صوفیائے کرام کے زہد وعبادت اورکرامات کاامین پنڈدادنخان۔ ملک ظہیر اعوان ٹوبھہ

صوفیائے کرام کے زہد وعبادت اورکرامات کاامین پنڈدادنخان۔

ملک ظہیر اعوان ٹوبھہ
عکاسی ۔بابر ملک

ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان پر انبیاء و صحابہ کرام اور اللہ کے ولیوں کی خاص نگاہ کرم رہی ہے انبیاء کرام کے بعد اللہ کے نیک بندوں یعنی اولیائے کرام کی آمد کا سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے اور رشد و ہدایات کے یہ سر چشمےّ آج بھی اپنا فیض بانٹ رہے ہیں ،ان روحانی شخصیات کے ساتھ ساتھ دنیاکو فتح کرنے والے حکمران سکندر اعظم ،ظہیر الدین بابر ،راجہ پورس اور نامور سائنس دان ابور ریحان البیرونی نے بھی تحصیل پنڈ دادنخان کو ہی اپنا مسکن بنایا ،سکندر اعظم کے گھوڑوں نے ہی کان نمک کھیوڑہ کے مقام پر نمک کی نشاندہی کی، راجہ پورس کا بھی اسی علاقہ سے گذر ہوا ،تحصیل پنڈ دادنخان کے گاؤں “روال “میں حضرت حام ؑ کی ستر فٹ لمبی قبر موجود ہے جہاں پیپل کا بہت پرانا درخت موجود ہے جس پر عقاب سے بھی بڑے چمگادڑ پائے جاتے ہیں اس کے علاوہ دھریالہ جالپ ،پنڈ دادنخان اور ڈھڈی تھل میں صحابہ اکرام کی قبریں بھی پائی جاتی ہیں جبکہ جہلم شہر میں صحابی رسول ﷺ حضرت سلیمان پارسؓ کا مزار مبارک بھی موجود ہے تا ہم تحصیل پنڈ دادنخان کا انتہائی خوبصورت گاؤں” جوتانہ” کو ہستان نمک کے دامن میں اور غریب وال سیمنٹ فیکٹری سے ملحقہ ہے اس گاؤں “جوتانہ” میں برصغیر پا ک و ہند کے تین اہم ترین اولیائے کرام کی چلہ گاہیں موجود ہیں حضرت سخی لعل شہباز قلندر ؒ کا مزار مبارک سیون شریف سندھ ضلع داد و میں واقع ہے لیکن انھوں نے کئی سال ک جوتانہ میں قائم ایک غار میں بیٹھ کر عبادات کیں جس غار میں انھوں چلہ کشی کی اس کا عقبی دروازہ نہایت ہی چھوٹا ہے جس سے بمشکل اندر داخل ہوا جاتا ہے آپ کی چلہ گاہ سے میٹھے اور ٹھنڈے پانی کا بہترین چشمہ بہہ رہا ہے جس کا پانی اہلیان جوتانہ پینے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور جو پانی بچ جائے اسے آبپاشی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اہلیان جوتانہ ہر سال 8.9.اور 10محرم الحرام کویہاں تقریبات منعقد کرتے ہیں اور لوگ دو ر دور سے حضرت سخی لال شہباز قلندر کی چلہ گاہ کی زیارت کرنے آتے ہیں یہاں کا سارا نظام پیر سوار شاہ نے سنبھال رکھا ہے جبکہ لنگر کا اہتمام اصغر بٹ وغیرہ مین گیٹ غریب وال سیمنٹ فیکٹری والے کرتے ہیں اس چلہ گاہ سے چند میٹر کے فاصلے پر حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ؒ کی چلہ گاہ موجود ہے یہ چلہ گاہ بھی پہاڑ کی غار میں موجود ہے اس چلہ گاہ میں داخل ہونے کے اور باہر نکلنے کے دو دروازے ہیں یہ دروازے بھی نہایت تنگ ہیں چلہ گاہ کے اندر داخل ہونے والا دروازہ قدرے کھلا ہے جس سے لوگ با آسانی اندر داخل ہو جاتے ہیں جبکہ باہر نکلنے والا دروازہ انتہائی تنگ ہے اس غا ر میں ایک پتھر کا مصلح ہے جس پر بیٹھ پر آپ عبادت کرتے تھے بتایا گیا ہے اس غار میں حضرت بابا فرید الدین گنج شکر نے بارہ سال تک مسلسل روزے رکھے اور عبادات کیں اسی غار میں سے ایک میٹھے و ٹھنڈے پانی کا چشمہ نکل رہاہے جسے اہلیان جوتانہ پینے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور باقی پانی سے زمینیں سیراب کرتے ہیں دسویں محرم الحرام کے دن یہاں محفل سجائی جاتی ہے جس میں آقاﷺ کی شان میں گلہائے عقیدت نچھاور کئے جاتے ہیں ،یہاں سارا نظام پیر سید سفیر حسین المعروف صاحب اور پیر کریم و دیگر نے سنبھال رکھا ہے ان دونوں چلہ گاہوں سے نکلنے والے دونوں چشمے ان بزرگوں کی کرامات ہیں دونو ں چشموں کا پانی انتہائی شیریں و میٹھا ہے ان دونوں چلہ گاہوں کے تقریباً پانچ سو میٹر کے فاصلہ پر حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی ؒ کی چلہ گاہ واقع ہے جہاں ایک ماؤنٹی اور معمولی سی چار دیواری قائم ہے اور اس ماؤنٹی کے نیچے سے پانی کا چشمہ بہہ رہا ہے جس کا پانی عوام الناس استعمال کرتے ہیں ،اس کے ساتھ ایک مسجد واقع ہے جس کو سابق ممبر ضلع کونسل جہلم چوہدری محمد اشرف جوتانہ مرحوم و مغفور نے نئے سرے سے تعمیر کرایا تھا اور ساتھ خوبصورت مینار بھی بنوایا ،اس چشمے کا پانی وضو کے لئے مسجد میں استعمال کیا جاتا ہے خواتین و حضرات کے لئے الگ الگ غسل خانے تعمیر کئے گئے ہیں اور پینے کا پانی بھرنے کے لئے ایک پبلک سٹینڈ بھی بنایا گیا ہے اور مال مویشوں کے لئے بھی جگہ بنائی گئی ہے یہ جگہ نہایت ہی خوبصورت منظر پیش کر رہی ہے یہاں کھجوروں کے اونچے اونچے درخت بھی موجود ہیں ،چشمے کا جو پانی انسانوں اور جانوروں کے استعمال سے بچ جاتا ہے اسے زرعی زمینوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور کاشتکار وں نے پانی کی باریاں بنائی ہوئی ہیں یہ چشمہ حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی ؒ کی کرامت ہے اس چشمے کا پانی میٹھا اور ٹھنڈا ہے لیکن اس کاذائقہ دودھ کی کچی جیسا ہے ان تینوں چلہ گاہوں کے تقریبا تین کلو میٹر مغرب کی جانب پہاڑی کی بلندی پر “پیر چنبل”کی چلہ گاہ ہے یہاں چنبل اور دھدر کے مریض جاتے ہیں اور شفا یاب ہوتے ہیں ،جبکہ ان تمام چلہ گاہوں کے جنوب میں تین ،چار کلو میٹر کے فاصلہ پر حضرت نوح ؑ کے بیٹے حضرت حام ؑ کی قبر مبارک موجود ہے دھریالہ جالپ اور پنڈ دادنخان کے قریب پیر صحابہ کی قبریں موجود ہیں ، جبکہ ڈھڈی تھل میں دو لمبی قبریں موجود ہیں جن کے بارے بتایا گیا ہے کہ یہ قبریں بھی صحابہ کی ہیں جلالپو شریف میں پیر حید ر شاہ ؒ ،پیر فضل شاہ ؒ ،پیر برکات شاہ ؒ ،کا مزار مبارک ہے جبکہ ڈھیری پیراں میں میراں شاہ ؒ ،پنڈی سید پور میں حضرت سلطان محمد افضل ؒ ،پنن وال میں حضرت میراں شاہ ؒ ،ہرن پور میں سید گلا ب شاہ ؒ ،عثماں شریف میں میاں خوشی سلطان ؒ ،پنن وال شریف میں حضرت پیر سید شیر علی شاہ ؒ تقوی کرمانی القادری چشتی ،سمن وال میں جلال شاہ ہمدانی ؒ ،ساؤوال میں نو ر شاہ ہمدانی ؒ ،کھیوڑہ میں پیر سید مقصر شاہ ؒ ،سید محبت شاہ بخاری ؒ ،واڑہ بلند خان میں صوفی محمد حسین چشتی نظامی ولی قلندر ؒ ،بھیلووال میں احمد شہید ؒ ،ٹوبھہ میں حضرت باوا گل شاہ ؒ ،باغ علی شاہ ؒ ،بخاری بادشاہ ؒ ،بابا کیراں والا ؒ ،باوا منی بادشاہ ؒ ،باوا شہید ؒ ، مفتی فضل کریم ؒ ،ڈھڈی تھل میں مخدوم سید صفدر بخاری ؒ ،مولوی محمدحسن ؒ ،کنڈل میں الہی بخش کنڈل ،لِلہ شریف میں حضرت خواجہ غلام نبی للہی ؒ حضرت حافظ دوست محمدؒ ،حافظ عبدالرسولؒ ،اور حضرت مقبول الرسول ؒ کے مزارات مبارک موجود ہیں اور پیر کھارا شریف میں حضرت پیر کرم شاہ ؒ ٹوپی والی سرکار کا مزار مبارک موجود ہے جہاں پر درد گردہ اور خارش کے مریض شفا یاب ہوتے ہیں ان روحانی ہستیوں کے بعد سکندر اعظم اور راجہ پورس کی فوجوں نے یہاں پڑا ؤ کیا سکندر اعظم کے گھوڑوں نے کھیوڑہ کے مقام پر پتھر چاٹے جس سے یہاں نمک کی موجودگی کا پتہ چلا ،جس کے باعث آج یہاں بہترین راک سالٹ کی دنیا کی سب سے بڑی کان نمک موجود ہے جس کو دیکھنے کے لئے دنیا بھر کے سیاح یہاں آتے ہیں ،گزشتہ چند سال قبل چمکون ویلی جلالپو رشریف میں یونانی حکومت نے یہاں سکندر اعظم کی یاد گار بھی قائم کی ہے باغانوالہ میں قلعہ نندنہ ایک پہاڑی کی چوٹی پر موجود ہے جہاں ظہیر الدین محمد بابر اور انکی فوجوں نے پڑاؤ کیا اس قلعہ نندنہ پر بیٹھ کر معروف سائنسدان ابو ریحان البیرونی نے پوری دنیا کا قطر نکالا اور طول بلد اور عرض بلد کا کلیہ ایجاد کیا ،یوں دنیا کے فاتح حکمرانوں اور سائنسدانوں نے بھی تحصیل پنڈ دادنخان کو ہی اپنا مسکن بنایا ،تا ہم آج بھی اس سر زمین پر حضرت صاحبزادہ پیر محمد مطلوب الرسول مدظلہ العالی آستانہ عالیہ لِلہ شریف ،حضرت پیر غلام حسین المعروف معصوم بادشاہ ڈھڈی تھل ،حضرت پیر سید غلام شبیر شاہ مدظلہ العالی کھیوڑہ ،حضرت پیر علامہ محمد انور قریشی ہاشمی پرنسپل دارالعلوم محمدیہ رضویہ پنڈ دادنخان ،حضرت صاحبزادہ پیر سید محمد نواز شاہ تقوی کرمانی القادری زیب سجادہ آستانہ عالیہ پنن وال شریف ،حضرت پیر تنویر حیدر شاہ دامت برکاتھم العالیہ آستانہ عالیہ جلالپور شریف جیسی ہستیوں کا فیض عام جاری ہے ۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow