تھانہ منگلا کے علاقہ چک اکا میں فائرنگ سے نوجوان ہلاک ،بھائی نے وقوعہ میں زخمی دوست کو ملوث قراردے دیا

تھانہ منگلا کے علاقہ چک اکا میں فائرنگ سے نوجوان ہلاک ،بھائی نے وقوعہ میں زخمی دوست کو ملوث قراردے دیا

جہلم(شہبازبٹ) تھانہ منگلا کے علاقہ چک اکا میں فائرنگ سے نوجوان ہلاک ،،گھر سے بلا کر لیجانے والا دوست ٹانگ پر فائر لگنے سے زخمی ، مقتول کے بھائی کی درخواست پر More »

محکمہ ڈاک میں انفرادی قوت کی ممکنہ کمی ملازمین نے ریٹائر منٹ لینے کا فیصلہ کر لیا

محکمہ ڈاک میں انفرادی قوت کی ممکنہ کمی ملازمین نے ریٹائر منٹ لینے کا فیصلہ کر لیا

جہلم( چوہدری عابد محمود +سید اکرم حسین شاہ) محکمہ ڈاک میں انفرادی قوت کی ممکنہ کمی ملازمین نے ریٹائر منٹ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ سہولتوں کی عدم فراہمی اور بڑھتے ہوئے More »

جہلم محکمہ صحت کے افسران کی مبینہ غفلت کے باعث جہلم شہر و گردونواح میں غیر معیاری اشیاء کی فروخت جاری

جہلم محکمہ صحت کے افسران کی مبینہ غفلت کے باعث جہلم شہر و گردونواح میں غیر معیاری اشیاء کی فروخت جاری

جہلم( چوہدری عابد محمود +سیدمظہر عباس) جہلم محکمہ صحت کے افسران کی مبینہ غفلت کے باعث جہلم شہر و گردونواح میں غیر معیاری مضر صحت ملک شیک اور جوس کی کھلے عام More »

پنجاب پولیس کے سپاہی قلیل تنخواہ پرکام کرنے پر مجبور،مہنگائی کے دورمیں چوبیس ہزارروپے تنخواہ

پنجاب پولیس کے سپاہی قلیل تنخواہ پرکام کرنے پر مجبور،مہنگائی کے دورمیں چوبیس ہزارروپے تنخواہ

جہلم( چوہدری عابد محمود +مرزا قدیر بیگ) جرائم پیشہ عناصر ،دہشت گردوں کیخلاف جنگ لڑنے والے شہریوں کے جان ومال کے محافظ، ارباب اختیار کے روٹ پر دھوپ بارش میں کھلے آسمان More »

جہلم شہر کی سڑکوں پر نصب سٹریٹ لائٹس عرصہ دراز سے خراب

جہلم شہر کی سڑکوں پر نصب سٹریٹ لائٹس عرصہ دراز سے خراب

جہلم( چوہدری عابد محمود +عمیر احمد راجہ) جہلم شہر کی سڑکوں پر نصب سٹریٹ لائٹس عرصہ دراز سے خراب۔لائٹس کی جگہ پرندوں نے گھونسلے بنا لئے۔ شہر کے گنجان آباد علاقے تاریکی More »

جہلم جنرل بس اسٹینڈ ، ریلو ے اسٹیشن سمیت درجنوں حساس مقامات پر سیکیورٹی انتظامات ناقص

جہلم جنرل بس اسٹینڈ ، ریلو ے اسٹیشن سمیت درجنوں حساس مقامات پر سیکیورٹی انتظامات ناقص

جہلم( چوہدری عابد محمود +عامر کیانی) جہلم جنرل بس اسٹینڈ ، ریلو ے اسٹیشن سمیت درجنوں حساس مقامات پر سیکیورٹی انتظامات ناقص۔اہم مقامات پر پولیس نفری ،واک تھرو گیٹ اور سی سی More »

ڈسٹر کٹ پولیس آفیسر جہلم کی ہدایت پر ضلع جہلم پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں

ڈسٹر کٹ پولیس آفیسر جہلم کی ہدایت پر ضلع جہلم پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں

جہلم( چوہدری عابد محمود +افتخار الحق) ڈسٹر کٹ پولیس آفیسر جہلم کی ہدایت پر ضلع جہلم پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں۔10لیٹر شراب،2عدد پسٹل 30بور،1عدد 12بور رائفل اور 7روند برآمد۔ More »

پچیس فروری دن دس بجے حضرت شاہ نصیر الدین بریلوی کا 41 واں عرس مبارک منایاجائے گا

پچیس فروری دن دس بجے حضرت شاہ نصیر الدین بریلوی کا 41 واں عرس مبارک منایاجائے گا

جہلم( چوہدری عابد محمود +نذیر احمد نورانی) پچیس فروری دن دس بجے حضرت شاہ نصیر الدین بریلوی کا 41 واں عرس مبارک بمقام ریلوے اسٹیشن حناپور نزد چک جمال جہلم زیر سرپرستی More »

معصوم لوگوں کا خون بہا کرنے والے پرامن اور مستحکم پاکستان سے خوش نہیں ۔ ایم این اے نواب زادہ مطلوب مہدی

معصوم لوگوں کا خون بہا کرنے والے پرامن اور مستحکم پاکستان سے خوش نہیں ۔ ایم این اے نواب زادہ مطلوب مہدی

جہلم(راجہ نو بہار خان)پاکستان کے امن کو تباہ کرنے اور معصوم لوگوں کا خون بہا کرنے والے پرامن اور مستحکم پاکستان سے خوش نہیں ،دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے مسلم More »

راجہ حسن جاوید ڈی ایس پی صدر جہلم کی محکمہ اوقاف ،متولیوں ،منتظمین ،اور گدی نشین حضرات سے میٹنگ

راجہ حسن جاوید ڈی ایس پی صدر جہلم کی محکمہ اوقاف ،متولیوں ،منتظمین ،اور گدی نشین حضرات سے میٹنگ

جہلم(راجہ نو بہار خان)راجہ حسن جاوید ڈی ایس پی صدر جہلم کی محکمہ اوقاف ،متولیوں ،منتظمین ،اور گدی نشین حضرات سے میٹنگ۔تفصیلات کے مطابق ڈی ایس پی صدر جہلم راجہ حسن جاوید More »

 

Category Archives: کالم

78ddfba5-6519-4d26-a2fc-b13a4a6a421e

ٓآزادی کشمیری کی دوکانیں۔تحریر:آفتاب بیگ

ٓآزادی کشمیری کی دوکانیں
گستاخیاں

۔تحریر:آفتاب بیگ
وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدرخان ان دنوں برطانیہ کے دورے پر ہیں جہاں وہ بالخصوص آزادکشمیر میں تعلیم کے معیار کی بہتری کے سلسلہ میں مختلف اقدامات اور معاہدات کرتے نظر آ رہے ہیں گو وہ مخصوص کشمیریوں سے ہی میل ملاقاتیں فرما رہے ہیں لیکن برطانیہ میں آباد کشمیریوں کی بڑی تعداد ان کی توجہ بعض اہم نکات کی جانب مبذول کروانا چاہتی ہے جس میں سرفہرست مسئلہ کشمیر کے بارے میں تحفظات قابل ذکر ہیں برطانوی کشمیر ی اس بات پر نالاں ہیں کہ تحریک آزادی کشمیر کے نام پر حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر دونوں سرمہری کا شکار ہیں اور اس تحریک کو محض انتخابی اور غیر ممالک کے دورے کرنے تک نعرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اس تاثر کی بنیاد اس وقت مزید مضبوط ہو گئی جب حکومت پاکستان کے گذشتہ مہینوں میں تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے بیرون ممالک آنے والے وفود پر نظر دوڑائی گئی ان میں ایسے ایسے چہرے اور آوازیں نظر آئیں جن کو تحریک آزادی کشمیر کے بنیادی نقاط کا بھی علم نہیں تھا ان صاحبان کو نہ صرف وزارت خارجہ پاکستان کی جانب سے تیاری کے لیے مواد فراہم نہیں کیا گیا بلکہ انھیں یہ تک نہ بریف کیا گیا کہ انھوں نے کس سے کیا بات فرمانی ہے رہتی کسر اس وقت پوری ہو گئی جب ان کے دورے کے حوالے سے ملاقاتیں کرنے والوں کے چہرے پاکستانی میڈیا کے ذریعے عوام کو دکھائی دیے تو ان میں سے اکثریت پاکستانی مارکہ ایم پی اور لارڈز ہی تھے جن کا زیادہ تر تعلق نہ صرف خود کشمیر سے ہے بلکہ اس تحریک کا ورد وہ صبح و شام صرف پاکستانی میڈیا اور تقریبات میں کرتے ہیں اور جن کی محنت اور کوششوں سے محض بیس پچیس ممبران پارلیمنٹ اہم ترین انسانی مسئلہ کشمیر پر پارلیمنٹ تک پہنچ سکے جن میں ایک دفعہ پھر اکثریت ہم پاکستانی کشمیریوں ہی کی تھی مختصرا مسئلہ کشمیر پر تحریک آزادی کشمیر کے اصل مجاہدوں کے ساتھ بد دیانتی کا سلسلہ جاری ہے جس سے حکومت پاکستان کا کردار قابل مذمت ہے لیکن اس کی وجہ تحریک کے بیس کیمپ حکومت آزاد کشمیرکی تحریک سے عدم دلچسپی ہے جس کا بڑا ثبوت مولانا فضل الرحمن جیسی شخصیت کا کشمیرکمیٹی کا چئیرمین ہونا ہے اس کے ساتھ حکومت کشمیر کی جانب سے برطانیہ یورپ میں جگہ جگہ تحریک آزادی کشمیر کی دوکانوں کا بھی نوٹس لینے کی اشد ضرورت ہے جن کا روزگار گذشتہ بیس پچیس سالوں سے بالخصوص اس تحریک سے وابستہ ہے ان دوکانوں کے چئیرمینوں اور دائریکٹروں سے نتائج کا پوچھا جائے تو ان گذشتہ سالوں میں تحریک ایک انچ بھی اپنی منزل کی جانب نہیں بڑھ پائی کوئی خدا خوفی ہوتی ہے کہ یہ لوگ اپنی کشمیری نوجوان نسل کو بھی تحریک آزادی کشمیر کی جانب متوجہ نہیں کر پائے یہی وجہ ہے کہ ہمارے برٹش نوجوان شام سے فلسطین تک مظالم پر تو آوازیں بلند کرتے دکھائی اور سنائی دیتے ہیں لیکن بھارت کے کشمیریوں پر مظالم پر وہ نہ صرف خاموش ہیں بلکہ بنیادی مسئلہ سے ہی آگاہ نہیں ہیں
جناب وزیر اعظم اب وقت آ چکا ہے کہ ان فوٹو مافیا کشمیریوں نام نہاد لیڈروں کی دوکانیں بند کی جائیں جو بعض صحافیوں سے لفافوں کے بدلے کمپنی کی مشہوری کرواتے رہتے ہیں اور کشمیری کے نام پر ہونے والی فنڈنگ سے بیرونی ممالک دورے، مکانات اور تصویریں بنواتے رہتے ہیں
تحریک آزادی کشمیر کے وسیع تر مفاد میں اب آپ کو انتہائی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے جس کے تحت حکومت پاکستان پر دباوٗ ڈالا جائے کہ کسی باصلاحیت شخصیت کو کشمیر کمیٹی کا چئیرمین بنایا جائے جو عالمی سطح پر عالمی زبان اور انداز میں تحریک آزادی کشمیر کی حمایت اور بھارتی بربریت پر آواز بلند کر سکے مزید بیرون ممالک تمام نام نہاد تحریک کشمیر کے نام پر قائم دوکانوں کے سر سے ہاتھ اٹھا کر ہائی کمیشن میں کشمیر آفس قائم کیے جائیں جو مقامی اہل اور اعلی تعلیم یافتہ نوجوان کشمیریوں کے تحت کام کرے تاکہ مسئلہ کشمیر کو جدید ذرائع ابلاغ کے تحت عالمی سطح پر اٹھایا جا سکے اور اس تحریک کا دائرہ محض کشمیری اور پاکستانی ممبران پارلیمنٹ سے نکال کر دیگر کمیونٹیز اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک پھیلایا جا ئے تاکہ آدھی صدی پر محیط اس تحریک کو کم از کم منزل کے حصول کے جانب جانے والی سمت پر رواں کیا جا سکے تاحال موجودہ ذمہ داران ڈنگ ٹپاوُ، کھاوٗ پیو اور فوٹو بنواوٗتک ہیں اس سے بڑھ کر ان میں نہ ہی صلاحیت و اہلیت ہے اور نہ ہی مقصد کے حصول کی لگنا۔
تحریک آزادی کشمیر پر ہونے والے مذاق اور محض روٹی شوٹی کی تقریبات کا اب خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مقبوضہ کشمیر کے لیے ا صل قربانیاں دینے والوں کو یہ احساس ملے کہ ان کے بہن بھائی محض نعرے نہیں بلکہ عملی طور پر ان کے ہم قدم ہیں

جمہوریت کے نام پر کھلواڑ

جمہوریت کے نام پر کھلواڑ

مقتدا منصور

گزشتہ دنوں پنجاب کی صوبائی حکومت نے ڈیڑھ سو برس پرانا انتظامی ڈھانچہ بحال کرکے اپنی نوآبادیاتی فکر کی تجدید کردی ہے۔ اس سے قبل سندھ حکومت نوآبادیاتی دور کا انتظامی ڈھانچہ بحال کرکے اپنے فیوڈل مائنڈ سیٹ کا مظاہرہ کرچکی ہے۔ بلوچستان بہت پہلے ڈیڑھ سوبرس پرانے نظام کی طرف لوٹ چکا تھا۔ خیبر پختونخوا میں گو کہ قدرے بااختیار بلدیاتی نظام نافذ کیا گیا ہے، مگر وہاں بھی صوبائی حکومت ان اختیارات کی منتقلی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اس طرح ملک میں شراکتی جمہوریت اور اختیارات کی حقیقی معنی میں نچلی سطح تک منتقلی محض ایک خواب رہ گیا ہے۔
سیاسی جماعتوں کی ریاستی انتظام کی عدم مرکزیت میں عدم دلچسپی ان کے فیوڈل مائنڈسیٹ کی عکاس ہے۔ یہ بات سب کے سامنے ہے کہ متعلقہ صوبائی حکومتوں نے خاصی پس و پیش اور کئی برس کی ٹال مٹول کے بعد بالآخر عدالت عظمیٰ کے مسلسل دباؤ پر بلدیاتی انتخابات کرائے ہیں، لیکن ان انتخابات سے قبل صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے ایسی قانون سازی کردی،جس کے نتیجے میں بلدیاتی نظام مکمل طورپر صوبائی حکومتوں کا دست نگر بن کر رہ گیا ہے۔ حالانکہ آئین کی شق140Aکہتی ہے کہ “Each Province shall, by law, establish a local government system and devolve political, administrative and financial responsibility and authority to the elected representatives of the local government.یعنی ہر صوبائی حکومت قانون کے مطابق مقامی حکومتی نظام قائم کرے گی اور سیاسی، انتظامی اورمالیاتی ذمے داریاں اور اختیارات مقامی حکومتوں کے منتخب نمایندوں کو منتقل کریں گی۔
متعلقہ حکومتوں نے by law کی اصطلاح کا سہارا لیتے ہوئے ایسی قانون سازی کی جس کے نتیجے میں مقامی حکومتی نظام صوبائی حکومت کے ایک ماتحت محکمے سے بھی کمتر حیثیت کا حامل ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔ متذکرہ بالا آئینی شق میں جس سیاسی، انتظامی اور مالیاتی ذمے داری اور اختیار کی بات کی گئی ہے، اسے بھی بری طرح نظر اندازکیا گیا ہے۔ یعنی ہر صوبائی حکومت نے اس آئینی شق کی دھجیاں بکھیرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مقامی حکومتی نظام کے تصور کو سمجھنے اور اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کی جانب سے تسلسل کے ساتھ پھیلائے جانے والے ابہام کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
یہ جاننا ضروری ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے عالمی سطح پر دو طریقے مروج ہیں۔ اول، اختیارات کی تفویض یعنی Delegation of Powers۔دوئم، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی(Devolution of Powers)۔اختیارات کی تفویض ایک قسم کا انتظامی معاملہ ہوتی ہے۔یعنی کوئی مجاز اتھارٹی اپنی ذمے داریوں کا بوجھ ہلکا کرنے کی خاطر کچھ اختیارات نچلی سطح کے کسی عہدیدار یا عہدیداروں کو تفویض کردیتی ہے، لیکن ان اختیارات پر اصل کنٹرول مجاز اتھارٹی ہی کا رہتا ہے۔
دوسرے الفاظ میں اختیارات کی تفویض دراصل اختیارات کی مرکزیت ہی ہوتی ہے جہاں نچلی سطح کے ادارے اور ان کے عہدیدار مجاز اتھارٹی کے احکامات کے پابند رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ یوں ہر قسم کی فیصلہ سازی پر مجاز اتھارٹی کا مکمل کنٹرول رہتا ہے۔ یوں بلدیاتی نظام ایک طرح سے اختیارات کی تفویض کا نظام ہے، جسے کسی بھی طور مقامی حکومتی نظام نہیں کہا جا سکتا۔ بلدیاتی نظام، دراصل حکومت کے دیگر شعبہ جات کی طرح ایک شعبہ ہوتا ہے، جس کی ذمے داریاں منتخب نمایندوں کے علاوہ کسی سرکاری اہلکارکو بھی سونپی جاسکتی ہیں۔
اس کے برعکس اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی (Devolution of Powers)سے مراد نچلی سطح پر ایک مکمل طور پر بااختیار حکومت کاقیام ہے، جو آئین میں متعین دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات اور ذمے داریاں بغیر کسی بیرونی دباؤ، آزادانہ طور پر سرانجام دیتی ہے۔ یہ حکومتیں اپنے آئینی دائرہ کار میں اتنی ہی بااختیار ہوتی ہیں، جتنی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہوتی ہیں۔ بعض اوقات ان کے اختیارات کا دائرہ کار وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ جس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ مثلاً برطانیہ میں مقامی حکومتوں کے میئروںکو وزیر اعظم برطانیہ سے زیادہ انتظامی اختیارات حاصل ہیں۔ امریکا میں بڑے شہروں(Mega cities)کے لیے ایک مکمل بااختیارانتظامی ڈھانچہ رائج ہے جس میں ریاستی حکومت کو سوائے مانیٹرنگ کے کسی قسم کی مداخلت کا اختیار نہیں ہوتا۔
اس تناظر میں چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت کے لیے بلدیاتی نظام کے جو مسودے وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں نے منظور کیے ہیں، وہ کسی بھی طوراقتدار و اختیار کی نچلی سطح تک منتقلی نہیں ہیں، بلکہ منتخب ہونے والی کونسلیں، ہر لحاظ سے صوبائی حکومت کی محتاج اور دست نگر رکھی گئی ہیں۔ کراچی اور لاہور سمیت تمام بڑے شہروں کے میئروں کی حیثیت بلدیاتی ادارے کے کلرک سے زیادہ نہیں ہے۔ سندھ حکومت نے صوبائی اسمبلی میں اپنی اکثریت کی بنیاد پر برطانوی نوآبادیاتی دور کے بلدیاتی نظام سے بھی کم تر اختیارات کا حامل بنادیا ہے۔ جس سے سندھ حکومت ہی نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کے مائنڈ سیٹ کا اندازہ ہوتا ہے، جو اقتدار و اختیار کی مرکزیت قائم کرنے کی شدید خواہشمند ہے۔ خاص طو پر کراچی اور حیدرآباد، جہاں ایم کیو ایم اکثریت میں ہے، بلدیاتی کونسلوں کو مکمل طورپر مفلوج رکھا گیا ہے۔
اب پنجاب حکومت نے بھی 1860 سے 1870 کے دوران بنائے جانے والے اس انتظامی ڈھانچے کو بحال کر دیا ہے، جو حکومت برطانیہ نے ہندوستان پر کنٹرول قائم رکھنے کے لیے ترتیب دیا تھا۔ اس فیصلے سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے فکری طرز عمل اور آمرانہ سوچ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ دنیا بھر میں پولیس سمیت انتظامی ادارے ہر سطح پر منتخب نمایندوں کے ماتحت کیے جاچکے ہیں۔ مگر پاکستان میں مقتدر اشرافیہ اقتدار و اختیار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے اور سیاسی کنٹرول کی مرکزیت قائم رکھنے کی خاطر اسی فرسودہ نوآبادیاتی ڈھانچے پر انحصار کرتے ہوئے اس کے تسلسل پر اصرار کررہی ہے۔
پاکستان کی سول سوسائٹی یہ سمجھتی ہے کہ ملک میں دو درجاتی(Two tier)کے بجائے تین درجاتی (Three tier) ریاستی انتظامی ڈھانچہ رائج ہونا چاہیے۔ جس میں وفاق، وفاقی یونٹ (صوبہ یا ریاست) اور ضلع مکمل انتظامی یونٹ ہوں۔ اس کے بعد ضلع کو چار درجات(Tier)میں تقسیم کیا جائے، یعنی ضلع، تعلقہ(تحصیل)، یونین کونسل اور وارڈ۔ لیکن انتظامی ڈھانچہ تین درجات یعنی ضلع، تعلقہ اور یونین کونسل پر مشتمل ہو۔ سول سوسائٹی اس بات پر بھی متفق ہے کہ پرویز مشرف کے دور میں متعارف کیا گیا ، مقامی حکومتی نظام چندضروری تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ رائج کردیا جائے، تاکہ نچلی سطح پر ترقیاتی منصوبہ بندی میں عوام کی براہ راست شرکت کے ذریعے ملک میں شراکتی جمہوریت کے فروغ کے امکانات روشن ہوسکیں۔
اس سلسلے میں PILDATکی جانب سے پیش کردہ تجاویزکو قانون سازی کا حصہ بنانے سے اچھے نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے جو کہ درج ذیل ہیں: 1۔ایک یونین کونسل میں ایک کونسلر کا حلقہ زیادہ سے زیادہ 3ہزارووٹرز پر مشتمل ہو۔2۔ حلقوں کی حد بندیاں صوبائی حکومت کے بجائے الیکشن کمیشن جیسا غیر جانبدار اورNon-Partisanادارہ کرے۔3۔منتخب سیاسی نمایندوں اور نوکرشاہی کا کردار واضح ہونا چاہیے تاکہ اختیارات کے غلط استعمال کو روکا جاسکے۔ 4۔اس نظام کو مکمل آئینی تحفظ فراہم کیا جائے۔5۔ تمام کلیدی میونسپل افعال(Functions)،جن میں مقامی ترقی، تعلیم، صحت، جائیداد کی خریدو فروخت، ٹرانسپورٹ اور ریونیوکو مکمل طور پر Devolve کیا جائے۔
6۔ مالیاتی بااختیاریت یونین کونسل کی سطح تک منتقل کی جائے۔7۔ صوبائی مالیاتی کمیشن تشکیل دیا جائے، تاکہ ضلع اور یونین کونسل تک وسائل کی تقسیم کو منصفانہ بنایا جاسکے۔ 8۔ لوکل گورنمنٹ کمیشن میں صوبائی حکومت اور مقامی نمایندوں کی نمایندگی میں توازن پیدا کیا جائے۔9۔ پولیس کو مقامی حکومت کے احکامات ماننے اور اس کو جوابدہی کا پابند بنایا جائے۔10۔ 2001کے قانون میں سٹیزن کمیونٹی بورڈز کا جو تصور پیش کیا گیا تھا، اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔11۔ منتخب کونسلوں اور اراکین کی کارکردگی کو جانچنے کا واضح اور شفاف طریقہ وضع کیا جائے۔
اس کے علاوہ ترقیاتی منصوبہ بندی کو یونین کونسل کی سطح پر یقینی بنایا جائے۔ سینٹرل سپیرئیر سروسز(CSS) اور پرونشیل سول سروسز(PCS)کی طرز پر میونسپل ایڈمنسٹریشن سروسز(MAS)متعارف کرائی جائے۔ جائیداد اور زمین کی خرید و فروخت اور الاٹمنٹ کے لیے ضلع مئیر کاNoCلازمی قرار دیا جائے تاکہ سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ کو روکا جا سکے۔ لہٰذا اب یہ سول سوسائٹی کی ذمے داری ہے کہ وہ ایک حقیقی مقامی حکومتی نظام کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر دباؤ بڑھائے کیونکہ اس وقت ملک میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ جمہوریت کے نام پر کھلواڑ سے زیادہ کچھ نہیں۔

amir

سیاسی ارتعاش۔تحریر عامر کیانی

بلدیاتی اداروں کی تکمیل کے ساتھ ہی جہلم کی سیاست میں طوفان آچکا ہے چئیرمین ڈسٹرکٹ کونسل کے الیکشن میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں(ن لیگ پی ٹی آئی )میں اضتلافات کو نقطہء عروج پر پہنچا دیا ہے اس الیکشن میں ن لیگی امیدوار حافظ اعجاز جنجوعہ کو ضلعی تنظیم کے ساتھ ساتھ چار ممبران اسمبلی اور د و ممبران قومی اسمبلی کی حمایت حاصل تھی لیکن نسبتاکم تجربہ کار ممبر قومی اسمبلی راجہ مطلوب مہدی کی سربراہی میں آزاد امیدوار راجہ قاسم (باغی گروپ )نے دس ووٹوں کی واضح اکثریت سے شیر کے نشان پر لڑنے والے حافظ اعجاز جنجوعہ کو شکست سے دو چار کیا آزاد امیدوار راجہ قاسم نے ضلعے کا چئیرمین بن کر جہلم کی سیاست میں نیا ارتعاش پیدہ کر دیا جس کی جھلک آئندہ جنرل انتخابات میں دیکھنے کو ملے گئی دونوں امیدواروں کا تعلق مسلم لیگ ن سے تھا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ضلع چیئرمینی کے لیے مرزا جمشید سامنے آئے جو ان کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر تھا ۔مسلم لیگ ن کی جانب سے ضلع چیئرمینی کا پہلا ٹکٹ راجہ قاسم جو جاری کیا گیا جو کہ یونین کونسل پنن وال سے چیئرمین منتخب ہو کر آئے تھے جبکہ چند دن بعد ضلعی جنرل سیکرٹری اور مخصوص نشست پر کسان کونسلر منتخب ہونے والے حافظ اعجاز جنجوعہ سے راجہ قاسم کی چیئرمینی کا ٹکٹ ہضم نہ ہو سکا اور وہ اپنے تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے اسحاق ڈار کی سفارش پر میاں منان سے جاری کروا دیا جسکے بعد مسلم لیگ ن کی ضلعی قیادت سمیت ایم این اے اور ایم پی اے کا امتخان شروع ہو گیا ۔اور راجہ قاسم نے اپنے ساتھی چیئرمینوں سے اور ایم این اے راجہ مطلوب مہدی کے ساتھ مشاورت کر کے آزاد حثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر کے شیر کے نشان کی بغاوت کا اعلان کر دیا اور اور پاکستان مسلم لیگ ن دو دھڑوں میں واضع کھل کر سامنے اگئی۔4 ایم پی اے اور 2 ایم این اے نے حافظ اعجاز جنجوعہ کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے حمایت کا اعلان کر دیا ،اور دوسری طرف ایم این اے مطلوب مہدی کھل کر تو راجہ قاسم گروپ کی حمایت نہ کی لیکن در پردہ باغی گروپ (راجہ قاسم)کی مدد کرتے رہے جسکے نتیجے میں یہ ضلع کونسل کی چئیرمینی باغی گروپ(راجہ قاسم)نے جیت لی ،دریں اثنا میں اس جیت میں پاکستان تحریک انصاف نے بھی اپنا حصہ خوب ڈالا ۔الیکشن والے دن بائکاٹ کا اعلان کر کے باقاعدہ منصوبے کے تحت باغی گروپ(راجہ قاسم) کو ووٹ ڈالا گیا شنید ہے الیکشن سے چند دن پہلے پی ٹی آئی کے ضلعی رہنما اور سابق ٹکٹ ہولڈر نے پی ٹی آئی کے ممبران سے ووٹ پاکستان مسلم لیگ ن باغی گروپ کو ڈلوائے اور اس وعدے کے ساتھ کہ آئندہ جنرل الیکشن میں حلقہ NA62 کے مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے ٹکٹ ہولڈرموصوف ہوں گئے بات یہاں ختم نہیں ہوئی میونسپل کمیٹی کے چئیرمین کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب مرزا راشد ندیم اور آزاد حثیت سے خادم اللہ بٹ آمنے سامنے تھے لیکن اس میں بھی 5 پی ٹی آئی کے کونسلروں نے اپنا وعدہ نبھاتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کو ووٹ دے کر شیروں سے خوب داد وصول کی ۔انتخابات کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے زرائع کے مطابق راجہ یاور کمال بہت جلد پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہونے لگے ہیں اگر ایسا ہو جاتا ہے حکمران جماعت گھرمالا گروپ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور پی ٹی آئی کے ایک گروپ کے جہلم میں حالات مخدوش ہو جایءں گئے ۔لہذہ یہ سیاسی ارتعاش آمدہ انتخابات تک ہو سکتا ہے مگر اس منظر نامے کو

abid ch copy

مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط ۔ تحریر :چوہدری عابد محمود

کچے گھڑے
مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط
تحریر :چوہدری عابد محمود
میری عمر9/10 برس کی تھی جب ابا نے مجھے زمین پر گھسیٹتے ہوئے گھرسے بے گھرکر دیا تھا۔ میں چیخ چیخ کر تمہیں پکارتا رہا مگر تم بے حس وحرکت سہمی ہوئی مجھے تکتی رہیں۔ واحد روانی تمہارے آنسوؤں کی تھی جو ابا کے غیض و غضب کے آگے بھی تھمنے کو تیار نہ تھے۔ تمہارا ہر آنسو اس بات کا ثبوت تھا کہ تم ابا کے اس فعل سے بہت نالاں تھی مگر ابا کی ہر بات پر سر تسلیم خم کرنے پر مجبور بھی۔محلے والوں کے طعنے، رشتے داروں کے طنز اور لوگوں کی چبھتی ہوئی نگاہوں سے جب ابا بے قابو ہو جاتے تو پھر اپنی کالے چمڑے کی چپل سے میری چمڑی ادھیڑتے۔ اپنے جسم پر چپل سے بنائے گئے نقش لیے میں اس کال کوٹھڑی کی جانب بھاگتا جو پورے گھر میں میری واحد پناہ گاہ بن گئی تھی۔ پٹائی کا دن جب رات میں ڈھلتا تو تم ابا سے چھپ کر دبے پاؤں آتیں۔ مجھے سینے سے لگاتی، اپنے دوپٹے سے میرے زخموں کی ٹکور کرتی۔ میرا سر اپنی گود میں لیے گھنٹوں میرے پاس بیٹھی رہتی۔ مجھے چپ کراتے کراتے تمہاری اپنی سسکیاں بندھ جاتیں۔ آہوں اور سسکیوں کی گونج کے علاوہ اس کال کوٹھڑی میں کچھ سنائی نہ دیتا۔ ہم دونوں آنسوؤں کی زببیٹا یں بات کرتے۔ میرے آنسوؤں میں ان گنت سوال ہوتے۔ کہ آخر کیوں ابا کی نفرت کی خاص عنایت مجھ پر ہی ہے؟ آخر کیوں گھر میں مہمانوں کے آتے ہی اسٹور کے تنگ وتاریک کمرے میں گھر کے ہر فالتو سامان کے ساتھ مجھے بند کردیا جاتا ہے اور جب تک اللہ کی رحمت ہمارے گھر سے چلی نہیں جاتی مجھے رہائی کا پروانہ کیوں نہیں دیا جاتا۔ یہ رحمت ہر بار میرے لیے زحمت کیوں بن جاتی ہے؟ مگر اماں میرے ہر سوال کے جواب میں تم خاموشی سے میرے اوپر محبت بھری نگاہ ڈالتی اور کچھ نہ بولتیں۔ بس کبھی تم میرے ماتھے کا بوسہ لیتی اور کبھی میرے ہاتھوں کو چوم کر اس بات کی گواہی دیتی کہ میں تو اپنے راجہ بیٹے سے بہت پیار کرتی ہوں۔ ایک سوال کرتے کرتے میں تھک جاتا اور نیند کی آغوش میں چلا جاتا کہ آخر میرے سے ایسی کیا خطا ہوئی جو میں اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی طرح ابا کے پیار کا حقدار نہیں۔ہاں تمہاری گود میں سو جانے سے پہلے میں یہ دعا بھی کرتا کہ یہ رات کبھی ختم نہ ہو مگر صبح ہوتی اور تم پھر اس عورت کا لبادہ اوڑھ لیتی جو ابا اور معاشرے کے خوف سے مجھے پیار کرتے ڈرتی تھی۔جس دن ابا نے مجھے گھر سے نکالا اس دن میرا قصور بس اتنا تھا کہ میں نے تمہاری سنگھار میز پر رکھی ہوئی لالی سے اپنے ہونٹ رنگ لیے تھے، تمہارا سرخ دوپٹہ سر پر رکھے، تمہارے ہاتھوں کے کنگن اپنی کلائی میں ڈالے تمہاری ٹک ٹک کرنے والی جوتی پہن کرخوش ہو رہا تھا، بس یہ دیکھنے کی دیر تھی کہ ابا نے مجھ پر پھر جوتوں کی برسات شروع کر دی۔ میں معافی کا طلب گار رہا مگر میری شنوائی نہ ہوئی اور پھرگالی گلوچ کرتے ہوئے زمین پر گھسیٹتے ہوئے زنخا زنخا کہتے ہوئے مجھے ہمیشہ کے لیے سب گھر والوں سے دور کر دیا۔میرے لیے آبا کے آخری الفاظ یہ تھے کہ آج سے تو ہمارے لیے مر گیا۔ یہ جملہ سنتے ہی میرے ہاتھوں کی گرفت جس نے ابا کے پیروں کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کمزور پڑ گئی۔ میری گڑگڑاتی ہوئی زبان خاموش ہوگی، میرے آنسو تھم گئے کیونکہ میں جانتا تھا کہ ابا اپنی کہی ہوئی بات سے کبھی نہیں پھرتے۔ اور تم ماں، ابا کے کسی بھی فیصلے کے خلاف جانے کی ہمت نہیں رکھتی اس کے بعد ابا مجھے ہمیشہ کے لیے یہاں چھوڑ گے جہاں ایک گرو رہتا تھا۔ امجد کی جگہ میرا نام علیشاہ رکھ دیا گیا۔ مجھے ناچ گانے کی تربیت دی جاتی۔ مجھ پر نظر رکھی جاتی لیکن میں جب کبھی موقع ملتا تمہاری محبت میں گرفتار اپنے گھر کی طرف دیوانہ وار بھاگتا مگر ابا کا آخری جملہ مجھے دہلیز پار کرنے سے روک دیتا۔ دروازے کی اوٹ سے جب تمہیں گرما گرم روٹی اتارتے دیکھتا تو میری بھوک بھی چمک جاتی اور پھر تم اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا بنا کر میرے بہن بھائیوں کے منہ میں ڈالتی تو ہر نوالے پر میرا بھی منہ کھلتا مگر وہ نوالے کی حسرت میں کھلا ہی رہتا۔ اس حسرت کو پورا کرنے کے لیے میں اکثر گھر کے باہر رکھی ہوئی سوکھی روٹی کو اپنے آنسوؤں میں بھگو
بھگو کر کھاتا۔بعد کی عیدیں تو تنہا ہی تھیں پر جب گھر بدر نہ ہوا تھا تب بھی عید پر جب ابا ہر ایک کے ہاتھ پر عیدی رکھتے تو میرا ہاتھ پھیلا ہی رہ جاتا۔ جب ہر بچے کی جھولی پیار اور محبت سے بھر دی جاتی تو میری جھولی خالی ہی رہ جاتی۔ جب ابا اپنا دست شفقت سب کے سروں پر پھیرتے تو میرا سر جھکا ہی رہ رہتا۔صحن میں کھڑی ابا کی سائیکل جس کو اکثر میں محلے سے گزرتے دیکھتا تو ہر بار دل میں یہ خواہش ہوتی کہ کاش ابا سائیکل روک کر مجھے ایک بار، صرف ایک بار سینے سے لگا لیں مگر میری یہ خواہش، خواہش ہی رہ جاتی۔ گھر چھوڑنے کے عذاب کے بعد میرے اوپر ایک اور عذاب نازل ہوا جس کے کرب نے میری روح تک کو زخمی کر دیا۔ چند ‘شرفا’ گرو کے پاس آئے اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ مجھے زبردستی بے لباس کیا اور اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھا ڈالا۔ ماں، میں اتنا چھوٹا اور کمزور تھا کہ میں تکلیف کی وجہ سے اپنے ہوش ہی کھو بیٹھا تھا۔ پھر اس ہی بے ہوشی کے عالم میں مجھے گرو کے حوالے کر دیا گیا۔ پھر یہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ میں روز ہی اپنی ہی نظروں میں گرتا رہا مرتا رہا۔ کرتا بھی کیا کہ اب میرے پاس کوئی اور دوسری پناہ گاہ نہ تھی۔پھر اسی کام کو میرے گرو نے میرے پیشے کا نام دے دیا۔ میں گرو کے پاس سے کئی بار بھاگا، در در نوکری کی تلاش میں پھرتا رہا مگر مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ ہر بار گرو کے در پر ہی پناہ ملی۔ہمارا وجود معاشرے میں گالی سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں تو کسی کو بددعا بھی دینی ہو تو ہم کہتے ہیں کہ جا تیرے گھر بھی مجھ جیسا پیدا ہو۔ حالانکہ ہماری رگوں میں بھی سرخ رنگ کا خون دوڑتا ہے۔ ہمیں بنانے والا بھی تو وہی ہے جس نے ان کو پیدا کیا۔ ان کے سینے میں بھی دل ہماری طرح ہی دھڑکتا ہے۔ تو پھر ہمیں کس بات کی سزا دی جاتی ہے ؟ہمارا جرم کیا ہوتا ہے؟ شاید ہمارا جرم یہ ہوتا ہے کہ ہمارا خون سرخ ہے اور معاشرے کا سفید۔ماں میں ساری زندگی جینے کی چاہ میں مرتا چلا گیا۔ سفید خون رکھنے والے لوگ کبھی مذہب کی آڑ لے کر تو کبھی جسم فروشی سے انکار پر ہمارے جسموں میں گولیاں اتار دیتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، مجھے بھی گولیاں ماری گئیں۔ جب مجھے ہوش آیا تو ڈاکٹر مجھے امید کی کرن دکھانے کی کوشش میں آہستہ آہستہ میرے کان میں سرگوشی کر رہا تھا کہ اگر تم ہمت کرو تو زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہو۔ میں نے بہت مشکل سے اپنے ہونٹوں کو جنبش دی اور ڈاکٹر سے کہا کہ اگر میں ہمت کر کے لوٹ بھی آیا تو کیا مجھے جینے دیا جائے گا؟ جب ملک الموت میرے پاس آیا تو میں نے اس سے جینے کے لیے چند لمحوں کی درخواست کی۔ نجانے کیوں اس بار مجھے امید تھی کہ تم دوڑی چلی آؤ گی، میرا بچہ کہتے ہوئے مجھے اپنے سینے سے لگاؤ گی۔ میرے سر کو اپنی گود میں رکھ کر میرے زخموں کی ٹکور کر کے مجھے اس دنیا سے رخصت کرو گی۔ لیکن موت کے فرشتے نے چند لمحوں کی مہلت بھی نہ دی۔سنا ہے قیامت کے روز بچوں کو ماں کے حوالے سے پکارا جائے گا۔ بس ماں تم سے اتنی سی التجا ہے کہ اس دن تم مجھ سے منہ نہ پھیرنا اور ایک بار مجھے اپنی جھولی میں سلا لینا۔آپ کا اپنا بیٹا۔ امجد، علیشاہ

ضلع جہلم میں ضمنی انتخابات اورسیاسی وفاداریوں کی تبدیلی۔تحریر:عمران بشیر

جہلم(تحریر:عمران بشیر)ضمنی الیکشن حلقہ این اے تریسٹھ کے انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی شروع ہوگئی ہے۔سب سے پہلے ٹکٹ نہ ملنے پر پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑکرسابق امیدواربرائے قومی اسمبلی مرزامحمودجہلمی پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اوراپنے بیٹے جہانگیر محمودمرزاکو پیپلزپارٹی کے نامزدامیدوارکے طورپر حلقہ این اے تریسٹھ سے سامنے لائے۔دوسرے نمبرپر سابق ضلع ناظم چوہدری فرخ الطاف کی جیت اورہارمیں سیاسی اکٹھ اورطعام کا بندوبست کرنے والے سابق امیدواربرائے قومی اسمبلی چوہدری عارف اورسابق تحصیل ناظم چوہدری عابداشرف جوتانہ نے مسلم لیگ ن کی سپورٹ اور شمولیت کا اعلان کیا ۔اس کے بعد سابق سینیٹرراجہ محمدافضل خان نے اپنی سیاسی وفاداری ایک بارپھر تبدیل کرتے ہوئے ریورس سیاسی گئیرلگاتے ہوتے مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے۔تینوں افرادکوگرمالہ گروپ کی جانب سے خاطر خواہ پذیرائی نہ مل سکی ایم پی اے چوہدری لال حسین نے سابق امیدواربرائے قومی اسمبلی چوہدری عارف کوخودساختہ مسلم لیگی قراردیا اورراجہ افضل خان کو اپنا سفر ن لیگ میں صفر سے شروع کرنے کاپیغام دیا۔لدھڑخاندان کے پاکستان تحریک انصاف میں بڑھتے ہوئے اثر رسوخ اورحلقہ این اے تریسٹھ میں چوہدری فوادحسین کو امیدوارنامزدکئے جانے کے بعد اپنا سیاسی مستقبل تاریک دکھائے دے رہاتھا جس بناء پر انہوں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیارکی ۔عمران خان کے زبردست جلسہ کے بعدپاکستان تحریک انصاف کے نامزدامیدوارچوہدری فوادحسین کی سیاسی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے وہیں پر ن لیگ میں مختلف دھڑوں کی شمولیت کے بعدانہیں خاصامقابلہ ملے گا۔جبکہ سب سے بری صورت حال جہانگیر محمودمرزاکی ہے جنہیں پیپلزپارٹی کی اعلیٰ ضلعی قیادت کی جانب سے مکمل سپورٹ حاصل نہیں ۔پیپلزپارٹی کی گری ہوئی ساخ کی بناء پر ضلعی قیادت نے جہانگیر محمودمرزاکی سیاسی قربانی بڑی عید سے پہلے لگانے کا ٹھان رکھی ہے ۔31 اگست کو نئے جہلم اورروایتی سیاست میں کون جیتتا ہے اس کا فیصلہ عوام کریں گے۔

abid ch copy

سیاسی درجہ حرارت،تحریر :چوہدری عابد محمود

سیاسی درجہ حرارت،تحریر :چوہدری عابد محمود

کچے گھڑے

بھادوں کی گرمی اپنے عروج پر جبکہ سیاسی درجہ حرارت بھی اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے ۔ جہلم کے حلقہ این اے 63 میں ہونے والے ضمنی انتخابات اور بلدیاتی انتخابات کے آخری مرحلے میں مسلم لیگ ن کی ضلعی قیادت نے سر جوڑ لیے ہیں مگر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ ضلع کونسل کی مخصوص نشستوں وائس چیئرمین اور چیئر مین کا الیکشن یکم ستمبرسے شروع ہو رہا ہے تاہم مسلم لیگ( ن) مخصوص نشستوں کے نام ابھی تک فائنل نہیں کر سکی۔ جبکہ تاحال خواتین کی مخصوص نشستوں پر بھی اتفاق نہیں ہو سکا۔ دیگر جو سیاسی جماعتیں ہیں ان میں بھی جوڑ توڑ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے ، ذرائع کے مطابق چیئرمین ضلع کونسل کی نشست پر مقابلے کی فضاء آہستہ آہستہ بنتی جا رہی ہے ، اگر ضلع کونسل کے چیئرمین کے لیے مسلم لیگ ن کے دونوں دھڑے یکجا ہو جائیں تو پی ایم ایل این بلامقابلہ ضلعی چیئرمین منتخب کر سکتی ہے، لیکن ضمنی انتخابات کیوجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دونوں دھڑے 31 اگست کی شام تک خاموش دکھائی دے رہے ہیں ، ضمنی انتخاب کے ختم ہوتے ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دونوں دھڑے ایک دوسرے کے مدمقابل آجائیں گے۔ اس طرح (ن) لیگ سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی دھڑا اپوزیشن کو ساتھ ملاکر فتح حاصل کر سکتا ہے ۔ متوقع امیدواروں نے نئی واسکٹیں سلوا کر اپنے گھروں کی بیٹھکوں میں لٹکا رکھیں ہیں ۔بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے چیئرمینز ، وائس چیئرمینز، اور کونسلرز نے ایک مرتبہ پھر 1 سال کا عرصہ گزرجانے کے بعد پھر سے سیاسی بیٹھکیں اور چوراہے آباد کرنا شروع کررکھے ہیں ،مسلم لیگ ن کے ضلعی چیئرمین کا ٹکٹ رائیونڈ سے آئے گااور باقی مقامی قائدین اس پر مجبوراً لبیک کہیں گے۔جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے متوقع امیدوار بھی مقابلے کے لئے سامنے لائے جائیں گے۔ صورتحال انتہائی دلچسپ ہے ، سیاسی کھلاڑی اپنی ماہرانہ چالیں چلتے ہوئے منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو ا پنا گرویدہ بنائے ہوئے ہیں جبکہ تماشائیوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد اس گورکھ دھندے سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔اس وقت زمینی حقائق گرمالہ خاندان کے گرد گھوم رہے ہیں، لیکن 31 اگست کو ضمنی انتخاب کے اختتام کے فوراً بعد سیاسی حالات یکسر تبدیل ہو جائیں گے۔ نوابزدہ اقبال مہدی (مرحوم) کے جانشین راجہ مطلوب مہدی چونکہ ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں، اس لئے انتہائی مہارت کے ساتھ ضمنی الیکشن کا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ یکم ستمبر سے (ن)لیگی گروپ نئی آب و تاب کے ساتھ گرمالہ خاندان کے سامنے آئے گا اور گرمالہ خاندان کی امیدوں پرپانی پھیرنے کے لئے سابق ریٹائر ہونے والے سیاست دانوں کو دوبارہ بھرتی کر کے محاظ پر جنگ لڑنے کی تیاریاں کی جائیں گی۔ یکم ستمبر کو مخصوص نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں مختلف سیاسی قائدین نے انہیں اپنے بھرپور تعاون کا یقین بھی دلایا ہوا ہے اور اس وقت ممبر صوبائی اسمبلی مہر محمد فیاض ضلعی انتظامیہ کے انتہائی قریب تصور کئے جاتے ہیں، جبکہ گرمالہ خاندان سے ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری لال حسین نے حلقہ پی پی 26 میں ترقیاتی کام بھی شروع کروا رکھے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب مہر محمد فیاض عوامی اجتماعات میں اپنی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر ضلعی چیئرمینی کا تاج گرمالہ گروپ کے نامزد کردہ چیئرمین کے سر پر سجتا ہے تو بلا شبہ مسلم لیگ (ن )کوتقویت ملے گی۔ کیونکہ گرمالہ خاندان کے بزرگ ممبر قومی اسمبلی چوہدری خادم حسین ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ بہر حال ضلع کونسل کے چیئرمین کی 1 سیٹ ہے اور اس کے خواہشمند کئی ہیں ۔ستمبر بڑا ستمگر مہینہ ثابت ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کے کس گروپ پر ستم ہوگااور کس پر کرم کی نوازشات ہونگی۔ کسی کو نہیں معلوم کہ کس کے سر ضلع کونسل کا تاج سجے گا فیصلہ کن گھڑیاں شروع ہونے میں ابھی چندروز باقی ہیں ۔ عوامی حلقوں کی نظریں ضمنی انتخاب کے بعد ضلعی چیئرمینی اور ضلع جہلم کی چاروں میونسپل کمیٹیوں کے چیئرمینوں پر لگی ہوئی ہیں۔

Naveed Ahmed

تاریخ بولتی ہے۔تحریر: نوید احمد

تاریخ کا تاریخی حیثیت میں یہ تاریخی فیصلہ ہے کہ تاریخی ریکارڈ درست رکھنے کے لیے تاریخ بولتی ہے،لہذا تاریخ بولتی ہے کہ جہلم کے دو معروف سیاسی خاندان ہیں جو قبل از قیام پاکستان سے آج تک ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں،دونوں خاندان متوقع ضمنی الیکشن برائے قومی اسمبلی حلقہ این اے 63 سے انتخاب لڑ رہے ہیں اس لیے فی الحال ان کی تاریخ زیر بحث ہے،ایک خاندان تحصیل دینہ کے نواحی علاقہ لدھڑ سے ہے سابق ضلع ناظم جہلم چوہدری فرخ الطاف اس کی سربراہی کر رہے ہیں اس کو جہلم کی سیاست میں لدھڑ خاندان کے نام سے جانا جاتا ہے،جبکہ دوسرا خاندان تحصیل جہلم کے گاؤں داراپور سے تعلق رکھتا ہے ،نوابزادہ اقبال مہدی مرحوم کے بعد ان کا صاحبزادہ اس کی سربراہی کر رہا ہے اس کو نوابزادہ خاندان کہا جاتا ہے،
تاریخ بولتی ہے کہ چوہدری فرخ الطاف کے پردادا لدھڑ خاندان کے جد امجد کپتان شیر باز انڈین آرمی میں تھے اور کپتان کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے،تاریخ بولتی ہے کہ نوابزادہ اقبال مہدی کے پردادا راجہ زمان مہدی خان کو انگریز حکومت نے 1891ء میں ان کی خدمات کے پیش نظر پنجاب میں “صوبائی درباری ” اور “خان بہادر” کے عہدے پر فائز کیا،(بحوالہ:پنجاب چیفس۔مصنف:سر لیپل گریفن)
تاریخ بولتی ہے کہ برطانوی حکومت نے 1921ء میں ڈسٹرکٹ بورڈ سسٹم رائج کیا ،پہلے انتخابات کرائے،جہلم میں چوہدری فرخ الطاف کے نانا خان بہادر چوہدری فیروز دین آف کنیٹ چکوال کے سرداروں کو شکست دے کے اور انکے امیدوار چوہدری غلام احمد آف کالا گجراں نوابزادہ اقبال مہدی کے دادا راجہ طالب مہدی کو ہرا کر پہلے ممبر منتخب ہوئے اس کے بعد چوہدری فیروز دین پہلے وائس چئیرمین ڈسٹرکٹ بورڈ جہلم بنے،بعدازاں راجہ طالب مہدی کو حکومت وقت نے ممبر پنجاب قانون ساز کونسل نامزد کیا،
تاریخ بولتی ہے کہ معروف مسلم لیگی رہنما ،قائداعظم کے دست راست راجہ غضنفر علی خان ،چوہدری فرخ الطاف کے خالو اور پیر فضل شاہ آف جلالپور شریف کے بھانجے تھے،وہ1937 کے پہلے صوبائی الیکشن میں ممبر قانو ن ساز اسمبلی پنجاب منتخب ہوئے،اور پھر پارلیمانی سیکرٹری بنے،
تاریخ بولتی ہے کہ لدھڑ خاندان کے چوہدری محمد اویس نے 1926ء میں اپنا سیاسی سفر مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے شروع کیا،وہ قیام پاکستان سے قبل وائس چئیرمین ڈسٹرکٹ بورڈ جہلم منتخب ہوئے،تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ کے ضلعی صدر رہے،تاریخ بولتی ہے کہ 1946ء کے قانون ساز اسمبلی کے الیکشن میں راجہ غضنفر علی خان اور بوابزادہ خاندان کے راجہ خیر مہدی ممبر بنے،قیام پاکستان کے بعد راجہ غضنفر علی خان وزیر برائے غذائی اجناس،زراعت،صحت اور مہاجرین رہے،پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پہلے صدر بنے اور مختلف ممالک میں سفیر رہے،1947ء میں چوہدری محمد اویس ضلع جہلم کے پہلے چئیرمین ڈسٹرکٹ کونسل بنے،
تاریخ بولتی ہے کہ 1951ء کے الیکشن میں نوابزادہ خاندان کے راجہ خیر مہدی اور لدھڑ خاندان کے چوہدری محمد اویس مسلم لیگ کی جانب سے ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے،1956ء میں راجہ خیر مہدی اور چوہدری اویس کے صاحبزادے چوہدری الطاف حسین ویسٹ پاکستان اسمبلی کے رکن بنے،تاریخ بولتی ہے کہ ایوب خان کے دور حکومت میں نوابزادہ اقبال مہدی کے والد نوابزادہ افضال مہدی اسمبلی کے رکن بنے ،1964ء کے صدارتی الیکشن میں لدھڑ خاندان کے چوہدی الطاف حسین مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے قریبی ساتھی رہے،ان کی انتخابی مہم چلاتے رہے،جبکہ بوابزادی افضال مہدی ایوب خان کے معتمد ساتھی رہے،تاریخ بولتی ہے کہ 1970ء کے الیکشن میں نوابزادہ لہراسب (کنونشن مسلم لیگ) کو پیپلز پارٹی کے داکٹر غلام حسین اور چوہدری الطاف حسین(کونسل مسلم لیگ) کو پی پی پی کے خان غفار خان نے شکست دی،تاریخ بولتی ہے کہ 1985ء کے غیر جماعتی الیکشن میں بوابزادہ اقبال مہدی ایم پی اے منتخب ہوئے اور چوہدری الطاف حسین کو راجہ افضل خان نے ہرا دیا،1988ء کے الیکشن میں نوابزادہ اقبال مہدی آزاد امیدوار کی حیثیت سے ایم این اے بن گئے اور چوہدری الطاف حسین کو راجہ افضل نے دوبارہ شکست دی، 1990ء کے الیکشن میں حلقہ این اے 45 سے چوہدری الطاف حسین نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر آئی جے آئی کے راجہ افضل کو شکست دی ،نوابزادہ اقبال مہدی آئی جے آئی کے ٹکٹ پر کامیاب رہے،سیاسی محاذ آرائی کے دوران 1992ء میں چوہدری الطاف حسین گورنر پنجاب بن گئے،1993ء کے الیکشن میں چوہدری الطاف حسین انتخابی قاعد و ضوابط کی وجہ سے حصہ نہ لے سکے،اور این اے 46سے نوابزادہ اقبال مہدی مسلم لیگ ن کی جانب سے ایم این اے منتخب ہوئے،پیپلز پارٹی کی حکومت نے دوبارہ 1993ء میں چوہدری الطاف حسین کو گورنر پنجاب بنایا،1995ء میں چوہدری الطاف حسین گورنرشپ کے دوران خالق حقیقی سے جا ملے،تاریخ بولتی ہے کہ 1997ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے امیدوارلدھڑ خاندان کے چوہدری فرخ الطاف مسلم لیگ ن کے راجہ افضل سے ہارگئے نوابزادہ اقبال مہدی مسلسل چوتھی بار مسلم لیگ ن کی جانب سے رکن قومی اسمبلی بنے،
تاریخ بولتی ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے حکومت سنبھالنے کے بعد بلدیاتی الیکشن کے ہنگام 2001ء میں جہلم کی تین بڑی سیاسی شخصیات راجہ محمد افضل خان،چوہدری فرخ الطاف اور نوابزادہ اقبال مہدی مسلم لیگ قائد اعظم کے صدر میاں اظہر سے قریبی رابطے میں تھے،لیکن میاں محمد اظہر نے نوابزادہ اقبال مہدی کا نام مسلم لیگ(ق) کی جانب سے ضلع ناظم جہلم کے الیکشن کے لیے فائنل کر دیا،تاہم گجرات کے چوہدری برادران کی مداخلت کے بعد چوہدری فرخ الطاف کو ضلع ناظم جہلم کے لیے نامزد کیا گیا جبکہ نوابزادہ اقبال مہدی کے حصے میں نائب ضلع ناظم کی سیٹ آئی جس پر انہوں نے اپنا آدمی دیا،چنانچہ چوہدری فرخ الطاف بلا مقابلہ ضلع ناظم جہلم منتخب ہوئے،تاریخ بولتی ہے کہ2002ء کے انتخابات میں لدھڑ خاندان کے چوہدری شہباز حسین مسلم لیگ قائداعظم کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے62 سے منتخب ہوئے اور وفاقی وزیر بنے،دوسری جانب گریجوایٹ نہ ہونے کی وجہ سے نوابزادہ اقبال مہدی الیکشن نہ لڑسکے اس لیے مسلم لیگ ن کے امیدوارراجہ محمد اسد خان کی حمایت کی اور این اے 63سے کامیاب کرایا،تاریخ بولتی ہے کہ 2005کے لوکل گورنمنٹ الیکشن میں چوہدری فرخ الطاف نے نوابزادہ اقبال مہدی کو ضلع ناظم کے الیکشن میں شکست دی،یہ نوابزادہ اقبال مہدی کی پہلی اور آخری انتخابی شکست تھی،تاریخ بولتی ہے کہ 2008کے الیکشن میں مسلم لیگ قائد اعظم کے امیدوار چوہدری شہباز حسین این اے62 اور 63 دونوں نشستوں سے الیکشن ہار گئے،جبکہ نوابزادہ اقبال مہدی نے مسلم لیگ ن کے راجہ محمد اسد خان کی حمایت کرکے انہیں این اے 63سے ممبر قومی اسمبلی منتخب کرایا،تاریخ بولتی ہے کہ لدھڑ خاندان کے چوہدری فرخ الطاف اور چوہدری فواد حسین نے 2013ء کے الیکشن میں باالترتیب این اے 62اور این اے 63سے مسلم لیگ قائداعظم کی جانب سے حصہ لیا اور شکست ہوئی،دوسری طرف نوابزادہ اقبال مہدی پانچویں اور آخری دفعہ حلقہ این اے 63 سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پرممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے،اور ان کی ہمشیرہ محترمہ راحیلہ مہدی پی ٹی آئی کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشست پر ممبر صوبائی اسمبلی نامزد ہوئیں،24 مئی 2016ء کو نوابزادہ اقبال مہدی کے انتقال کے بعد خالی ہونے والی نشست این اے63 کے ضمنی الیکشن میں لدھڑ خاندان کے چوہدری فواد حسین پی ٹی آئی کی جانب سے جبکہ نوابزادہ خاندان کے مطلوب مہدی مسلم لیگ ن کی جانب سے دونوں خاندان الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں،

ایک بیمارکالم۔عبدالقادرحسن

اگر کوئی انسان بیمار نہیں پڑتا تو اس میں کچھ کمی ضرور ہے ورنہ وہ انسان ہی کیا جو زندہ ہو اور بیمار نہ ہو چنانچہ میں جب کبھی بیمار پڑتا ہوں تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ میں زندہ اور بخیروعافیت ہوں۔ گزشتہ دنوں میں ایک اسپتال میں تھا جہاں مجھے ایک وہیل چیئر پر بٹھا دیا گیا مجھے بڑا لطف آیا کہ میں ایک کرسی پر سوار ہوں اور میرے جیسے انسان اس کرسی کو چلا رہے ہیں لیکن جب اسی دوران یہ کرسی کسی چیز سے ٹکرائی اور میرے انگوٹھے کا ناخن اس کی زد میں آ گیا اور اپنے مرکز سے ہل جل گیا جیسے ان دنوں کئی سیاستدان اپنے اپنے مرکز سے ہلے ہوئے ہیں کبھی ایک جماعت میں دکھائی دیتے ہیں تو کبھی کسی دوسری جماعت میں، انھیں اب تک معلوم نہیں کہ ’منزل ہے کہاں تیری اے لالہ صحرائی‘۔ اسی طرح میرا ناخن بھی اپنے مرکز سے ہل گیا اور اب تک اسے معلوم نہیں کہ وہ کس باغ کا بوٹا ہے۔
میں اس بات کو اپنے سیاستدانوں تک لے جا سکتا ہوں اور قارئین کو پریشان نہیں کرتا بلکہ انھیں بتاتا ہوں کہ ان کے لیڈر کیا ہیں اور کیا تھے۔ وہ کس باغ کی بوٹی ہیں اور اب کس باغ میں پرورش پا رہے ہیں۔ مرحوم و مغفور نوابزادہ نصراللہ خان فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے اکثر سیاست دان فوج کے گملے میں پیدا ہوتے ہیں اور اب تک اسی باغ میں ہیں جہاں ان کا یہ گملا جڑ پکڑ چکا ہے۔
ہماری پیپلز پارٹی والے شاید برا منائیں کہ ان کا لیڈر بھی فوج کے گملے کی پیداوار تھا اور اس نے اسی گملے میں ابتدائی پرورش پائی تھی اور پھر بعد میں بھی اسی گملے کی آب و ہوا میں جوان ہوا اور اپنے اس پیدائشی گملے کے محافظ کی جان کا دشمن بن گیا۔ اپنے فوجی محافظ کو ایک آسمانی مخلوق قرار دینے والے نے اسے زمین پر پٹخ دیا لیکن وہ کپڑے جھاڑ کر اٹھا اور چپکے سے گھر چلا گیا جہاں اس کا وہ تاریخی بستر اس کے انتظار میں تھا جہاں سے اٹھ کر وہ کبھی اسلام آباد سے چین گیا تھا اور پھر عوامی جمہوریہ چین اور پاکستان کے درمیان محبت اور تعلقات کا ایک ایسا سلسلہ قائم ہوا جو اب تک چل رہا ہے ایک اٹوٹ سلسلہ۔ ہمارے بعض پاکستانی لیڈروں نے اسے توڑنے پھوڑنے کی بار بار کوشش کی مگر بھٹو اور چواین لائی نے اس سلسلے کو ایسی مضبوطی کے ساتھ باندھا تھا کہ یہ خود بھٹو کے ساتھیوں سے بھی ٹوٹ نہ سکا۔ پاکستان اور چین کے تعلقات کی کہانی ایک مثال ہے جو اس خود غرض دنیا نے پہلی بار دیکھی ہے اور یہ عوامی جمہوریہ چین اور اب اسلامی جمہوریہ پاکستان کی رگ و پے میں اتر چکی ہے۔
تعجب کیا جاتا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین کے سیکولرازم اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسلام ازم میں یہ رشتہ کیسے بندھ گیا اور پھر اسے دونوں ملکوں کے عوام کے خلوص اور نیک نیتی نے ایسے جکڑ دیا کہ یہ دنیا بھر میں ایک مثال بن گیا۔ چین دشمن امریکا نے اپنے پاکستانی ایجنٹوں کے ذریعے پوری کوشش کی مگر امریکا تعلق کی اس عمارت کی ایک اینٹ بھی نہ ہلا سکا جس میں چینی اور پاکستانی عوام کے خلوص اور محبت کے خون کی آمیزش تھی اور جس کی رگوں میں خون اتر چکا تھا۔
بات فوج کی ہو رہی تھی جس کے گملوں میں ہمارے سیاستدانوں کی سیاست نے پرورش پائی لیکن اس وقت میں ذاتی بات کر رہا ہوں کہ میرے پاؤں کا انگوٹھا اپنے مرکز سے ہل گیا ہے اور اس وقت خود اسے بھی معلوم نہیں کہ وہ پاؤں کے کس مرکز میں تھا اور اب کہاں ہے۔ اس انگوٹھے پر پٹی ایسی کس کر باندھ دی گئی ہے کہ بقول پٹی ساز کے اب ہلے گا نہیں لیکن میں نے عرض کیا کہ یہ اگر ہلا نہیں تو واپس کیسے جائے گا جہاں کا وہ جم پل ہے اور جہاں اس نے ایک عمر گزار دی ہے۔ بہر کیف مجھ سے زیادہ سمجھدار میرا وہ باورچی ہے جس نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ ہاتھ کی انگلیوں سے لکھتے ہیں پاؤں کے انگوٹھے سے نہیں اس لیے متفکر نہ ہوں اور آپ کی وجہ سے ہماری روٹی بھی چلتی رہے گی‘ بس ہماری دعا ہے کہ آپ کے ہاتھوں کی انگلیاں اور دماغ کی توانائیاں سلامت رہیں یہی کافی ہے اور آپ کے پاؤں اپنی حد کے اندر رہیں اور مداخلت نہ کریں۔ ویسے ہمارے ایک ایڈیٹر تھے جو کہتے تھے کہ میں پاؤں کی انگلیوں سے بھی فلاں سے زیادہ بہتر لکھ سکتا ہوں، بدقسمتی سے ایک دن وہ دفتر کی سیڑھیوں سے گر گئے اور ان کے پاؤں زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد دفتر میں مشہور ہو گیا کہ اب ایک نئے ایڈیٹر کی ضرورت پڑ گئی ہے جو پاؤں ہاتھوں دونوں کی انگلیوں سے لکھ سکے تاکہ اخبار ایڈیٹر کے کسی حادثے سے محفوظ رہے۔ ایک لطیفہ کہ ہمارے اسی دفتر میں اور کالم نویس ایسے تھے جو لنگڑا کر چلتے تھے۔
ایک دن ایک صاحب ملازمت کے لیے آئے اور دعویٰ کیا کہ وہ ایک کالم نویس ہیں۔ مرحوم عالی رضوی ایڈیٹر تھے انھوں نے ان کی بات غور سے سنی اور کہا کہ آپ مہربانی کر کے چل کر دکھائیں۔ وہ دفتر کے برآمدے میں ایک طرف چل کر دوسری طرف گئے تو عالی صاحب نے کہا معافی چاہتا ہوں ہم صرف کسی لنگڑانے والے کو ہی کالم نویس رکھ سکتے ہیں جب کہ آپ صحیح چل سکتے ہیں۔
قارئین کرام! ان دنوں میں بھی اپنے انگوٹھے کے زخم کی وجہ سے رک رک کر چلتا ہوں اور خدا کرے مجھے بھی کوئی ایسا ایڈیٹر مل جائے جو میری لنگڑاہٹ کی وجہ سے مجھے ملازمت دے دے یا میری ملازمت پکی کر دے۔ یہ ایک نیم بیمار کالم نویس کی کہانی تھی اسے پڑھ لیجیے۔

فجی کی چند جھلکیاں جاوید چوہدری

فجی کے لوگ بہت فضول خرچ ہیں، آپ انھیں لاکھ ڈالر دے دیں یہ ہفتے میں کھا پی کر برابر کر دیں گے، فجی میں شادی اور تدفین کی رسمیں ہفتوں چلتی ہیں، مجھے ایک مقامی شادی میں شریک ہونے کا موقع ملا، یہ بھی ایک دلچسپ تجربہ تھا، تقریب میں لڑکی اور لڑکے دونوں طرف سے دو دو لوگ سامنے آئے اور لڑکے اور لڑکی، ان کے خاندان، ان کی تعلیم اور ان کی عادتوں کے بارے میں باقاعدہ تقریر کرنے لگے، آخر میں لڑکے اور لڑکی نے بھی مائیک پکڑ کر تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا، شادی میں ناگونا پینے والوں کے لیے الگ جگہ مختص تھی، یہ آدھی رات تک ناگونا پیتے رہے اور باقی رات کھانا کھاتے رہے، یہ تقریب صبح تک جاری رہی، ملک میں تدفین کا سلسلہ بھی طویل اور مختلف ہوتا ہے۔
فجی میں جب بھی کسی کا کوئی عزیز رشتے دار انتقال کر جاتا ہے تو وہ اس کی لاش سرد خانے میں رکھواتا ہے اور پھر اپنے دوستوں، دفتر کے لوگوں اور جاننے والوں سے بھاری قرض لیتا ہے اور پھر آخر میں تدفین کے مراحل شروع ہوتے ہیں، یہ مراحل 40 دن تک جاری رہتے ہیں، لوگ سوا مہینہ اس کے گھر آتے رہتے ہیں، ساری رات اس کے ساتھ گزارتے ہیں، ناگونا پیتے ہیں اور کھانا کھاتے ہیں، یہ شخص چالیس دن کوئی کام نہیں کرتا، دنیا میں کسی فجین خاندان کا داماد ہونے سے بڑی کوئی سزا نہیں، آپ نے اگر کسی فجین عورت سے شادی کر لی تو پھر اس کا پورا قبیلہ آپ کے گھر کو اپنا گھر سمجھ لے گا، یہ لوگ آئیں گے اور آپ کے گھر پر قابض ہو جائیں گے، یہ آپ کے کپڑے اور جوتے تک پہن لیں گے، یہ آپ کا ٹوتھ برش، شیونگ کا سامان اور پرفیوم بھی استعمال کریں گے اور آپ کا فریج بھی خالی کر دیں گے لیکن آپ اعتراض نہیں کر سکیں گے، کیوں؟ کیونکہ یہ ان کا رواج ہے۔
’’لوٹوکا،، فجی کا تیسرا بڑا شہر ہے، یہ شہر نادی کے ساتھ واقع ہے، اس شہر کے ایک پاکستانی ڈاکٹر نے فجین خاتون سے شادی کر لی، وہ اس غلطی کو اپنی ماں کی بددعائیں قرار دیتے تھے، یہ شادی آخر میں تنازعے پر اختتام پذیر ہوئی، ڈاکٹر صاحب نے خاتون کو طلاق دی اور آسٹریلیا بھاگ گئے، یہ لوگ یورپ کی طرح شادی کے بغیر اکٹھے رہنا پسند کرتے ہیں، خاتون اپنے بچے خاندان کے مختلف لوگوں میں تقسیم کرتی جاتی ہے، یہ اپنی ابتدائی غلطیاں ماں باپ کو دے دے گی، دوسرے بوائے فرینڈ کی اولاد نانا نانی یا دادا دادی کے حوالے کر دے گی اور تیسری اولاد کو ساتھ ساتھ لے کر پھرے گی، خواتین جسمانی لحاظ سے بہت تگڑی ہیں، یہ بھاری سے بھاری کام آرام سے کر گزرتی ہیں۔
گھروں کا سارا نظام خواتین کے ہاتھ میں ہے، خواتین باسکٹ بال اور والی بال بھی کھیلتی ہیں چنانچہ ان کے ہاتھ پتھر کی طرح سخت ہیں، فجین بچے بھی بچپن ہی سے کام شروع کر دیتے ہیں اور یہ لوگ قرض لینے کی لت کا شکار بھی ہیں، یہ بیس ہزار ڈالر جیب میں ڈالنے کے بعد بھی ’’کیرے کیرے‘‘ کہہ کر آپ سے پانچ دس ڈالر ضرور مانگیں گے لیکن یہ لوگ ان تمام خرابیوں کے باوجود سیاحوں کی بہت عزت کرتے ہیں، یہ انھیں تنگ نہیں کرتے، اگر کوئی فجین تنگ کرے تو لوگ جمع ہو جاتے ہیں اور یہ کھل کر سیاح کا ساتھ دیتے ہیں۔
فجی معجزوں اور حیرتوں کی سرزمین بھی ہے، تویونی کی جھیل کے کنارے ’’تانگی مودیا‘‘ نام کا ایک خوبصورت پھول کھلتا ہے، یہ پھول اس جھیل کے علاوہ پوری دنیا میں کسی جگہ پیدا نہیں ہوتا، دنیا بھر کے نباتاتی ماہرین نے کوشش کی لیکن یہ اسے جھیل سے چند میل کے فاصلے پر بھی نہیں اگا سکے، فجی میں ایسے جزیرے بھی ہیں جن میں آج بھی چیز کے بدلے چیز کا نظام رائج ہے، یہ لوگ رقم اور کرنسی نام کی کسی چیز سے واقف نہیں ہیں، یہ 21 ویں صدی میں بھی ’’بارٹل سسٹم‘‘ سے بندھے ہوئے ہیں، فجی میں سمباتو نام کا پہاڑی سلسلہ ہے، وہاں عجیب و غریب قسم کے درخت پائے جاتے ہیں، آپ اگر ان کے تنوں میں کٹ لگا دیں تو یہ درخت شاور بن جاتے ہیں، ان میں سے پانی کی پھوار نکلتی ہے۔
آپ اس پھوار میں نہا بھی سکتے ہیں، اسے پی بھی سکتے ہیں اور آپ اس پانی کو گھریلو استعمال کے لیے بھی لے جا سکتے ہیں، اسی طرح لمباسا فجی کا مشہور جزیرہ ہے، اس جزیرے میں ایک ناگ مندر ہے اور اس مندر میں ایک پتھر ہے، یہ پتھر وقت کے ساتھ ساتھ لمبا ہوتا جا رہا ہے، یہ تیس برسوں میں مندر کی چھت سے باہر نکل گیا ہے، یہ عجیب معجزہ ہے، اسی طرح بینگا آئی لینڈ کے لوگ آگ کے دوست ہیں، آگ ان لوگوں کو نقصان نہیں پہنچاتی، یہ لوگ ننگے پاؤں آگ پر چلتے ہیں، یہ انگارے ہاتھوں میں اٹھا لیتے ہیں اور یہ آگ کے گولوں کے ساتھ کھیلتے رہتے ہیں مگر آگ انھیں کچھ نہیں کہتی، یہ لوگ آگ کے زخم اور جلن بھی دور کر سکتے ہیں، یہ منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتے ہیں، آگ کی جلن کے شکار لوگوں کو ہاتھ لگاتے ہیں اور وہ چند لمحوں میں صحت یاب ہو جاتے ہیں، یہ زخموں کی جلن اور پیپ بھرے پھوڑے بھی ٹھیک کر سکتے ہیں، پورے ملک میں کبھی کوئی مذہبی فساد نہیں ہوا، مقامی آبادی اور ہندوستانی مہاجروں کے درمیان بھی کبھی دنگا فساد نہیں ہوا، فجی کے مسلمان بھی فرقہ پرستی اور نسلی تعصب سے بالاتر ہیں۔
پاکستان کے مختلف فرقوں کے علماء نے یہاں فرقہ پرستی کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی لیکن یہ بری طرح ناکام ہوئے تاہم لوگ تبلیغی جماعت کی بہت عزت کرتے ہیں، فجی میں قادیانی بھی موجود ہیں، مسلمان ان سے زیادہ میل جول نہیں رکھتے لیکن یہ انھیں برا بھلا بھی نہیں کہتے، ملک میں 2006ء میں مارشل لاء لگا، یہ مارشل لاء رئیرایڈمرل فرینک بینی ماراما نے لگایا، یہ مسئلہ عدالت میں گیا، ایڈمرل نے عدالت میں پاکستان کی مثال دے کر نظریہ ضرورت کا نقطہ اٹھایا مگر عدالت نے2009ء میں یہ کہہ کر نظریہ ضرورت کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ’’یہ فجی ہے پاکستان نہیں‘‘ ۔ملک میں 1926ء سے مسلم لیگ بھی قائم ہے لیکن یہ مسلم لیگ سیاسی کم اور سماجی زیادہ ہے، یہ ملک بھر میں مسجدیں، اسکول اور کالج بنا رہی ہے، فجی کے اسکولوں میں باقاعدہ اردو پڑھائی جاتی ہے، فجی کے مسلمانوں کو ہندوستان سے آئے سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن یہ آج تک اپنی ثقافت اور زبان نہیں بھولے، آپ کو پورے ملک میں اردو بولنے اور سمجھنے والے بے شمار لوگ ملتے ہیں، ہندو اور مسلمان یہاں خاندان کی طرح رہتے ہیں، یہ ایک دوسرے کی خوشی غمی میں بھی شریک ہوتے ہیں اور یہ ایک دوسرے کا کھانا کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھتے، یہ لوگ شادیوں کی تقریبات میں ایک دوسرے کو دعا بھی دیتے ہیں، میں جس شادی میں شریک ہوا وہ ہندو نوجوان کی شادی تھی لیکن تقریب میں پادری، پنڈت اور مولوی تینوں نے نکاح پڑھایا، تینوں نے دعا بھی کی اور کھانا بھی اکٹھا کھایا تاہم مسلمانوں کے لیے حلال گوشت کا بندوبست کیا گیا تھا۔
یہ لوگ پاکستانیوں کو پسند نہیں کرتے، میں ائیر پورٹ پر واحد مسافر تھا جس کا سامان کھلوا کر تلاشی لی گئی، وجہ میرا سبز پاسپورٹ تھا، فجی میں چند سال پہلے تک پاکستانیوں کے لیے فری انٹری تھی لیکن پھر کراچی سے ایک مولوی صاحب یہاں آئے اور انھوں نے یہاں تعویز گنڈے کا کاروبار شروع کر دیا، پولیس نے انھیں گرفتار کر کے واپس بھجوا دیا، یہ ایک بار پھر فجی آ گئے، انھیں دوبارہ پکڑ کر کراچی روانہ کر دیا گیا لیکن یہ تیسری بار نئے نام سے پاسپورٹ بنوا کر آ گئے، فجی گورنمنٹ یہ جان کر حیران رہ گئی پاکستان میں جعلی ناموں سے پاسپورٹ بھی بن سکتے ہیں چنانچہ فجی نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ لازمی قرار دے دیا، ہمارے ملک میں فجی کا سفارت خانہ موجود نہیں لہٰذا ویزہ ممکن نہیں، کراچی اور لاہور کے بعض ٹریول ایجنٹ نوجوانوں کو تعلیم کے نام پر فجی بھجوا رہے ہیں، یہ نوجوان بعد ازاں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اسمگل کر دیے جاتے ہیں۔
مجھے ایسے نوجوان بھی ملے جو فجی کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا ہمسایہ سمجھ کر یہاں آ گئے تھے، یہ نہیں جانتے تھے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ فجی سے نہ صرف تین ساڑھے تین ہزار کلومیٹر دور ہیں بلکہ ان کے درمیان وسیع سمندر بھی حائل ہے اور یہ سمندر بڑے بحری جہاز کے بغیر عبور نہیں کیا جا سکتا، پاکستانی نوجوانوں نے یہاں مار پیٹ بھی کی اور یہ تمام ایشوز آگے چل کر پاکستانیوں کی بدنامی کا باعث بنے، یہ لوگ وقت کے معاملے میں بھی دلچسپ ہیں، یہ کاروباری ملاقات میں وقت کا پورا خیال رکھیں گے، آپ انھیں آٹھ بجے بلائیں یہ پونے آٹھ بجے پہنچ جائیں گے لیکن یہ عام معاملات میں وقت کا بالکل خیال نہیں رکھتے، یہ آپ کو ’’آدھ گھنٹہ میں آتا ہے‘‘ کا کہیں گے اور دو گھنٹے بعد بھی نہیں پہنچیں گے، یہ تعلیم کے معاملے میں بہت اچھے ہیں، ملک میں تعلیم لازمی ہے لیکن حکومت اسکول اور کالج نہیں بناتی، یہ کام کمیونٹی کو سونپ دیا گیا ہے۔
حکومت سلیبس تیار کرتی ہے، استاد فراہم کرتی ہے، طالب علموں کو کتابیں اور خوراک دیتی ہے اور فی طالب علم وظیفہ دیتی ہے لیکن اسکول کی عمارت کمیونٹی تیار کرتی ہے، حکومت عمارت کی تعمیر کے لیے کمیونٹی کو رقم دے دیتی ہے، یہ سسٹم کامیاب چل رہا ہے، کیوں؟ کیونکہ تعلیم کے معاملے میں عوام اور حکومت دونوں کام کر رہے ہیں، ملک میں ہندوستانی پاکستانی زیادہ اور پاکستانی پاکستانی کم ہیں، یہ لوگ تین چار نسل پہلے اس وقت فجی آئے جب ہندوستان تقسیم نہیں ہوا تھا، یہ لوگ اب صرف پاکستان اور ہندوستان کے ناموں سے واقف ہیں تاہم پاکستان سے ڈاکٹروں اور کاروباری حضرات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، مجھے یہاں قیوم صاحب بھی ملے اور ماجد شہزاد بھی۔ ماجد شہزاد فیصل آباد کے رہنے والے ہیں، یہ سات سال پہلے فجی آئے، یہ بہت اچھے، دین دار اور سمجھ دار انسان ہیں جب کہ قیوم صاحب 1975ء میں آئے اور 40 سال سے یہاں ہیں، یہ بہت دلچسپ، ہنس مکھ اور قہقہے دار شخصیت ہیں، یہ دونوں مجھے نادی سے سوہا لے کر گئے۔
سوہا فجی کا دارالحکومت ہے، یہ ایک چھوٹا سا صاف ستھرا شہر ہے، یہ تین اطراف سے سمندر میں گھرا ہوا ہے، مکان صاف ستھرے ہیں، سڑکیں ہموار ہیں اور ٹریفک کم، ایوان صدر اور پارلیمنٹ ہاؤس سڑک پر واقع ہیں، آپ سامنے کھڑے ہو کر تصویریں بنوا سکتے ہیں، سمندر کے ساتھ ساتھ واکنگ ٹریک ہے، میں 29 جون کی رات وہاں دیر تک واک کرتا رہا، شہر میں بڑے شہروں کی تمام خوبیاں اور خرابیاں موجود ہیں لیکن یہ شہر اس کے باوجود گاؤں محسوس ہوتا ہے، لوگ جلدی سو جاتے ہیں اور صبح جلدی جاگتے ہیں، شہر کا کلچر مکس ہے، آپ کو وہاں بے شمار اقسام کے لوگ نظر آتے ہیں، بندر گاہ بھی مصروف ہے اور دفتروں اور شاپنگ سینٹروں میں بھی رش نظر آتا ہے، مجھے سوہا میں چند گھنٹے اور ایک رات گزارنے کا اتفاق ہوا لیکن یہ چند گھنٹے یاد بن کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میری یادداشت کا حصہ بن گئے، میں اب چاہوں بھی تو شاید سوہا کو بھول نہ سکوں۔

بارِ احساسِ یتیمی سے ہر اِک دل ہے اُداس

ایک دلکشا منظر یاد آ رہا ہے: تقریباً دس برس پہلے کی بات ہے۔ یہ سخت سردیوں کا موسم تھا۔ مَیں اپنے چند عزیزوں کے ساتھ لندن جا رہا تھا۔ برطانوی ویزے کے حصول کے لیے ہم صبح سویرے ہی اسلام آباد میں بروئے کار برٹش ہائی کمیشن کے عقب میں پہنچ گئے۔ وہاں ایک طویل قطار میں بے شمار لوگ کھڑے تھے۔ اپنی اپنی دستاویزات اور پاسپورٹ سنبھالے۔ اتنی لمبی لائن دیکھ کر میرا تو دل بیٹھ گیا۔
بہرحال ٹھٹھرتے ٹھٹھرتے قطار میں لگ گئے۔ سب کی نظریں سامنے ایک بلند سنگلاخ دیوار میں لگی ایک کھڑکی نما دروازے پر لگی تھیں جہاں ایک با وردی اور مسلح محافظ کی نگرانی میں برطانوی ویزے کے سائل رینگتے ہوئے اندر داخل ہو رہے تھے۔ یہ صبر آزما لمحہ تھا۔ لائن میں لگے اور سردی میں کانپتے تقریباً تین گھنٹے گزر گئے تھے کہ اچانک لوگوں میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ قطار میں کھڑے سب لوگ سامنے دیکھنے کے بجائے پیچھے کی جانب دیکھنے لگے۔ مَیں نے بھی مُڑ کر دیکھا کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ پیچھے چند گورے کھڑے تھے۔ وہ برطانوی ہائی کمیشن کے سینئر اہلکار لگتے تھے۔ خبر حاصل کرنے کی میری حِس جاگ اٹھی۔ مَیں نے اپنے ساتھی سے جگہ پر قابض رہنے کی درخواست کی اور عقب کی جانب لپکا۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ واقعی وہ تین دراز قد برطانوی گورے اپنے دو تین پاکستانی عملے کے ساتھ ایک شخص کے سامنے مؤدب کھڑے ہیں اور اس شخص سے نہایت احترام کے ساتھ کچھ کہہ رہے ہیں۔
مَیں نے مزید آگے بڑھ کر دیکھا تو ششدر رہ گیا۔ وہاں جناب عبدالستار ایدھی صاحب کھڑے تھے۔ دوسرے عام لوگوں کی طرح عام قطار میں۔ ہمیشہ کی طرح چہرے پر ہلکی ہلکی سی مسکراہٹ لیے۔ حسبِ معمول معمولی سے ملیشیا کے لباس میں ملبوس۔ پاؤں میں کینوس کے سستے سے بُوٹ۔ اندر سے آنے والے برطانوی سفارتخانے کے افسران ایدھی صاحب سے گزارش کر رہے تھے پلیز، آپ اس قطار میں کھڑے نہ ہوں، ہمارے ساتھ ہائی کمیشن کے اندر تشریف لے چلیے جہاں آپ کی خدمت بھی کی جائے گی اور جس کام کے لیے آپ آئے ہیں، وہ بھی عزت و احترام سے کر دیا جائے گا۔ آج ہم اس معزز اور محبوب شخصیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ عبدالستار ایدھی صاحب اللہ کی رحمت میں جا چکے ہیں اور پاکستان کے بیس کروڑ عوام افسردگی اور غم میں ڈوب گئے ہیں۔ وہ ہمارے درمیان سے کیا اٹھے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے اللہ ہم سے ناراض ہو گیا ہے کہ نیکی اور خیر کی علامت ہمارے درمیان سے اٹھ گئی ہے۔
عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور وفاشعاری کی علامت ہم سے چھِن گئی ہے۔ جناب عبدالستار ایدھی غم خواری، دلداری اور دستگیری کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ ’’ستار‘‘ اللہ کے صفاتی ناموں میں سے ایک ہے۔ یعنی عیب چھپانے والا، لوگوں کے پردے رکھنے والا۔ ستر ڈھانپنے والا۔ ستار ایدھی صاحب نے لاوارث اور بے نام نومولود بچوں کو اپنی گود میں لے کر، انھیں اپنا نام دے کر، اپنی چھتر چھاؤں میں رکھ کر جس طرح بے لوث خدمات انجام دیں، واقعہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے نام کی لاج رکھ لی۔
خدا کے فضل و کرم سے پاکستان میں اور بھی بہت سے لوگ دامے درمے دکھی انسانیت کی خدمت انجام دے رہے ہیں، محض اللہ کی خوشنودی کی خاطر بے یارومددگاروں کی دستگیری کرنے کی مقدور بھر کوششیں کر رہے ہیں لیکن ستار ایدھی صاحب کی مثل کوئی نہیں۔ راقم الحروف نے امریکا میں بھی ان کی پذیرائی کے کئی دلکش اور دلکشا مناظر دیکھے ہیں۔ مَیں نے واشنگٹن اور نیویارک میں پاکستانیوں کو ایدھی صاحب سے والہانہ انداز میں لپٹتے اور بڑھ چڑھ کر ان سے مالی تعاون کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ امریکا میں بھی وہ بدستور ملیشیا کے لباس اور عام سی ہوائی چپل میں نظر آتے۔ ایدھی صاحب امن، پیار، محبت اور بھائی چارے کے پیامبر تھے۔
ان عناصر کے عملی مبلّغ اور پرچارک۔ مسلک و مذہب سے قطعی طور پر لاتعلق ہو کر انسانوں کی سیوا کرنے والے۔ ان کی رخصتی کے بعد ہمیں تو ان کا مثیل کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔ امن کے پرچار اور امن کے پھیلاؤ کے لیے ان کی بے مثل خدمات کے پس منظر میں ہم سب پاکستانیوں کی خواہش اور تمنا تھی کہ ان کی خدمت میں امن کا نوبل انعام پیش کیا جاتا مگر متعصب اہلِ مغرب نے ہماری اس اجتماعی تمنا کو پورا نہ ہونے دیا۔ جس سال انھیں امن کا نوبل انعام دیے جانے کی توقع مضبوط تھی، اس برس بھارت میں مقیم مدرٹریسا کو نوبل انعام سے نواز دیا گیا۔ ہمارے دل ٹوٹ ہی تو گئے تھے لیکن درویشِ خدامست عبدالستار ایدھی صاحب کو اس کا ملال تھا نہ افسوس۔ درحقیقت وہ انعامات و اکرامات سے کہیں بلند تھے۔ ایسی خواہشات کو پال کر انھوں نے اپنے پاکیزہ اور من موہنے دل کو آلودہ نہ ہونے دیا۔ اہلِ مغرب کے انداز بھی تو نرالے ہیں اور ترجیحات بھی۔
انھوں نے پاکستان کی ایک گمنام سی لڑکی کو، انسانی خدمات کے اعتبار سے جو ایدھی صاحب کے پاسنگ بھی نہیں، امن کے نوبل انعام سے تو نواز دیا لیکن انھیں ایدھی صاحب کی پہاڑ ایسی شخصیت نظر نہ آئی۔ کہا جا سکتا ہے کہ نوبل انعام کی تقسیم میں بھی سیاست چلتی ہے۔ پاکستانیوں کو اہلِ مغرب کی اس Discrimination کا ہمیشہ قلق اور ملال رہے گا۔ ایدھی صاحب کی زندگی کے آخری ایام کے دوران پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ مصنفہ محترمہ تہمینہ درانی نے عبدالستار ایدھی صاحب سے محبت و ارادت کا حق ادا کر دیا۔ ویسے تو تہمینہ درانی صاحبہ ہمیشہ ہی ایدھی صاحب سے محبت و اکرام کے سلسلے میں بندھی رہی ہیں۔ ایدھی صاحب کی حیات و خدمات پر لکھی گئی ان کی معرکہ آرا کتاب (Edhi: A Mirror To The Blind) اس امر کا بیّن ثبوت ہے۔ ایدھی صاحب زیادہ علیل ہوئے تو ان کے گھر اور اسپتال میں جا کر عیادت کرنے والے اوّلین لوگوں میں محترمہ تہمینہ درانی سرِفہرست تھیں۔
اس حوالے سے ان کے با تصویر ٹویٹ قابلِ ذکر بھی ہیں اور قابلِ ستائش بھی۔ جناب وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی لندن سے پاکستان روانہ ہونے سے قبل ایدھی صاحب کی تعزیت میں بیان دیے۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ جس روز وزیراعظم صاحب صحت یابی کے بعد لندن سے پاکستان پہنچ رہے تھے، اسی شام ایدھی صاحب اللہ کے حوالے کیے جا رہے تھے۔ یا خدایا، ایدھی صاحب کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائیے گا۔

بشکریہ ۔روزنامہ ایکسپریس

دنیا کا ماضی، حال اور مستقبل

کرۂ ارض پر موجود آفاقی وژن رکھنے والوں اور کرۂ ارض کے ماضی حال اور مستقبل کا ادراک رکھنے والوں اور کرۂ ارض کو اس کے وسیع تناظر میں دیکھنے والوں کی زندگی کا مقصد اور ان کی اولین ترجیح یہی ہوتی ہے کہ اس دوزخ نما کرۂ ارض کو جنت کس طرح بنائیں اور اس پر بسنے والے 7 ارب انسانوں کے درمیان محبت و بھائی چارہ کس طرح پیدا کریں۔
انسانوں کے درمیان اس تعصب اور نفرت کو ختم کر کے ان کی زندگیوں میں آسودگی، امن اور خوشحالی کو کس طرح فروغ دیں؟ اس مقصد پر گفتگو کرنے سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کرۂ ارض کس طرح وجود میں آیا، کب آیا، کیسے آیا اور کب تک زندہ رہے گا؟ بدقسمتی سے جدید علوم، سائنس، ٹیکنالوجی، آئی ٹی کے انقلاب کی اہمیت پر غور کرنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اس حوالے سے دوسری مشکل یہ ہے کہ انسان کے ہزاروں برسوں میں اپنی جڑیں رکھنے والے عقائد و نظریات جدید علوم، سائنسی حقیقت اور انکشافات کے درمیان ایسے تضادات ہیں جن کے حل کے لیے بڑی مہارت، جانفشانی، صلاحیتوں، دانش اور علم کی ضرورت ہے۔
اس حوالے سے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کرۂ ارض کس طرح وجود میں آیا اور اس کا خاتمہ کس طرح ہو گا۔ ہماری مذہبی روایات کے مطابق کرۂ ارض کا خاتمہ قیامت کی آمد سے ہو گا۔ ماہرین ارض کا خیال ہے کہ کرۂ ارض تقریباً 4 ارب سال پہلے وجود میں آیا اور ابھی تین ارب سال تک زندہ رہے گا۔ یعنی قیامت کے آنے میں ابھی تین ارب سال باقی ہیں۔ لیکن اگر کرۂ ارض پر جانداروں کے خاتمے کو ہم قیامت کا نام دیتے ہیں تو بلا توقف یہ کہا جا سکتا ہے کہ جانے 4 ارب سال کے درمیان کتنی قیامتیں آئیں اور گزر گئیں، کرۂ ارض سے جانداروں کے خاتمے کے کئی شواہد موجود ہیں، ایک بہت بڑی شہادت اور مثال یہ ہے کہ کوہ ہمالیہ لاکھوں سال تک پانی میں ڈوبا رہا۔ جو لوگ کوہ ہمالیہ کی بلندی سے واقف ہیں ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ کوہ ہمالیہ کے پانی میں ڈوب جانے کے بعد کرۂ ارض پر پانی کی سطح کیا ہو گی؟
کیا پانی اس سطح پر پہنچ جانے کے بعد زمین پر جانداروں کا زندہ رہنا ممکن ہو سکتا ہے؟ کرۂ ارض کے مختلف علاقوں میں ایسی بستیوں کے شواہد موجود ہیں جو زیر زمین چلی گئیں۔ کیا یہ بستیاں چند علاقوں تک محدود ہیں یا دنیا بھر میں ایسی زیر زمین بستیاں موجود ہیں جو اب تک دریافت نہیں ہو سکیں۔ اگر دنیا بھر میں زیر زمین بستیاں موجود ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں لیا جا سکتا کہ دنیا بار بار قیامت سے گزرتی رہی ہے اور لاکھوں، کروڑوں سال کے عرصے میں دوبارہ جاندار وجود میں آتے رہے۔ اگر ان جانداروں میں انسان بھی شامل رہا ہے تو ماضی کے تین ارب سال کے دوران کرۂ ارض پر ہمیشہ انسان نما مخلوق ہی موجود رہی یا زندگی کے مختلف نمونے آتے اور جاتے رہے؟ یہ سوال اس تناظر میں ضروری ہے کہ کرۂ ارض کی 4 ارب سالہ زندگی میں مختلف تہذیبیں روشناس ہو سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو اس طویل عرصے میں عقائدی صورت حال ایسی ہی رہی ہو گی جیسی آج ہے۔
کیا انسانوں کے درمیان ایسی ہی تقسیم رہی ہو گی جیسی ہم آج دیکھ رہے ہیں؟ کیا ان ممکنہ تہذیبوں میں انسان طبقاتی مذہبی حوالوں سے تقسیم کا شکار رہا ہو گا؟ جس کی ہماری دنیا شکار ہے؟ یہ اور اس قسم کے بے شمار سوالات اس لیے ہمارے ذہنوں میں آتے ہیں کہ ہم جس دنیا میں آج زندہ ہیں وہ عملاً جہنم بنی ہوئی ہے۔ مذہب کے حوالے سے انسان منقسم ہے۔ رنگ، نسل، زبان اور قومیتوں کے حوالے سے انسان تقسیم ہے، سب سے المناک تقسیم انسان کی طبقاتی تقسیم ہے۔ کیا ماضی بعید یا کرۂ ارض پر مختلف ادوار میں بھی اس قسم کی تقسیم رہی ہو گی؟ ملک و ملت کے حوالوں سے انسان کو جس طرح تقسیم کر کے اسے ایک دوسرے سے برسر پیکار کر دیا گیا ہے کیا کرۂ ارض کی 4 ارب سالہ زندگی میں بھی اس قسم کی تقسیم رہی ہو گی؟ کیا ماضی بعید کے اہل علم، اہل فکر انسان اس ظالمانہ تقسیم کے خلاف نبرد آزما رہے ہوں گے؟ یہ سوال اہل فکر کے ذہن میں کانٹوں کی طرح اس لیے چبھتے رہے ہیں کہ ہماری دنیا ہر حوالے سے جہنم بنی ہوئی ہے۔
مذہبی تقسیم ہزاروں سال پرانی ہے اور اس تقسیم کی وجہ سے انسان ایک دوسرے سے اجنبی ہی نہیں رہتا بلکہ برسر پیکار بھی رہتا ہے۔ اس حوالے سے دوسری تقسیم ملک و ملت کے حوالے سے ہے اور اسی تقسیم کا جبر یہ ہے کہ ہر ملک میں ملکی سالمیت کے تحفظ کا نظریہ پیدا ہوا اور ہر ملک خواہ وہ کسی بیرونی خطرے کا شکار رہتا ہے یا نہیں، لاکھوں انسانوں پر مشتمل فوج رکھنا ضروری سمجھتا ہے اور اس پر بجٹ کا بھاری حصہ خرچ کر دیتا ہے، جسے اگر عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے تو دنیا سے غربت کم ہو سکتی ہے۔ آج کا ہر سماج طبقات میں تقسیم ہے۔ دنیا کے80 فیصد عوام کا تعلق غریب طبقے سے ہے، جنھیں دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے، لیکن حکمران طبقہ جگہ جگہ جنگوں کے الاؤ روشن کیے ہوئے ہے اور مختلف حوالوں سے لڑی جانے والی ان جنگوں میں لاکھوں ’’غریب‘‘ ہی مارے جا رہے ہیں۔
کیا ان سب عذابوں سے چھٹکارا اس طرح ممکن نہیں کہ مذہب کو اس اصول کے تابع کر دیا جائے کہ ’’اپنے مذہب کو چھوڑو نہیں، کسی دوسرے کے مذہب کو چھیڑو نہیں‘‘۔ اس حقیقت کی بار بار نشان دہی کرنا پڑتی ہے کہ دنیا کے تمام انسانوں کا جد امجد آدمؑ ہے اور دنیا کے تمام انسان اسی کی اولاد ہیں۔ کیا اس تصور یا فلسفے کے فروغ سے دنیا جنگوں، نفرتوں، تعصبات اور طبقات سے نجات نہیں حاصل کر سکتی؟ کیا دنیا کے دانشور، مفکر اور فلسفی ان خطوط پر سوچ رہے ہیں؟

بشکریہ ۔روزنامہ ایکسپریس

پہلے اللہ پھر بیٹا، پہلے قرآن پھر بیٹا، پہلے محمد رسول اللہؐ پھر بیٹا

ہندوستان ٹائمز کی ہریندر بویجا اکتوبر 2015ء میں مقبوضہ کشمیر کے پلوامہ کے علاقے میں ترال شہر کے ایک ہائر سیکنڈری سکول کے پرنسپل مظفر احمد وانی کے گھر پہنچی۔ دیودار کی منقش لکڑی سے بنے دروزے کے پاس کھڑے ہو کر اس نے ایک رپورٹر، جسے ہندی میں پترکار کہتے ہیں، کی حیثیت سے ابتدائی کلمات بولتے ہوئے کہا، ’’آئیے جانتے ہیں کہ ایک پڑھا لکھا کشمیری نوجوان شدت پسندی کی آواز کیسے بن گیا‘‘ ادھیڑ عمر کے مظفر احمد وانی جس نے سر پر ایک سفید ٹوپی اور بدن پر اون سے بنا ہوا کشمیری چوغہ پہنا ہوا تھا۔
اس کے چہرے کے خال و خط ایک راسخ العقیدہ مسلمان کے لگتے تھے۔ داڑھی کی تراش خراش، چہرے پر عجز و انکساری اور گفتگو میں تحمل۔ لیکن جب اس نے سوالات کے جواب دینا شروع کیے تو یوں لگتا تھا کہ جذبہ ایمانی، شوق شہادت اور اللہ کی ذات پر توکل اس کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ سوال کیا گیا، برہان یا اس جیسے نوجوان کشمیریوں کا مقصد کیا ہے، جواب دیا، ہندوستان سے آزادی، یہ نوجوانوں کا ہی نہیں بلکہ ہم سب کا مقصد ہے۔ آپ کو معلوم ہے کشمیر کے حالات کیسے ہیں، ٹرک ڈرائیور یہاں سے جاتا ہے، مار دیا جاتا ہے، کیوںکہ مسلمان ہے، ہم حلال جانور ذبح کرتے ہیں فساد ہو جاتے ہیں۔ پھر سوال کیا، آپ کو پتا ہے ہندوستان کی فوج کو ہرانا بہت مشکل ہے لیکن اس نے کیا جذبہ ایمانی سے بھر پور جواب دیا۔ ’’بہت مشکل ہے، بہت مشکل ہے، لیکن ہمارا اللہ پر یقین ہے، ہمیں یقین ہے کہ جو اس تحریک میں ہندوستان کے ظلم و ستم سے مرتا ہے وہ مرتا نہیں بلکہ اپنے اللہ کے پاس جاتا ہے۔
دوسری دنیا میں ٹرانسفر ہو جاتا ہے۔ سوال کیا گیا کہ آپ کو تکلیف ہو گی کہ آپ کا بیٹا گولی سے مرے گا۔ جواب دینے والے باپ کی ہمت اور ایمان دیکھیے، کہا، ہاں تھوڑی تکلیف تو ہوتی ہے لیکن پھر یاد آتا ہے پہلے خدا پھر بیٹا، پہلے محمد صلی اللہ علیہ و سلم پھر بیٹا، پہلے قرآن پھر بیٹا، پہلے بیٹا نہیں ہے۔ اس کے بعد پوچھا، برہان آج ایک رول ماڈل بن چکا ہے۔ اس کی ویڈیو سامنے آئی ہیں، وہ جو کہتا ہے لوگ اس کے پیچھے چلتے ہیں۔ جواب دیا آج نوے فیصد لوگ اسے دعائیں دیتے ہیں کہ برہان زندہ رہے تا کہ ہماری جدوجہد آگے بڑھے۔ آج اسے پانچ سال ہو گئے مجاہد بنے ہوئے، یہ دو ہزار دن بنتے ہیں، مجھے نہیں معلوم وہ کھاتا کہاں سے ہے، پہنتا کہاں سے ہے، آخر لوگ اس کی مدد کرتے ہیں نا۔ آخری سوال کیا، آپ اس کے لیے کیا دعا کرتے ہیں، کہا، میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ اسے کامل ایمان عطا کرے۔
یہ انٹرویو آج بھی یوٹیوب پر موجود ہے جب کہ اس عظیم باپ کا بیٹا اپنے اللہ کے حضور اپنی شہادت کا صلہ لینے پہنچ چکا ہے۔ برہان وانی جب صرف 15 سال کا تھا تو 16 اکتوبر 2016ء کو کشمیری مجاہدین کے ساتھ شامل ہونے کے لیے اپنے اس عظیم المرتبت باپ سے اجازت لینے کے بعد روانہ ہوگیا۔ 1990ء سے لے کر اب تک بھارت یہ الزام عائد کرتا رہتا تھا کہ کشمیر کی جدوجہد دراصل پاکستان میں موجود تنظیموں حرکت المجاہدین، لشکر طیبہ، جیش محمد اور البدر کی مداخلت کی وجہ سے ہے۔ اسی لیے مجاہدین جو شہید ہوتے تھے ان کے نام و مقام خفیہ رکھے جاتے تھے۔ اس کی وجہ مجاہدین یہ بتاتے تھے کہ ان کی شہادت کے بعد بھارت کی فوج ان کے گھر پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیتی تھی۔ لیکن بھارت انھیں پاکستان سے آئے ہوئے مسلح درانداز کہتا تھا۔ برہان وانی نے خوف کا یہ پردہ چاک کردیا۔ اپنے چہرے سے گمنامی کا نقاب اتارا اور سوشل میڈیا پر ایک مقامی کشمیری کی حیثیت سے سامنے آگیا۔ اس کی اس جرأت کو ان کشمیری نوجوانوں نے قبول کیا جو ایک ناختم ہونے والی فوجی بربریت سے تنگ تھے۔
وہ 1990ء کے بعد پہلا چہرہ تھا جو کشمیر کے ہر گھر میں پہچانا جانے لگا۔ ہر کوئی یہ کہانی اپنے بچوں کو سناتا کہ برہان اپنے بھائی کے ساتھ موٹر سائیکل پر جارہا تھا کہ بھارتی فوج اور پولیس کے لوگوں نے انھیں پکڑ کر بہت مارا۔ اس کا بھائی بے ہوش ہوگیا۔ برہان اس وقت نویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ اس نے سب کچھ چھوڑا اور جہاد کے لیے نکل پڑا۔ 2011ء میں اسے حزب المجاہدین نے اپنا ممبر بنالیا۔ اور پھر اس کی سوشل میڈیا پر موجودگی نے پورے کشمیر میں آگ لگا دی۔ برہان کی وہ ویڈیو کشمیر میں ہردل کی دھڑکن بن گئی جس میں وہ نوجوانوں کو بھارت سے آزادی کے لیے تیار کررہا تھا۔ اس کی گفتگو میں کس بلا کی روانی تھی اور الفاظ کا سحر ایسا کہ دلوں میں اترجائیں۔ اس کی اسلحہ کے ساتھ تصویریں بھارتی افواج کا منہ چڑاتی تھیں۔
بھارتی افواج اور کشمیر پولیس اس کی تلاش میں تھیں۔ 13 اپریل 2015ء کو اس کے بھائی خالد مظفر وانی کو بھارتی فوج اور کشمیری پولیس نے شہید کردیا۔ اسے چند دن پہلے اٹھایا گیا تھا۔ اس پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ مجاہدین یعنی ہندوستان کے لیے آتنک وادی (دہشت گردوں) کا سہولت کار ہے۔ اس کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے اور کسی قسم کی گولی اس کے جسم میں پیوست نہ تھی۔ وہ ایم کام کا طالب علم تھا اور اس کا جہادی تنظیموں سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ اس علاقے کے لوگ کہتے ہیں اور بھارتی افواج بھی اس کے خلاف میڈیا کو کوئی ثبوت فراہم نہ کرسکی۔ برہان کی 2016ء جون میں آنے والی ویڈیو ایک مسلمان مجاہد کی اخلاقیات کی علمبردار تھی۔ اس نے کہا مجاہدین امرناتھ یاترا پر حملہ نہیں کریں گے۔ ہندو پنڈت جموں میں آکر رہ سکتے ہیں۔ لیکن ان کے لیے اسرائیل کی طرح علیحدہ بستیاں مت بناؤ۔ اس نے کہا ہم صرف اور صرف یونیفارم والوں پر حملے کریں گے کہ ان سے ہی ہماری لڑائی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی ایک ویڈیو کی وجہ سے اندازاً تیس نوجوان حزب المجاہدین میں شامل ہوئے تھے۔
8 جولائی 2016ء کو بھارتی فوج کی یونٹ 19 راشٹریہ رائفلز اور جموں کشمیر کے سپیشل گروپ نے کوکرناگ کے گاؤں بنڈورا میں شام چار بج کر تیس منٹ پر آپریشن شروع کیا۔ گاؤں کے لوگ اکٹھا ہوگئے اور انھوں نے فوجیوں پر پتھر برسانا شروع کردیے۔ برہان اپنے ساتھیوں سرتاج احمد شیخ اور پرویز احمد لشکری کے ساتھ جس گھر میں موجود تھا وہاں سے انھوں نے مقابلہ شروع کیا۔ لیکن سوا چھ بجے شام تینوں شہادت کے ارفع منصب پر فائز ہوکر اللہ کی بارگاہ میں پہنچ چکے تھے۔
اس کی شہادت کے بعد جس طرح پورے کشمیر میں جذبات بھڑکے اور جس طرح اس کے جنازے میں لوگ جوق در جوق پہنچے اور جیسے اس شخص کی میت کو کندھا دینے کے لیے گھمسان کا رن پڑا۔ سب آیندہ سالوں کے کشمیر کا نقشہ واضح کرتا ہے۔ فوج کے ترجمان کہتے ہیں کہ ہمیں اس کے بعد ایک زیادہ زور دار مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ حزب المجاہدین نے کہا کہ وہ جنوبی کشمیر کا کمانڈر تھا۔ اس کی جگہ لینے کے لیے بہت نوجوان موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ برہان کی آخری ویڈیو جس میں وہ نئے آنے والے مجاہدین کے ساتھ کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آتا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری نوجوان جوق در جوق شامل ہونے چلے جارہے ہیں۔
گزشتہ دو سالوں سے ایک چیز کشمیر میں بہت عام ہوئی ہے اور وہ ہے پاکستانی پرچم۔ برہان کے جنازے میں بھی یہ پرچم بار بار دکھائی دیا گیا۔ اسے پاکستان کے پرچم میں دفن کیا گیا۔ یہ کشمیری پاکستان سے کیوں ملنا چاہتے ہیں۔ اپنی آزاد ریاست کے لیے جدوجہد کیوں نہیں کرتے۔ اس سوال کا جواب برہان وانی کے والد کے انٹرویو میں موجود ہے۔
اللہ کے لیے جان دینے والوں کو بخوبی علم ہے کہ دنیا میں دو سو سے زیادہ ملکوں میں سے صرف ایک ملک ایسا ہے جو رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پر نہیں بلکہ کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ کی بنیاد پر بنا ہے۔ کشمیر کے لیے مرو یا دنیا کے کسی اور ملک کے لیے اس مقصد دنیاوی، علاقائی اور قومی جدوجہد میں مرکر امرہونا ہوگا۔ لیکن پاکستان کے لیے مرنا اللہ کے لیے مرنا ہے۔ شہادت کی موت ہے۔ اسی لیے جب بوڑھا سیدعلی گیلانی نعرہ بلند کرتا ہے کہ پاکستان سے رشتہ کیا، لاالہ الااللہ تو پورا کشمیر گونج اٹھتا ہے۔ اس لیے کہ کشمیری کہتے ہیں، پہلے اللہ پھر بیٹا، پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر بیٹا، پہلے قرآن پھر بیٹا۔

 

بشکریہ ۔روزنامہ ایکسپریس