پاکستان کی بحریہ نے ہفتہ کو فضا سے سمندر میں مار کرنے والے جہاز شکن میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا بتایا ہے۔ بحریہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق یہ میزائل بحیرہ عرب میں "سی کنگ ہیلی کاپٹر" سے داغا گیا جس نے سمندر میں اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ترجمان نے بتایا کہ اس موقع پر بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکا اللہ بھی موجود تھے جنہوں نے اس تجربے کو بحریہ کے دستوں کی جنگی تیاروں اور پیشہ وارانہ مہارت کے واضح ثبوت سے تعبیر کیا۔ انھوں نے سمندر میں تعینات بحری یونٹس کا بھی معائنہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی بحریہ ملک کی سمندری حدود اور مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گی۔ رواں سال کے اوائل میں پاکستانی بحریہ نے خشکی سے سمندر میں مار کرنے والے جہاز شکن میزائل کا تجربہ بھی کیا تھا۔

پاکستانی بحریہ کا فضا سے سمندر میں جہاز شکن میزائل کا تجربہ

پاکستان کی بحریہ نے ہفتہ کو فضا سے سمندر میں مار کرنے والے جہاز شکن میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا بتایا ہے۔

بحریہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق یہ میزائل بحیرہ عرب میں “سی کنگ ہیلی کاپٹر” سے داغا گیا جس نے سمندر میں اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

ترجمان نے بتایا کہ اس موقع پر بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکا اللہ بھی موجود تھے جنہوں نے اس تجربے کو بحریہ کے دستوں کی جنگی تیاروں اور پیشہ وارانہ مہارت کے واضح ثبوت سے تعبیر کیا۔

انھوں نے سمندر میں تعینات بحری یونٹس کا بھی معائنہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی بحریہ ملک کی سمندری حدود اور مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گی۔

رواں سال کے اوائل میں پاکستانی بحریہ نے خشکی سے سمندر میں مار کرنے والے جہاز شکن میزائل کا تجربہ بھی کیا تھا۔

x

Check Also

کوئٹہ: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،ایک اہلکار سمیت تین ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ میں ہفتہ کو لیویز کی گاڑی پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز کے ایک اہلکار اور اُس کے دو دوستوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈی ایس پی آپریشن نصیب اللہ کے مطابق ضلع سبی لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی میں سپاہی انور علی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا اپنے دو رشتے داروں کے ساتھعزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لئے قبرستان جا رہے تھے کہ راستے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے یہ تینوں افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جب کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیر کور بلوچستان اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے سر یاب کے علاقے میں فرنٹیر کور، پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند اور بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے پچاسی فیصد علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نیم قبائلی فورس لیویز کی ہے اس فورس کی کُل تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پورے صوبے کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے ختم کردیا گیا جس کی صوبے کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین نے سخت مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 2008ء میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور اس فورس کے اہلکاروں کو فرنٹیر کور بلوچستان کے افسران کے ذریعے جدید تر بیت فراہم کی گئی تھی۔ لیویز فورس کا قیام انگر یزوں کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ تعاون کر نے والے نوابوں اور سرداروں کے قبیلوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ۔  اس فورس کے اہلکاروں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2014 میں خضدار کے قریب لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 8 اہلکاروں اور دسمبر 2015 میں ضلع پشین کے علاقے سر خاب میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow