اٹلانٹک میگزین نے رپورٹ دی ہے کہ وکی لیکس نے ستمبر 2016 اور اس سال جولائی کے مہینے کے دوران متعدد بار ٹرمپ جونیئر سے ٹویٹ کیا تھا۔

وکی لیکس اور ٹرمپ جونیئر کے درمیان پیغامات جاری

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے نے وکی لیکس کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے وہ متعدد نجی پیغامات جاری کر دیے ہیں جو 2016 کی صدارتی مہم کے دوران انہیں بھیجے گئے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے یہ پیغامات اس کے چند گھنٹے بعد جاری کیے جب اٹلانٹک میگزین نے، جس نے وہ سلسلے وار پیغامات حاصل کیے تھے، ان کے بارے میں خبر جاری کر دی۔

انہوں نے بظاہر ان پیغامات کی اہمیت گھٹاتے ہوئے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ یہ ہے وکی لیکس کے ساتھ پیغامات کا وہ پورا سلسلہ جسے کانگریس کی ایک کمیٹی نے وکی لیکس افشا کا نام دیا ہے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پامپیوکا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وکی لیکس کی اس بنا پر پوچھ گچھ ہو جو وہ در حقیقت ہے ۔ ایک غیر ریاستی مخالف انٹیلی جینس سروس جس کی روس جیسے ملکوں نے اکثر مدد کی ہے ۔

اٹلانٹک میگزین نے رپورٹ دی ہے کہ وکی لیکس نے ستمبر 2016 اور اس سال جولائی کے مہینے کے دوران متعدد بار ٹرمپ جونیئر سے ٹویٹ کیا تھا۔

اگرچہ ٹرمپ جونیئر نے متعدد ٹویٹس کو نظر انداز کر دیا تھا تاہم انہوں نے تین کا جواب دیا تھا۔

اسانگ اس وقت لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں ہیں جہاں وہ جاسوسي کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ واپس بھیجے جانے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ٹرمپ جونیئر اور وکی لیکس کے درمیان ٹوئیٹر پر کی گئی تمام پیغام رسانی کانگریس کے ان تفتیش کاروں کے حوالے کی گئی تھی جو ٹرمپ کی مہم اور روس کی جانب سے امریکی انتخابات کو ٹرمپ کے حق میں کرو انے کی کوشش کےدوران کسی ساز باز کے بارے میں تفتیش کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

x

Check Also

یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کی مہم میں روسی مداخلت

یہ نئے شواہد ایسے میں سامنے آئے ہیں کہ جب برطانیہ کا الیکٹورل کمشن اور قانون سازوں کی ایک کمیٹی علیحدہ علیحدہ چھان بین شروع کر چکے ہیں۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow