تھانہ منگلا کے علاقہ چک اکا میں فائرنگ سے نوجوان ہلاک ،بھائی نے وقوعہ میں زخمی دوست کو ملوث قراردے دیا

تھانہ منگلا کے علاقہ چک اکا میں فائرنگ سے نوجوان ہلاک ،بھائی نے وقوعہ میں زخمی دوست کو ملوث قراردے دیا

جہلم(شہبازبٹ) تھانہ منگلا کے علاقہ چک اکا میں فائرنگ سے نوجوان ہلاک ،،گھر سے بلا کر لیجانے والا دوست ٹانگ پر فائر لگنے سے زخمی ، مقتول کے بھائی کی درخواست پر More »

محکمہ ڈاک میں انفرادی قوت کی ممکنہ کمی ملازمین نے ریٹائر منٹ لینے کا فیصلہ کر لیا

محکمہ ڈاک میں انفرادی قوت کی ممکنہ کمی ملازمین نے ریٹائر منٹ لینے کا فیصلہ کر لیا

جہلم( چوہدری عابد محمود +سید اکرم حسین شاہ) محکمہ ڈاک میں انفرادی قوت کی ممکنہ کمی ملازمین نے ریٹائر منٹ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ سہولتوں کی عدم فراہمی اور بڑھتے ہوئے More »

جہلم محکمہ صحت کے افسران کی مبینہ غفلت کے باعث جہلم شہر و گردونواح میں غیر معیاری اشیاء کی فروخت جاری

جہلم محکمہ صحت کے افسران کی مبینہ غفلت کے باعث جہلم شہر و گردونواح میں غیر معیاری اشیاء کی فروخت جاری

جہلم( چوہدری عابد محمود +سیدمظہر عباس) جہلم محکمہ صحت کے افسران کی مبینہ غفلت کے باعث جہلم شہر و گردونواح میں غیر معیاری مضر صحت ملک شیک اور جوس کی کھلے عام More »

پنجاب پولیس کے سپاہی قلیل تنخواہ پرکام کرنے پر مجبور،مہنگائی کے دورمیں چوبیس ہزارروپے تنخواہ

پنجاب پولیس کے سپاہی قلیل تنخواہ پرکام کرنے پر مجبور،مہنگائی کے دورمیں چوبیس ہزارروپے تنخواہ

جہلم( چوہدری عابد محمود +مرزا قدیر بیگ) جرائم پیشہ عناصر ،دہشت گردوں کیخلاف جنگ لڑنے والے شہریوں کے جان ومال کے محافظ، ارباب اختیار کے روٹ پر دھوپ بارش میں کھلے آسمان More »

جہلم شہر کی سڑکوں پر نصب سٹریٹ لائٹس عرصہ دراز سے خراب

جہلم شہر کی سڑکوں پر نصب سٹریٹ لائٹس عرصہ دراز سے خراب

جہلم( چوہدری عابد محمود +عمیر احمد راجہ) جہلم شہر کی سڑکوں پر نصب سٹریٹ لائٹس عرصہ دراز سے خراب۔لائٹس کی جگہ پرندوں نے گھونسلے بنا لئے۔ شہر کے گنجان آباد علاقے تاریکی More »

جہلم جنرل بس اسٹینڈ ، ریلو ے اسٹیشن سمیت درجنوں حساس مقامات پر سیکیورٹی انتظامات ناقص

جہلم جنرل بس اسٹینڈ ، ریلو ے اسٹیشن سمیت درجنوں حساس مقامات پر سیکیورٹی انتظامات ناقص

جہلم( چوہدری عابد محمود +عامر کیانی) جہلم جنرل بس اسٹینڈ ، ریلو ے اسٹیشن سمیت درجنوں حساس مقامات پر سیکیورٹی انتظامات ناقص۔اہم مقامات پر پولیس نفری ،واک تھرو گیٹ اور سی سی More »

ڈسٹر کٹ پولیس آفیسر جہلم کی ہدایت پر ضلع جہلم پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں

ڈسٹر کٹ پولیس آفیسر جہلم کی ہدایت پر ضلع جہلم پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں

جہلم( چوہدری عابد محمود +افتخار الحق) ڈسٹر کٹ پولیس آفیسر جہلم کی ہدایت پر ضلع جہلم پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں۔10لیٹر شراب،2عدد پسٹل 30بور،1عدد 12بور رائفل اور 7روند برآمد۔ More »

پچیس فروری دن دس بجے حضرت شاہ نصیر الدین بریلوی کا 41 واں عرس مبارک منایاجائے گا

پچیس فروری دن دس بجے حضرت شاہ نصیر الدین بریلوی کا 41 واں عرس مبارک منایاجائے گا

جہلم( چوہدری عابد محمود +نذیر احمد نورانی) پچیس فروری دن دس بجے حضرت شاہ نصیر الدین بریلوی کا 41 واں عرس مبارک بمقام ریلوے اسٹیشن حناپور نزد چک جمال جہلم زیر سرپرستی More »

معصوم لوگوں کا خون بہا کرنے والے پرامن اور مستحکم پاکستان سے خوش نہیں ۔ ایم این اے نواب زادہ مطلوب مہدی

معصوم لوگوں کا خون بہا کرنے والے پرامن اور مستحکم پاکستان سے خوش نہیں ۔ ایم این اے نواب زادہ مطلوب مہدی

جہلم(راجہ نو بہار خان)پاکستان کے امن کو تباہ کرنے اور معصوم لوگوں کا خون بہا کرنے والے پرامن اور مستحکم پاکستان سے خوش نہیں ،دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے مسلم More »

راجہ حسن جاوید ڈی ایس پی صدر جہلم کی محکمہ اوقاف ،متولیوں ،منتظمین ،اور گدی نشین حضرات سے میٹنگ

راجہ حسن جاوید ڈی ایس پی صدر جہلم کی محکمہ اوقاف ،متولیوں ،منتظمین ،اور گدی نشین حضرات سے میٹنگ

جہلم(راجہ نو بہار خان)راجہ حسن جاوید ڈی ایس پی صدر جہلم کی محکمہ اوقاف ،متولیوں ،منتظمین ،اور گدی نشین حضرات سے میٹنگ۔تفصیلات کے مطابق ڈی ایس پی صدر جہلم راجہ حسن جاوید More »

 

Category Archives: اخبار

اہم اُمور سے متعلق سیاسی بیان بازی پر ایمنسٹی کی تشویش

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنینشل نے کہا ہے 2016 کے دوران دنیا کے بھر میں اہم معاملات بشمول شام ، یمن اور جنوبی سوڈان میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے لاتعلقی اور ان معاملات پر متنازع اور تشویشناک حد تک بڑھتی ہوئی سیاسی بیان بازی نمایاں رہی، جو کہ باعث تشویش ہے۔

بدھ کو جاری ہونے والی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں امیر اور غریب ممالک کو اس بارے میں یکساں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ایمنسٹی انٹرنینشل کے جنرل سیکرٹری سلیل شیٹی نے پیرس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ “اگر آپ 2016ء کے بارے میں سوچیں تو یہ وہ سال تھا، جو ہمارے جائزے کے مطابق خواتین، مردوں ور بچوں کے حقوق سے لاتعلقی اور ان کے لیے حقارت کی وجہ سے خراب رہا۔ “

“یہ وہ سال ہے جس میں دنیا بھر میں ‘ان کے مقابلے میں ہم’ کی نقصان دہ سیاسی بیان بازی میں اضافہ ہوا۔ “

‘دنیا میں انسانی حقوق کی صورت حال’ نامی رپورٹ میں اتھیوپیا، بنگلادیش، اور روس جیسے ملکوں میں حکومتوں کی طرف سے اظہار رائے کی آزادی کا گلا گھونٹنے سے لے کر شام، یمن اور سوڈان میں عام شہریوں پر ہونے والے حملوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں اسکولوں اور اسپتالوں پر ہونے والے مہلک حملے، دارفر میں ہونے والے کیمیائی حملے اور فلپائن میں منشیات کی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف ہونے والی مہلک کارروائی کے بارے میں “مکمل خاموشی” اختیار کی گئی۔

شیٹی نے کہا کہ”ہم ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں کوئی بھی سرخ لکیر (یعنی حد) نہیں ہے۔”

انسانی حقو ق کی بین الاقوامی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں افریقہ میں ناانصافی اور یورپ میں کئی عوامی گروپوں کی طرف سے تارکین وطن کی مدد کرنا اور امریکہ میں پولیس کے مبینہ ظلم کے خلاف عوامی سطح پر بلند ہونے والے آواز کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی ہے۔

شیٹی نے کہا کہ “اس رپورٹ کا پیغام یہ ہے کہ جہاں راہنما ناکام ہوئے وہاں لوگوں کو (اپنی) آواز بلند کرنی ہو گی۔”

ترکی: داعش سے وابستہ 35 مشتبہ افراد گرفتار

حالیہ مہینوں میں ترکی میں ’داعش‘ یا کرد جنگجوؤں کی طرف سے کئی مہلک بم دھماکے کیے گئے، جس کے بعد ترکی نے ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کے آپریشن تیز کر دیئے۔

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے ’انادولو‘ نے کہا ہے کہ پولیس نے استنبول میں کارروائی کرتے ہوئے 35 افراد کو شدت پسند تنظیم ’داعش‘ سے تعلق کے شبہے میں گرفتار کر لیا ہے۔

’انادولو‘ نے بدھ کو بتایا کہ استنبول کے ایک علاقے میں 41 گھروں پر چھاپوں کے دوران ان افراد کو حراست میں لیا گیا۔

تاہم گرفتار کیے گئے افراد کی شہریت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں ترکی میں ’داعش‘ یا کرد جنگجوؤں کی طرف سے کئی مہلک بم دھماکے کیے گئے، جس کے بعد ترکی نے ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کے آپریشن تیز کر دیئے۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹیڈ پریس‘ کے مطابق رواں ماہ ترکی کے 29 صوبوں میں پولیس کی کارروائی میں 750 افراد کو حراست میں لیا گیا جن کا تعلق مبینہ طور پر ’داعش‘ سے بتایا گیا۔

نئے سال کے موقع پر استنبول میں ایک نائیٹ کلب پر حملے کی ذمہ داری ’داعش‘ نے قبول کی تھی، اس حملے میں 39 افراد مارے گئے تھے۔

بلوچستان: بم ناکارہ بنانے کے محکمے کو جدید آلات کی کمی کا سامنا

پاکستان کا جنوب مغربی صوبہ بلوچستان گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے زائد عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے، انتہا پسند و عسکری تنظیموں سے تعلق رکھنے والے صوبے کے مختلف شہروں اور قصبوں میں خود ساختہ طور تیار کیے گئے بم ’آئی ای ڈی‘ گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، سائیکلوں میں نصب کر کے سڑک کے کنارے یا زیر زمین چھپا کر اُن میں دھماکے کرتے رہے ہیں، جس میں اب تک سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ بڑی تعداد میں شہری بھی اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

گزشتہ روز بھی بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو افراد ہلاک اور صنعتی شہر حب میں فرنٹیر کور کے اہلکاروں کی گاڑی پر ’آئی ای ڈی‘ بم حملے میں ایف سی کے تین اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

صوبائی حکومت نے ایسے بموں کو ناکارہ بنانے کے لیے ’بم ڈسپوزل‘ کا ایک ادارہ قائم کر رکھا ہے، لیکن ادارے کے اہلکاروں کے پاس مہلک بموں کو نا کارہ بنانے کے لیے مناسب آلات ہی نہیں ہیں جس کی وجہ سے دو سالوں کے دوران ادارے کے چھ اہلکار بموں کو نا کارہ بناتے ہوئے اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ آٹھ شدید زخمی ہوئے۔

​ڈپٹی ڈائریکٹر بم ڈسپوزل سول ڈیفنس رفو جان کا کہنا ہے تخریب کاروں نے اب جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے، اُن کے بقول اب دہشت گرد کسی گاڑی میں یا انسانی جسم کے ساتھ جیکٹ میں بارود بھر دیتے ہیں اور پھر اس میں کلا ک وائز، ٹائمر ڈیوائس یا ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکے کرتے ہیں جس سے درجنوں انسانوں کی ایک ہی لمحے میں زندگی ختم ہو جاتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسے بموں کو ناکارہ بنانے کے لیے ایک ہی ادارہ ہے، جس نے اب تک چار سو سے زائد دیسی ساختہ ’آئی ای ڈی‘ اور دیگر بموں کو نا کارہ بنایا ہے لیکن اب جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاتے ہوئے تیار کیے جانے والے بموں کو نا کارہ بنانے والے آلات ’بم ڈسپوزل اسکواڈ‘ کے پاس نہیں ہے جس کی وجہ سے ادارے کے ملازمین متاثر ہو رہے ہیں۔

رفوجان نے بین الااقوامی برادری بالخصوص امریکہ اور جرمنی کی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ جدید آلات کی فراہمی میں اُن کے ادارے کی مدد کریں۔

’’ہم پوری دینا سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ آپ ہم لوگوں کو جدید (آلات) سے لیس کریں تاکہ ہم بموں کو نا کارہ سکیں، ہمیں ان چیزوں کی ضرورت ہے ایک روبوٹ، واٹر کینن گن، جیمرز، آئی ای ڈی سوٹ سیٹ، اور جدید قسم کے آپر یٹنگ ٹولز اور ان تمام چیزوں کو لے جانے کے لیے بم پرو ف گاڑی یا بلٹ پروٹ گاڑی کا ہونا بہت ضروری ہے تاکہ ان تمام چیزوں کو ہم باقاعدہ موقع پر لے جائیں اور بم کو آسانی سے (ناکارہ بنا) سکیں۔‘‘

قدرتی وسائل سے مالامال اس جنوب مغربی صوبے میں صوبائی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2007 سے دسمبر 2016 تک راکٹ فائرنگ، دیسی ساختہ بموں کے 3200 واقعات ہوئے ہیں جس میں 2200 افراد ہلاک اور 4100 زخمی ہو چکے ہیں ۔

رفوجان کا کہنا ہے کہ ادارے کے ملازمین کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے ان کو جدید تربیت بھی فراہم کی جانی چاہیئے۔

اُنھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ادارے میں ’’اصلاحات کرے، ہمارے ٹیکنکل اسٹاف (بم نا کارہ بنانے والے ارکان) کو قانون نا فذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں کی طرح مراعات دی جائیں، زخمی ملازمین کو علاج و معالجہ کی سہولیات اور بم نا کارہ بنانے والوں کو حفاظتی اسکواڈ فراہم کرے‘‘۔

رواں ماہ کے دوران بم کو نا کارہ بنانے کے دوران جان کی بازی ہارنے والے کمانڈر عبدالرزاق کے لیے وفاقی حکومت نے سول ایوارڈ جب کہ صوبائی حکومت نے اُن کا نام قائداعظم پولیس میڈل کے لیے بھی تجویز کیا ہے صوبائی حکومت کے ترجمان انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ ادارے کی تمام ضروریات پوری کی جائیںگی۔

شہری دفاع کے عملے کی تعداد 250 ہے جب کہ 45 رضاکار بھی بغیر تنخواہ کے یہاں کام کرتے ہیں۔

شمالی کوریا کے سفارت کار تک رسائی کا مطالبہ: ملائیشیا

شمالی کوریا کے راہنما کے سوتیلے بھائی کم جونگ نام کی موت سے متعلق معاملے میں مطلوب ایک سفارت کار تک رسائی کے لیے ملائیشیا نے شمالی کوریا سے مدد مانگی ہے۔

مطلوب سفارت کار کوالالمپور میں شمالی کوریا کے سفارت خانے میں تعینات ہیں، ملائیشیا نے شمالی کوریا سے کہا کہ وہ مذکورہ اہلکار کی تلاش اور اُن سے تفتیش میں مدد کرے۔

ملائیشیا پولیس کے سربراہ خالد ابوباقر نے بدھ کو کوالالمپور میں نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ اُنھیں جس سفارت کار کی تلاش ہے وہ کوالالمپور میں شمالی کوریا کے سفارت خانے میں بطور سینکڈ سیکرٹری تعینات ہیں۔

ملائیشیا پولیس کے سربراہ نیوز کانفرنس کے دوران

ملائیشیا پولیس کے سربراہ نیوز کانفرنس کے دوران

کم جونگ نام گزشتہ ہفتے کوالالمپور کے ہوائی اڈے سے اسپتال جاتے ہوئے ایک ٹیکسی میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے، وہ مکاؤ جا رہے تھے جہاں وہ کافی عرصے سے مقیم تھے۔

اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق دو خواتین نے مبینہ طور پر کم جونگ نام کے چہرے پر زہریلہ مواد لگایا تھا جب کہ خواتین کا یہ موقف ہے کہ اُنھوں نے یہ سمجھا تھا کہ چہرے پر کچھ مواد لگانا محض ایک مذاق تھا۔

اُدھر ملائیشیا کی پولیس نے بدھ کو بتایا شمالی کوریا کے راہنما کے سوتیلے بھائی کے چہرے پر مبینہ طور پر زہریلہ مواد لگانے والی دو خواتین جانتی تھیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں اور وہ یہ کام کرنے میں مہارت رکھتی تھیں۔

کم جونگ نام کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے سوتیلے بھائی کم جونگ اُن کی حکومت کے بڑے ناقد اور اصلاحات کے حامی تھے۔

ملائیشیا نے اپنے ملک میں کم جونگ نام کی موت کے بعد پیانگ یانگ سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔

چارسدہ میں کچہری پر حملے کے بعد وکلا کی ہڑتال

پاکستان کے شمالی مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ میں کچہری پر خودکش بمباروں کے حملے کے بعد بدھ کو صوبے میں وکلا نے ہڑتال کی اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

چارسدہ کے علاقے تنگی میں کچہری پر تین خودکش بمباروں کے حملے میں ایک وکیل سمیت سات افراد ہلاک اور لگ بھگ 20 زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تینوں خودکش حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

چارسدہ میں خودکش حملے کے دوران تمام جج محفوظ رہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پشاور میں ذیلی عدالت کے ججوں کو لے جانے والی ایک گاڑی کو موٹرسائیکل پر سوار خودکش بمبار نے نشانہ بنایا تھا۔

بدھ کو مظاہرے کے دوران وکلا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عدالتوں کی حفاظت کے لیے مزید موثر اقدامات کریں۔

پاکستان میں گزشتہ دو ہفتوں سے بھی کم وقت کے دوران ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں لگ بھگ 120 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔

دہشت گردوں کے حملوں کے بعد ملک بھر میں سکیورٹی فورسز کا مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف ’کریک ڈاؤن‘ جاری ہے، جس میں افغان باشندوں سمیت سینکڑوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

ہانگ کانگ کے سابق چیف ایگزیکٹو کو قید کی سزا

72 سالہ سانگ کو گزشتہ ہفتہ ایک کمیونیکیشن کمپنی کے ایک بڑے سرمایہ کار سے پرتعیش اپارٹمنٹ کرائے پر لینے سے متعلق ہونے والے مذاکرات کے معاملے کو ظاہر نا کرنے میں ناکامی کے جرم کا مرتکب پایا گیا ہے۔

ہانگ کانگ کی عدالت نے چین کے نیم خود مختار علاقے کے سابق چیف ایگزیکٹو ڈونلد سانگ کو انتظامی غفلت کے جرم کا مرتکب ہونے پر 20 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

72 سالہ سانگ کو گزشتہ ہفتہ ایک کمیونیکیشن کمپنی کے ایک بڑے سرمایہ کار سے پرتعیش اپارٹمنٹ کرائے پر لینے سے متعلق ہونے والے مذاکرات کے معاملے کو ظاہر نا کرنے میں ناکامی کے جرم کا مرتکب پایا گیا ہے۔ یہ سرمایہ کار حکومت سے ایک ڈیجیٹل نشریاتی لائسنس کے حصول کا متمنی ہے۔

بدھ کو سانگ کو سزا سناتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج اینڈریو چن نے کہا کہ “میں نے اپنے عدالتی کیرئیر کے دوران کسی آدمی کو اتنی بلندی سے نیچے گرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔”

اس سزا نے سا نگ کے عوامی خدمت کے شاندار کئیرئیر کو دھبہ لگا دیا ہے، 2005 سے 2012 تک ہانگ کانگ کے سب سے اعلیٰ انتظامی عہدے پر فائز رہے۔ ہانگ کانگ کی تاریخ میں وہ پہلے سب سے اعلیٰ عہدیدار ہیں جنہیں کسی جرم کا ارتکاب کرنے پر سزا سنائی گئی ہے۔

انہیں بدعنوانی کے ایک اور مقدمہ کا بھی سامنا ہے جس میں ججوں کی طرف سے ایک متفقہ فیصلے پر نا پہنچنے کی وجہ سے ستمبر میں اس مقدمے کی دوبارہ سماعت ہو گی۔

ہانگ کانگ جو ایک شفاف طرز حکمرانی کے لیے معروف ہے کو حالیہ سالوں میں کئی عہدیداروں کے انتظامی بدعنوانی کے مقدمات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے دھچکا لگا ہے۔

چرکن کی اچانک موت کی واضح وجہ معلوم نہیں ہو سکی

نیویارک سٹی کے طبی معائنہ کار اقوام متحدہ میں روس کے سفیر وتالی چرکن کی رواں ہفتے اچانک موت کی وجوہات کا تعین کرنے میں فی الحال کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

طبی معائنہ کاروں نے کہا کہ مزید کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے کیمیائی تجزیے اور دیگر ٹیسٹس کرنا مطلوب ہیں، جو کہ 64 سالہ چرکن کی موت کی اصل وجہ کا تعین کرنے میں مدد دیں گے۔ ان نئے تجزیوں کو مکمل ہونے میں ایک ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے۔

چرکن 2006ء سے اقوام متحدہ میں روس کے سفیر کے طور پر فرائض انجام دیتے آ رہے تھے، وہ سلامتی کونسل میں طویل ترین عرصے تک ذمہ داری نبھانے والے سفیر تھے۔

ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی منگل کو اقوام متحدہ میں دیگر ملکوں کے عہدیداروں کی طرف سے افسوس اور دکھ کا اظہار کیا گیا۔

ماسکو میں وزارت خارجہ کے باہر لوگ چرکن کی تصویر کے قریب پھول رکھ کر اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں

ماسکو میں وزارت خارجہ کے باہر لوگ چرکن کی تصویر کے قریب پھول رکھ کر اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں

ان سفارتکاروں کا کہنا تھا کہ چرکن اپنے ملک کے لیے خدمات انجام دینے والے ایک زیرک سفارتکار تھے جو کہ اپنے ساتھی کارکنوں کے ساتھ بہت خوش مزاجی سے پیش آتے تھے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چرکن کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے عالمی سلامتی کے فروغ کے کلیدی معاملات پر امریکہ اور روس کے درمیان ایک اہم کردار ادا کیا۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے چرکن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی مسدود صورتحال میں بھی مفاہمت کے مواقع تلاش کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ایک زبردست سفارتکار تھے۔

حال ہی میں اقوام متحدہ میں اپنے فرائض سے سبکدوش ہونے والی امریکی سفیر سمانتھا پاور کے ساتھ متعدد مواقع پر چرکن کی لفظی جنگ بھی ہوتی رہی۔

گزشتہ دسمبر میں شامل کے محصور شہر حلب سے متلعق ہونے والے اجلاس میں پاور نے ماسکو پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ حقائق سے چشم پوشی اور شہریوں پر حملوں میں معاونت کر رہا ہے۔

اس پر چرکن نے کہا تھا کہ پاور “مدر ٹریسا” معلوم ہو رہی ہیں اور انھوں نے امریکی سفیر پر زور دیا کہ “وہ اپنے ملک کا ماضی بھی یاد کریں۔”

سمانتھا پاور نے چرکن کی اچانک موت پر ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ انھیں اس خبر سے انتہائی دکھ پہنچا۔ ان کے بقول چرکن ایک منجھے ہوئے سفارتکار اور خیال رکھنے والے شخص تھے۔

موصل: عراقی فوجوں کی جنوبی مضافات کی جانب پیش قدمی

پولیس لیفٹیننٹ کرنل حسین نے کہا ہے کہ ’’ہم ابو سیف میں ہیں اور ہم نے گھروں میں نصب شدہ بموں کو ناکارہ بنا دیا ہے، اور اب بھی گھروں کی تلاشی کا کام کر رہے ہیں‘‘

ایک عسکری ترجمان نے بتایا ہے کہ عراقی فوجوں نے موصل کے جنوبی مضافات کی جانب پیش قدمی کی ہے، ایسے میں جب شہر کو واگزار کرنے کے لیے پھر سے کی گئی کارروائی کے تیسرے روز، وہ اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

وفاقی پولیس، وزارت داخلہ کے ’ریپڈ ریسپونس‘ دستے اور دیگر سپاہیوں پر مشتمل اتحادی فوج پھر سے کمر بستہ ہو کر میدان میں اتری ہے، جس کارروائی کا آغاز اتوار کے روز کیا گیا۔ اور اب تک، موصل کے جنوب میں 123 مربع کلومیٹر کا اضافی علاقہ واگزار کرا لیا ہے۔ یہ بات مشترکہ فوجی کارروائی کی کمان کے ترجمان نے بتائی ہے۔

عراقی فوج کے بیان کے مطابق، امریکہ کی حمایت یافتہ افواج پیر کو موصل کے ہوائی اڈے پر پہنچیں، جس سے قبل داعش کے جہادیوں کا ابو سیف کے قریبی علاقے سے صفایا کیا گیا۔

پولیس لیفٹیننٹ کرنل حسین نے کہا ہے کہ ’’ہم ابو سیف میں ہیں اور ہم نے گھروں میں نصب شدہ بموں کو ناکارہ بنا دیا ہے، اور اب بھی گھروں کی تلاشی کا کام کر رہے ہیں‘‘۔

ہوائی اڈے پر کنٹرول کے حصول کے بعد، عراقی افواج مغربی موصل پر حملے کریں گی، جو ابھی تک داعش کے لڑاکوں کے کنٹرول میں ہے۔

دریائے دجلہ موصل کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ عراقی افواج نے گذشتہ ماہ شہر کے مشرقی حصے سے شدت پسندوں کا صفایا کر دیا ہے۔

نئے احکامات، امیگریشن کے قانون پر سختی سے عمل درآمد پر زور

امریکی محکمہٴ ہوم لینڈ سکیورٹی نے دو نئی یاد داشتیں جاری کی ہیں جن میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے انتظامی حکم ناموں پر عمل درآمد کی نشاندہی کی گئی ہے، جن کا مقصد غیر قانونی امیگریشن روکنا ہے، جب کہ غیر درج شدہ تارکینِ وطن کو ملک بدر کیا جائے گا۔

یہ دستاویز منگل کے روز ہوم لینڈ سکیورٹی کے سربراہ، جان کیلی نے جاری کیے ہیں، جن کی مدد سے تارکینِ وطن کی فہرست کی ترجیحات میں اضافہ کیا گیا ہے، جنھیں فوری طور پر ملک بدر کیا جائے گا، قانون کا نفاذ کرنے والے ہزاروں کو ایجنٹوں کی خدمات حاصل کرنے کے ایک منصوبے کو آخری شکل دی جائے گی، اور مقامی حکام کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ امیگریشن اہل کار کے طور پر اقدام کرتے ہوئے تارکینِ وطن کے قوانین پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

دستاویز میں تحریر ہے کہ ’’یہ فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔ محکمے کے اہل کار ملک بدر کیے جانے والے افراد کے خلاف امیگریشن قوانین پر سنجیدگی سے عمل درآمد کرائیں گے‘‘۔

یہ یاد داشتیں پہلی بار جمعے کو میڈیا کو ’لیک‘ کی گئیں، اُن میں صرف ایک استثنیٰ موجود ہے، وہ یہ ہے کہ ’ڈفرڈ ایکشن فور چائلڈہڈ ارائیولز (ڈی اے سی اے)‘ سے متعلق معاملات میں؛ ایسے تارکین وطن جو کم عمری میں امریکہ پہنچے، جنھیں سابق صدر براک اوباما کی جانب سے تشکیل دیے گئے پروگرام کے تحت تحفظ فراہم کیا گیا ہے، اُن کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔

اندازاً 750000 ایسے غیر درج شدہ تارکین وطن ہیں، جو کم عمری میں امریکہ آئے، جنھیں ’ڈریمرز‘ کا نام دیا گیا ہے، اُنھیں ملک بدری کے کسی ڈر خوف کے بغیر امریکہ میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے اخباری کانفرنس کے دوران ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ‘ڈی اے سی اے‘ کے معاملے سے ’’کھلے دل سے‘‘ نبردآزما ہونے کے خواہاں ہیں، جس عنوان کو اُنھوں نے ’’بے انتہا، انتہائی مشکل‘‘ قرار دیا۔

منگل کے روز جاری ہونے والی یاد داشتیں 25 جنوری کو ٹرمپ کے دستخط کردہ امیگریشن کے انتظامی حکم ناموں کی براہ راست تشریح پر مبنی ہیں۔

سرحدی گشت سے متعلق کیلی کے احکامات مجوزہ امریکہ-میکسیکو سرحدی دیوار سے متعلق ہیں، جس کی مدد سے تارکینِ وطن کے غیر قانونی داخلے کو بہتر طور پر ’’روکا جا سکے گا‘‘۔

تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے وکلا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن کی نئی پالیسیاں اِس بات کو مدِ نظر رکھ کر وضع کی گئی ہیں کہ ملک بھر میں موجود لاکھوں تارکینِ وطن خاندانوں کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے گا۔

مکماسٹر انسدادِ دہشت گردی کے معروف ماہر خیال کیے جاتے ہیں

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر مکماسٹر کو قومی سلامتی کا نیا مشیر نامزد کیا۔ مکماسٹر ویتنام جنگ میں امریکی فوج کے لڑائی کے طریقہٴ کار کے سخت ناقد رہ چکے ہیں۔ اُنھوں نے جوں جوں فوجی رینکس میں ترقی حاصل کی، اُنھوں نے انسدادِ دہشت گردی کے ایک ماہر کے طور پر اپنا لوہا منوایا۔

سنہ 2014 میں مکماسٹر کو ’ٹائم مگزین‘ نے 100 بااثر افراد کی فہرست میں شامل کیا، جس سے کچھ ہی روز قبل اُنھیں امریکی فوج کی تربیت اور نظریاتی کمان کی ’آرمی کیپ ابلٹیز انٹیگریشن سینٹر‘ کی قیادت سونپی گئی۔ اس عہدے پر تعیناتی کے دوران، مکماسٹر کو بَری فوج کا معمار قرار دیا گیا، جو مستقبل کے کسی کردار ادا کرنے کے لیے تیار دکھائی دیے۔

مکماسٹر نے ’ویسٹ پوائنٹ‘ سے گریجوئیشن کیا اور بعدازاں خلیج کی جنگ کے دوران قائدانہ صلاحیت پر اُنھیں ’سلور اسٹار‘ سے نوازا گیا، جب ’کیولری کمانڈر‘ کے طور پر، اُنھوں نے امریکی ٹینکوں کی مختصر نفری کی قیادت کرتے ہوئے 80 عراقی ٹینکوں کو تباہ کیا۔

عراق لڑائی کے دوران، مکماسٹر نے تیسری ’آرمرڈ کیولری رجمنٹ‘ کی قیادت کی، جس کا مشن ’تال افر‘ شہر سے باغی لڑاکوں کا صفایا کرنا تھا۔

شہر کو خالی کرانے کے لیے، مکماسٹر نے جو حربی اقدامات کیے، اُنھیں مثالی قرار دیا گیا۔

مکماسٹر نے ویتنام جنگ پر ’پی ایچ ڈی‘ کی ڈگری حاصل کی، اور بعدازاں اِسے ’’ڈیوٹی سے غفلت‘ کے عنوان سے کتابی شکل دی گئی، جس میں اُنھوں نے ’جوائنٹ چیفز آف اسٹاف‘ پر تنقید کی کہ وہ صدر لنڈن بی جانسن کو مناسب فوجی مشاورت فراہم کرنے کے فرض کی ادائگی میں ناکام رہے۔

تب سے، تمام فوجی افسران کے لیے اس کتاب کا مطالعہ لازم قرار دیا گیا۔

مکماسٹر، ٹرمپ کے اُن چند مشیروں میں سے ایک ہیں جو ماضی میں فوج کے لیے خدمات بجا لاچکے ہیں۔ ٹرمپ نے ہوم لینڈ سکیورٹی اور دفاع کے وزیروں کے طور پر بھی فوج کے ریٹائرڈ افسران کا چناؤ کیا ہے۔

امریکی بھوتوں کا محل

شاید آپ کویقین نہ آئےلیکن یہ حقیقت ہے کہ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ایک بہت بڑا محل صرف بھوتوں اور روحوں کے رہنے کے لیے بنایاگیا تھا۔ یہ محل نیشنل پارک سروس کے پاس رجسٹرڈ ہے اور حکومت نے اسے کیلی فورنیا کی ایک منفرد تاریخی عمارت قرار دیتے ہوئے اس کے دروازے سیاحوں کے لیے کھول رکھے ہیں۔

بھوتوں کے محل کو دیکھنے، جس کا اصل نام ونچسٹرمسٹری ہاؤس(Winchester Mystery House) ہے، بڑی تعداد میں سیاح جاتے ہیں اور کئی ایک کا کہناہے کہ انہوں نے عمارت کی بھول بھلیوں میں، پراسرار سائیوں کو گھومتے پھرتےدیکھا ہے ، انہیں حیرت انگیز واقعات کا مشاہدہ ہوا ہے اور انہوں نے ڈروانی آوازیں اور روح کی گہرائیوں میں اتر جانے والی چیخیں سنی ہیں۔ ان دعوؤں میں کوئی سچائی ہو یا نہ ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ لگ بھگ 160 کمروں پر مشتمل یہ محل سارا ونچسٹر نے امریکی خانہ جنگی کے دوران ہلاک ہونے والوں کی ناراض روحوں کو خوش کرنے کے لیے بنوایا تھا۔

سارا ونچسٹر کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ امریکی ریاست کنیٹی کٹ کے قصبے نیو ہیون میں 1839 میں پیدا ہونے والی سارا کا شمار اپنے علاقے کی حسین ترین عورتوں میں ہوتا تھا۔ وہ موسیقی کی ماہر تھی، اسے کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا، اور علاقے کی ثقافتی سرگرمیوں میں وہ سب سے آگے ہوتی تھی۔ 1862 میں اس کی شادی علاقے کے ایک انتہائی امیر شخص ولیم ونچسٹر سے ہوئی۔جس کی ہتھیار بنانے کی فیکٹری تھی اور اس کے کارخانے میں بننے والی بندوقیں اس دور کا خودکار اور جدید ترین ہتھیار تھا۔ چونکہ ان دنوں خانہ جنگی اپنے عروج پرتھی، ونچسٹر کی بندوقوں کی بےتحاشہ مانگ تھی اوراس نے بے پناہ دولت کمائی۔

شادی کے تین سال کے بعد ان کے ہاں ایک بچی اینی پیدا ہوئی مگر وہ چند ہی روز میں ایک پراسرار مرض میں مبتلا ہوکر ہلاک ہوگئی۔ بچی کی ہلاکت نے سارا کو دیوانہ بنا دیا اور تقریباً دس سال تک اس پر پاگل پن کی کیفیت طاری رہی۔ جب وہ رفتہ رفتہ اپنی نارمل زندگی کی جانب لوٹنے لگی تواس کاشوہر تپ دق میں مبتلا ہوکر چل بسا۔ سارا کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ ہونہ ہو اس پر یا تو کسی نے جادو کردیا ہے یا پھر روحیں اس کے پیچھے پڑگئی ہیں۔

خاوند کی وفات کے بعد اسے ترکے میں کروڑوں ڈالر کی جائیداد اور اسلحہ ساز فیکٹری کا تقریباً نصف حصہ ملا۔ لیکن اتنی دولت کے باوجود اسے کوئی خوشی حاصل نہیں تھی اور وہ ہروقت پریشان رہتی تھی۔ اسی دوران کسی نے اس کی ملاقات روحوں کے ایک عامل سے کرائی، جس نے چلہ کاٹا اور سارا کو بتایا کہ اس کی ملاقات اس کے خاوند کی روح سے ہوئی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ خانہ جنگی کے دوران ان کی فیکٹری کی بندوقوں سے مرنے والوں کی روحیں سخت برہم اور ناراض ہیں اور اگر انہیں راضی نہ کیا گیا تو وہ سارا کی بھی جان لے لیں گی۔

عامل نے اسے نصحیت کی کہ وہ فوراً یہ شہر چھوڑ دے اور مغرب کی جانب سفر شروع کردے۔ اس سفر میں اس کے خاوند کی روح اس کی راہنمائی کرے گی، اور روح کو جوجگہ پسند آئے، وہاں وہ روحوں کے لیے محل بنانا شروع کردے۔ محل کی تعمیر دن رات جاری رہنی چاہیے، جس بھی لمحے تعمیر کا عمل رکا ، روحیں سارا کو مار ڈالیں گی۔

سارا نے نصحیت پلے باندھی اور اپنی ساری جائیداد بیچ باچ کر مغرب کی جانب سفر شروع کردیا۔ ریاست کیلی فورنیا کے علاقے سانتا کلارا(Santa Clara) میں خاوند کی روح کو ایک زیر تعمیر فارم ہاؤس پسند آ گیا۔ سارا نے 162 ایکڑ کے فارم سمیت یہ گھر خرید لیا اور 22 تعمیراتی ملازم رکھ کر تعمیر شروع کروا دی۔ جو دن رات کے چوبیس گھنٹے، ایک پل رکے بغیر، جب تک وہ زندہ رہی، جاری رہی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ محل کی تعمیر کے لیے کسی آرکیٹکٹ سے کوئی نقشہ بنوایا گیا اور نہ ہی کسی ماہر کو ملازم رکھا گیا۔ سارا نے زیر تعمیر محل میں ایک کمرہ روحوں سے مشاورت کے لیے مختص کررکھا تھا۔ وہ رات کا کچھ حصہ اس کمرے میں گذارتی اورصبح اٹھ کر کارکنوں کو یہ بتاتی کہ آج انہوں نے کیا بنانا ہے ۔سارا کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ محل روحوں کے لیے بن رہا ہے اس لیے یہ انہی کی پسند اور ان کے تجویز کردہ ڈیزائن کے مطابق بنے گا۔

اور واقعی، ونچسٹر ہاؤس یا روحوں کا محل، اتنا ہی پراسرار ہے جتنا کہ روحوں اور جنوں بھوتوں کی کہانیاں۔ محل ایک گورکھ دھندے کی طرح ہے اور اس میں اتنی بھول بھلیاں ہیں کہ اس کے اندر داخل ہونے والے کو باہر نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔ سارا کی موت کے بعد جب کمرے گننے کا عمل شروع ہوا تو ہر بار گنتی مختلف نکلی۔ حتی کہ تاریخی عمارتوں کے محکمے نے بھی اپنے بروشر میں یہ لکھاہے کہ کمروں کی صحیح تعداد کا تعین نہیں کیا جاسکا، لیکن اندازاً وہ 160 کے لگ بھگ ہیں۔

امریکہ میں 13 کے ہندسے کو نحوست کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اکثر لوگ اس تاریخ پرکوئی کام شروع کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اکثر عمارتوں میں 13 ویں منزل نہیں ہوتی، 13 نمبر کے مکان اور گلیاں بھی خال خال دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ونچسٹر ہاؤ س پر 13 کا عدد حاوی ہے۔ وہاں اکثر کمروں میں 13 کھڑکیاں ہیں۔ ہر کھڑکی میں 13 شیشے لگے ہیں۔ ہر دوازے کے 13 پینل ہیں۔ ہر کمرے کے فرش پر 13 ڈیزائن بنے ہیں۔ ماسوائے ایک کے ہر سیڑھی میں Steps کی تعداد 13 ہے۔ ہر ہال کمرے میں 13 محرابیں ہیں۔

بات صرف 13 پر ہی ختم نہیں ہوتی۔ اکثر دروازے اور کھڑکیاں دیواروں پر کھلتی ہیں اور ان کے پیچھے کچھ نہیں ہے۔ کچھ دروازے تو ایسے بھی ہیں جو 13 فٹ گہری کھائی میں کھلتے ہیں۔ بہت سی سیڑھیاں کہیں نہیں جاتیں، اچانک چھت سے ٹکرا کر ختم ہو جاتی ہیں۔ اس پراسرار محل میں 60 بیڈ روم ہیں، 47 آتش دان ہیں، مگر اکثر کی چمنیاں نہیں ہیں، کیونکہ سارا کو ڈر تھا کہ روحیں چمنی کے راستے کمرے میں آجا سکتی ہیں۔ 40 سے زیادہ باتھ روم ہیں۔ کئی راہداریاں ہیں۔لیکن یہ سب چیزیں آپس میں اس طرح جڑے ہوئی ہیں،کہ ان میں داخل ہونے والا راستہ بھول جاتا ہے۔ اتنے بڑے محل میں حیرت انگیز طور آئینے لگانے سے گریز کیا گیا ہے کیونکہ سارا کے خیال میں روحیں آئینہ دیکھ کر ناراض ہو سکتی ہیں۔

محل کی تعمیر کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بہت سے کمرے باربار گرائے اور پھر سے بنائے جاتے رہے تاکہ محل کی تعمیر جاری رہے اور روحیں اس کی جان کے درپے ہو نہ جائیں۔

سات منزلہ محل کی اب صرف چار منزلیں باقی ہیں کیونکہ 1906 کے زلزلے میں اس کی تین منزلیں گر گئی تھیں۔ سارا کا کہنا تھا کہ زلزلہ روحیں لائیں تھیں تاکہ محل مکمل نہ ہونے پائے اور اس کی تعمیر جاری رہے۔

چار ستمبر 1922 کو سارا حسب معمول شام کو روحوں سے ملاقات کے کمرے میں ان سے مشاورت کے بعد سونے کے لیے اپنے بیڈروم میں چلی گئی ۔ لیکن وہ اگلی صبح وہ نہیں اٹھی اور سوتے میں ہی 83 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہوگا۔ 38 سال کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اس دن محل میں کوئی نئی اینٹ نہیں لگی۔

اس کی موت کے بعد وہاں کے ایک مقامی اخبار نے محل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ایک پاگل عورت اپنی بے شمار دولت کو کیسے برباد کرسکتی ہے، ونچسٹر ہاؤس اس کی ایک زندہ مثال ہے۔

ونچسٹر مسٹری ہاؤس کا فضائی منظر

ونچسٹر مسٹری ہاؤس کا فضائی منظر

سارا کی ساری جائیداد اس کی ایک بھتیجی کے حصے میں آئی جسے شک تھا کہ سارا نے اپنی ساری دولت کا سونا خرید کر محل میں کہیں چھپا دیا ہے۔ بہت تگ و دو کے بعد محل کی خفیہ تجوریاں ڈھونڈ کر ان کے تالے توڑے گئے۔ مگر وہاں سے ماسوائے سارا کی بچی اور خاوند کی تصویروں اور ان کے استعمال کی چند معمولی چیزوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ غالباً سارا کی ساری دولت روحوں کے محل پر اٹھ گئی تھی۔

یہودیوں کے خلاف دھمکیاں بند کی جائیں: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ملک بھر میں یہودی مخالف دھمکیوں میں آنے والے حالیہ اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اِسے بند ہو جانا چاہیئے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’یہودیوں کے خلاف دھمکی آمیز رویہ، جس میں ہماری یہودی برادری اور کمیونٹی کے مراکز کو ہدف بنایا جائے، خوفناک اور تکلیف دہ ہیں؛ اور اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اس کام کو ہمیں لازمی طور پر کرنا ہے، جو نفرت، تعصب اور برائی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ضروری ہے‘‘۔

ٹرمپ نے یہ بات منگل کے دِن نیشنل مال پر افریقی امریکنوں کی تاریخ اور ثقافت سے متعلق نئے قومی عجائب خانے کے دورے کے دوران کہی۔

صدر کی جانب سے یہودیوں کے خلاف حملوں کی مذمت کے بیان سے ایک ہی روز قبل ’ازالہ حیثیت عرفی کے انسداد سے متعلق تنظیم (اے ڈی ایل)‘ نے پیر کے روز بتایا تھا کہ کئی ریاستوں میں کم از کم 10 یہودی برادری کے مراکز پر حملے ہوئے ہیں، جو اس سال کے اوائل سے اب تک دھمکیوں کی چوتھی لہر بتائی جاتی ہے۔

’اے ڈی ایل‘ نے کہا ہے کہ اِن مراکز پر دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا اور اِن مبینہ دھمکیوں کو ’’ناقابلِ یقین‘‘ قرار دیا ہے۔

گذشتہ اختتام ہفتہ ریاست مزوری کے شہر ’یونیورسٹی سٹی‘ کے قبررستان میں 170 سے زائد یہودی قبروں کی بے حرمتی کی گئی۔

اے ڈی ایل نے پیر کے روز ایک بار پھر ٹرمپ انتظامیہ سے اس کے ازالے کے لیے منصوبہ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا، جس کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ میں حالیہ دِنوں یہودی مخالف سرگرمی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

گذشتہ بدھ کو واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو کے ہمراہ اخباری کانفرنس کے دوران، ٹرمپ سے امریکہ میں یہودیوں کے خلاف واقعات میں اضافے سے متعلق سوال کیا گیا تھا۔ اِن حرکات کی مذمت کرنے کے برعکس، ٹرمپ نے الیکٹورل کالج میں اپنی انتخابی فتح کے بارے میں بات کی، اور اس سوال کو غیر منصفانہ قرار دیا، جس سے اس ضمن میں تنقید میں مزید اضافہ دیکھا گیا، جب کہ وہ امریکہ میں یہودی مخالف بیانیہ سے متعلق آنے والے بظاہر اضافے پر خاموش رہے ہیں۔

پیر کی صبح، نومبر کے انتخاب میں ٹرمپ کی مدِ مقابل، ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن نے صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ یہودی مخالف بیانات کے خلاف سخت مؤقف اختیار کریں۔

بھارتی کشمیر میں شادی اور تقربیات میں اسراف پر پابندی

یوسف جمیل

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے منگل کو ایک حکم کے ذریعے شادی، ولیمہ اور دوسری سماجی تقربیات میں اسراف، فضول خرچی اور متعلقہ سرگرمیوں میں تجاوز کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

جموں میں ایک نیوز کانفرنس میں صوبے کے وزیرِ خوراک، سِول سپلائز اور امورِ صارفین چوہدری نثار علی نے اعلان کیا کہ نئے گیسٹ کنٹرول آرڈر کا إطلاق سرکاری تقربیات پر بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ضلعی مجسٹریٹوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حکم نامے پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کرائیں تاکہ اِن تقربیات کے دوران کھانے پینے کی چیزوں کے غیر ضروری اور غیر دانش مندانہ استعمال پر پابندی لگا کر، بالخصوص آنے والے شادیوں کے موسم میں غذائی اشیاء کی قلت اور گراں بازاری کو روکا جا سکے۔

حکم نامے کے مُطابق لڑکی کی شادی پر زیادہ سے زیادہ پانچ سو مہمانوں کو دعوت دی جا سکتی ہے جبکہ لڑکے کی شادی کے لئے چار سو کی حد مقرر کردی گئی ہے۔ نیز مہمانوں کے لئے گوشت یا سبزیوں کے زیادہ سے زیادہ سات پکوان تیار کیے جا سکتے ہیں۔

مہمانوں کو زیادہ سے زیادہ دو میٹھے پکوان یا آئس کریم پیش کی جائے گی۔

منگنی کے موقع پر ایک سو سے زیادہ افراد کی میزبانی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اِن تقریبات میں لاؤڈ اسپیکروں اور ایمپلی فائرز کے استعمال اور آتش بازی سے بھی روک دیا گیا ہے۔

لیکن عام لوگوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں جاری کئے گئے اسی طرح کے حکم ناموں کی طرح تازہ گیسٹ کنٹرول آرڑر بھی علاقے بالخصوص وادئ کشمیر میں شادی بیاہ کے موقعوں پر کی جانے والی شاہ خرچیوں، اسراف اور نمائش پر پابندی لگانے میں ناکام ہو جائے گا۔​

اس سے قبل ستمبر 2005 میں بھی صوبائی حکومت نے گیسٹ کنٹرول آرڑر جاری کیا تھا اور یہ اعلان کیا تھا کہ اس کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی مگر صورت حال جوں کی توں رہی۔ لیکن چوہدری نثار علی کا کہنا تھا کہ ہم اس معاملے میں اِنتہائی سنجیدہ ہیں۔ اس کی خلاف ورزی کر نے والوں کو قانون کے شکنجے میں لاتے وقت کسی سے اس کی حیثیت کے پیش نظر کوئی رعائت نہیں برتی جائے گی۔

حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ گیسٹ کنٹرول آرڑر کو جاری کرنے کو ضرورت اس لئے بھی محسوس کی گئی کہ شادیوں کے موسم کے دوران، جو موسمِ بہار کے ساتھ ہی شروع ہوگا، وادئ کشمیر میں بکرے کے گوشت کے قلت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔

محکہ خوراک کے اعدادوشمار کے مُطابق، مقامی پیداوار کے علاوہ دِلی اور بھارت کی دوسری منڈیوں سے سالانہ 400 مِلین ہندوستانی روپئے کی مالیت کی بھیڑ بکریاں وادئ کشمیر میں درآمد کی جاتی ہیں۔

وازوان کہلانے والی تقریب میں عام طور پر سات سے اکیس اور بعض اوقات خاص طور پر جب دلہا اور اس کے ساتھ چالیس سے ڈیڑھ سو تک باراتیوں کی تواضع کے لیے اعلیٰ قسم کے کھانے تیار کرائے جاتے ہیں اور اس کے علاوہ مہمانوں کی خاطر مدارات قیمتی مشروبات، خشک میوہ جات اور مٹھائیوں سے کی جاتی ہے۔ ان شاہ خرچیوں اور اصراف پر ماضی میں سماجی، مذہبی اور سیاسی جماعتوں اور قائدین بھی آواز اٹھاتے رہے ہیں، لیکن لوگوں پر اس کا اثر کم ہی ہوتا ہے۔

لیبیا کے ساحل پر 74 تارکین وطن ڈوب گئے

لیبیا کی ریڈ کریسنٹ نے کہا ہے کہ ملک کے شمالی ساحلی علاقے سے کم ازکم 74 افریقی تارکین وطن کی نعشیں ملی ہیں۔

ریڈ کریسنٹ کے ترجمان محمد المصراتی کا کہنا ہے کہ پیر کے روز بحیرہ روم کے ساحلی قصبے زاویہ کے قریب ربڑ کی ایک شکستہ کشتی ملی۔

انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی کشتیاں عموماً 120 مسافرو ں کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اس لیے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو جانے والوں کی مزید نعشیں مل سکتی ہیں۔

المصراتی کا کہنا تھا کہ تارکین وطن کی نعشوں کو دارالحکومت طرابلس میں واقع ایک مرکز میں پہنچا دیا گیا ہے جو ناقابل شناخت لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے۔

لیبیا کے ساحلی محافظوں نے کہا ہے کہ جمعے اور ہفتے کے روز زاویہ کے ساحلی علاقے میں 500 سے زیادہ تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچایا لیا گیا۔

حالیہ مہینوں میں انسانی اسمگلنگ کی اس اہم گذرگاہ میں تارکین وطن کی ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یورپی سرحد اور ساحلی تحفظ سے متعلق ایک ادارے کے ڈائریکٹر فیبریس لیگری نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ گذشتہ سال بحیرہ روم کے راستے لیبیا سے اٹلی اسمگل کیے جانے والے 4579 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس سے ایک سال پہلے کی تعداد 2869 کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

لیبیا کی حریف حکومتیں اور وہاں کے بہت سے نیم فوجی گروپس انسانی اسمگلنگ سے دولت کما رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کو تشدد کا نشانہ بنانے اور ان سے جبری مشقت لینے کے شواہد بھی موجود ہیں۔

سن 2011 میں خانہ جنگی کے دوران لیبیا کے ڈکٹیٹر معمر قذافی کے قتل کے بعد سے اس ملک میں بڑے پیمانے پر لاقانونیت کا راج رہا ہے۔

بھارت: شادی کے اخراجات محدود کرنے کا بل

انجنا پسریجا

بھارت میں جہاں متوسط طبقے کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے وہاں اب شادی بیا ہ کی تقربیات میں نمودونمائش اور اصراف کے مظاہرے ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ یہ تقربیات عموماً مہنگے ہوٹلوں میں منعقد کی جاتی ہیں جن میں بڑی تعداد میں مہمانوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔

حال ہی میں ریاست بہار سے تعلق رکھنے والی ایک رکن پارلیمنٹ رنجیت رنجن نے ایک شادی بیاہ سے متعلق ایک نیا بل پیش کیا ہے جسے اخراجات پر لازمی پابندی کا بل 2016 کا نام دیا گیا ہے۔

بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ شادی پر ساڑھے سات ہزار ڈالر سے زیادہ خرچ کرنے والے شخص کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ حکومت کو 10 فی صد ٹیکس ادا کرے۔ ٹیکس سے حاصل ہونے والے رقم غریب لڑکیوں کی شادی کے لیے استعمال کی جائے گی۔

بل میں مہمانوں اور شادی کی دعوت میں پیش کیے جانے والے کھانوں کی تعداد مقرر کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔

رنجن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ بل پیش کرنے کا مقصد اس شديد معاشرتی دباؤ میں کمی لانا ہے جس کا سامنا بالخصوص متوسط طبقے کو کرنا پڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شادی بیاہ میں شان وشوکت اور دولت کی نمائش معاشرتی معیار بن گیا ہے اور لوگ اپنے بچوں، خاص طور پر بیٹی کی شادی کے لیے اپنی زمین، گھر اور جائیداد تک بیچ ڈالتے ہیں اور بھاری قرضے لیتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق بہت سے بھارتی والدین اپنے بچوں کی شادی پر 50 ہزار سے ایک لاکھ ڈالر تک خرچ کرتے ہیں۔

بھارت میں ہر سال تقریباً ایک کروڑ شادیاں ہوتی ہیں جن پر ایک محتاط تخمینے کے مطابق 5 ارب ڈالر اٹھتے ہیں۔

اعدادوشمار یہ ظاہر کرتے ہیں شادی بیاہ کے اخراجات میں سالانہ 30 فی صد اضافہ ہو رہاہے۔

رکن پارلیمنٹ رنجیت رنجن کا کہنا ہے کہ لوگ اس صورت حال سے تنگ آ چکے ہیں اور شادی بیاہ کے اخراجات میں کمی کا وہ خیرمقدم کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ لوگوں کی جانب سے انہیں خوشگوار رد عمل مل رہا ہے اور وہ قانونی تحفظ حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعت کانگریس سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے بل پر بھرپور حمایت حاصل ہے اور وہ مارچ سے شروع ہونے والے اسمبلی کے سیشن میں زیر بحث آسکتا ہے۔

حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ابھی اس بل پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا۔

خواتین پر تیزاب سے حملوں کی شرح میں کمی

پاکستان میں گزشتہ برس تیزاب گردی یا تیزاب سے حملوں کے واقعات میں 2014ء کے بعد سے مجموعی طور پر 50 فیصد کمی دیکھی گئی جو کہ ماہرین کے بقول ایک مثبت رجحان کو ظاہر کرتی ہے لیکن اسی عرصے میں خواتین پر حملوں کی شرح میں اضافہ بھی دیکھا گیا۔

تیزاب کے حملوں سے متاثر ہونے والوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم “ایسڈ سروائیورز فاؤنڈیشن” نے خواتین سے متعلق قومی کمیشن اور یورپی یونین کے اشتراک سے مرتب کردہ رپورٹ حال میں جاری کی جس میں تیزاب گردی کی اس شرح کی طرف نشاندہی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 2014ء کے مقابلے میں گزشتہ سال تیزاب سے حملوں کے واقعات میں 51.91 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

تاہم جہاں مجموعی طور پر اس شرح میں کمی دیکھی گئی وہیں رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ مرد متاثرین کی نسبت خواتین کے تیزاب سے متاثر ہونے کی شرح میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق 2014ء میں تیزاب کے حملوں سے 66.19 فیصد متاثر ہونے والی خواتین تھیں جب کہ مردوں کی شرح 32.85 تھی۔ 2015ء میں خواتین کی شرح 67.3 جب کہ مردوں کی شرح 32.6 رہی۔

گزشتہ برس کے اعداد و شمار میں خواتین کی شرح 69.9 جب کہ مردوں 26.21 فیصد تھی۔

نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن خاور ممتاز کہتی ہیں کہ مجموعی شرح میں کمی ایک مثبت بات ہے لیکن خواتین پر تیزاب سے حملوں کی شرح کا زیادہ ہونا اب بھی ایک تشویشناک امر ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کس طرح خواتین کے خلاف ایسے واقعات کو کم کیا جائے۔

رپورٹ میں مجموعی صورتحال میں بہتری کو اس ضمن میں بنائے گئے قوانین اور ان کے اطلاق سے جوڑا گیا لیکن ساتھ ہی اس بارے میں مزید اقدام کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

خاور ممتاز کہتی ہیں کہ قانون بن جانے کے بعد اس کے نفاذ پر توجہ دینے سے ہی معاملات بہتری کی طرف جا سکتے ہیں جیسے کہ اس بارے میں دیکھنے میں آیا ہے۔

“ہمارے ہاں قانون بنتے ہیں اور ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اس پر عمل نہیں ہو رہا لیکن چونکہ اس قانون کے ساتھ ایک لائحہ عمل بنا لیا گیا ہے اس کے تحت ہمیں لگتا ہے کہ اس کی اب نگرانی ہو رہی ہے اور اس پر احتساب کا بھی سایہ ہے۔۔۔پورا ایک نیٹ ورک ہے سول سوسائٹی اور کمیونٹی کا اور پولیس والے بھی فون کر کے بتاتے ہیں تو پوری ایک حکمت عملی بن گئی ہے اس کی۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب نہ صرف تیزاب کے حملوں کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں بلکہ اس طرف بھی توجہ دی جاتی ہے کہ متاثرین کو بروقت طبی امداد ملے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ خاص طور پر خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ کے لیے موثر قانون سازی کے علاوہ اس کے موثر نفاذ کے لیے بھی پرعزم ہے۔

حکمران جماعت کی رکن قومی اسمبلی مائزہ حمید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا۔

“وزیراعظم مُصر ہیں کہ قوانین کا اطلاق بھی ہو تو جب یہ نافذ ہو رہے ہیں تو اس سے جو پیغام جا رہا ہے لوگوں تک تو وہ ایسے غلط کام کرنے میں ان کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے جیسے کہ تیزاب گردی کے معاملے میں بھی دیکھا گیا ہے۔”

پاکستان میں 2011ء میں متعارف کروائے گئے قانون کے مطابق تیزاب سے حملوں کے مرتکب مجرم کو 14 سال قید کی سزا ہوگی جب کہ اب اسے عمر قید تک بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

افغان سفیر کی پاکستانی حکام سے ’تعمیری بات چیت‘

پاکستان میں افغانستان کے سفیر حضرت عمر زخیلوال نے پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں پائی جانے والی حالیہ کشیدگی میں کمی کی توقع کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان نے افغانستان میں روپوش ’دہشت گردوں‘ سے متعلق ایک فہرست افغان عہدیداروں کو فراہم کرتے ہوئے، اُن شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کے جواب میں پیر کی شب افغان وزارت خارجہ نے بھی پاکستان میں موجود افغان شدت پسندوں اور اُن کے مبینہ ٹھکانوں سے متعلق ایک فہرست پاکستان کو فراہم کی۔

افغان سفیر حضرت عمر زخیلوال نے ایک بیان میں کہا کہ اُنھوں نے پیر کو دستاویزات پاکستانی وزارت خارجہ اور فوج کے صدر دفتر ’جی ایچ کیو‘ کو پہنچا دی ہیں۔

سفیر عمر زخیلوال کے مطابق اُن کی پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور ’جی ایچ کیو‘ میں تعمیری بات چیت ہوئی۔

اُنھوں نے پاکستانی عہدیداروں سے بات چیت کے بعد اس توقع کا اظہار کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی میں جلد کمی کے ساتھ ساتھ، ایسا مثبت ماحول بھی پیدا ہو جس میں تعاون کے انداز میں ایک دوسرے کے تحفظات کا جواب دیا جا سکے۔

افغان سفیر کے بیان میں کہا گیا کہ ہم نے آگے بڑھنے کے ایک راستے پر اتفاق کیا ہے، تاہم اُنھوں نے اپنے بیان میں اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

پاکستان نے اپنے ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد نا صرف افغانستان سے اپنی سرحد ہر طرح کی آمد و رفت کے لیے بند کر دی تھی بلکہ سکیورٹی کے انتظامات بھی مزید بڑھا دیئے گئے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق پیر کو پاکستان نے مزید بھاری توپ خانہ بھی افغان سرحد کے قریب اپنے علاقوں میں پہنچا دیا۔

اُدھر اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پیر کو پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں بتایا کہ سرحد پار افغانستان میں بھی دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی فورسز کارروائی کر سکتی ہیں۔

تاہم اجلاس میں موجود پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اسحاق ڈار نے ایوان کو یہ بتایا تھا کہ ایسی کارروائیاں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعاون سے کی جائیں گی۔

’’وہ (اسحاق ڈار) یہ کہہ رہے تھے ہمیں یہ مل جل کرنا ہے، ہم سرحد کی اس طرف بھی (شدت پسندوں کے خلاف کارروائی) کریں گے اور اُس طرف بھی کریں گے۔۔۔۔۔ افغانستان میں بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں افغان حکومت کارروائی نہیں کر سکتی، مطلب اُن کی عمل داری وہاں نہیں ہے۔ لیکن اگر تعاون ہو گا تو ہم مل کر ایسی (کارروائیاں) کر سکتے ہیں۔‘‘

تجزیہ کار ظفر جسپال کہتے ہیں کہ ایسی باتیں بھی کی جا رہی ہیں کہ اگر افغانستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتا تو پاکستان یکطرفہ طور پر سرحد پار شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

’’یہ جو سرحد پار کارروائی کی بات کی جا رہی ہے، لیکن اس سے یہ ہو گا کہ دونوں ملکوں کے درمیان عدم اعتماد مزید بڑھ جائے گا اور افغانستان بھی اس معاملے کو اٹھائے گا کہ اُس کی سرحدی خود مختاری کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔‘‘

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پیر کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا تھا کہ افغانستان سے ملحقہ سرحد پر سکیورٹی بڑھانے کا مقصد مشترکہ دشمن سے لڑنا ہے۔

پاناما لیکس: ایف بی آر اور نیب چیئرمین سے کڑے سوالات

پاکستان کی عدالت عظمٰی کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما پیپرز میں ہونے والے انکشافات سے متعلق دائر درخواستوں کی جب منگل کو سماعت شروع کی تو قومی احتساب بیورو ’نیب‘ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو ’ایف بی آر‘ کے سربراہان عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نے ’ایف بی آر ‘ کے چیئرمین ڈاکٹر ارشاد سے سخت سوال کیے کہ اُن کے ادارے نے پاناما لیکس کے سامنے آنے کے بعد اب تک کیا اقدامات کیے ہیں۔

چیئرمین ’ایف بی آر‘ ڈاکٹر ارشاد نے بتایا کہ پاناما کے ساتھ اس ضمن میں براہ راست معلومات کے حصول سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہے لیکن اُن کے بقول پاکستان کی وزارت خارجہ کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جس پر پانچ رکنی بینچ نے کہا کہ کئی ماہ گزر جانے کے باوجود محض رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عدالت نے ’ایف بی آر‘ کے سربراہ سے یہ بھی پوچھا کہ پاناما لیکس میں جن پاکستانی شخصیات کی آف شور کمپنیوں کے نام سامنے آئے کیا اُنھیں نوٹس بجھوائے گئے، تو ڈاکٹر ارشاد نے کہا کہ وزیراعظم کے تین بچوں بیٹی مریم نواز، بیٹوں حسین اور حسن نواز سمیت 343 افراد کو ’ایف بی آر‘ نے نوٹس بجھوائے۔

ڈاکٹر ارشاد نے بتایا کہ مریم نواز نے اپنے جواب میں بتایا کہ نا تو وہ کسی آف شور کمپنی کی مالک ہیں اور نا ہی بیرون ملک اُن کی کوئی جائیداد ہے۔

جب کہ حسین نواز اور حسن نواز نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے بیرون ملک مقیم ہیں جہاں وہ کارروبار کر رہے ہیں۔

’ایف بی آر‘ کی طرف سے اس معاملے پر سست روی پر عدالت عظمٰی نے برہمی کا اظہار کیا۔

جب چیئرمین ’نیب‘ قمر زمان چوہدری پانچ رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے تو اُن سے بھی یہ ہی پوچھا گیا کہ قومی احتساب بیورو نے اب تک اس بارے میں کیا کارروائی کی ہے۔

تاہم عدالت چیئرمین نیب کے جوابات سے مطمئن نظر نہیں آئی۔

منگل کو ہی اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے بھی دلائل دیئے، سماعت بدھ کو ملتوی کر دی گئی اور عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ وہ بدھ کو اپنے دلائل مکمل کریں۔

شمالی کوریائی باشندے کی موت کی وجہ کا تعین نہیں ہو سکا

ملائیشیا میں محکمہ صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تاحال شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ اُن کے سوتیلے بھائی کی موت کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔

وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ نور حشام عبداللہ نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ کم جونگ نام کے پوسٹ مارٹم سے حاصل کردہ نمونے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ ان کی موت کی اصل وجہ اور ان کے رشتے داروں کی نشاندہی ہو سکے۔

ان نمونوں سے یہ پتا چلانے کی بھی کوشش کی جائے گی کہ آیا کم کو زہر دیا گیا یا نہیں، لیکن تاحال یہ معلوم نہیں کہ اس سارے عمل میں کتنا وقت صرف ہو گا۔

نور حشام کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم میں “حرکت قلب بند ہونے” کے شواہد نہیں ملے اور نہ ہی “جسم پر زخموں کے نشان” پائے گئے۔

ان کے بقول معائنہ کاروں کے پاس لاش سے حاصل کردہ جینیاتی نمونے (ڈی این اے)، انگلیوں کے نشانات اور دانتوں سے متعلق معلومات موجود ہے، لیکن تاحال ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں کہ جس میں مرنے والوں کی اپنے خاندان سے خط وکتابت کا پتا چلتا ہوں اور اسی بنا پر ابھی تک وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ مرنے والا کم جونگ نام تھا۔

“ابھی تک کسی نے بھی ان کے رشتے دار ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔”

پیر کو شمالی کوریا کے کوالالمپور میں سفیر کانگ چول نے مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا تھا کہ شمالی کوریا “ملائیشیا کی پولیس کی تفتیش پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔”

اس پر ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے اپنے ردعمل میں کہا کہ “شمالی کوریا کے باشندوں کے بارے میں کچھ برا تاثر دینے کی” ان کے ملک کے پاس کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔

انھوں نے اس معاملے کی تفتیش پر پوری طرح سے اعتماد کا اظہار کیا۔

45 سالہ کم جونگ نام کے بارے میں یہاں خیال کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے گزشتہ ہفتے کوالالمپور ایئرپورٹ پر دو خواتین نے زہر دیا تھا۔

اس سلسلے میں ملائیشیا کی پولیس دو خواتین سمیت چار افراد کو حراست میں لے چکی ہے۔

پنجاب میں رینجرز کی مدد سے کارروائی کا فیصلہ، علاقوں کا تعین ہونا باقی

پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد جہاں ملک بھر میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن جاری ہیں، وہیں اب ملک کے سب سے گنجان آباد صوبہ پنجاب میں رینجرز کے تعاون سے آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تاہم صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ سلامتی سے متعلق صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے قائم ’ایپکس کمیٹی‘ یہ واضح کرے کہ رینجرز کن علاقوں میں کارروائی کریں گے۔

واضح رہے کہ چاروں صوبوں میں ’ایپکس کمیٹیاں‘ قائم ہیں جن میں وزیراعلیٰ اور کور کمانڈز سمیت تمام متعلقہ اداروں کے اعلیٰ عہدیدار شامل ہوتے ہیں۔

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے اس بارے میں مختلف نشریاتی اداروں سے گفتگو میں کہا کہ یہ تمام فورسز کی ذمہ داری ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کے کارروائی کی جائے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ اور رینجرز ایکٹ کے تحت رینجرز کو بلایا گیا ہے اور اُنھیں ’سرچ اور گرفتار‘ کرنے کی اختیار حاصل ہوں گے۔

تاہم اُنھوں نے واضح کیا کہ یہ مشترکہ کارروائیاں ہوں گی جن میں انٹیلی جنس ایجنساں، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور رینجرز شامل ہوں گے۔

صوبائی حکومت کی طرف سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ رینجرز کو کتنی مدت کے لیے یہ اختیارات دیئے گئے ہیں تاہم رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اس مدت میں توسیع کی جاتی رہے گی اور جب تک ضرورت ہو گی رینجرز سول فورسز کی مدد کرتے رہیں گے۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ رینجرز کی کارروائیوں میں توجہ صوبے کے اُن جنوبی علاقوں میں دی جائے گی، جن کی سرحدیں دیگر صوبوں سے ملتی ہیں۔

پاکستان میں مختلف حلقوں بشمول حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے صوبہ پنجاب، خاص طور پر اس صوبے کے جنوبی اضلاع میں رینجرز کی کارروائی کے مطالبات کیے جاتے رہے ہیں۔

گزشتہ سال اپریل میں صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقوں میں سرگرم جرائم پیشہ گروہ ’’چھوٹو گینگ‘‘ کے خلاف جب پولیس کو کامیابی نہیں ملی تو فوج نے کارروائی کی تھی جس کے بعد اس گینگ کے سربراہ غلام رسول نے فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔