انڈر نائن ٹین ورلڈ کپ کے لیے چنے گئے کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں7 دسمبر سے20 دسمبر تک جاری رہے گا۔

پاکستان انڈر نائن ٹین کرکٹ ٹیم کا اعلان، حسن خان کپتان

کنور رحمان خاں
پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈر نائن ٹین کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان کر دیا۔ ٹیم کے کپتان حسن خان ہوں گے۔ پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق جونیئر سلیکشن کمیٹی کے سربراہ باسط علی نے پاکستانی پندرہ رکنی دستے کا اعلان کیا جو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے زیر اہتمام ہونے والے کرکٹ کے انڈر نائن ٹین عالمی کپ کے مقابلوں میں شرکت کرے گا۔

جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستانی انڈر نائن ٹین ٹیم کے کپتان حسن خان جبکہ نائب کپتان روحیل نذیر ہوں گے جو وکٹ کیپر کے فرائض بھی سرانجام دیں گے۔

دیگر کھلاڑیوں میں محسن خان، زید عالم، عمران شاہ، محمد طحٰہ، عماد عالم، علی زریاب، سعد خان، موسٰی خان، شاہین شاہ، منیر ریاض، ارشد اقبال، محمد علی اور سلیمان شفقت شامل ہیں، جبکہ متبادل کھلاڑیوں میں محمد جنید، حیدر علی، محمد الیاس، اعظم خان، اور مختیار احمد شامل ہیں۔

انڈر نائن ٹین ورلڈ کپ کے لیے چنے گئے کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں7 دسمبر سے20 دسمبر تک جاری رہے گا۔

پاکستان ٹیم21 دسمبر کو آسٹریلیا روانہ ہو گی جہاں وہ آسڑیلیا کے ساتھ دسمبر کی ستائیس، اٹھائیس اور انتیس کو تین ایک روزہ وارم اپ میچ کھیلے گی۔

بعدازاں پاکستانی انڈر نائن ٹین کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ جائے گی جہاں وہ تین اور پانچ جنوری کو میزبان ٹیم کے ساتھ دو ایک روزہ میچ کھیلے گی۔

یہی پاکستانی کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ میں 13 جنوری سے شروع ہونے والے آئی سی سی انڈر نائن ٹین کرکٹ ورلڈ کپ میں حصہ لے گی۔

x

Check Also

وائٹ ہاؤس کا روس کے خلاف نئی تعزیرات عائد کرنے پر غور: عہدیدار

وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ روس پر اضافی تعزیرات عائد کرنے کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کے ساتھ وہ نومبر میں ہونے والے کانگرس کے انتخابات میں ممکنہ مداخلت کو روکنے کے لیے بھی تیار ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹس اراکین 2016ء کے انتخاب میں مداخلت کے معاملے پر کانگرس کی طرف سے منظور کردہ تعزیرات روس پر عائد نا کرنے کی وجہ سے صدر ٹرمپ پر تنقید کر چکے ہیں۔ عہدیداروں نے بدھ کو کہا کہ قانونی وجوہات کی بنا پر تعزیرات عائد کرنے کا عمل آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے اور (وہ) تنقید اور میڈیا پر آنے والی خبروں پر ردعمل کا اظہار نہیں کر سکتے ہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ "تعزیرات کا طریقہ کار طویل ہے۔ یہ ایک مشکل عمل ہے، اتنا اچھا نہیں ہے۔ لیکن جب شواہد موجود ہوں ۔۔۔ تو تعزیرات عائد کر دی جاتی ہیں۔" دوسری طرف بد ھ کو ہی صدر ٹرمپ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اوباما کی سابق انتظامیہ کو 2016 ء میں روسی مداخلت کو نا روکنے پر تحقیقات کا کیوں سامنا نہیں ہے۔ تاہم وہ ایسا کوئی مطالبہ کرنے سے رک گئے کہ اٹارنی جنرل جید سیشنز اوباما کے دور کے وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ کی تحقیقات کریں۔ ٹرمپ نے اپنی مہم کے عہدیداروں کے روسیوں کی ساتھ مبینہ ساز باز کے معاملے کی فوجداری تحقیقات سے توجہ ہٹانے کے لیے اوباما انتظامیہ کی بات کی جو 2016ء میں برسر اقتدار تھی۔ ٹرمپ اس بات سے بھی نالاں ہیں کہ سیسثنز نے محکمہ انصاف کی طرف سے کیے جانے والے تحقیقاتی عمل سے خود کو کیوں الگ کر لیا تھا کیونکہ 2016ء میں وہ بھی واشنگٹن میں روس سفیر کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ٹرمپ کا یہ بیان خصوصی وکیل رابرٹ میولر کی طرف سے گزشتہ ہفتے 13 روسی شہریوں اور تین اداروں کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ وہ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ’’انتخابات اور سیاسی عمل سے متعلق کارروائیوں‘‘ میں ملوث رہی ہے۔ اپنی صدارت کے آخری ہفتے کے دوران اوباما نے انتخاب میں مداخلت کرنے پر نو روسی افراد اور اداروں کے خلاف تعیزات عائد کی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ اوباما نے 35 روسی حکومت کے عہدیداروں کو ملک بدر کر دیا تھا اور دو کمپاؤنڈ کو بھی بند کر دیا تھا جن کے بارے میں امریکہ نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں روسی خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow