھی کیے جا چکے ہیں جو اس شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر دیں گے۔‘‘

الیکشن کمیشن نے وفاقی دارالحکومت کی بعض شاہراہوں پر تشہیری مہم بھی چلائی ہے تاکہ عوام کو ووٹ کی اہمیت کا احساس اور اپنی قومی ذمہ داری سے آگاہ کیا جائے۔

الیکشن کمیشن حکام کے مطابق ملک بھر میں ڈویژن اور ضلعے کی سطح پر بھی قومی ووٹر ڈے سے متعلق تقاریب منعقد کی جارہی ہیں۔

الیکشن کمیشن کے بیان کے مطابق عام انتخابات 2018ء کی آمد کے سلسلے میں قومی ووٹر ڈے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے اسی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ سول سوسائٹی، میڈیا اور معاشرے کے دیگر طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس مہم میں الیکشن کمیشن کا بھرپور ساتھ دیں۔

اُنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر شخص ووٹ کے حق کے استعمال کو یقینی بنائے کیوں کہ ان کے بقول ’’یہ وقت کا تقاضا ہے اور اسی سے ہمارا مستقل جڑا ہوا ہے۔‘‘

رواں ماہ ہی الیکشن کمیشن نے خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد ایک کروڑ سے زائد خواتین کو ووٹر فہرستوں میں شامل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

x

Check Also

وائٹ ہاؤس کا روس کے خلاف نئی تعزیرات عائد کرنے پر غور: عہدیدار

وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ روس پر اضافی تعزیرات عائد کرنے کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کے ساتھ وہ نومبر میں ہونے والے کانگرس کے انتخابات میں ممکنہ مداخلت کو روکنے کے لیے بھی تیار ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹس اراکین 2016ء کے انتخاب میں مداخلت کے معاملے پر کانگرس کی طرف سے منظور کردہ تعزیرات روس پر عائد نا کرنے کی وجہ سے صدر ٹرمپ پر تنقید کر چکے ہیں۔ عہدیداروں نے بدھ کو کہا کہ قانونی وجوہات کی بنا پر تعزیرات عائد کرنے کا عمل آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے اور (وہ) تنقید اور میڈیا پر آنے والی خبروں پر ردعمل کا اظہار نہیں کر سکتے ہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ "تعزیرات کا طریقہ کار طویل ہے۔ یہ ایک مشکل عمل ہے، اتنا اچھا نہیں ہے۔ لیکن جب شواہد موجود ہوں ۔۔۔ تو تعزیرات عائد کر دی جاتی ہیں۔" دوسری طرف بد ھ کو ہی صدر ٹرمپ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اوباما کی سابق انتظامیہ کو 2016 ء میں روسی مداخلت کو نا روکنے پر تحقیقات کا کیوں سامنا نہیں ہے۔ تاہم وہ ایسا کوئی مطالبہ کرنے سے رک گئے کہ اٹارنی جنرل جید سیشنز اوباما کے دور کے وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ کی تحقیقات کریں۔ ٹرمپ نے اپنی مہم کے عہدیداروں کے روسیوں کی ساتھ مبینہ ساز باز کے معاملے کی فوجداری تحقیقات سے توجہ ہٹانے کے لیے اوباما انتظامیہ کی بات کی جو 2016ء میں برسر اقتدار تھی۔ ٹرمپ اس بات سے بھی نالاں ہیں کہ سیسثنز نے محکمہ انصاف کی طرف سے کیے جانے والے تحقیقاتی عمل سے خود کو کیوں الگ کر لیا تھا کیونکہ 2016ء میں وہ بھی واشنگٹن میں روس سفیر کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ٹرمپ کا یہ بیان خصوصی وکیل رابرٹ میولر کی طرف سے گزشتہ ہفتے 13 روسی شہریوں اور تین اداروں کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ وہ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ’’انتخابات اور سیاسی عمل سے متعلق کارروائیوں‘‘ میں ملوث رہی ہے۔ اپنی صدارت کے آخری ہفتے کے دوران اوباما نے انتخاب میں مداخلت کرنے پر نو روسی افراد اور اداروں کے خلاف تعیزات عائد کی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ اوباما نے 35 روسی حکومت کے عہدیداروں کو ملک بدر کر دیا تھا اور دو کمپاؤنڈ کو بھی بند کر دیا تھا جن کے بارے میں امریکہ نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں روسی خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow