سیاسی درجہ حرارت،تحریر :چوہدری عابد محمود

سیاسی درجہ حرارت،تحریر :چوہدری عابد محمود

کچے گھڑے

بھادوں کی گرمی اپنے عروج پر جبکہ سیاسی درجہ حرارت بھی اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے ۔ جہلم کے حلقہ این اے 63 میں ہونے والے ضمنی انتخابات اور بلدیاتی انتخابات کے آخری مرحلے میں مسلم لیگ ن کی ضلعی قیادت نے سر جوڑ لیے ہیں مگر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ ضلع کونسل کی مخصوص نشستوں وائس چیئرمین اور چیئر مین کا الیکشن یکم ستمبرسے شروع ہو رہا ہے تاہم مسلم لیگ( ن) مخصوص نشستوں کے نام ابھی تک فائنل نہیں کر سکی۔ جبکہ تاحال خواتین کی مخصوص نشستوں پر بھی اتفاق نہیں ہو سکا۔ دیگر جو سیاسی جماعتیں ہیں ان میں بھی جوڑ توڑ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے ، ذرائع کے مطابق چیئرمین ضلع کونسل کی نشست پر مقابلے کی فضاء آہستہ آہستہ بنتی جا رہی ہے ، اگر ضلع کونسل کے چیئرمین کے لیے مسلم لیگ ن کے دونوں دھڑے یکجا ہو جائیں تو پی ایم ایل این بلامقابلہ ضلعی چیئرمین منتخب کر سکتی ہے، لیکن ضمنی انتخابات کیوجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دونوں دھڑے 31 اگست کی شام تک خاموش دکھائی دے رہے ہیں ، ضمنی انتخاب کے ختم ہوتے ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دونوں دھڑے ایک دوسرے کے مدمقابل آجائیں گے۔ اس طرح (ن) لیگ سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی دھڑا اپوزیشن کو ساتھ ملاکر فتح حاصل کر سکتا ہے ۔ متوقع امیدواروں نے نئی واسکٹیں سلوا کر اپنے گھروں کی بیٹھکوں میں لٹکا رکھیں ہیں ۔بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے چیئرمینز ، وائس چیئرمینز، اور کونسلرز نے ایک مرتبہ پھر 1 سال کا عرصہ گزرجانے کے بعد پھر سے سیاسی بیٹھکیں اور چوراہے آباد کرنا شروع کررکھے ہیں ،مسلم لیگ ن کے ضلعی چیئرمین کا ٹکٹ رائیونڈ سے آئے گااور باقی مقامی قائدین اس پر مجبوراً لبیک کہیں گے۔جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے متوقع امیدوار بھی مقابلے کے لئے سامنے لائے جائیں گے۔ صورتحال انتہائی دلچسپ ہے ، سیاسی کھلاڑی اپنی ماہرانہ چالیں چلتے ہوئے منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو ا پنا گرویدہ بنائے ہوئے ہیں جبکہ تماشائیوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد اس گورکھ دھندے سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔اس وقت زمینی حقائق گرمالہ خاندان کے گرد گھوم رہے ہیں، لیکن 31 اگست کو ضمنی انتخاب کے اختتام کے فوراً بعد سیاسی حالات یکسر تبدیل ہو جائیں گے۔ نوابزدہ اقبال مہدی (مرحوم) کے جانشین راجہ مطلوب مہدی چونکہ ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں، اس لئے انتہائی مہارت کے ساتھ ضمنی الیکشن کا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ یکم ستمبر سے (ن)لیگی گروپ نئی آب و تاب کے ساتھ گرمالہ خاندان کے سامنے آئے گا اور گرمالہ خاندان کی امیدوں پرپانی پھیرنے کے لئے سابق ریٹائر ہونے والے سیاست دانوں کو دوبارہ بھرتی کر کے محاظ پر جنگ لڑنے کی تیاریاں کی جائیں گی۔ یکم ستمبر کو مخصوص نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں مختلف سیاسی قائدین نے انہیں اپنے بھرپور تعاون کا یقین بھی دلایا ہوا ہے اور اس وقت ممبر صوبائی اسمبلی مہر محمد فیاض ضلعی انتظامیہ کے انتہائی قریب تصور کئے جاتے ہیں، جبکہ گرمالہ خاندان سے ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری لال حسین نے حلقہ پی پی 26 میں ترقیاتی کام بھی شروع کروا رکھے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب مہر محمد فیاض عوامی اجتماعات میں اپنی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر ضلعی چیئرمینی کا تاج گرمالہ گروپ کے نامزد کردہ چیئرمین کے سر پر سجتا ہے تو بلا شبہ مسلم لیگ (ن )کوتقویت ملے گی۔ کیونکہ گرمالہ خاندان کے بزرگ ممبر قومی اسمبلی چوہدری خادم حسین ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ بہر حال ضلع کونسل کے چیئرمین کی 1 سیٹ ہے اور اس کے خواہشمند کئی ہیں ۔ستمبر بڑا ستمگر مہینہ ثابت ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کے کس گروپ پر ستم ہوگااور کس پر کرم کی نوازشات ہونگی۔ کسی کو نہیں معلوم کہ کس کے سر ضلع کونسل کا تاج سجے گا فیصلہ کن گھڑیاں شروع ہونے میں ابھی چندروز باقی ہیں ۔ عوامی حلقوں کی نظریں ضمنی انتخاب کے بعد ضلعی چیئرمینی اور ضلع جہلم کی چاروں میونسپل کمیٹیوں کے چیئرمینوں پر لگی ہوئی ہیں۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow