ضلع جہلم میں ضمنی انتخابات اورسیاسی وفاداریوں کی تبدیلی۔تحریر:عمران بشیر

جہلم(تحریر:عمران بشیر)ضمنی الیکشن حلقہ این اے تریسٹھ کے انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی شروع ہوگئی ہے۔سب سے پہلے ٹکٹ نہ ملنے پر پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑکرسابق امیدواربرائے قومی اسمبلی مرزامحمودجہلمی پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اوراپنے بیٹے جہانگیر محمودمرزاکو پیپلزپارٹی کے نامزدامیدوارکے طورپر حلقہ این اے تریسٹھ سے سامنے لائے۔دوسرے نمبرپر سابق ضلع ناظم چوہدری فرخ الطاف کی جیت اورہارمیں سیاسی اکٹھ اورطعام کا بندوبست کرنے والے سابق امیدواربرائے قومی اسمبلی چوہدری عارف اورسابق تحصیل ناظم چوہدری عابداشرف جوتانہ نے مسلم لیگ ن کی سپورٹ اور شمولیت کا اعلان کیا ۔اس کے بعد سابق سینیٹرراجہ محمدافضل خان نے اپنی سیاسی وفاداری ایک بارپھر تبدیل کرتے ہوئے ریورس سیاسی گئیرلگاتے ہوتے مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے۔تینوں افرادکوگرمالہ گروپ کی جانب سے خاطر خواہ پذیرائی نہ مل سکی ایم پی اے چوہدری لال حسین نے سابق امیدواربرائے قومی اسمبلی چوہدری عارف کوخودساختہ مسلم لیگی قراردیا اورراجہ افضل خان کو اپنا سفر ن لیگ میں صفر سے شروع کرنے کاپیغام دیا۔لدھڑخاندان کے پاکستان تحریک انصاف میں بڑھتے ہوئے اثر رسوخ اورحلقہ این اے تریسٹھ میں چوہدری فوادحسین کو امیدوارنامزدکئے جانے کے بعد اپنا سیاسی مستقبل تاریک دکھائے دے رہاتھا جس بناء پر انہوں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیارکی ۔عمران خان کے زبردست جلسہ کے بعدپاکستان تحریک انصاف کے نامزدامیدوارچوہدری فوادحسین کی سیاسی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے وہیں پر ن لیگ میں مختلف دھڑوں کی شمولیت کے بعدانہیں خاصامقابلہ ملے گا۔جبکہ سب سے بری صورت حال جہانگیر محمودمرزاکی ہے جنہیں پیپلزپارٹی کی اعلیٰ ضلعی قیادت کی جانب سے مکمل سپورٹ حاصل نہیں ۔پیپلزپارٹی کی گری ہوئی ساخ کی بناء پر ضلعی قیادت نے جہانگیر محمودمرزاکی سیاسی قربانی بڑی عید سے پہلے لگانے کا ٹھان رکھی ہے ۔31 اگست کو نئے جہلم اورروایتی سیاست میں کون جیتتا ہے اس کا فیصلہ عوام کریں گے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow