اردن اور فلسطین نے امریکی فیصلے کے خلاف متفقہ موقف اپنانے کے لیے عرب ملکوں کی نمائندہ تنظیم 'عرب لیگ' کا ہنگامی سربراہی اجلاس بلانے کی بھی درخواست کی ہے۔

مسلم ممالک کی امریکی فیصلے پر کڑی تنقید، او آئی سی کا اجلاس طلب

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کی وہاں منتقلی کے خلاف مسلمان ممالک کے رہنماؤں نے سخت احتجاج کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال مزید سنگین ہوجائے گی۔

امریکی فیصلے پر مسلم ملکوں کا مشترکہ موقف تیار کرنے کے لیے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اسلامی ممالک کی تنظیم ‘او آئی سی’ کا سربراہ اجلاس 13 دسمبر کو استنبول میں طلب کرلیا ہے۔

‘او آئی سی’ کی سربراہی اس وقت ترکی کےپاس ہے اور صدر ایردوان نے یہ اجلاس تنظیم کے صدر کی حیثیت سے طلب کیا ہے۔

سربراہی اجلاس سے ایک روز قبل مسلمان ملکوں کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی ہوگا۔

ترکی نے ‘او آئی سی’ کا سربراہی اجلاس بلانے کا اعلان اردن کے شاہ عبداللہ کے دورۂ انقرہ کے دوران کیا۔

اردن کے بادشاہ نے بدھ کو ترکی کادورہ کیاتھا جس کے دوران انہوں نے صدر ایردوان کے ساتھ یروشلم سے متعلق امریکی فیصلے پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔

ترک حکام کے مطابق دونوں رہنماؤں نے امریکی فیصلے کے خلاف مشترکہ موقف اپنانے اور مسلم دنیا کو متحرک کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یروشلم پر اسرائیل نے 1967ء میں ہونے والی عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا جس سے قبل یہ شہر اردن کے زیرِ انتظام تھا۔

یروشلم کے قدیم شہر میں واقع مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقدس مقامات کا انتظام اور دیکھ بھال اب بھی اردن کی حکومت کے تحت چلنے والے ایک وقف کے پاس ہے اور اردن کے بادشاہ نے صدر ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ یروشلم کی حیثیت میں تبدیلی سے متعلق ان کا فیصلہ صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ مسیحیوں کی دل آزاری کا باعث بھی بنے گا۔

بدھ کو صدر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم سے متعلق فیصلے کے اعلان کے فوراً بعد فلسطین کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔

مظاہرین نے امریکہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور امریکی پرچم نذرِ آتش کیے۔ امکان ہے کہ مظاہروں کا دائرہ جمعرات کو دیگر مسلم ممالک تک بھی پھیل جائے گا۔

مختلف مسلمان ملکوں میں قائم امریکی سفارت خانوں نے اپنی خدمات محدود کردی ہیں جب کہ عملے اور امریکی شہریوں سے احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ امریکہ نے یہ فیصلہ کرکے خطے میں امن کے حصول کی تمام کوششوں کو برباد کردیا ہے۔

محمود عباس جمعرات کو اردن کا ہنگامی دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ شاہ عبداللہ کے ساتھ نئی صورتِ حال پر گفتگو کریں گے۔

اردن اور فلسطین نے امریکی فیصلے کے خلاف متفقہ موقف اپنانے کے لیے عرب ملکوں کی نمائندہ تنظیم ‘عرب لیگ’ کا ہنگامی سربراہی اجلاس بلانے کی بھی درخواست کی ہے۔

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں سرگرم مزاحمتی تنظیم ‘حماس’ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے نے خطے میں امریکی مفادات کے لیے “جہنم کے دروازے کھول دیے ہیں۔”

فلسطینی اتھارٹی نے جمعرات کو پورے مغربی کنارے میں ہڑتال اور مظاہروں کی اپیل کی ہے جب کہ حماس نے غزہ میں جمعے کو “یوم الغضب” منانے کا اعلان کیاہے۔

ایران نے امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ یہ فیصلہ ایک نئے “انتفادہ” کو جنم دے گا۔ سعودی عرب نے امریکی فیصلے کو “غیر ذمہ دارانہ اور ناانصافی پر مبنی” قرار دیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک – بشمول قطر، لبنان، عراق اور مصر – کی حکومتوں نے بھی امریکی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے اثرات سامنے آنے سے قبل ہی اس پر نظرِ ثانی کرلے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ اس سے قبل امریکہ کی ان کے بقول “اسلام دشمنی” کی اس سے بڑی مثال نہیں ملتی۔

ملائیشیا کے وزیرِاعظم نجیب رزاق نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں اور واضح کردیں کہ وہ یروشلم کو کبھی اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کریں گے۔

مسلم دنیا کے علاوہ اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور امریکہ کے کئی یورپی اتحادی ملکوں بشمول برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے بھی امریکی فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچے گا۔

امریکی صدر کے فیصلے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر غور کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس جمعے کو طلب کرلیا گیا ہے۔

کونسل کا اجلاس رکن ملکوں برطانیہ، فرانس، بولیویا، مصر، اٹلی، سینیگال، سوئیڈن اور یوراگوئے کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے جس میں عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ معاملے پر کونسل کو بریفنگ دیں۔

رومن کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے بھی یروشلم کی موجودہ حیثیت برقرار رکھنے اور کسی مزید تصادم کو روکنے کے لیے “عقل اور دانش مندی” سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔

Leave a Reply

x

Check Also

آج رات آسمان پر روشنیوں کی بارش ہو گی

اگر آپ دنیا کے شمالی حصے میں ہیں تو آپ کے لیے خوش خبری یہ ہے کہ آج یعنی بدھ کی رات کی آپ آسمان پر دم دار ستاروں کے جھرمٹ اور دل لکش روشنیوں کی چمک دمک کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ یہ خوبصورت منظر دیکھنے کے لیے آپ کو کسی دور بین کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنے کمرے کی کھڑکی سے بھی اس خوبصورت منظر کا لطف اٹھا سکتے ہیں ۔ بس شرط یہ ہے کہ آسمان صاف ہو اور اس پر بادل نہ ہوں۔ یہ خوبصورت منظر ان لوگوں کے لیے ایک شاندار موقع ہے آسمان پر ٹوٹتے ستارے کو دیکھ کر دعا مانگتے ہیں۔ کیونکہ انہیں تقریباً ہر ایک منٹ کے بعد آسمان پر ٹوٹتے ہوئے ستارے نظر آئیں گے اور ان کی چکاچوند آنکھوں کو خیرہ کر دے گی۔ اگر آسمان صاف اور تاریک ہو۔ اردگرد بھی روشنی کم ہو تو کبھی کبھار آسمان سے روشنی کی ایک چمکدار لکیر تیزی سے زمین کی جانب بڑھتی اور اچانک غائب ہوتی ہوئی  نظر آتی ہے ، لیکن ایسا کم  ہی ہوتا ہے کہ روشنیوں کا مینہ برسنا شروع ہو جائے ۔ بدھ کی رات ایک ایسی ہی خاص رات ہے۔ آئرلینڈ کے فلکیاتی ماہرین کی تنظیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دم دار ستاروں کی بارش ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب آسمان پر چاند بھی نہیں ہوگا اس لیے یہ اس سال کا بہترین نظارہ ہوگا۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ یہ دم دار ستارے کیا ہوتے ہیں۔ اور ان میں اتنی روشنی اور چمک کہاں سے آتی ہے اور پھر وہ اچانک نظروں سے اوجھل ہو کر کہا ں چلے جاتے ہیں۔ اس سوال کا جواب بہت دلچسپ ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جنہیں آپ دم دار ستارہ کہتے ہیں، وہ سرے سے ستارا ہوتے ہی نہیں بلکہ وہ شہاب ثاقب ہوتے ہیں ۔ انہیں شہابیئے بھی کہا جاتا ہے۔ شہاب  ثاقت  خلا میں بھٹکتے ہوئے چٹانی ٹکڑے ہیں ۔ یہ ٹکڑے اسی مواد سے بنے ہیں جس سے كائنات کے دوسرے اجرام فلکی بنے ہیں۔ یہ ستاروں کے آپس میں ٹکرانے، یا تباہ ہو جانے کے بعد اپنے مرکز سے بچھڑ کر خلا میں بھٹکنے لگتے ہیں اور جب وہ کسی سیارے کے قریب سے گذرتے ہیں تو اس کی کشش انہیں اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔ ​ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین کے گرد ہوا کا ایک خلاف موجود ہے۔ یہ خلاف زمین پر زندگی کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ جب کسی شہاب ثاقب کو زمین کی کشش ثقل اپنی جانب کھینچتی ہے تو ہوا کی  رگڑ سے اس میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے ۔  اگر وہ تیز رفتار گولہ زمین سے ٹکرا جائے تو ہولناک تباہی لا سکتا ہے۔ جب ہمیں کوئی دم دار ستارہ تیزی سے زمین کی جانب بڑھتا اور غائب ہوتا ہوا نظر آتا ہے تو دراصل اس وقت وہ زمین کے کرہ ہوائی میں جل رہا ہوتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ شہابیوں کی اشکال مختلف ہوتی ہیں اور ان میں شامل عناصر اور اجزأ بھی اور سائز بھی مختلف ہوتے ہیں۔ جن شہابیوں کا قطر تین میل یا اس سے زیادہ ہو انہیں فلکیات کی زبان میں فائی تھون کہا جاتا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے ایک سائنس دان بل کک کا کہنا ہے کہ فائی تھون یا تو  کرہ ارض کے قریب خلا میں تیر  رہے ہیں یا وہ  کہکشاں کے کسی حصے سے بھٹکتے ہوئے زمین کے قریب آ جا تے ہیں۔     فلکیاتی ماہرین کے مطابق اس سال لوگوں کو دم دار ستاروں کی چمک دمک دیکھنے کا ایک اور موقع بھی ملے گا۔ آسمان کو روشنیوں سے نہلانے والی آج کی بارش کے تین دن بعد دم دار ستاروں کا ایک اور جھرمٹ زمین کے قریب سے گذرے گا۔ لیکن اس کا زمین سے ان کا فاصلہ تقریباً 64 لاکھ میل ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھ کی ر ات دم دار ستاروں کی بارش سے زمین کو کوئی خطر ہ نہیں ہے، لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مستقبل میں ایسا بدقسمت لمحہ آسکتا ہے جب کوئی فائی تھون زمین کے مدار میں داخل ہو جائے اور  میلوں بڑے سائز کی اس چٹان کو  زمین کا کرہ ہوائی اسے پوری طرح جلا نہ پائے ، تو پھر جب جلتا ہوا اور آگ اگلتا ہوا فائی تھون زمین سے ٹکرا ئے گا تو ایک قیامت کا منظر ہوگا اور لاکھوں افراد آناً فاناً ہلاک ہو جائیں گے۔ بدھ کی رات دم دار ستاروں کی بارش کا نظارہ آپ دنیا کے کسی بھی حصے سے دیکھ سکتے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ آسمان صاف ہو۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow