بدھ کے روز گوٹیریس نے کہا کہ میانمار کی مغربی ریاست راکھین کی صورت حال کی سب سے بہتر وضاحت ان الفاظ میں کی جا سکتی ہے کہ وہاں نسلی صفائی کی جار ہی ہے۔

میانمار روہنگیا اقلیت پر تشدد ختم کرے، اقوام متحدہ کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انیٹونیو گوٹیریس اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کے روز میانمار کے حکام پر زور دیا کہ وہ ملک کی بودھ اکثریت کی جانب سے روہنگیا مسلم اقلیت پر تشدد بند کرانے کے لیے اقدامات کریں جس کی وجہ سے لگ بھگ چار لاکھ افراد اپنی جانیں بچانے کے لیے بنگلہ دیش بھاگنے پر مجبور ہوئے۔

بدھ کے روز گوٹیریس نے کہا کہ میانمار کی مغربی ریاست راکھین کی صورت حال کی سب سے بہتر وضاحت ان الفاظ میں کی جا سکتی ہے کہ وہاں نسلی صفائی کی جار ہی ہے۔

انہوں نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ جب روہنگیا مسلمانوں کی ایک تہائی آبادی ملک چھوڑ کر بھاگ جائے تو اس صورت حال کو آپ اور کن لفظوں میں بیان کر یں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے میانمار کے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی فوجی کارروائیاں معطل کر دیں، تشدد بند کریں اور قانون کی حکمرانی بحال کریں اور ان تمام لوگوں کی واپسی کے حق کو تسلیم کریں جنہیں ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے اس مسئلے پر کئی بار میانمر کی لیڈر آنگ ساں سوچی سے بات کی ہے۔

میانمار کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہی ہے جب کہ بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے روہنگیا مسلمان کہتے ہیں کہ سیکیورٹی فورسز کی اس کارروئی کا مقصد روہنگیا اقلیت کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے۔

میانمار میں تشدد پر غور کے لیے بدھ کے روز ہونے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست برطانیہ، اور سویڈن نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے أمور سے متعلق سربراہ زید رعد الحسین کے بیانات کے بعد کی تھی۔

زید نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل کو بتایا کہ ان کے دفتر کو میانمار کی سیکیورٹی فورسز اور مقامی ملیشیاؤں کے ہاتھوں ریاست راکھین میں ماورائے عدالت ہلاکتوں اور روہنگیا مسلم اقلیت کی بستیوں کو نذر آتش کرنے کے بارے میں بہت سی رپورٹس اور سیٹلائٹ کی تصاوير موصول ہوئی ہیں ۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے أمور کے ہائی کمشنر زید رعد الحسین کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال میں نے انتباہ کیا تھا کہ روہنگیا میں انسانی حقوق کی بہیمانہ خلاف ورزیوں کا انداز یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہاں کمیونٹی کے خلاف منظم طریقے سے حملہ کیا جا رہا ہے، جس پر اگر کوئی عدالت سماعت کرے تو وہ امکانی طور پر انسانیت کے خلاف حملے تک کے ضمرے میں آتا ہے ۔ کیوں کہ میانمار نے انسانی حقوق کے تفتیش کاروں تک کو رسائی سے انکار کر دیا ہے، اس لیے موجودہ صورت حال کا ابھی مکمل طور پر اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، تاہم یہ صورت حال بدستور نسلی تطہیر کی ایک واضح مثال ہے یا مثال دکھائی دیتی ہے ۔

انسانی حقوق سے متعلق أمور کے ہائی کمشنر زید رعد الحسن نے اپنے بیان میں میانمار کے فوجیوں کے بارے میں ان رپورٹوں کا بھی حوالہ دیا جن میں کہا گیا ہے کہ وہ مشترکہ سرحد کے سات بارودی سرنگیں نصب کر رہے ہیں ۔

x

Check Also

کوئٹہ: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،ایک اہلکار سمیت تین ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ میں ہفتہ کو لیویز کی گاڑی پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز کے ایک اہلکار اور اُس کے دو دوستوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈی ایس پی آپریشن نصیب اللہ کے مطابق ضلع سبی لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی میں سپاہی انور علی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا اپنے دو رشتے داروں کے ساتھعزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لئے قبرستان جا رہے تھے کہ راستے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے یہ تینوں افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جب کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیر کور بلوچستان اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے سر یاب کے علاقے میں فرنٹیر کور، پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند اور بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے پچاسی فیصد علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نیم قبائلی فورس لیویز کی ہے اس فورس کی کُل تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پورے صوبے کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے ختم کردیا گیا جس کی صوبے کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین نے سخت مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 2008ء میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور اس فورس کے اہلکاروں کو فرنٹیر کور بلوچستان کے افسران کے ذریعے جدید تر بیت فراہم کی گئی تھی۔ لیویز فورس کا قیام انگر یزوں کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ تعاون کر نے والے نوابوں اور سرداروں کے قبیلوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ۔  اس فورس کے اہلکاروں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2014 میں خضدار کے قریب لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 8 اہلکاروں اور دسمبر 2015 میں ضلع پشین کے علاقے سر خاب میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow