فجی کی چند جھلکیاں جاوید چوہدری

فجی کے لوگ بہت فضول خرچ ہیں، آپ انھیں لاکھ ڈالر دے دیں یہ ہفتے میں کھا پی کر برابر کر دیں گے، فجی میں شادی اور تدفین کی رسمیں ہفتوں چلتی ہیں، مجھے ایک مقامی شادی میں شریک ہونے کا موقع ملا، یہ بھی ایک دلچسپ تجربہ تھا، تقریب میں لڑکی اور لڑکے دونوں طرف سے دو دو لوگ سامنے آئے اور لڑکے اور لڑکی، ان کے خاندان، ان کی تعلیم اور ان کی عادتوں کے بارے میں باقاعدہ تقریر کرنے لگے، آخر میں لڑکے اور لڑکی نے بھی مائیک پکڑ کر تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا، شادی میں ناگونا پینے والوں کے لیے الگ جگہ مختص تھی، یہ آدھی رات تک ناگونا پیتے رہے اور باقی رات کھانا کھاتے رہے، یہ تقریب صبح تک جاری رہی، ملک میں تدفین کا سلسلہ بھی طویل اور مختلف ہوتا ہے۔
فجی میں جب بھی کسی کا کوئی عزیز رشتے دار انتقال کر جاتا ہے تو وہ اس کی لاش سرد خانے میں رکھواتا ہے اور پھر اپنے دوستوں، دفتر کے لوگوں اور جاننے والوں سے بھاری قرض لیتا ہے اور پھر آخر میں تدفین کے مراحل شروع ہوتے ہیں، یہ مراحل 40 دن تک جاری رہتے ہیں، لوگ سوا مہینہ اس کے گھر آتے رہتے ہیں، ساری رات اس کے ساتھ گزارتے ہیں، ناگونا پیتے ہیں اور کھانا کھاتے ہیں، یہ شخص چالیس دن کوئی کام نہیں کرتا، دنیا میں کسی فجین خاندان کا داماد ہونے سے بڑی کوئی سزا نہیں، آپ نے اگر کسی فجین عورت سے شادی کر لی تو پھر اس کا پورا قبیلہ آپ کے گھر کو اپنا گھر سمجھ لے گا، یہ لوگ آئیں گے اور آپ کے گھر پر قابض ہو جائیں گے، یہ آپ کے کپڑے اور جوتے تک پہن لیں گے، یہ آپ کا ٹوتھ برش، شیونگ کا سامان اور پرفیوم بھی استعمال کریں گے اور آپ کا فریج بھی خالی کر دیں گے لیکن آپ اعتراض نہیں کر سکیں گے، کیوں؟ کیونکہ یہ ان کا رواج ہے۔
’’لوٹوکا،، فجی کا تیسرا بڑا شہر ہے، یہ شہر نادی کے ساتھ واقع ہے، اس شہر کے ایک پاکستانی ڈاکٹر نے فجین خاتون سے شادی کر لی، وہ اس غلطی کو اپنی ماں کی بددعائیں قرار دیتے تھے، یہ شادی آخر میں تنازعے پر اختتام پذیر ہوئی، ڈاکٹر صاحب نے خاتون کو طلاق دی اور آسٹریلیا بھاگ گئے، یہ لوگ یورپ کی طرح شادی کے بغیر اکٹھے رہنا پسند کرتے ہیں، خاتون اپنے بچے خاندان کے مختلف لوگوں میں تقسیم کرتی جاتی ہے، یہ اپنی ابتدائی غلطیاں ماں باپ کو دے دے گی، دوسرے بوائے فرینڈ کی اولاد نانا نانی یا دادا دادی کے حوالے کر دے گی اور تیسری اولاد کو ساتھ ساتھ لے کر پھرے گی، خواتین جسمانی لحاظ سے بہت تگڑی ہیں، یہ بھاری سے بھاری کام آرام سے کر گزرتی ہیں۔
گھروں کا سارا نظام خواتین کے ہاتھ میں ہے، خواتین باسکٹ بال اور والی بال بھی کھیلتی ہیں چنانچہ ان کے ہاتھ پتھر کی طرح سخت ہیں، فجین بچے بھی بچپن ہی سے کام شروع کر دیتے ہیں اور یہ لوگ قرض لینے کی لت کا شکار بھی ہیں، یہ بیس ہزار ڈالر جیب میں ڈالنے کے بعد بھی ’’کیرے کیرے‘‘ کہہ کر آپ سے پانچ دس ڈالر ضرور مانگیں گے لیکن یہ لوگ ان تمام خرابیوں کے باوجود سیاحوں کی بہت عزت کرتے ہیں، یہ انھیں تنگ نہیں کرتے، اگر کوئی فجین تنگ کرے تو لوگ جمع ہو جاتے ہیں اور یہ کھل کر سیاح کا ساتھ دیتے ہیں۔
فجی معجزوں اور حیرتوں کی سرزمین بھی ہے، تویونی کی جھیل کے کنارے ’’تانگی مودیا‘‘ نام کا ایک خوبصورت پھول کھلتا ہے، یہ پھول اس جھیل کے علاوہ پوری دنیا میں کسی جگہ پیدا نہیں ہوتا، دنیا بھر کے نباتاتی ماہرین نے کوشش کی لیکن یہ اسے جھیل سے چند میل کے فاصلے پر بھی نہیں اگا سکے، فجی میں ایسے جزیرے بھی ہیں جن میں آج بھی چیز کے بدلے چیز کا نظام رائج ہے، یہ لوگ رقم اور کرنسی نام کی کسی چیز سے واقف نہیں ہیں، یہ 21 ویں صدی میں بھی ’’بارٹل سسٹم‘‘ سے بندھے ہوئے ہیں، فجی میں سمباتو نام کا پہاڑی سلسلہ ہے، وہاں عجیب و غریب قسم کے درخت پائے جاتے ہیں، آپ اگر ان کے تنوں میں کٹ لگا دیں تو یہ درخت شاور بن جاتے ہیں، ان میں سے پانی کی پھوار نکلتی ہے۔
آپ اس پھوار میں نہا بھی سکتے ہیں، اسے پی بھی سکتے ہیں اور آپ اس پانی کو گھریلو استعمال کے لیے بھی لے جا سکتے ہیں، اسی طرح لمباسا فجی کا مشہور جزیرہ ہے، اس جزیرے میں ایک ناگ مندر ہے اور اس مندر میں ایک پتھر ہے، یہ پتھر وقت کے ساتھ ساتھ لمبا ہوتا جا رہا ہے، یہ تیس برسوں میں مندر کی چھت سے باہر نکل گیا ہے، یہ عجیب معجزہ ہے، اسی طرح بینگا آئی لینڈ کے لوگ آگ کے دوست ہیں، آگ ان لوگوں کو نقصان نہیں پہنچاتی، یہ لوگ ننگے پاؤں آگ پر چلتے ہیں، یہ انگارے ہاتھوں میں اٹھا لیتے ہیں اور یہ آگ کے گولوں کے ساتھ کھیلتے رہتے ہیں مگر آگ انھیں کچھ نہیں کہتی، یہ لوگ آگ کے زخم اور جلن بھی دور کر سکتے ہیں، یہ منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتے ہیں، آگ کی جلن کے شکار لوگوں کو ہاتھ لگاتے ہیں اور وہ چند لمحوں میں صحت یاب ہو جاتے ہیں، یہ زخموں کی جلن اور پیپ بھرے پھوڑے بھی ٹھیک کر سکتے ہیں، پورے ملک میں کبھی کوئی مذہبی فساد نہیں ہوا، مقامی آبادی اور ہندوستانی مہاجروں کے درمیان بھی کبھی دنگا فساد نہیں ہوا، فجی کے مسلمان بھی فرقہ پرستی اور نسلی تعصب سے بالاتر ہیں۔
پاکستان کے مختلف فرقوں کے علماء نے یہاں فرقہ پرستی کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی لیکن یہ بری طرح ناکام ہوئے تاہم لوگ تبلیغی جماعت کی بہت عزت کرتے ہیں، فجی میں قادیانی بھی موجود ہیں، مسلمان ان سے زیادہ میل جول نہیں رکھتے لیکن یہ انھیں برا بھلا بھی نہیں کہتے، ملک میں 2006ء میں مارشل لاء لگا، یہ مارشل لاء رئیرایڈمرل فرینک بینی ماراما نے لگایا، یہ مسئلہ عدالت میں گیا، ایڈمرل نے عدالت میں پاکستان کی مثال دے کر نظریہ ضرورت کا نقطہ اٹھایا مگر عدالت نے2009ء میں یہ کہہ کر نظریہ ضرورت کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ’’یہ فجی ہے پاکستان نہیں‘‘ ۔ملک میں 1926ء سے مسلم لیگ بھی قائم ہے لیکن یہ مسلم لیگ سیاسی کم اور سماجی زیادہ ہے، یہ ملک بھر میں مسجدیں، اسکول اور کالج بنا رہی ہے، فجی کے اسکولوں میں باقاعدہ اردو پڑھائی جاتی ہے، فجی کے مسلمانوں کو ہندوستان سے آئے سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن یہ آج تک اپنی ثقافت اور زبان نہیں بھولے، آپ کو پورے ملک میں اردو بولنے اور سمجھنے والے بے شمار لوگ ملتے ہیں، ہندو اور مسلمان یہاں خاندان کی طرح رہتے ہیں، یہ ایک دوسرے کی خوشی غمی میں بھی شریک ہوتے ہیں اور یہ ایک دوسرے کا کھانا کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھتے، یہ لوگ شادیوں کی تقریبات میں ایک دوسرے کو دعا بھی دیتے ہیں، میں جس شادی میں شریک ہوا وہ ہندو نوجوان کی شادی تھی لیکن تقریب میں پادری، پنڈت اور مولوی تینوں نے نکاح پڑھایا، تینوں نے دعا بھی کی اور کھانا بھی اکٹھا کھایا تاہم مسلمانوں کے لیے حلال گوشت کا بندوبست کیا گیا تھا۔
یہ لوگ پاکستانیوں کو پسند نہیں کرتے، میں ائیر پورٹ پر واحد مسافر تھا جس کا سامان کھلوا کر تلاشی لی گئی، وجہ میرا سبز پاسپورٹ تھا، فجی میں چند سال پہلے تک پاکستانیوں کے لیے فری انٹری تھی لیکن پھر کراچی سے ایک مولوی صاحب یہاں آئے اور انھوں نے یہاں تعویز گنڈے کا کاروبار شروع کر دیا، پولیس نے انھیں گرفتار کر کے واپس بھجوا دیا، یہ ایک بار پھر فجی آ گئے، انھیں دوبارہ پکڑ کر کراچی روانہ کر دیا گیا لیکن یہ تیسری بار نئے نام سے پاسپورٹ بنوا کر آ گئے، فجی گورنمنٹ یہ جان کر حیران رہ گئی پاکستان میں جعلی ناموں سے پاسپورٹ بھی بن سکتے ہیں چنانچہ فجی نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ لازمی قرار دے دیا، ہمارے ملک میں فجی کا سفارت خانہ موجود نہیں لہٰذا ویزہ ممکن نہیں، کراچی اور لاہور کے بعض ٹریول ایجنٹ نوجوانوں کو تعلیم کے نام پر فجی بھجوا رہے ہیں، یہ نوجوان بعد ازاں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اسمگل کر دیے جاتے ہیں۔
مجھے ایسے نوجوان بھی ملے جو فجی کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا ہمسایہ سمجھ کر یہاں آ گئے تھے، یہ نہیں جانتے تھے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ فجی سے نہ صرف تین ساڑھے تین ہزار کلومیٹر دور ہیں بلکہ ان کے درمیان وسیع سمندر بھی حائل ہے اور یہ سمندر بڑے بحری جہاز کے بغیر عبور نہیں کیا جا سکتا، پاکستانی نوجوانوں نے یہاں مار پیٹ بھی کی اور یہ تمام ایشوز آگے چل کر پاکستانیوں کی بدنامی کا باعث بنے، یہ لوگ وقت کے معاملے میں بھی دلچسپ ہیں، یہ کاروباری ملاقات میں وقت کا پورا خیال رکھیں گے، آپ انھیں آٹھ بجے بلائیں یہ پونے آٹھ بجے پہنچ جائیں گے لیکن یہ عام معاملات میں وقت کا بالکل خیال نہیں رکھتے، یہ آپ کو ’’آدھ گھنٹہ میں آتا ہے‘‘ کا کہیں گے اور دو گھنٹے بعد بھی نہیں پہنچیں گے، یہ تعلیم کے معاملے میں بہت اچھے ہیں، ملک میں تعلیم لازمی ہے لیکن حکومت اسکول اور کالج نہیں بناتی، یہ کام کمیونٹی کو سونپ دیا گیا ہے۔
حکومت سلیبس تیار کرتی ہے، استاد فراہم کرتی ہے، طالب علموں کو کتابیں اور خوراک دیتی ہے اور فی طالب علم وظیفہ دیتی ہے لیکن اسکول کی عمارت کمیونٹی تیار کرتی ہے، حکومت عمارت کی تعمیر کے لیے کمیونٹی کو رقم دے دیتی ہے، یہ سسٹم کامیاب چل رہا ہے، کیوں؟ کیونکہ تعلیم کے معاملے میں عوام اور حکومت دونوں کام کر رہے ہیں، ملک میں ہندوستانی پاکستانی زیادہ اور پاکستانی پاکستانی کم ہیں، یہ لوگ تین چار نسل پہلے اس وقت فجی آئے جب ہندوستان تقسیم نہیں ہوا تھا، یہ لوگ اب صرف پاکستان اور ہندوستان کے ناموں سے واقف ہیں تاہم پاکستان سے ڈاکٹروں اور کاروباری حضرات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، مجھے یہاں قیوم صاحب بھی ملے اور ماجد شہزاد بھی۔ ماجد شہزاد فیصل آباد کے رہنے والے ہیں، یہ سات سال پہلے فجی آئے، یہ بہت اچھے، دین دار اور سمجھ دار انسان ہیں جب کہ قیوم صاحب 1975ء میں آئے اور 40 سال سے یہاں ہیں، یہ بہت دلچسپ، ہنس مکھ اور قہقہے دار شخصیت ہیں، یہ دونوں مجھے نادی سے سوہا لے کر گئے۔
سوہا فجی کا دارالحکومت ہے، یہ ایک چھوٹا سا صاف ستھرا شہر ہے، یہ تین اطراف سے سمندر میں گھرا ہوا ہے، مکان صاف ستھرے ہیں، سڑکیں ہموار ہیں اور ٹریفک کم، ایوان صدر اور پارلیمنٹ ہاؤس سڑک پر واقع ہیں، آپ سامنے کھڑے ہو کر تصویریں بنوا سکتے ہیں، سمندر کے ساتھ ساتھ واکنگ ٹریک ہے، میں 29 جون کی رات وہاں دیر تک واک کرتا رہا، شہر میں بڑے شہروں کی تمام خوبیاں اور خرابیاں موجود ہیں لیکن یہ شہر اس کے باوجود گاؤں محسوس ہوتا ہے، لوگ جلدی سو جاتے ہیں اور صبح جلدی جاگتے ہیں، شہر کا کلچر مکس ہے، آپ کو وہاں بے شمار اقسام کے لوگ نظر آتے ہیں، بندر گاہ بھی مصروف ہے اور دفتروں اور شاپنگ سینٹروں میں بھی رش نظر آتا ہے، مجھے سوہا میں چند گھنٹے اور ایک رات گزارنے کا اتفاق ہوا لیکن یہ چند گھنٹے یاد بن کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میری یادداشت کا حصہ بن گئے، میں اب چاہوں بھی تو شاید سوہا کو بھول نہ سکوں۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow