افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ہفتہ کو مبینہ طور پر سرحد پار سے ہونے والے عسکریت پسندوں کے حملے میں پاکستانی فوج کا ایک افسر ہلاک ہو گیا۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ "آئی ایس پی آر" کے مطابق مبینہ طور پر سرحد پار افغانستان سے ہونے والے حملے میں وادی راجگال میں واقع ایک سکیورٹی چوکی کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں اس چوکی کے کمانڈنگ افسر لیفٹیننٹ ارسلان عالم موت کا شکار ہوئے۔ ان کی عمر 22 سال تھی۔ پاکستانی فوج نے حال ہی میں وادی راجگال میں کیے جانے والے فوجی آپریشن کے نتیجے میں اس علاقے کو عسکریت پسندوں سے پاک اور ان کی سرحد پار سے نقل و حرکت کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدام کرنے کا بتایا تھا۔ فوج کے مطابق یہاں کی دشوار گزار گھاٹیوں کو عسکریت پسندوں سرحد کے آر پار آمدورفت کے لیے استعمال کرتے تھے۔ فوج کے ترجمان یہ کہہ چکے ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے سرحد کے ساتھ اپنے علاقے میں شدت پسندوں کا صفایا کر دیا ہے لیکن پاکستانی فوج افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی اور ان کے خلاف افغان فورسز اور افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کو ہی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ہفتہ کو ہونے والے اس حملے کے بارے میں سرکاری طور پر تو مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں لیکن مقامی ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کی کارروائی سے تین مشتبہ عسکریت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ جہاں یہ حملہ ہوا وہاں ذرائع ابلاغ کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے آزاد ذرائع سے معلومات کی تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

راجگال میں عسکریت پسندوں کا حملہ ایک فوجی افسر ہلاک

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ہفتہ کو مبینہ طور پر سرحد پار سے ہونے والے عسکریت پسندوں کے حملے میں پاکستانی فوج کا ایک افسر ہلاک ہو گیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ “آئی ایس پی آر” کے مطابق مبینہ طور پر سرحد پار افغانستان سے ہونے والے حملے میں وادی راجگال میں واقع ایک سکیورٹی چوکی کو نشانہ بنایا گیا۔

حملے میں اس چوکی کے کمانڈنگ افسر لیفٹیننٹ ارسلان عالم موت کا شکار ہوئے۔ ان کی عمر 22 سال تھی۔

پاکستانی فوج نے حال ہی میں وادی راجگال میں کیے جانے والے فوجی آپریشن کے نتیجے میں اس علاقے کو عسکریت پسندوں سے پاک اور ان کی سرحد پار سے نقل و حرکت کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدام کرنے کا بتایا تھا۔

فوج کے مطابق یہاں کی دشوار گزار گھاٹیوں کو عسکریت پسندوں سرحد کے آر پار آمدورفت کے لیے استعمال کرتے تھے۔

فوج کے ترجمان یہ کہہ چکے ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے سرحد کے ساتھ اپنے علاقے میں شدت پسندوں کا صفایا کر دیا ہے لیکن پاکستانی فوج افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی اور ان کے خلاف افغان فورسز اور افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کو ہی اقدامات کرنا ہوں گے۔

ہفتہ کو ہونے والے اس حملے کے بارے میں سرکاری طور پر تو مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں لیکن مقامی ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کی کارروائی سے تین مشتبہ عسکریت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

جہاں یہ حملہ ہوا وہاں ذرائع ابلاغ کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے آزاد ذرائع سے معلومات کی تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

x

Check Also

بلوچستان : دستی بم حملوں میں 40 سے زائد افراد زخمی

دونوں واقعات کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی۔ تاہم، اس سے پہلے گوادر اور دیگر ساحلی اضلاع میں ہونے والے پُرتشدد واقعات کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکری تنظیمیں کرتی رہی ہیں

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow