تحصیل پنڈ دادنخان کا بازوں سے محروم اکیس سالہ نوجوان نعمان ولایت ،جس نے ہمت کوبازوبنالیا

تحصیل پنڈ دادنخان کا بازوں سے محروم اکیس سالہ نوجوان نعمان ولایت ،جس نے ہمت کوبازوبنالیا

انٹر ویو ۔ملک ظہیر اعوان پنڈ دادنخان
عکاسی ۔بابر ملک

تحصیل پنڈ دادنخان کے گاؤں ڈھڈی پھپھرا میں 23سالہ نوجوان نعمان ولایت دونوں بازووں سے محروم ہے لیکن اس نے اتنی بڑی معذوری کو کبھی مجبوری نہیں سمجھا ،کسی بھی کام میں دوسروں کی مدد حاصل کئے بغیر اپنے سارے کام خود سر انجام دیتا ہے اپنے تمام کام اپنے دونوں پاؤں کی مدد سے کرتا ہے اللہ تعالی نے اس کے دونوں پاؤں میں اتنی قوت رکھی ہے جتنی عام انسان کے ہاتھوں میں ہوتی ہے، ،انتہائی ذہین معذور نوجوان کے جذبے بھی جواں ہیں زندگی میں آگے بڑھ کر کچھ کر گزرنا چاہتا ہے پانچویں کلاس تک ہمیشہ اول پوزیشن حاصل کی ہے کئی انعامات حاصل کر چکا ہے اب حال ہی میں میٹرک کا امتحان پاس کیا ہے اور میٹرک میں 622نمبر حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی ہے ،مزید تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں والد وفات پا چکے ہیں بیوہ ماں دو بڑی تین چھوٹی بہنوں اور چھوٹے بھائی کا سہارا بننا چاہتا ہے لیکن فی الحال پورا خاندان اللہ کے سہارے پر ہی گذر بسر کر رہا ہے بھیک کی خاطر کسی کے آگے دامن نہیں پھیلاتا ،غریب اور غیر کاشتکار ہونے کی وجہ سے آمدن کا بھی کوئی ذریعہ نہیں والد محنت مزدوری کر کے گھر کے اخراجات پورے کر رہا تھا لیکن اس کی وفات کے باعث پورے گھر کا سارا سسٹم ایک بار درہم برہم ہو گیا ہے اہل محلہ اور گاؤں کے لوگ پردے داری میں اسکی والدہ کی مالی امداد کرتے ہیں جس سے گھر کا چولہا جل رہا ہے فیملی کے قل آٹھ افراد ہیں بڑی بہنوں کی شادیاں ابھی کرنی ہیں تین چھوٹی بہنیں اور ایک چھوٹا بھائی زیر تعلیم ہیں گھر کی تمام ذمہ دار یاں اٹھانے والے معذور نوجوان ،نعمان ولایت ساکن ڈھڈ ی پھپھرا تحصیل پنڈ دادنخان ضلع جہلم کی کہانی اسکی اپنی زبانی سنتے ہیں۔نعمان ولایت نے بتایا کہ میں معذور ضرور ہوں لیکن مجبور نہیں میں نے کبھی اس معذوری کو مجبوری نہیں جانا،دونوں ہاتھ اور بازواللہ تعالی نے نہیں دئیے تو پاؤں تو دے رکھے ہیں جس پر اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں اگر وہ پاؤں بھی نہ دیتا تو میں پھر بھی اس کا شکر گذار بند ہ ہی ہوتا ،میں پیدائشی معذور ہوں اس کے باوجود اپنے تمام کام کاج خود سرانجام دیتا ہوں ،اپنے کپڑے پہننے اور تبدیل کرنے میں کسی کی مدد حاصل نہیں کرتا خود قیمض کے بٹن بند کر لیتا ہوں اور کھول بھی لیتا ہوں کھانا خود کھاتا ہوں پانی ،چائے اور دیگر مشروبات خود پیتا ہوں واش روم جاتا اور غسل خود کرتا ہوں بالوں میں کنگی بھی خود کرتا ہوں، سکول کا ہوم ورک اور پڑھائی خود کرتا ہوں کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق ہے ،بیٹنگ کرتا ہوں اور باؤلنگ بھی کرواتا ہوں موبائل فون خود استعمال کرتا ہوں کمپیوٹر چلانا تو میرے بائیں پاؤں کا کام ہے اور دائیں پاؤں سے ماؤس کا استعمال کرتا ہوں ،اس کے علاوہ تمام کام دونوں پاؤں کے ساتھ بخوبی و احسن طریقہ سے سر انجام دیتا ہوں ابھی اس سال ماہ جولائی 2017میں میٹرک کا امتحان پاس کیا ہے جس میں سکینڈ ڈویژن حاصل کی ہے چونکہ میں تمام پرچے پاؤں کی مدد سے ہی حل کرتا ہوں جس پر ٹائم زیادہ لگتا ہے دوسرا رائٹنگ خوبصورت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے میرے نمبر کم آئے ہیں بلکہ اچھی رائٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے نمبروں میں کمی رہی ہے ورنہ میں نے میٹرک ہائی فرسٹ ڈویژن میں پاس کرنا تھا ،پرائمری اور مڈل تک تعلیم اپنے گاؤں ڈھڈی پھپھرہ میں حاصل کی تھی کلاس اول سے پانچویں تک فرسٹ پوزیشن ہی حاصل کرتا رہا اب میٹرک گورنمنٹ راجہ غضنفر علی خان ہائی سکول پنڈ دادنخان سے پاس کیا ہے اب گیارویں کلاس میں داخلہ گورنمنٹ البیرونی ڈگری کالج پنڈ دادنخان میں لوں گا ،دو بہنیں مجھ سے بڑی ہیں جن کی شادیاں ابھی کرنا ہیں اور تین مجھ سے چھوٹی بہنیں ہیں جو کہ تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ایک چھوٹا بھائی علی حیدر ساتویں کلاس کا طالب علم ہے میری خواہش ہے کہ ہم تمام بہن بھائی تعلیم حاصل کریں کیونکہ علم کے بغیر انسان ادھورا ہے لوگ تو ہاتھ پاؤں سے معذور لوگوں کو ادھورا سمجھتے ہیں لیکن میں علم کے بغیر انسان کو ادھورا سمجھتا ہوں اگر تعلیم آپکے پاس ہے تو آپ جہاں بھی جائیں گے کامیاب ہوں گے ۔میں خود اعلی تعلیم حاصل کر نا چا ہتا ہو ں یہ میر ی سب سے بڑی خو اہش ہے اگر وہاں تک مالی وسائل کے باعث نہ پہنچ سکا تو کم ازکم گریجوکیشن ضرور کروں گا چھوٹے بہن بھائیوں کی تعلیم بھی جاری رکھنا چاہتا ہوں ،تعلیم کے بعد میں صرف اپنے خاندان کا ہی بلکہ دیگر اپنے جیسے لوگوں کا بھی سہارا بننا چاہتا ہوں دکھی دلوں اور دکھی لوگوں لے لئے میں نے معمولی خدمات بھی سر انجام دے لیں تو میں سمجھوں گا کہ میری زندگی کا مشن پورا ہو گیا ہے پہلی کلاس سے دہم تک تمام اساتذہ نے مجھے بے پناہ محبت دی ہے اساتذہ کی محنت اور شفقت کا نتیجہ ہے کہ آج میں اس مقام پر پہنچا ہوں ،میری پسندیدہ شخصیات میں ٹیچر حافظ عنایت صاحب ،عالم دین حضر ت علامہ محمد انور قریشی ہاشمی پرنسپل دارالعلوم محمویہ رضوریہ پنڈ دادنخان ،نعت خوان مدثر خان آفریدی پنڈ دادنخان ،شاعر آکاش علی ڈھڈی پھپھرا ،قومی سیاستدان میاں شہباز شریف ،مقامی سیاستدان راجہ محمد فاروق صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) تحصیل پنڈ دادنخان شامل ہیں جبکہ روز نامہ اوصاف کا سپورٹس ایڈیشن بڑے شوق سے پڑھتا ہوں روز نامہ اوصاف کی وساطت سے اپنی ایک خواہش کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں میری خواہش ہے کہ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف میرے پاس آئیں اور میرے ساتھ کرکٹ بھی کھلیں ،دونوں بازووں سے محروم نعمان ولایت نے یہ بھی بتایا کہ مجھ سے پہلے ہماری فیملی میں کوئی ایسا معذور بچہ نہیں تھا میں پہلا شخص ہوں جو اپنی فیملی میں معذور پیدا ہوا ہوں لیکن میرے بعد میرے ماموں کا بیٹا ہاشم علی جو کہ دونوں ہاتھوں سے محروم ہے اور وہ پیدائشی معذور ہے میں خود تو کبھی احساس محرومی و احساس کمتری کا شکار نہیں ہوا البتہ ماموں زاد بھائی علی ہاشم کو دیکھ کر کبھی کبھی پریشان ہو جاتا ہوں لیکن میں اس کی بھر پور حوصلہ افزائی کرتا ہوں اسے پاؤں سے لکھنا ،کھانا پینا اور سارے کام خود کرنا سکھاتا ہوں ایک طرح سے میں اس کا استاد اور وہ میرا شاگرد ہے ہاشم علی کی عمر تقریباً دس برس ہے وہ پہلے چل پھر بھی نہیں سکتا تھا سات آٹھ سال کی عمر میں اس نے چلنا پھرنا شروع کیا ہے اس لئے ہم نے اسے دیر سے سکول داخل کروایا ہے اب وہ پہلی کلاس میں پڑھ رہا ہے مجھے یقین ہے کہ وہ بھی پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے گا اور اپنے جیسے لوگوں کی بھر پور خدمت کرئے گا ۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow