پاکستان کی بحریہ نے ہفتہ کو فضا سے سمندر میں مار کرنے والے جہاز شکن میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا بتایا ہے۔ بحریہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق یہ میزائل بحیرہ عرب میں "سی کنگ ہیلی کاپٹر" سے داغا گیا جس نے سمندر میں اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ترجمان نے بتایا کہ اس موقع پر بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکا اللہ بھی موجود تھے جنہوں نے اس تجربے کو بحریہ کے دستوں کی جنگی تیاروں اور پیشہ وارانہ مہارت کے واضح ثبوت سے تعبیر کیا۔ انھوں نے سمندر میں تعینات بحری یونٹس کا بھی معائنہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی بحریہ ملک کی سمندری حدود اور مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گی۔ رواں سال کے اوائل میں پاکستانی بحریہ نے خشکی سے سمندر میں مار کرنے والے جہاز شکن میزائل کا تجربہ بھی کیا تھا۔

پاکستانی بحریہ کا فضا سے سمندر میں جہاز شکن میزائل کا تجربہ

پاکستان کی بحریہ نے ہفتہ کو فضا سے سمندر میں مار کرنے والے جہاز شکن میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا بتایا ہے۔

بحریہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق یہ میزائل بحیرہ عرب میں “سی کنگ ہیلی کاپٹر” سے داغا گیا جس نے سمندر میں اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

ترجمان نے بتایا کہ اس موقع پر بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکا اللہ بھی موجود تھے جنہوں نے اس تجربے کو بحریہ کے دستوں کی جنگی تیاروں اور پیشہ وارانہ مہارت کے واضح ثبوت سے تعبیر کیا۔

انھوں نے سمندر میں تعینات بحری یونٹس کا بھی معائنہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی بحریہ ملک کی سمندری حدود اور مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گی۔

رواں سال کے اوائل میں پاکستانی بحریہ نے خشکی سے سمندر میں مار کرنے والے جہاز شکن میزائل کا تجربہ بھی کیا تھا۔

x

Check Also

وائٹ ہاؤس کا روس کے خلاف نئی تعزیرات عائد کرنے پر غور: عہدیدار

وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ روس پر اضافی تعزیرات عائد کرنے کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کے ساتھ وہ نومبر میں ہونے والے کانگرس کے انتخابات میں ممکنہ مداخلت کو روکنے کے لیے بھی تیار ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹس اراکین 2016ء کے انتخاب میں مداخلت کے معاملے پر کانگرس کی طرف سے منظور کردہ تعزیرات روس پر عائد نا کرنے کی وجہ سے صدر ٹرمپ پر تنقید کر چکے ہیں۔ عہدیداروں نے بدھ کو کہا کہ قانونی وجوہات کی بنا پر تعزیرات عائد کرنے کا عمل آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے اور (وہ) تنقید اور میڈیا پر آنے والی خبروں پر ردعمل کا اظہار نہیں کر سکتے ہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ "تعزیرات کا طریقہ کار طویل ہے۔ یہ ایک مشکل عمل ہے، اتنا اچھا نہیں ہے۔ لیکن جب شواہد موجود ہوں ۔۔۔ تو تعزیرات عائد کر دی جاتی ہیں۔" دوسری طرف بد ھ کو ہی صدر ٹرمپ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اوباما کی سابق انتظامیہ کو 2016 ء میں روسی مداخلت کو نا روکنے پر تحقیقات کا کیوں سامنا نہیں ہے۔ تاہم وہ ایسا کوئی مطالبہ کرنے سے رک گئے کہ اٹارنی جنرل جید سیشنز اوباما کے دور کے وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ کی تحقیقات کریں۔ ٹرمپ نے اپنی مہم کے عہدیداروں کے روسیوں کی ساتھ مبینہ ساز باز کے معاملے کی فوجداری تحقیقات سے توجہ ہٹانے کے لیے اوباما انتظامیہ کی بات کی جو 2016ء میں برسر اقتدار تھی۔ ٹرمپ اس بات سے بھی نالاں ہیں کہ سیسثنز نے محکمہ انصاف کی طرف سے کیے جانے والے تحقیقاتی عمل سے خود کو کیوں الگ کر لیا تھا کیونکہ 2016ء میں وہ بھی واشنگٹن میں روس سفیر کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ٹرمپ کا یہ بیان خصوصی وکیل رابرٹ میولر کی طرف سے گزشتہ ہفتے 13 روسی شہریوں اور تین اداروں کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ وہ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ’’انتخابات اور سیاسی عمل سے متعلق کارروائیوں‘‘ میں ملوث رہی ہے۔ اپنی صدارت کے آخری ہفتے کے دوران اوباما نے انتخاب میں مداخلت کرنے پر نو روسی افراد اور اداروں کے خلاف تعیزات عائد کی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ اوباما نے 35 روسی حکومت کے عہدیداروں کو ملک بدر کر دیا تھا اور دو کمپاؤنڈ کو بھی بند کر دیا تھا جن کے بارے میں امریکہ نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں روسی خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow