ضلع جہلم کی سیاست اورپنڈدادنخان کے مسائل،تحریر ۔ملک ظہیر اعوان پنڈ دادنخان ٹوبھہ

حلقہ این اے 63 جہلم کے نو منتخب ایم این اے را جہ مطلو ب مہدی ضمنی الیکشن جیتنے کے با وجو د بد قسمت نکلے جو اپنی ہی جما عت مسلم لیگ (ن)کی جمہوری نما آمریت کی بھینٹ چڑھ گئے انکے فنڈز رو ک کر انھیں عو ام سے دور کر دیا گیا جو انکی ذات سے ہی نہیں بلکہ حلقہ عوام کے سا تھ بھی ظلم ونا انصافی ہے حا لا نکہ قومی انتخا بات 1988میں انکے والد محترم سا بق ایم این اے نو ابزادہ اقبا ل مہدی (مرحوم )اور سا بق ایم پی اے را جہ نا صرعلی خا ن (مر حو م )نے آزاد حثیت سے تا لے کے نشا ن پر الیکشن جیت کر مسلم لیگ (ن) میں شمو لیت اختیا ر کی تھی یو ں ان دو نو ں راہنما ؤں نے حلقہ این اے 63 جہلم وحلقہ پی پی27پنڈدادنخا ن میں (ن) لیگ کو متعا رف کرا یا پھر کچھ عرصہ بعد (ن)لیگ کے چند را ہنما را جہ نا صر علی خا ن (مر حوم )کی جارحانہ سیا ست سے خا ئف ہو گئے اور حسد کا شکا ر ہو گئے جس پر را جہ نا صر علی خا ن مرحوم کو مجبورا مسلم لیگ (ن)سے الگ ہو نا پڑا جسکی وجہ سے آج ان کا سیا سی جا نشین راجہ شا ہ نواز خان آف آحمدآباد بھی پی ٹی آئی میں شا مل ہے لیکن سا بق ایم این اے نوا بزادہ اقبال مہدی (مرحوم ) 1988 سے2016 تک مسلم لیگ (ن) سے ہی منسلک رہے ،ہمیشہ سیٹ جیت کر بے لو ث اوربغیر کسی لا لچ کے (ن) لیگی قا ئدین کی جھولی میں ڈالتے رہے کبھی انکے سا منے ذاتی یا حلقے کے لیے کو ئی ڈیما نڈزنہ رکھی انھو ں نے ہمیشہ دھڑوں کی سیا ست کی اور اپنا دھڑا مضبوط رکھا ان کی وفا ت کے بعدضمنی الیکشن انکے صا حبزا دے را جہ مطلو ب مہدی نے جیت لیا ،انکے مدمقابل پی ٹی آئی کے فو ادچو ہدری نے انھیں ٹف ٹائم دیا لیکن اپنی ہی جما عت ،مسلم لیگ (ن) کے قائدین نے ایم این اے را جہ مطلو ب مہدی سے وفا نہ کی اور چیر مین ضلع کو نسل جہلم کے انتخابات کے فورا بعد ہی انکے حلقہ کے فنڈز مکمل طور پر روک دیئے جس سے وہ مکمل طو ر پر بے بس ہو کر گھر میں بیٹھ گئے تا ہم کچھ ہی عر صہ بعد مسلم لیگ (ن) کے قائدین پر ایک با ر پھر مشکل وکڑا وقت آگیا جس پر ایم این اے راجہ مطلوب مہدی نے تمام تر جفاوں کے با وجو د پارٹی کے سا تھ وفا کی اور اپنا ووٹ نو منتخب وزیر اعظم شا ہدخا قان عبا سی کو دیا لیکن اب دیکھنا یہ ہے کے وفا تی وزیر اسحا ق ڈار نئے وزیر اعظم شا ہد خا قان عبا سی کو حلقہ این63 جہلم کے منجمد فنڈز بحا لی کی اجا زت دیتے ہیں یاپھر مخا لفت ہی کر یں گے یا د رہے کے 2016 کے ضمنی انتخا با ت کے مو قع پر مسلم لیگی امیدوار را جہ مطلو ب مہدی کو اس وقت کے وزیراعظم میا ں محمد نو از شریف نے حلقہ پی پی 27 پنڈدانخا ن کے تما م بڑے قصبا ت میں سو ئی گیس فرا ہم کر نے کا وعدہ کیا تھا لیکن حلقہ میں سو ئی گیس فراہمی پر آج تک ایک فیصد بھی کام شروع نہیں ہوا جس سے حلقہ کے عوام میں مسلم لیگ (ن) کے خلاف سخت نفرت پائی جاتی ہے اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے آئندہ عام انتخابات 2018تک کندوال سے لیکر لِلہ ،ٹوبھہ ،سروبہ ،گولپور سے جلالپور شریف تک سوئی گیس کی فراہمی یقینی نہ بنائی تو حلقہ این اے63جہلم اور حلقہ پی پی 27پنڈ دادنخان کی دونوں سیٹیں خطرے میں پڑ جائیں گی اگر سوئی گیس کا مسئلہ حل نہ ہوا تو بے شک مسلم لیگ (ن) جتنے مرضی امید وار تبدیل کرلے جیت یقینی نہیں ہو سکتی ،اس کے علاوہ راول ڈیم سے چند روز راولپنڈی اسلام آباد کو آلودہ پانی فراہم ہوا تو حکومتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی لیکن حلقہ پی پی27پنڈ دادنخان کے لاکھوں عوام 2008سے آج 2017تک انتہائی آلودہ ،غلیظ اور گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں نٹرومی ڈھن میگا واٹر پراجیکٹ سے آنے والا پانی سخت آلودہ ہے جس میں مردہ مچھلیاں ،مردہ سانپ ،مردہ بکروں کے سر اور پاؤں نکلتے ہیں پینے کے پانی کا سورس مکمل طور پر اوپن یعنی ننگا ہے جنگلی جانوروں ،مال مویشیوں کا بچا کچھا پانی تحصیل پنڈ دادنخان کے علاقہ تھل کے عوام پینے کے لئے استعمال کر رہے ہیں لیکن آج تک کسی وزیر اعظم ،وزیر اعلی ،کمشنر ،ڈی سی ،اے سی ،سپریم کورٹ ،ہائی کورٹ ،یا سول کورٹ نے نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی اس منصوبے میں ہونے والی کروڑوں روپے کی کرپشن پر” نیب” نے کوئی نوٹس لیا ہے نہ ہی انٹی کرپشن کا محکمہ حرکت میں آیا ہے ۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow