آبی وسائل کے قائم مقام پولیس سربراہ، محمد محمود حسن نے بتایا ہے کہ ''ہم نے الفاروق نام کی کشتی کو قبضے میں لے لیا گیا ہے، جس میں مختلف قسم کے ہتھیار لدے ہوئے تھے، جن میں طیارہ شکن مشین گن، اے کے 47 رائفلیں، پستول اور کارتوس شامل ہیں''

صومالیہ میں کشتی سے اسلحہ برآمد

آبی وسائل کے قائم مقام پولیس سربراہ، محمد محمود حسن نے بتایا ہے کہ ”ہم نے الفاروق نام کی کشتی کو قبضے میں لے لیا گیا ہے، جس میں مختلف قسم کے ہتھیار لدے ہوئے تھے، جن میں طیارہ شکن مشین گن، اے کے 47 رائفلیں، پستول اور کارتوس شامل ہیں”

صومالیہ کے نیم سرکاری علاقے، پنت لینڈ میں حکام نے ہفتے کے روز وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ایک کشتی جس میں اسلحہ بھرا ہوا تھا پکڑ لیا گیا ہے۔

آبی وسائل کے قائم مقام پولیس سربراہ، محمد محمود حسن نے بتایا ہے کہ ”ہم نے الفاروق نام کی کشتی کو قبضے میں لے لیا گیا ہے، جس میں مختلف قسم کے ہتھیار لدے ہوئے تھے، جن میں طیارہ شکن مشین گن، اے کے 47 رائفلیں، پستول اور کارتوس شامل ہیں”۔

حسن نے بتایا کہ پنت لینڈ پولیس نے سمندر میں کشتی کا پیچھا کیا، جب اُس نے مریرو ساحلی علاقے کے قریب چھپنے کی کوشش کی، جو بساسو کے مشرق میں نو کلومیٹر دور واقع علاقہ ہے، جو خطے کی سب سے بڑی بندرگاہ والا کاروباری مرکز ہے۔

حسن کے بقول، ”کشتی میں سے کچھ سامان اتارا جا چکا تھا اور جب سکیورٹی فورسز کے ارکان قریب آئے تو مشتبہ انداز سے کشتی نے غائب ہونے کی کوشش کی۔ پولیس نے اسلحہ برآمد کرکے کشتی کو قبضے میں لے لیا ہے”۔

برآمد کیے گئے اسلحے کی کھیپ صحافیوں کو دکھاتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ وہ اس کی چھان بین کر رہے ہیں کہ کس نے کہاں سے یہ کھیپ روانہ کی تھی۔

حسن کے الفاظ میں ”پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے آیا یہ سامان کس نے بھیجا اور کس کی ملکیت ہے۔ اس ضمن میں بہت جلد بیان جاری کیا جائے گا”۔

x

Check Also

وائٹ ہاؤس کا روس کے خلاف نئی تعزیرات عائد کرنے پر غور: عہدیدار

وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ روس پر اضافی تعزیرات عائد کرنے کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کے ساتھ وہ نومبر میں ہونے والے کانگرس کے انتخابات میں ممکنہ مداخلت کو روکنے کے لیے بھی تیار ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹس اراکین 2016ء کے انتخاب میں مداخلت کے معاملے پر کانگرس کی طرف سے منظور کردہ تعزیرات روس پر عائد نا کرنے کی وجہ سے صدر ٹرمپ پر تنقید کر چکے ہیں۔ عہدیداروں نے بدھ کو کہا کہ قانونی وجوہات کی بنا پر تعزیرات عائد کرنے کا عمل آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے اور (وہ) تنقید اور میڈیا پر آنے والی خبروں پر ردعمل کا اظہار نہیں کر سکتے ہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ "تعزیرات کا طریقہ کار طویل ہے۔ یہ ایک مشکل عمل ہے، اتنا اچھا نہیں ہے۔ لیکن جب شواہد موجود ہوں ۔۔۔ تو تعزیرات عائد کر دی جاتی ہیں۔" دوسری طرف بد ھ کو ہی صدر ٹرمپ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اوباما کی سابق انتظامیہ کو 2016 ء میں روسی مداخلت کو نا روکنے پر تحقیقات کا کیوں سامنا نہیں ہے۔ تاہم وہ ایسا کوئی مطالبہ کرنے سے رک گئے کہ اٹارنی جنرل جید سیشنز اوباما کے دور کے وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ کی تحقیقات کریں۔ ٹرمپ نے اپنی مہم کے عہدیداروں کے روسیوں کی ساتھ مبینہ ساز باز کے معاملے کی فوجداری تحقیقات سے توجہ ہٹانے کے لیے اوباما انتظامیہ کی بات کی جو 2016ء میں برسر اقتدار تھی۔ ٹرمپ اس بات سے بھی نالاں ہیں کہ سیسثنز نے محکمہ انصاف کی طرف سے کیے جانے والے تحقیقاتی عمل سے خود کو کیوں الگ کر لیا تھا کیونکہ 2016ء میں وہ بھی واشنگٹن میں روس سفیر کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ٹرمپ کا یہ بیان خصوصی وکیل رابرٹ میولر کی طرف سے گزشتہ ہفتے 13 روسی شہریوں اور تین اداروں کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ وہ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ’’انتخابات اور سیاسی عمل سے متعلق کارروائیوں‘‘ میں ملوث رہی ہے۔ اپنی صدارت کے آخری ہفتے کے دوران اوباما نے انتخاب میں مداخلت کرنے پر نو روسی افراد اور اداروں کے خلاف تعیزات عائد کی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ اوباما نے 35 روسی حکومت کے عہدیداروں کو ملک بدر کر دیا تھا اور دو کمپاؤنڈ کو بھی بند کر دیا تھا جن کے بارے میں امریکہ نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں روسی خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow