پاکستان نے ترکی کی طرف سے آئندہ ہفتے اس معاملے پر بحث کے لیے اسلامی ممالک کا سربراہ اجلاس بلانے کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔

پاکستان کی یروشلم سے متعلق امریکی فیصلے کی مذمت

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان پر پاکستان میں حکومت اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کی طرف سے مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

بعض تنظیموں بالخصوص سیاسی مذہبی جماعتوں کے اتحاد ’دفاعِ پاکستان کونسل‘ نے جمعرات کو بعض مقامات پر احتجاج کی کال دی ہے۔

ملک کے ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت، جماعتِ اسلامی نے امریکی فیصلے کے خلاف جمعے کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کے موقع پر کہا کہ ’’میں اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں، مجھے یقین ہے کہ پوری امتِ مسلمہ اس واقعے کا شدید نوٹس لے گی اور ہر طرف سے جو بھی بات کی جا سکتی ہے، ہر فورم پر اس کے خلاف بات کی جائے گی۔‘‘

صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسلامی ممالک کے تنظیم ’او آئی سی‘ کا سربراہ اجلاس بلایا ہے اور ان کے بقول انہیں اُمید ہے کہ یہ اجلاس بھی اس معاملے پر بہت سخت مؤقف اختیار کرے گا۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر پاکستان بھی عالمی برداری کے ساتھ کھڑا ہے جس نے امریکی انتظامیہ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکہ کا سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کی مخالفت کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کی اس درخواست کے باوجود کہ تاریخی شہر یروشلم کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل نہ کیا جائے، امریکہ نے ان مطالبات کو نظرانداز کردیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کو شدید دھچکا لگے گا۔

امریکی انتظامیہ کے فیصلے پر پاکستان کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سلامتی کونسل سے کہا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اس معاملے کا نوٹس لے۔

پاکستان نے ترکی کی طرف سے آئندہ ہفتے اس معاملے پر بحث کے لیے اسلامی ممالک کا سربراہ اجلاس بلانے کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے مشرق وسطیٰ کے ’’دو ریاستی حل‘‘ پر کوئی اثر پڑے گا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اُن کا ملک فلسطین اور اسرائیل کے درمیان قابل قبول امن معاہدے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال اپنی صدارتی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کر دیں گے۔

اسرائیل یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے لیکن اقوامِ متحدہ سمیت تقریباً تمام عالمی برداری یہ کہتے ہوئے اس موقف کو مسترد کرتی ہے کہ یروشلم کی حیثیت فلسطینیوں کے ساتھ امن بات چیت میں طے ہونی چاہیے۔

x

Check Also

‘محکمہ انصاف کو انتخابی مہم میں مداخلت کی تفتیش کا حکم دوں گا’

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 2016ء میں اپنی انتخابی مہم میں ایف بی آئی کے ایک مخبر کی مداخلت کے دعوؤں کی تحقیقات کا حکم دیں گے۔ اتوار کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ "میں مطالبہ کرتا ہوں اور کل اس کا باضابطہ حکم بھی دوں گا کہ محکمہ انصاف اس معاملے کو دیکھے کہ آیا ایف بی آئی/محکمہ انصاف نے سیاسی مقاصد کے لیے ٹرمپ مہم میں مداخلت یا اس نگرانی کی یا نہیں اور اگر آیا ایسا کوئی مطالبہ یا درخواست اوباما انتظامیہ میں شامل لوگوں کی طرف سے کیا گیا تھا۔" بعد ازاں محکمہ انصاف نے اعلان کی کہ اس نے انسپکٹر جنرل سے کہا ہے کہ وہ 2016ء کے صدارتی انتخابات میں روسی ایجنٹس کے ساتھ مل کر کسی مشتبہ شخص کی مداخلت کے معاملے پر ایف بی آئی کی طرف سے کی جانے والی تفتیش میں کسی بے ضابطگی کا جائزہ لے۔ محکمے کی ترجمان سارہ فلورس نے ایک بیان میں کہا کہ "اگر کسی نے صدارتی مہم کے شرکا کی نگرانی یا کام میں کسی بھی نامناسب مقصد کے لیے مداخلت کی ہے تو ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے اور اس پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔" صدر ٹرمپ کی ٹوئٹس کے فوراً بعد ہی اوباما انتظامیہ کے سابق ارکان کی طرف سے خدشات کے ساتھ ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا۔ ان  کے خیال میں ٹرمپ کی دھمکی امریکی نظام انصاف میں اک سنگین مداخلت کے مترادف ہے، کیونکہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو بھی صدر نے اس وقت برخاست کردیا تھا جب وہ انتخابی مہم کی تحقیقات کر رہے تھے۔ گزشتہ ہفتہ کو ٹرمپ نے یہ شکایت کی تھی کہ ایف بی آئی اور محکمہ انصاف ایک مخبر کے ذریعے ان کی صدارتی مہم کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور اس شخص نے ایف بی آئی کو معلومات فراہم کرنے سے پہلے مہم کے تین شرکا سے رابطہ کیا تھا۔ مختلف خبر رساں ایجنسیوں نے ایک 73 سالہ شخص سٹیفن ہالپر کو بطور مخبر ظاہر کیا ہے جو کہ امریکی شہری ہیں اور برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور وہ ماضی میں رپبلکنز انتظامیہ کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow