قصبے میں زنگ آلود گاڑیاں، عمارتوں کے کھنڈر، ملبے کے ڈھیر اور دیواروں پر گولیوں اور دھماکوں کے ہزاروں نشانات دکھائی دیتے ہیں۔

سعودی فورسز نے عوامیہ میں شرپسندوں کا مرکز مسمار کر دیا

سعودی عرب کے مشرقی حصے میں مسلح شیعہ مسلمانوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے اپنی مہم میں عوامیہ نامی قصبے میں درجنوں عمارتوں کو گرا دیا ہے اور وہاں کے ہزاروں شہریوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگنا پڑا ہے۔

سیکیورٹی فورسز گذشتہ تین مہینوں سے ان مسلح افراد کا صفایا کرنے کی کوشش کررہی ہیں جو 30 ہزار آبادی کے اس قصبے میں کئی برسوں سے پولیس پر حملے کر رہے تھے۔

یہ علاقہ سعودی عرب کی سنی حکومت کے خلاف اقلیتی شیعہ گروپ کے مظاہروں کا مرکز رہا ہے۔

سعودی حکومت نے بدھ کے روز صحافیوں کے ایک گروپ کو عوامیہ کا دورہ کرایا جنہوں نے بادشاہت کے سخت کنٹرول میں لڑائیوں کے دوران ہونے والے نقصانات کا مشاہدہ کیا۔

قصبے میں زنگ آلود گاڑیاں، عمارتوں کے کھنڈر، ملبے کے ڈھیر اور دیواروں پر گولیوں اور دھماکوں کے ہزاروں نشانات دکھائی دیتے ہیں۔

اس مہینے کے شروع اس وقت لڑائیوں میں مزید شدت آ گئی تھی جب خصوصي دستے مئی کے مہینے سے ان مسلح افراد کے خلاف جاری مہم میں شامل ہو گئے تھے جو تنگ گلیوں کا فائدہ اٹھا کر حملے کے بعد فرار ہو جاتے تھے۔

اس لڑائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا، لیکن سعودی وزارت کے ایک نمائندے کا کہنا تھا کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران پولیس کے 8 اور خصوصي دستوں کے 4 اہل کار ہلاک ہوئے ۔

عوامیہ میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ اب تک 20 ہزار افراد یا تو اپنے گھر بار چھوڑ کر جا چکے ہیں یا وہ قریبی قصبوں اور محفوظ مقامات پر پناہ لے چکے ہیں۔

وزارت داخلہ کے نمائندے نے بتایا کہ ایک پرانی عمارت پچھلے چھ مہینوں سے خالی پڑی تھی جس میں دہشت گرد وں نے پناہ لے رکھی تھی۔ سیکیورٹی فورسز نے اسے خالی کرانے کے لیے اس وقت تک انتظار کیا جب تک قریبی عمارتوں میں رہنے والے وہاں سے چلے نہیں گئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابھی لڑائی ختم نہیں ہوئی ہے کیونکہ یہ مہم شیعہ آبادی کو مزید غیر مطمئن کر دے گی جنہیں یہ شکایت ہے کہ سعودی بادشاہت ان کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔

x

Check Also

آج رات آسمان پر روشنیوں کی بارش ہو گی

اگر آپ دنیا کے شمالی حصے میں ہیں تو آپ کے لیے خوش خبری یہ ہے کہ آج یعنی بدھ کی رات کی آپ آسمان پر دم دار ستاروں کے جھرمٹ اور دل لکش روشنیوں کی چمک دمک کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ یہ خوبصورت منظر دیکھنے کے لیے آپ کو کسی دور بین کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنے کمرے کی کھڑکی سے بھی اس خوبصورت منظر کا لطف اٹھا سکتے ہیں ۔ بس شرط یہ ہے کہ آسمان صاف ہو اور اس پر بادل نہ ہوں۔ یہ خوبصورت منظر ان لوگوں کے لیے ایک شاندار موقع ہے آسمان پر ٹوٹتے ستارے کو دیکھ کر دعا مانگتے ہیں۔ کیونکہ انہیں تقریباً ہر ایک منٹ کے بعد آسمان پر ٹوٹتے ہوئے ستارے نظر آئیں گے اور ان کی چکاچوند آنکھوں کو خیرہ کر دے گی۔ اگر آسمان صاف اور تاریک ہو۔ اردگرد بھی روشنی کم ہو تو کبھی کبھار آسمان سے روشنی کی ایک چمکدار لکیر تیزی سے زمین کی جانب بڑھتی اور اچانک غائب ہوتی ہوئی  نظر آتی ہے ، لیکن ایسا کم  ہی ہوتا ہے کہ روشنیوں کا مینہ برسنا شروع ہو جائے ۔ بدھ کی رات ایک ایسی ہی خاص رات ہے۔ آئرلینڈ کے فلکیاتی ماہرین کی تنظیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دم دار ستاروں کی بارش ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب آسمان پر چاند بھی نہیں ہوگا اس لیے یہ اس سال کا بہترین نظارہ ہوگا۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ یہ دم دار ستارے کیا ہوتے ہیں۔ اور ان میں اتنی روشنی اور چمک کہاں سے آتی ہے اور پھر وہ اچانک نظروں سے اوجھل ہو کر کہا ں چلے جاتے ہیں۔ اس سوال کا جواب بہت دلچسپ ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جنہیں آپ دم دار ستارہ کہتے ہیں، وہ سرے سے ستارا ہوتے ہی نہیں بلکہ وہ شہاب ثاقب ہوتے ہیں ۔ انہیں شہابیئے بھی کہا جاتا ہے۔ شہاب  ثاقت  خلا میں بھٹکتے ہوئے چٹانی ٹکڑے ہیں ۔ یہ ٹکڑے اسی مواد سے بنے ہیں جس سے كائنات کے دوسرے اجرام فلکی بنے ہیں۔ یہ ستاروں کے آپس میں ٹکرانے، یا تباہ ہو جانے کے بعد اپنے مرکز سے بچھڑ کر خلا میں بھٹکنے لگتے ہیں اور جب وہ کسی سیارے کے قریب سے گذرتے ہیں تو اس کی کشش انہیں اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔ ​ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین کے گرد ہوا کا ایک خلاف موجود ہے۔ یہ خلاف زمین پر زندگی کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ جب کسی شہاب ثاقب کو زمین کی کشش ثقل اپنی جانب کھینچتی ہے تو ہوا کی  رگڑ سے اس میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے ۔  اگر وہ تیز رفتار گولہ زمین سے ٹکرا جائے تو ہولناک تباہی لا سکتا ہے۔ جب ہمیں کوئی دم دار ستارہ تیزی سے زمین کی جانب بڑھتا اور غائب ہوتا ہوا نظر آتا ہے تو دراصل اس وقت وہ زمین کے کرہ ہوائی میں جل رہا ہوتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ شہابیوں کی اشکال مختلف ہوتی ہیں اور ان میں شامل عناصر اور اجزأ بھی اور سائز بھی مختلف ہوتے ہیں۔ جن شہابیوں کا قطر تین میل یا اس سے زیادہ ہو انہیں فلکیات کی زبان میں فائی تھون کہا جاتا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے ایک سائنس دان بل کک کا کہنا ہے کہ فائی تھون یا تو  کرہ ارض کے قریب خلا میں تیر  رہے ہیں یا وہ  کہکشاں کے کسی حصے سے بھٹکتے ہوئے زمین کے قریب آ جا تے ہیں۔     فلکیاتی ماہرین کے مطابق اس سال لوگوں کو دم دار ستاروں کی چمک دمک دیکھنے کا ایک اور موقع بھی ملے گا۔ آسمان کو روشنیوں سے نہلانے والی آج کی بارش کے تین دن بعد دم دار ستاروں کا ایک اور جھرمٹ زمین کے قریب سے گذرے گا۔ لیکن اس کا زمین سے ان کا فاصلہ تقریباً 64 لاکھ میل ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھ کی ر ات دم دار ستاروں کی بارش سے زمین کو کوئی خطر ہ نہیں ہے، لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مستقبل میں ایسا بدقسمت لمحہ آسکتا ہے جب کوئی فائی تھون زمین کے مدار میں داخل ہو جائے اور  میلوں بڑے سائز کی اس چٹان کو  زمین کا کرہ ہوائی اسے پوری طرح جلا نہ پائے ، تو پھر جب جلتا ہوا اور آگ اگلتا ہوا فائی تھون زمین سے ٹکرا ئے گا تو ایک قیامت کا منظر ہوگا اور لاکھوں افراد آناً فاناً ہلاک ہو جائیں گے۔ بدھ کی رات دم دار ستاروں کی بارش کا نظارہ آپ دنیا کے کسی بھی حصے سے دیکھ سکتے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ آسمان صاف ہو۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow