اخبار

انسداد دہشت گردی سے متعلق پاک بھارت تعاون کی ’حوصلہ افزائی کریں گے‘

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اُن کا ملک پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات اور انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون کی حوصلہ افرائی کرے گا۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ کشیدگی پر پاک بھارت تعلقات میں تناؤ سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’’ہم پہلے بھی کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ (مذاکرات) دونوں ملکوں اور خطے کے مفاد میں ہیں۔۔۔۔ اور یہ امریکہ کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔‘‘ روزانہ کی نیوز بریفنگ میں ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ یہ اہم ہے کہ پاکستان ناصرف اپنے ملک بلکہ خطے میں بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس کے لیے اہم ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان وسیع تعاون اور مذاکرات ہوں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اُن کا ملک اس ضمن میں کی جانے والی کسی بھی کوششش کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ اُدھر پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو تیار ہے تاہم اُن کے بقول بھارت اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ واضح رہے کہ رواں ہفتے پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے اپنے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر کو کشمیر کے معاملے پر مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے کی باضابطہ دعوت دی تھی اور اُنھوں نے اس ضمن میں دعوت نامے پر مشتمل ایک خط اسلام آباد میں تعینات بھارت کے ہائی کمشنر کے حوالے کیا تھا۔ وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق خط میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کی یہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے کہ کشمیر کے تنازع کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ پاکستان کے سیکرٹری خارجہ کے خط سے قبل بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اُن کا ملک پاکستان سے تمام حل طلب مسائل پر بات چیت کرنا چاہتا ہے، لیکن اُن کی طرف بات چیت کے عمل کی شروعات کے لیے کچھ شرائط بھی رکھی گئی تھیں۔ جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نا صرف سرحد پار سے مبینہ اشتعال انگیزی بند کرے بلکہ ’’حافظ سعید اور سید صلاح الدین‘‘ کی حمایت بھی بند کرے۔ وکاس سواروپ نے اپنے بیان یہ بھی کہا تھا کہ بات چیت سے قبل پاکستان پٹھان کوٹ اور ممبئی بم حملوں کی تحقیقات بھی آگے بڑھائے۔ مذاکرات کے لیے بھارتی کی طرف سے پیشگی شرائط پر تو پاکستان کی طرف سے کچھ نہیں کہا گیا البتہ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی کشمیر میں کسی بھی طرح کی مداخلت نہیں کر رہا ہے لیکن وہ اپنے سابقہ موقف کے تحت کشمیریوں کی جدوجہد کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ رواں ہفتے ہی بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ملک کے یوم آزادی کے موقع پر پیر ’15 اگست‘ کو اپنی تقریر میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اُن کی طرف دیکھ لیجیئے جہاں دہشت گردوں کی تعریف کی جا رہی ہے۔ جب معصوم دہشت گردوں کے ہاتھوں لوگ مارے جاتے ہیں تو وہ اس کا جشن مناتے ہیں۔ یہ دہشت گردوں کے نظریے سے متاثر کیسی زندگی ہے؟ یہ دہشت گردوں سے متاثر کیسا حکومتی نظام ہے؟، دنیا اس کے بارے میں جان لے گی، اتنا میرے لیے کافی ہے۔‘‘ بھارت کے وزیراعظم کی تقریر پر ردعمل میں پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ وزیراعظم مودی کا بیان گزشتہ کئی ہفتوں سے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں جاری صورت حال سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ گزشتہ ماہ بھارتی کشمیر میں ایک علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی سکیورٹی فورسز سے جھڑپ میں ہلاکت کے بعد پاکستان کے وزیراعظم نے نواز شریف نے انھیں ’’شہید‘‘ قرار دیا تھا جس پر بھارت نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گردوں کو ہیرو بنا کر پیش کیے جانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ کشیدگی کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں حالیہ ہفتوں میں تناؤ میں اضافہ ہوا ہے اور ایک دوسرے کے بارے میں سخت بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔  

Read More »

خیبر ایجنسی سرحد پر فضائی کارروائی، کم از کم 14 شدت پسند ہلاک

’’وادی رجگال میں فوجی تعیناتی میں اضافے کے لیے پاک افغان سرحد کے ساتھ آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے، تاکہ خیبر ایجنسی میں اونچی پہاڑیوں اور سارے موسم میں قابل استعمال دروں سے گزرتے دہشت گردوں پر نظر رکھی جاسکے اور اُن کی آمد و رفت کی مؤثر روک تھام یقینی بنائی جاسکے‘‘

Read More »

’حالیہ دِنوں شام میں 18 بار مہلک آتشیں ہتھیار استعمال ہوئے‘

’ہیومن رائٹس واچ‘ نے مقامی سرگرم کارکنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ کم از کم 40دیگر مقامات پر مہلک آتشیں ہتھیار استعمال ہوئے، جن کی تصاویر اور وڈیو فٹیج سے تصدیق کی جاسکتی ہے

Read More »

میزائل شکن نظام کی تنصیب سے چین کو خطرہ نہیں: امریکہ

امریکہ اور جنوبی کوریا نے ٹرمینل کی اونچائی تک والا ’ایریا ڈفنس سسٹم‘ نصب کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ اس کا مقصد شمالی کوریا سے میزائل داغے جانے کے ممکنہ عمل کا مقابلہ کرنا ہے

Read More »

ایران: برطانیہ کے لیے جاسوسی کا الزام، ایک شخص گرفتار

ایران دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا، جن قیدیوں کو سفارتی اعانت فراہم نہیں ہوتی۔ ایران نے گذشتہ سال دوہری شہریت رکھنے والے کم از کم چھ شہریوں کو گرفتار کیا

Read More »

تجزیہ کار: ٹرمپ کے مقابلے میں کلنٹن کی جیت کا 80 فی صد امکان

تقریباً تین ماہ بعد امریکی صدارتی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں، لیکن متعدد تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ 80 فی صد سے زائد امکان ہے کہ سابق امریکی وزیر خارجہ اور ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن ری پبلیکن پارٹی کے ڈونالڈ ٹرمپ کو شکست دیں گی، جو جائیداد کے نامور کاروباری شخص ہیں اور پہلی بار کسی منتخب عہدے کے لیے میدان میں ہیں۔ آٹھ نومبر کو ہونے والے انتخاب کے لیے 12 ہفتے کی انتخابی مہم باقی ہے، جب جیتنے والا صدر براک اوباما کی جگہ لے گا جو آئندہ جنوری میں اپنی میعاد مکمل کرنے والے ہیں؛ جب کہ ستمبر اور اکتوبر میں کلنٹن اور ٹرمپ کے مابین تین مباحثے ہونے والے ہیں جن سے کسی بھی امیدوار کی قسمت بدل سکتی ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کی رائے میں اس دوڑ میں، فی الوقت، کلنٹن کو کافی سبقت حاصل ہے، اور رائے عامہ کے قومی جائزوں کے مطابق، اُنھیں سات فی صد کی برتری برقرار ہے، جب کہ کانٹے کے مقابلے والی ریاستیں جن کے بل بوتے پر امریکی صدارتی انتخابات کا فیصلہ ہوگا وہاں بھی اُنھیں سبقت دکھائی دیتی ہے۔ چار سالہ امریکی صدارتی انتخاب کا دارومدار قومی مقبولیت پر مبنی رائے دہی نہیں ہے، بلکہ 50 ریاستوں میں ووٹنگ کے نتائج پر ہوتا ہے؛ جب کہ اِن ریاستوں کی اہمیت ’الیکٹورل کالج‘ میں اُن کی پوزیشن پر منحصر ہے، جو آبادی کی بنیاد پر اور کانگریس میں سینیٹروں اور نمائندگان کے عدد کے اعتبار سے طے ہوتا ہے۔   چالیس ریاستوں میں ووٹروں نے پچھلے انتخابات میں ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنز کا ساتھ دیا ہے، جب کہ دیگر 10 ریاستوں میں جہاں سیاسی اتحاد جوڑ توڑ سے کام نہیں لیتے، وہاں ہمدردیاں ایک سے دوسری پارٹی کی جانب بدلتی رہتی ہیں، جن کا انحصار امیدوار کی شخصیت یا پھر درپیش سیاسی مسائل پر ہوتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اِنہی سخت مقابلے والی ریاستوں میں کلنٹن کو پہلے ہی 538 پر مشتمل ’الیکٹورل کالج‘ کی 270 کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے، جن کی مدد سے وہ ملک کی پینتالیسویں صدر اور پہلی خاتون کمانڈر اِن چیف بن سکتی ہیں۔ ’نیویارک ٹائمز‘ کی ’’538‘‘ ویب سائٹ کی الیکشن پیش گوئی، اور ’پرنسٹن الیکشن کنسورشئم‘ اور ’پرڈکٹ وائز‘ نے کہا ہے کہ کلنٹن کی جیت کا 80 فی صد امکان ہے؛ جب کہ سیاسی تجزیہ کار چارلی کوک، لیری سباتو اور اسٹوئرٹ روتھن برگ اور نتھن گونزالیز سبھی یہی کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کا پلڑا اُنہی کی طرف بھاری ہے۔ سیاسی  جائزوں کے مطابق، ٹرمپ  جس نے نامور ری پبلیکن عہدے داروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پارٹی کی صدارتی نامزدگی حاصل کی، اور کلنٹن  جو سابق صدر بِل کلنٹن کی بیوی ہیں  کو گذشتہ ماہ ری پبلیکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے قومی کنوینشن کے بعد نئی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ ری پبلیکن کنویشن کے بعد، ٹرمپ  کی کلنٹن کے ساتھ برابر کی مقبولیت  کی باتیں سامنے آئیں، لیکن ڈیموکریٹک کنوینشن کے بعد کلنٹن کو فوری طور پر سبقت حاصل ہوگئی؛ اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اس وقت اُنھیں متفقہ طور پر برتری حاصل ہے۔ طویل مدت سے میدان کے سیاسی گرو رہنے والے، کوک نے بتایا ہے کہ دونوں سیاسی کنوینشنز کے بعد قومی دوڑ ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن ’’یہ بھرپور طور پر جاری ہے‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’متعدد مبصرین نے توجہ دلائی ہے کہ جدید صدارتی پولنگ کے گذشتہ چھ عشروں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دیکھا یہ گیا ہے کہ جس امیدوار کو آخری کنویشن کے دوسرے ہفتے کے بعد کیے گئے رائے عامہ کے جائزوں میں برتری ہوتی ہے، وہی فتحیاب ہوتا ہے۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اِس بات کا قوی امکان ہے کہ ہیلری کلنٹن ڈونالڈ ٹرمپ پر حاوی ہیں، چونکہ اُنھیں خاصی سبقت حاصل ہے جو بڑھ رہی ہے‘‘۔ رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ امریکی دونوں امیدواروں کو منفی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن کلنٹن کے مقابلے میں وہ ٹرمپ کو زیادہ منفی خیال کرتے ہیں۔ سرویز میں دکھائی دیتا ہے کہ اب فیصلہ اِس بات پر ہے کہ وہ کس امیدوار کو زیادہ برا خیال کرتے ہیں اُنھیں ووٹ نہ دیا جائے بجائے ٹرمپ اور کلنٹن نام پر ووٹ دینے کے۔  

Read More »

شام میں فضائی کارروائی، روسی طیاروں کی ایرانی ہوائی اڈے سے پرواز

روس کی وزارتِ دفاع کے اعلان میں کہا گیا ہے کہ لڑاکا طیاروں نے حلب، دیر الزور اور ادلب کے صوبوں میں ’’ہتھیاروں، دھماکہ خیز مواد اور ایندھن کے بڑے پانچ گوداموں‘‘؛ داعش کے تربیتی کیمپوں اور جہبت النصرہ دہشت گرد گروپوں کو نشانہ بنایا

Read More »

بھارت: ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف غداری کا مقدمہ

ایمنسٹی انڈیا نے کہا ہے کہ سیمینار میں صرف جموں اور کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور تشدد سے متاثرہ کشمیری خاندانوں کو انصاف کی عدم فراہمی پر گفتگو ہوئی تھی۔

Read More »

افغان طالبان کے الگ دھڑے نے اپنا ’نیا سربراہ منتخب کر لیا‘

'اے پی' کے مطابق اُسے ملنے والی ایک ویڈیو میں کہا گیا کہ ملا عماد اللہ منصور کو طالبان کے منحرف دھڑے محاذ داد اللہ نامی گروپ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

Read More »

پاکستان: مزید گیارہ ’دہشت گردوں‘ کی سزائے موت کی توثیق

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے مزید 11 دہشت گردوں کی سزا کی توثیق کر دی ہے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے بیان کے مطابق ان مجرموں کو مختلف مقامات میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ جن مجرموں کی سزائے موت کی توثیق کی گئی اُن میں سے بعض بلوچستان پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل محمد فیاض کے قتل کے علاوہ پاکستانی فوج کے انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ ایک انسپکٹر، فوج کے ایک میجر عابد مجید اور فرنٹیر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو مارنے میں ملوث تھے۔ جب کہ فوج کے مطابق سزائے موت پانے والے دہشت گردوں میں ملک میں فرقہ واریت کو پھیلانے اور ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کے مجرم بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن اور ہیومین رائیٹس کمیشن آف پاکستان کے سابق چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ محض فوجی عدالتوں کے قیام یا سزائے دینے سے اُن کے بقول دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ ’’ہمارے خیال میں لوگ کی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔‘‘ دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گردوں کے مہلک ترین حملے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے آئین میں ترمیم کر کے دو سال کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔ ان عدالتوں سے اب تک درجنوں مجرموں کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں لیکن ملک میں انسانی حقوق اور بعض وکلا تنظیمیں فوجی عدالتوں کی کارروائی پر عدم اطمینان کر اظہار کر چکی ہیں جب کہ ان عدالتوں سے سزائیں پانے والے بعض مجرموں نے ملک کی عدالت عظمیٰ سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔ جن مشتبہ شدت پسندوں کو فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں اُن میں سے بعض کے لواحقین کا کہنا ہے کہ اُن کے رشتہ داروں کو نا تو اپنی مرضی کا وکیل مل سکا اور نا ہی اُن کے خلاف چلائے جانے والے مقدمات کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔ حکومت اور فوج کا موقف ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران مجرموں کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا موقع دیا جاتا ہے اور فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں کے خلاف وہ اپیل کا حق بھی رکھتا ہے۔ پاکستانی حکومت کے عہدیداران فوجی عدالتوں کے قیام پر ہونے والی تنقید کو یہ کہہ کر مسترد کرتے ہیں کہ ملک کو درپیش مخصوص حالات میں ایسے اقدام ناگزیر ہیں۔ جس آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا لیکن عدالت عظمیٰ نے ان درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کو برقرار رکھنے کا کہا تھا۔

Read More »

کشمیر پر بات چیت کا طریقہ کار پاکستان اور بھارت ہی نے طے کرنا ہے: ترجمان امریکی وزارت خارجہ

کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان روز اول ہی سے ایک متنازع معاملہ چلا آرہا ہے اور یہ جنوبی ایشیا کے دو جوہری ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ خیال کیا جاتا ہے۔

Read More »

نیویارک میں امام مسجد کے قتل کے الزام میں ایک شخص گرفتار

پولیس نے 35 سالہ آسکر مورل کو اتوار کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس پر عائد کیے جانے والے نئے الزامات میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا بھی الزام شامل ہے۔

Read More »

بھارتی کشمیر میں جھڑپیں، مزید چار افراد مارے گئے

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس ’اے پی‘ کے مطابق ایک پولیس اہلکار نے نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ سری نگر کے مغربی علاقے میں مظاہرین کی طرف سے پتھراؤ روکنے اور اُنھیں منتشر کرنے کے لیے گولیاں چلائی گئیں اور ’پیلٹ گنز‘ یعنی چھرے والی بندوقوں کا استعمال بھی کیا گیا۔

Read More »

خیبر ایجنسی: دہشت گردوں کی آمد و رفت روکنے کے لیے اضافی دستوں کی تعیناتی

پاکستانی فوج کے افغان سرحد سے ملحقہ اپنے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ایک آپریشن شروع کر دیا ہے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق خیبر ایجنسی کی وادی راجگال میں مزید فوجی دستے تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ بیان کے مطابق اس کا مقصد خیبر ایجنسی کی بلند و بالا پہاڑیوں کے درمیان ہر موسم میں استعمال ہونے والے دروں کے ذریعے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنا ہے۔ واضح رہے کہ خیبر ایجنسی میں افغان سرحد کے قریب اس کارروائی کا آغاز ایسے وقت کیا گیا جب پاکستان کی طرف سے حالیہ مہینوں میں تواتر سے یہ بیانات سامنے آتے رہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان سے ملحقہ سرحد کی نگرانی کو بہتر بنایا جائے۔ پاک افغان سرحد کی نگرانی کو بہتر بنانے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان سب سے مصروف گزرگارہ ’طورخم‘ پر پاکستان نے آمد و رفت کو منظم بنانے کے لیے ایک گیٹ بھی تعمیر کیا ہے جس پر افغانستان کی طرف اعتراض کیا گیا۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مزید کئی مقامات پر ابھی ایسے گیٹ تعمیر کیے جائیں گے۔ سرحد کی نگرانی سے متعلق پاکستان کے طرف سے کیے اقدامات پر افغانستان کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے اور اسی سبب دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ بھی پیدا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل یعنی پیر کو پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ’سول آرمڈ فورسز‘ کے 29 مزید ونگز تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس کا مقصد سرحد کی نگرانی اور داخلی سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔ اس اجلاس میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سمیت اعلیٰ عسکری قیادت بھی شریک تھی۔ اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل کا اعلان بھی کیا گیا جس کے سربراہ وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قومی سلامتی لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ ہوں گے۔ واضح رہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کی رفتار میں سستی پر فوج کی قیادت کی طرف سے گزشتہ ہفتے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

Read More »

داعش کی پسپائی، پولیو قطرے پلانے کی مہم دوبارہ شروع ہوگی

یہ کشیدہ تین اضلاع صوبہٴ ننگرہار میں واقع ہیں جن کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں۔مجموعی طور پر، یہ نئی مہم ملک کے 14 صوبوں کے 137 اضلاع میں چلائی جائے گی، جہاں پولیو وائرس متحرک ہے

Read More »

داعش کا قلع قمع خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے: ٹرمپ

قندیل بلوچ کا نام لیے بغیر، اُنھوں نے کہا کہ حالیہ دِنوں پاکستان میں سماجی میڈیا کی ایک نامور خاتون کو ’’عزت کے نام پر قتل کیا گیا‘‘

Read More »

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow