اخبار

‘مجھے نہیں پتا کہ اس حملے کو کیا کہوں’

'مجھے نہیں پتا کہ میں اس حملے کو کیا کہوں۔۔۔میں صومالیہ کے لوگوں سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ہر متحد رہیں۔' یہ الفاظ گزشتہ ہفتے صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ہونے والے مہلک ترین ٹرک بم حملے میں زخمی ہونے والے صحافی عبدالقادر محمد کے ہیں جو اس واقعے میں زخمی ہوئے اور ان دنوں ترکی کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اس بم دھماکے میں 358 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے اور اسے صومالیہ کی تاریخ کا بدترین دہشت گرد واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ زخمیوں میں سے اکثر کو ترکی، سوڈان اور کینیا کے اسپتالوں میں بھی منتقل کیا گیا۔ عبدالقادر وائس آف امریکہ کی صومالی سروس سے وابستہ ہیں اور وی او اے کی ترک سروس سے ایک انٹرویو میں انھوں نے اس بم دھماکے کی یادداشت کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب دھماکا ہوا تو اپنے دفتر میں موجود تھے جو جائے وقوع کے قریب ہی واقع تھا۔ "مجھے کچھ پتا نہیں کہ کیا ہوا جب ہوش آیا تو میں ایک اسپتال میں تھا جہاں نرسز اور ڈاکٹرز زخمیوں کو طبی امداد دے رہے تھے اور میں بھی ان زخمیوں میں سے ایک تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ میری ٹانگ، بازو اور سر پر زخم آئے ہیں۔۔مجھے اُس وقت بھی علم نہیں تھا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔" ان کا کہنا تھا کہ ان کے بعض صحافی ساتھیوں اور اہل خانہ نے انھیں ایک اور اسپتال منتقل کرنے کا کہا۔ "مجھے چند گھنٹوں بعد پتا چلا کہ ایک بدترین دھماکا ہوا تھا اور اس میں سیکڑوں لوگ جان سے گئے، مجھے نہیں پتا میں اس دھماکے کو کیا کہوں۔" رواں ہفتے صومالیہ کے انٹیلی جنس حکام نے بتایا تھا کہ اس بم حملے کا نشانہ ترک فوجی اڈہ تھا۔ لیکن عبدالقادر کہتے ہیں کہ جہاں یہ دھماکا ہوا وہاں کوئی فوجی تنصیب نہیں بلکہ وہ ایک شہری علاقہ تھا جہاں کاروباری مراکز کے علاوہ شہری آباد تھے۔ "میں آپ کو بتاؤں یہ شہری علاقہ  ہے یہاں ہوٹل ہیں ریستوران ہیں دکانیں ہیں اور وہاں غریب لوگ بھی آباد ہیں میں آپ کو صرف یہ بتا سکتا ہوں کہ وہاں کوئی فوجی تنصیب نہیں تھی۔" علاج کے لیے ترکی منتقل کیے جانے والے درجنوں زخمیوں میں 16 سالہ سلمیٰ حسین امین اللہ بھی شامل ہیں جن کا دایاں پاؤں اس دھماکے میں ضائع ہو گیا۔ صومالیہ کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس حملے کے پیچھے القاعدہ سے منسلک شدت پسند گروپ الشباب ملوث ہے جس کے خلاف سرکاری فورسز بھرپور کارروائی شروع کرنے جا رہی ہیں۔ زخمی صحافی عبدالقادر محمد نے اپنے ملک کے عوام کے لیے ترک حکومت کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس دھماکے کے بعد ہنگامی طبی امداد کے لیے کیے جانے والے اقدام پر صدر رجب طیب اردوان اور ترک عوام شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی اپنے ملک میں بسنے والوں کے لیے بھی ایک پیغام دیا۔ "میں اپنے ملک اور عوام کے لیے ایک پیغام دینا چاہتا ہوں، صومالیہ صومالیہ، ہمارا کوئی ملک نہیں لہذا یہ لازمی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔"

Read More »

کرکوک پر عراقی فورسز کے قبضے کی بحالی میں ایرانی جنرل کا ‘اہم کردار’

عراق کے شہر کرکوک پر حکومت کا قبضہ بحال کروانے کے لیے اطلاعات کے مطابق ایران کے ایک اعلیٰ عسکری عہدیدار نے اہم کردار ادا کیا ہے جنہوں نے شمالی عراق جا کر وہاں کر راہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے انھیں شہر کا قبضہ چھوڑنے پر آمادہ کیا۔ کرد قانون سازوں کا کہنا ہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب کے میجر جنرل قاسم سلیمانی نے پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے راہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ یہ گروپ تہران کا اتحادی ہے اور سلیمانیہ نامی شہر میں اس ملاقات کے ایک روز بعد ہی عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے اپنی فورسز کو کرکوک کی طرف پیش قدمی کا حکم دیا تھا۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی 'روئٹرز' کے مطابق سلیمانی نے کرد راہنماؤں کو بتایا کہ ان کے پیش مرگہ جنگجو عبادی کے فوجیوں کو پسپا نہیں کر سکیں گے، جنہیں مغرب اور خطے کی طاقتوں بشمول ایران اور ترکی کی حمایت حاصل ہے۔ انھوں نے یہ انتباہ بھی کیا کہ یا تو وہ کرکوک کا قبضہ چھوڑ دیں یا پھر تہران کی حمایت سے ہاتھ دھونے کا خطرہ مول لیں۔ عربی زبان کے ایک ٹی وی 'الحدث' سے بات کرتے ہوئے پیٹریاٹک یونین آف کردستان کی ایک راہنما اعلیٰ طالبانی نے کہا کہ کرد راہنماؤں سے ملاقاتوں میں ایرانی جنرل نے صرف "دانشمندانہ" مشورہ دیا۔ "سلیمانی نے ہمیں صلاح دی۔۔۔کہ کرکوک کو قانون اور آئین کی طرف لوٹ جانا چاہیے لہذا ہمیں کسی ہم آہنگی کی طرف بڑھنا ہو گا۔" کرد پیش مرگہ کمانڈر ایران پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اس نے عراق کی مرکزی شیعہ حکومت کے ساتھ مل کر کرکوک اور دیگر کرد زیر قبضہ علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بنایا جب کہ پیش مرگہ نے ان علاقوں سے حالیہ برسوں میں شدت پسند داعش کو نکال باہر کیا ہے۔ ایرانی حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

Read More »

پشاور زلمی میں دو چینی کھلاڑیوں کی شمولیت

کرکٹ پاکستانیوں کا پسندیدہ کھیل ہے اور چین کے ساتھ پاکستان کی دوستی کرکٹ کے ذریعے مزید مضبوط ہونے جارہی ہے کیونکہ پاکستان سپر لیگ میں چینی کھلاڑی بھی اپنے جوہر دکھانے آرہے ہیں۔ پاکستان سپر لیگ کیلئے پشاور زلمی نے چینی کرکٹرز جیان لی اور یوفی زانگ کو ٹیم میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں اسلام آباد میں چینی سفارتخانے میں منعقدہ تقریب میں سابق چینی سفیر چن زیانگ زنگ، چینی کرکٹ ٹیم کے کوچ یی تیان، چینی کرکٹرز جیان لی اور یوفی زانگ نے خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں چین کے 2 انٹرنیشنل کرکٹرز کو پی ایس ایل تھری میں پشاور زلمی کے اسکواڈ میں شامل کرنے کا اعلان کیا گیا۔ چینی کرکٹرز جیان لی اور یوفی زانگ کا کہنا ہے کہ پشاور زلمی کے اسکواڈ میں شمولیت باعث اعزاز ہے، ٹیم میں شامل ہونے پر بہت خوش اور پرجوش ہیں، یہاں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔ چینی کھلاڑیوں کی پشاور زلمی میں شمولیت کے حوالے سے ٹیم کے مالک جاوید آفریدی کا کہنا ہے کہ چینی کھلاڑیوں کی پشاور زلمی میں شمولیت پر بہت خوش ہوں، چینی کھلاڑیوں کی شمولیت سے دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات مزید مستحکم ہونگے۔ چینی کھلاڑیوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سیاسی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے بھی ملاقات کی جہاں عمران خان نے چینی کھلاڑیوں کو شامل کرنے کو کامیاب سپورٹس ڈپلومیسی قرار دیا۔  پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد فروری میں ہو گا، دفاعی چیمپئن پشاور زلمی، اسلام آباد یونائیٹڈ، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے علاوہ ایک نئی ٹیم ملتان سلطان بھی ایکشن میں دکھائی دے گی۔

Read More »

مصر: عسکریت پسندوں سے جھڑپ میں 16 پولیس اہل کار ہلاک

مصر کے مغربی صحرا ئی علاقے میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانے پر چھاپے کے دوران کم ازکم 16 پولیس اہل کار ہلاک ہوگئے۔ خبررساں ادارے روئیٹرز کی ایک رپورٹ میں سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ایک اپارٹمنٹ میں حاصم گروپ کے آٹھ ارکان روپوش ہیں جو گذشتہ سال قاہرہ میں ججوں اور پولیس اہل کاروں پر حملوں میں ملوث تھے۔ پولیس نے اپارٹمنٹ کو گھیرے میں لے کر انہیں حراست میں لینے کی کوشش کی۔ جب عسکریت پسندوں کو إحساس ہوا کہ فرار کے تمام راستے بند ہوچکے ہیں تو انہوں نے چھاپہ مار پارٹی پر فائر کھول دیا۔ اس دوران پولیس کی مزید کمک بلائی گئی لیکن عسکریت پسندوں نے بعد میں آنے والے پولیس اہل کاروں پر بھی فائرنگ جار ی رکھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے دھماکہ خیز مواد بھی استعمال کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 8 پولیس اہل کار زخمی بھی ہوئے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

Read More »

مصر: عسکریت پسندوں سے جھڑپ میں 30 پولیس اہل کار ہلاک

مصر کے مغربی صحرا ئی علاقے میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانے پر چھاپے کے دوران کم ازکم 30 پولیس اہل کار ہلاک ہوگئے۔ خبررساں ادارے روئیٹرز کی ایک رپورٹ میں سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ الوحات البحریہ ضلع میں پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ایک اپارٹمنٹ میں حسم گروپ کے آٹھ ارکان روپوش ہیں جو گذشتہ سال قاہرہ میں ججوں اور پولیس اہل کاروں پر حملوں میں ملوث تھے۔ پولیس نے اپارٹمنٹ کو گھیرے میں لے کر انہیں حراست میں لینے کی کوشش کی۔ جب عسکریت پسندوں کو احساس ہوا کہ وہ فرار نہیں ہو سکتے تو انہوں نے چھاپہ مار پارٹی پر فائرنگ شروع ہو کردی۔ اس دوران پولیس کی مزید کمک بلائی گئی لیکن عسکریت پسندوں نے بعد میں آنے والے پولیس اہل کاروں پر بھی فائرنگ جار ی رکھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے دھماکا خیز مواد بھی استعمال کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 8 پولیس اہل کار زخمی بھی ہوئے۔ حسم گروپ نے پولیس اہلکاروں پر مہلک کارروائی کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مصر حسم کو مبینہ طور پر اخوان المسلمین کا مسلح دھڑا قرار دیتا ہے۔ حکومت نے 2013ء میں اخوان کو کالعدم قرار دیا تھا۔ تاہم اخوان المسلمین اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔  

Read More »

کیا بھارت امریکہ کیلئے پاکستان پر نظر رکھے گا؟

صدرٹرمپ کی پالیسی میں متعدد ایسی چیزیں موجود ہیں جن کا پاکستان عرصے سے مطالبہ کرتا آیا ہے۔ ان میں افغانستان میں امریکہ کی طویل عرصے تک موجودگی، سیاسی تصفیے کی ضرورت اور افغانستان میں طالبان پر دباؤ بڑھانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

Read More »

افغانستان : شیعہ مساجد پر دو حملوں میں کم ازکم 50 افراد ہلاک

اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال أفغانستان کی شیعہ آبادی خاص طور پر دہشت گردی کے نشانے پر ہے اور اب تک ان کی عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں میں کم ازکم 84 افراد ہلاک اور 194 زخمی ہو چکے ہیں۔

Read More »

امریکی سینیٹ سے ٹیکس إصلاحات کا بل منظور

اوباما کئیر کے طور پر معروف ملک کے صحت کی دیکھ بھال کے قانون کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کی حمایت کی کوشش کی منظوری میں ناکامی کے بعد سینیٹ کے ری پبلیکن ارکان اگلے سال کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹیکس میں کٹوتیوں کے اس اقدام کی منظوری کے لیے دباؤ میں تھے۔

Read More »

نیوزی لینڈ کی سب سے کم عمر وزیر اعظم

نیوزی لینڈ میں بائیں بازو کی ایک ایسی اعتدال پسند حکومت قائم ہو گی جس کی قیادت ڈیڑھ سو سال سے بھی زیادہ عرصے میں ملک کی سب سے کم عمر وزیر اعظم کریں گی۔ نیوزی لینڈ کے باشندوں نے لگ بھگ ایک ماہ قبل عام انتخابات میں ووٹ ڈالے تھے۔ ملک کی دو بڑی پارٹیوں میں سے کسی ایک نے بھی پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل نہیں کی تھی، جن میں سے ایک لگ بھگ دس برسوں سے بر سر اقتدار دائیں بازو کی اعتدال پسند نیشنل پارٹی ہے، جس نے اپنے حریفوں سے زیادہ نشستیں جیتی ہیں، اور دوسری بڑی پارٹی بائیں بازو کی اعتدال پسند لیبر پارٹی ہے۔ دونوں جماعتیں ستمبر کے انتخابات کے بعد ایک اتحادی حکومت کی تشکیل کی کوشش کر رہی تھیں۔ کئی ہفتوں سے وہ قوم پرست پارٹی ’ نیوزی لینڈ فرسٹ‘کے انفرادی سوچ کے حامل لیڈر ونسٹن پیٹرس کے ساتھ گفت و شنید کر رہے ہیں جن کی جماعت نے گذشتہ ماہ کے انتخابات میں 9 نشستیں حاصل کیں اور جو امیگریشن اور جائیداد پر غیر ملکی ملکیت ختم کرنا چاہتی ہے۔  پیٹرس کہہ چکے ہیں کہ انہیں دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے اور وہ یہ کہ یا تو تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ موجودہ صورت حال بر قرار رکھیں یا صورت حال کی تبدیلی کے راستہ اپنائیں۔ وہ لیبر پارٹی اور ا یک اور چھوٹی جماعت گرینز کے ساتھ مل کر حکومت تشکیل دیں گے۔ لیبر پارٹی کی 37 سالہ لیڈر جیسنڈا آرڈرن وزیر اعظم ہوں گی جنہوں نے انتخاب سے چند ہی ہفتے قبل پارٹی کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے سہ جماعتی اتحاد کی کامیابی کی تین بڑی وجوہات ہوں گی۔ ان کے بقول پہلی وجہ معاہدوں کی نوعیت ہے، دوسری وہ تعلقات ہیں جو میں دونوں جماعتوں کے راہنماؤں کے ساتھ تشکیل دے چکی ہوں اور آخری وجہ یہ ہے کہ لیبر پارٹی کا نیوزی لینڈ فرسٹ کے ساتھ پہلے بھی ایک معاہدہ موجود تھا۔ ہم اکثریتی ووٹوں کی بنیاد پر اور اس لیے اس بنیاد پر ایک اتحادی حکومت تشکیل دے چکے ہیں جس کے لیے نیوزی لینڈ کے باشندوں کی اکثریت نے اس انتخاب میں کوشش کی تھی۔ لیبر پارٹی نے اپنی انتخابي مہم میں نیوزی لینڈ کے نوجوانوں کو تعلیم، ماحول اور رہائش میں مالی معاونت کی پالیسیوں پر قائل کرنے کی بھر پور طریقے سے کوشش کی تھی۔  نیوزی لینڈ جنوبی بحر الکاہل کے علاقے میں برطانیہ کی ایک سابقہ نو آبادی ہے جس کی آبادی 45 لاکھ ہے ۔ اس ملک میں لگ بھگ ہر تین سال بعد انتخابات منعقد ہوتے ہیں۔

Read More »

سی پیک منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے پارلیمان کے ایوان بالا میں چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی 'سی پیک' کے منصوبوں میں چار ارب روپے کی مبینہ بے قاعدگیوں کے معاملے پر سینیٹ میں تحریک التوا جمع کروائی ہے۔ شیری رحمٰن نے تحریک التوا میں پاکستان کے آڈیٹر جنرل کی ایک رپورٹ کا حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت وفاقی حکومت کے سڑکوں کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر مبینہ بے قاعدگیاں ہوئیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات اس لیے بھی انتہائی پریشان کن ہے کہ یہ منصوبے سی پیک کے تحت شروع کیے گئے تھے۔ شیری رحمٰن نے حکومت سے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس معاملے کی واضح صورت حال سامنے آ سکے۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے شیری رحمٰن کی تحریک التوا پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں ہے تاہم پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا محمد افضل نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سی پیک کے منصوبوں میں کسی بے قاعدگی کے تاثر کو رد کیا تاہم انہوں نے کہا کہ شیری رحمٰن کو یہ معاملے اٹھانے کا جمہوری حق حاصل ہے اور ان کے بقول حکومت اس معاملے کی وضاحت کرے گی۔ رانا افضل نے کہا کہ"سی پیک کے سڑکوں کی منصوبوں پر زیادہ تر ایف ڈبلیو او (فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن ) کا ادارہ کام کر رہا ہے اور جو گوادر کی بندرگاہ اور وہاں سڑکوں پر کام ہو رہا ہے ان کے لیے چین نے قرضہ فراہم کیا ہے اور چینی کمپنیاں ان پر کام کر رہی ہیں اس لیے میرا نہیں خیال کہ ان میں کوئی بے ضابطگی ہو گی" پاکستان میں تعمیر ہونے والے اربوں ڈالر سے زائد مالیت کا چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ اپنی نوعیت کو پہلا منصوبہ ہے اور اس منصوبے کی منفرد حیثیت کے  پیش نظر بعض حلقے اس کی شفافیت سے متعلق تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اقتصادی امور کے ماہر عابد سلہری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تحفظات اسی وقت دور ہو سیکیں گے جب سی پیک سے متعلق عوام کو مکمل معلومات فراہم کی جائیں گی۔ عابد سلہری نے مزید کہا کہ سی پیک اتنا کثیر الجہت اور کثیر المقاصد منصوبہ ہے کہ شاید قومی اسمبلی کی ایک قائمہ کمیٹی کے دائرہ کار میں میں نہ آئے۔  ان کے بقول اس کے لیے ایک سیلیکٹ کمیٹی بنا دینی چاہیے  جو اس کی نگرانی کرتی رہے اور اس کا اسی طرح جائزہ لیتی رہے جس طرح پارلیمان کی دیگر کمیٹیاں اہنا کام کرتی ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہدار ی کے منصوبے کے تحت ملک میں بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے اور بعض حلقوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کی شفافتیت کو برقرار رکھنے کے لیے اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر عوامی اور پارلیمانی سطح پرکھل کر بحث کرنا ضروری ہے۔

Read More »

سوشل میڈیا کے ذریعے انتشار پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت

پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کو ہدایت کی کہ سوشل میڈیا پر انتہاپسندی، خلفشار اور انتشار پھیلانے والے عناصر کی روک تھام کے لیے ادارہ موثر اقدامات کرے۔۔ احسن اقبال کے بقول ’’ملک دشمن قوتیں‘‘ سوشل میڈیا کو آلہ بنا کر معاشرے میں انتشار پھیلانا چاہتی ہیں۔ وزیر داخلہ نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے متحرک کردار ادا کرے۔ پاکستان میں حال ہی میں سوشل میڈیا پر مختلف موضوعات پر بحث کرنے والوں کے خلاف کارروائی دیکھی گئی ہے اور رواں ہفتے ہی انٹرنیٹ حقوق کے صارفین کے لیے کام کرنے والی دو غیر سرکاری تنظیموں نے اپنی ایک جائزہ رپورٹ میں کہا تھا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران پاکستانی حکومت نے مبینہ طور پر دو  سو سے زائد ویب سائیٹس بلاک کیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان میں وہ ویب سائٹس بھی شامل تھیں جن کے بارے میں حکام کے مطابق ایسا مواد موجود تھا جو مبینہ طور پر توہین مذہب کے زمرے میں آتا ہے۔ انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’بائٹس فار آل‘ سے وابستہ فرحان حسین کہتے ہیں کہ وفاقی وزیر داخلہ کا حالیہ بیان باعث تشویش ہے کیوں کہ اس سے وہ افراد بھی زد میں آجاتے ہیں جو کسی بھی طور ملک دشمن تو نہیں لیکن وہ بعض ملکی معاملات پر بحث ضرور کرتے ہیں۔ ’’دیکھیں پرتشدد انتہا پسندوں کے خلاف کون ایکشن نہیں چاہتا ۔۔۔ لیکن ماضی میں بہت مرتبہ ایسے ہوا ہے کہ وہ لوگ جو کہ حکومت سے صرف اختلاف رکھتے ہیں یا پھر وہ کسی بھی قسم کی بحث کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہاں تک کہ کسی نے اگر سی پیک (پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے) کے اوپر اعتراض اٹھایا تو اس کو ریاست مخالف اور پتہ نہیں کیا کیا القاب سے نواز کے دھمکایا جاتا ہے۔‘‘ فرحان حسین کہتے ہیں کہ مبہم اور غیر واضح بیانات سے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ ’’یہ اب اس طرح کی غیر واضح اور مبہم بیانات کا دور نہیں رہا ہے کہ آپ جو ہے کچھ بول دیں۔۔۔۔ بہت سوچ سمجھ کے بیان دینا چاہیئے۔‘‘ پاکستان میں اس سال کے اوائل میں سوشل میڈیا پر سرگرم پانچ بلاگرز لاپتا ہو گئے تھے جو بعد میں اپنے گھروں کو واپس تو آ گئے لیکن سماجی میڈیا پر سرگرم بہت سے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بلاگرز کے لاپتا ہونے کے بعد آن لائن رائے کا اظہار کرنے والے خوف کا شکار ہوئے ہیں۔ حکومت میں شامل عہدیدار کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے سیاسی رائے کا اظہار کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے اور صرف اُن عناصر پر نظر رکھی جاتی ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے بے چینی پیدا یا شدت پسندی کو ہوا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

Read More »

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow