چین اب تک چھ مرتبہ خلابازوں کے ساتھ راکٹ خلا میں بھیج چکا ہے اور یوں اُس کا خلائی تحقیق کا پروگرام بھارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہے۔

چین اور بھارت کے درمیان  راکٹ لانچ کی لاگت  کم کرنے کا مقابلہ

چین کی طرف سے حال ہی میں خلا میں راکٹ بھیجنے پر اُٹھنے والے اخراجات میں 5,000 ڈالر فی کلوگرام کمی کرنے کے اعلان کے بعد بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے ISRO نے کہا ہے کہ وہ بھی اخراجات میں کمی کے اس عالمی مقابلے میں حصہ لینے کیلئے تیار ہے۔

عام طور پر راکٹ لانچ کرنے پر اُٹھنے والے اخراجات کو عام نہیں کیا جاتا اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ چینی حکام نے پچھلے دنوں بیجنگ میں ہونے والے ایئروسپیس فورم میں اعلان کیا کہ وہ راکٹ لانچ پر اُٹھنے والی لاگت میں کمی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

بھارتی اسپیس ایجنسی نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ وہ بھی نئی ٹکنالوجی کے استعمال سے خلائی تحقیق پر اُٹھنے والے اخراجات کم کرنے کے طریقے تلاش کر رہی ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ وہ راکٹ لانچ کرنے کے اخراجات میں دس فیصد کمی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

چین میں خلائی گاڑیاں اور لانچ کرنے والے نظام کو تیار کرنے والی خلائی تحقیق کی سرکاری ایجنسی CASC نے کہا ہے کہ وہ کم خرچ اور زیادہ تیز رفتاری سے زمین کے مدار میں چھوڑے جانے والے راکٹس تیار کر رہی ہے۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار ’پیپلز ڈیلی‘ نے خلائی ایجنسی کے سربراہ ینگ باؤہواکے حوالے سے بتایا ہے کہ لاگت کم ہو کر 5,000 ڈالر فی کلوگرام کی سطح پر لانے کیلئے کوشاں ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ یہ ایجنسی کم خرچ اور تیز رفتار خلائی راکٹ فراہم کرنے کیلئے تیار ہے جو محض ایک ہفتے کے نوٹس پر فراہم کیا جا سکتا ہے۔

یوں سوال یہ ہے کہ کیا بھارتی خلائی ایجنسی اس مقابلے کیلئے تیار ہے؟ بھارتی ایجنسی کے ترجمان دیوی پرشاد کارنک کا کہنا ہے، ’’بھارت میں راکٹ لانچ کی لاگت بین الاقوامی سطح پر ہونے والی لاگت کے برابر ہے۔ بھارت اب تک 28 مختلف ملکوں کیلئے 209 سیٹلائیٹ خلا میں بھیج چکا ہے جن میں نینو، مائکرو، منی اور اسٹینڈرڈ سائز کے سیٹلائیٹ شامل ہیں اور وہ اس پر اُٹھنے والی لاگت کو کم کرنے کے منصونوں پر مستعدی سے کام کر رہا ہے۔‘‘

امریکہ میں لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ کمپنیوں پر مبنی کمپنی ’ یونائیٹڈ لانچ الائنس ‘ راکٹ لانچ کرنے کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ اُس کی طرف سے راکٹ لانچ کرنے کے اوسط اخراجات 14,000 سے 20,000 ڈالر فی کلوگرام ہیں۔ تاہم نجی کمپنی اسپیس ایکس کو اُمید ہے کہ وہ پرانے راکٹس کو دوبارہ کارآمد بنا کر لاگت 2,500 ڈالر فی کلوگرام کی سطح تک لانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

خلائی تحقیق کی عالمی صنعت کا حجم اس وقت 335.5 ارب ڈالر ہے اور راکٹ کو لانچ کرنے پر اُٹھنے والے اخراجات اس کا محض 20 فیصد کے برابر ہیں۔ بھارت کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ نسبتاً چھوٹے سیٹلائیٹ استعمال کرے جنہیں زمین کے مدار میں رہتے ہوئے تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی کیلئے استعمال کیا جا سکے۔ اس کیلئے بھارت نے بھی پرانے سیٹلائیٹ کو دوبارہ کارآمد بنا کر لانچ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے جس پر تیزی سے کام جاری ہے۔

بھارت اب تک جرمنی، کینڈا، ہالینڈ اور اسرائیل جیسے ملکوں کیلئے راکٹ لانچ کر چکا ہے۔ تاہم بھارتی خلائی تحقیق کی ایجنسی لانچ پر اُٹھنے والے اخراجات کی تفصیل ظاہر کرنے سے گریزاں ہے۔ البتہ ہالینڈ اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ بھارت میں اُن کے راکٹ لانچ کرنے کی لاگت مناسب سطح پر ہے۔

چین اب تک چھ مرتبہ خلابازوں کے ساتھ راکٹ خلا میں بھیج چکا ہے اور یوں اُس کا خلائی تحقیق کا پروگرام بھارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے چین کی برابری کا تصور حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔

x

Check Also

‘محکمہ انصاف کو انتخابی مہم میں مداخلت کی تفتیش کا حکم دوں گا’

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 2016ء میں اپنی انتخابی مہم میں ایف بی آئی کے ایک مخبر کی مداخلت کے دعوؤں کی تحقیقات کا حکم دیں گے۔ اتوار کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ "میں مطالبہ کرتا ہوں اور کل اس کا باضابطہ حکم بھی دوں گا کہ محکمہ انصاف اس معاملے کو دیکھے کہ آیا ایف بی آئی/محکمہ انصاف نے سیاسی مقاصد کے لیے ٹرمپ مہم میں مداخلت یا اس نگرانی کی یا نہیں اور اگر آیا ایسا کوئی مطالبہ یا درخواست اوباما انتظامیہ میں شامل لوگوں کی طرف سے کیا گیا تھا۔" بعد ازاں محکمہ انصاف نے اعلان کی کہ اس نے انسپکٹر جنرل سے کہا ہے کہ وہ 2016ء کے صدارتی انتخابات میں روسی ایجنٹس کے ساتھ مل کر کسی مشتبہ شخص کی مداخلت کے معاملے پر ایف بی آئی کی طرف سے کی جانے والی تفتیش میں کسی بے ضابطگی کا جائزہ لے۔ محکمے کی ترجمان سارہ فلورس نے ایک بیان میں کہا کہ "اگر کسی نے صدارتی مہم کے شرکا کی نگرانی یا کام میں کسی بھی نامناسب مقصد کے لیے مداخلت کی ہے تو ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے اور اس پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔" صدر ٹرمپ کی ٹوئٹس کے فوراً بعد ہی اوباما انتظامیہ کے سابق ارکان کی طرف سے خدشات کے ساتھ ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا۔ ان  کے خیال میں ٹرمپ کی دھمکی امریکی نظام انصاف میں اک سنگین مداخلت کے مترادف ہے، کیونکہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو بھی صدر نے اس وقت برخاست کردیا تھا جب وہ انتخابی مہم کی تحقیقات کر رہے تھے۔ گزشتہ ہفتہ کو ٹرمپ نے یہ شکایت کی تھی کہ ایف بی آئی اور محکمہ انصاف ایک مخبر کے ذریعے ان کی صدارتی مہم کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور اس شخص نے ایف بی آئی کو معلومات فراہم کرنے سے پہلے مہم کے تین شرکا سے رابطہ کیا تھا۔ مختلف خبر رساں ایجنسیوں نے ایک 73 سالہ شخص سٹیفن ہالپر کو بطور مخبر ظاہر کیا ہے جو کہ امریکی شہری ہیں اور برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور وہ ماضی میں رپبلکنز انتظامیہ کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow