وائٹ ہاؤس سے اپنے خطاب میں، ٹرمپ نے کہا کہ ’’امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا جائے گا‘‘

صدر ٹرمپ کا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اعلان

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ وائٹ ہاؤس سے اپنے براہِ راست خطاب میں، ٹرمپ نے کہا کہ امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا جائے گا۔

یروشلم مسلمان، یہودی اور مسیحی مذاہب کا مقدس ترین شہر ہے۔ یہ معاملہ ایک طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ امن عمل کی راہ میں حائل رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے سے مشرق وسطیٰ کے ’’دو ریاستی حل‘‘ پر کسی قسم کا کوئی اثر پڑے گا۔

صدر نے کہا کہ ’’یروشلم نہ صرف تین عظیم مذاہب کا دل ہے، بلکہ اب یہ دنیا کی ایک کامیاب ترین جمہوریت کے دل کی بھی حیثیت رکھتا ہے’’۔

بقول اُن کے ’’گذشتہ سات عشروں کے دوران، اسرائیلی عوام نے ایک ایسا ملک تشکیل دیا ہے جہاں یہودی، مسلمان، مسیحی اور تمام عقائد کے لوگ آزادانہ طور پر رہتے ہیں، اور اپنے ضمیر اور عقیدے کے مطابق عبادت کرتے ہیں‘‘۔

اُنھوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ ’’اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین ایک قابلِ قبول امن سمجھوتا طے کرنے کے لیے سہولت کار کے طور پر مدد دینے کے معاملے پر دل کی گہرائی سے قائم ہے‘‘۔

اُن کے الفاظ میں، ’’میرے بس میں جو کچھ بھی ہے، اُسے کرنے کا خواہاں ہوں تاکہ کوئی سمجھوتا طے پا جائے‘‘۔

تمام عرب اور مسلمان ملکوں نے یہ متنازع فیصلہ کرنے کے خلاف متنبہ کیا تھا، جس سے، اُن کے بقول، خطے میں تناؤ بھڑک اٹھے گا اور عرب اسرائیل امن سمجھوتا طے کرنے کی امریکی کوششیں ضائع ہو جائیں گی۔

x

Check Also

وائٹ ہاؤس کا روس کے خلاف نئی تعزیرات عائد کرنے پر غور: عہدیدار

وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ روس پر اضافی تعزیرات عائد کرنے کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کے ساتھ وہ نومبر میں ہونے والے کانگرس کے انتخابات میں ممکنہ مداخلت کو روکنے کے لیے بھی تیار ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹس اراکین 2016ء کے انتخاب میں مداخلت کے معاملے پر کانگرس کی طرف سے منظور کردہ تعزیرات روس پر عائد نا کرنے کی وجہ سے صدر ٹرمپ پر تنقید کر چکے ہیں۔ عہدیداروں نے بدھ کو کہا کہ قانونی وجوہات کی بنا پر تعزیرات عائد کرنے کا عمل آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے اور (وہ) تنقید اور میڈیا پر آنے والی خبروں پر ردعمل کا اظہار نہیں کر سکتے ہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ "تعزیرات کا طریقہ کار طویل ہے۔ یہ ایک مشکل عمل ہے، اتنا اچھا نہیں ہے۔ لیکن جب شواہد موجود ہوں ۔۔۔ تو تعزیرات عائد کر دی جاتی ہیں۔" دوسری طرف بد ھ کو ہی صدر ٹرمپ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اوباما کی سابق انتظامیہ کو 2016 ء میں روسی مداخلت کو نا روکنے پر تحقیقات کا کیوں سامنا نہیں ہے۔ تاہم وہ ایسا کوئی مطالبہ کرنے سے رک گئے کہ اٹارنی جنرل جید سیشنز اوباما کے دور کے وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ کی تحقیقات کریں۔ ٹرمپ نے اپنی مہم کے عہدیداروں کے روسیوں کی ساتھ مبینہ ساز باز کے معاملے کی فوجداری تحقیقات سے توجہ ہٹانے کے لیے اوباما انتظامیہ کی بات کی جو 2016ء میں برسر اقتدار تھی۔ ٹرمپ اس بات سے بھی نالاں ہیں کہ سیسثنز نے محکمہ انصاف کی طرف سے کیے جانے والے تحقیقاتی عمل سے خود کو کیوں الگ کر لیا تھا کیونکہ 2016ء میں وہ بھی واشنگٹن میں روس سفیر کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ٹرمپ کا یہ بیان خصوصی وکیل رابرٹ میولر کی طرف سے گزشتہ ہفتے 13 روسی شہریوں اور تین اداروں کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ وہ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ’’انتخابات اور سیاسی عمل سے متعلق کارروائیوں‘‘ میں ملوث رہی ہے۔ اپنی صدارت کے آخری ہفتے کے دوران اوباما نے انتخاب میں مداخلت کرنے پر نو روسی افراد اور اداروں کے خلاف تعیزات عائد کی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ اوباما نے 35 روسی حکومت کے عہدیداروں کو ملک بدر کر دیا تھا اور دو کمپاؤنڈ کو بھی بند کر دیا تھا جن کے بارے میں امریکہ نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں روسی خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow