اخبار

کوئٹہ: مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس افسر ہلاک

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نا معلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے ایک ڈپٹی سپریٹینڈنٹ پولیس کو ہلاک کر دیا جب کہ اس حملے کے دوران ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر زخمی بھی ہو گیا۔ پولیس حکام کے مطابق ڈپٹی سپریٹینڈنٹ پولیس ’ڈی ایس پی‘ ہیڈ کوارٹر عمر الرحمان اپنے بھتیجے اے ایس آئی بلال شمس الرحمان کے ہمراہ پیر کی شام کو نماز مغرب کی ادائیگی کے لیے قریبی مسجد جا رہے تھے اور جیسے ہی وہ مسجد کے مرکزی دروازے پر پہنچے تو ایک موٹر سائیکل پر سوار دو نا معلوم نقاب پوش مسلح افراد نے اُن پر فائرنگ شروع کر دی جس سے دونوں شدید زخمی ہو گئے۔ دونوں زخمیوں کو فوری طور پر پہلے سول اور بعد میں مسلح افواج کے اسپتال ’سی ایم ایچ‘ منتقل کیا گیا جہاں عمر الرحمان زخموں کی تاب نہ لا تے ہوئے دم توڑ گئے، جب کہ اُن کے بھتیجے اے ایس آئی بلال شمس الرحمان تاحال اسپتال میں زیر علاج ہیں، لیکن اُن کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔ ڈپٹی سپریٹینڈنٹ پولیس عمر الرحمان 2013 میں پولیس لائن میں پولیس افسران پر ہونے والے خود کش حملے میں شہید ہونے والے ’ڈی ایس پی‘ ہیڈ کوارٹر شمس الرحمان کے بھائی تھے جب کہ زخمی ہونے والے بلال شمس الرحمان کے بیٹے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں رواں سال کے دوران پولیس افسران پر ہونے والا یہ چوتھا حملہ ہے جس میں پولیس کے ایک سب انسپکٹر سمیت تین اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

Read More »

بنگلہ دیش میں سمندری طوفان، لاکھوں افراد متاثر

بنگلہ دیش کے جنوبی ساحلی علاقوں میں سمندری طوفان ’مورا‘ سے سینکڑوں خستہ حال گھر تباہ ہو گئے ہیں جب کہ لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔ ’مورا‘ نامی سمندری طوفان چٹاگانگ شہر اور کاکس بازار کے درمیان منگل کی صبح ٹکرایا اور ساحلی علاقوں میں 135 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں۔ حکام کے مطابق پیر کو تین لاکھ افراد کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا گیا اور مختلف اضلاع میں 100 شیلٹر یا عارضی کیمپ بنائے گئے ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ لگ بھگ 10 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جا سکتا ہے جس کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں، جب کہ امدادی سرگرمیوں میں 20,000 رضا کار حصہ لیں گے۔ جانی نقصان سے متعلق فوری طور پر اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔ خدشہ ہے کہ لاکھوں روہنگیا مسلمان جو پڑوسی ملک میانمار سے بنگلہ دیش منتقل ہوئے وہ اس طوفان سے متاثر ہو سکتے ہیں کیوں کہ وہ خستہ حال گھروں میں مقیم ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق کاکس بازار ضلع میں لگ بھگ 300,000روہنگیا مسلمان مقیم ہیں۔ اُدھر پڑوسی ملک سری لنکا میں بارشوں اور مٹی کے تودے گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 180 ہو گئی ہے۔ سری لنکا میں آفات سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق 100 افراد لاپتہ ہیں جب کہ ملک کے جنوب اور مغرب میں 75,000 افراد کو عارضی امدادی کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے جس کے بعد امدادی سرگرمیوں کو فوری طور پر شروع کرنے ضرورت ہے۔ سری لنکا میں سیلاب سے مجموعی طور پر 550,000 افراد متاثر ہوئے اور اُن کی مدد کے لیے فوج نے ہوائی جہاز اور کشتیاں استعمال کیں۔

Read More »

گرفتاری کی وجہ شراب نہیں تھی: ٹائیگر ووڈز

امریکہ کے معروف گالفر ٹائیگر ووڈز نے کہا ہے کہ یہ نسخے کے مطابق حاصل کی گئی ادویہ کا "غیر متوقع ردعمل" تھا نہ کہ شراب جو نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کے شبے میں ان کی گرفتاری کا باعث بنا۔ پولیس نے پیر کو علی الصبح فلوریڈا کے علاقے جوپیٹر میں ٹائیگر ووڈز کو گرفتار کیا تھا اور کئی گھنٹوں کے بعد انھیں ذاتی تحریری یقین دہانی کے بعد رہا کر دیا۔ ایک بیان میں ووڈز کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اس فعل کی سنگینی کو سمجھتے ہیں اور اس کی پوری ذمہ داری لیتے ہیں۔ "مجھے علم نہیں تھا کہ ادویہ کا آمیزش مجھ پر اس شدید حد تک اثر انداز ہو گی۔" ووڈز کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے پولیس سے مکمل تعاون کیا اور ان کی پیشہ وارانہ کارکردگی پر انھیں سراہا۔ 41 سالہ ووڈز حالیہ تاریخ کے مایہ ناز گالفرز میں شمار ہوتے ہیں لیکن 2008ء کے بعد سے وہ کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں جیت سکے۔ وہ تقریباً 700 ہفتوں تک عالمی نمبر ایک گالفر رہے لیکن اب ان کا نمبر 876 ہے۔ حالیہ برسوں میں ووڈز کو متعدد بار اپنی کمر کی سرجری سے گزرنا پڑا جس کے باعث وہ مختلف ٹورنامنٹس میں شرکت نہیں کر سکے۔

Read More »

چلی: دنیا کی سب سے بڑی دوربین کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

اس علاقے کی فضا بہت خشک ہے جس کی وجہ سے یہ علاقہ زمین کے کسی بھی مقام کی نسبت کائنات کو بہت زیادہ بہتر طور پر دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فضائی تحقیق سے متعلق سن 2020 تک تعمیر کی جانے والی 70 فی صد تنصیبات اسی علاقے میں بنائی جا رہی ہیں۔

Read More »

سرحد کی بندش سے پاک افغان تجارت شدید متاثر

موسم گرما کے دوران دونوں ملکوں میں پھل اور سبزیوں کی بہار آتی ہے۔ عام حالات میں، سال کے ان ایام میں افغانستان کا انار اور انگور پاکستان پہنچ جاتا ہے؛ جب کہ پاکستان کا آم اور سبزی دوسری سمت جاتی ہے۔ ساتھ ہی، کئی دیگر اشیا بھی دوطرفہ تجارت کا حصہ بنتی ہیں، جِن میں سے کچھ جائز تو کچھ ناجائز ہوتی ہیں

Read More »

امریکی خواتین کا ہال آف فیم

جب ہم ہال آف فیم میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں ہمیں خواتین کے حقوق کی علمبردار سوزن ایتھونی کا پلیٹ فارم دکھائی دیتا ہے ۔ وہ 1872 میں ایک ایسے وقت میں جب خواتین کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا ، اپنا ووٹ ڈالنے پر ایک سو ڈالر کے جرمانے کے الزام میں عدالت میں پیش ہوئی تھیں ۔

Read More »

میکخواں، پوٹن پہلی ملاقات میں ’’روسی پروپیگنڈہ‘‘، شام زیرِ بحث

فرانسیسی صدر نے ’رشیا ٹوڈے‘ ٹیلی ویژن اور ’اسپیوٹنک‘ ملٹی میڈیا کو ’’پروپیگنڈہ‘‘ کے ہتھکنڈے قرار دیا ہے۔ میکخواں کی انتخابی مہم کے خلاف ہونے والے مبینہ سائبر حملوں کا تعلق بھی روس ہی سے جوڑا جاتا ہے

Read More »

’روشنی کا دیوتا‘ پاکستان میں توانائی کے بحران کا پسندیدہ حل

بہاولپور میں ملک کے پہلے سولر پاور پروجیکٹ کا افتتاح ہو چکا ہے۔ اس پروجیکٹ سےابتداء میں 100 میگا واٹ اور بعدازاں 1000 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی، جبکہ ماہرین کے بقول، شمسی توانائی کے ذریعے پاکستان میں سات لاکھ میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی استعداد موجود ہے

Read More »

جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی خطرناک دوڑ: پہلا حصہ

(شبّیر جیلانی) پاکستان میں نواز شریف حکومت نے اپنا پانچواں بجٹ پیش کر دیا ہے۔اس بجٹ میں دفاعی اخراجات میں لگ بھگ 9 فیصد کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ یوں دفاعی بجٹ کیلئے کل 9.2 ارب ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے جو ملک کے GDP کے 2.3 فیصد کے برابر ہے۔ اُدھر بھارت نے بھی اس سال فروری میں 2017-18 کیلئے دفاعی بجٹ کا اعلان کیا جو 53.5 ارب ڈالر ہے۔ یہ بھارت کے GDP کا 1.56 فیصد ہے۔ تاہم بھارت کا GDP پاکستان کے مقابلے میں 8 گنا زیادہ ہے۔بھارت کی معیشت مسلسل سات فیصد سے زائد شرح کے ساتھ ترقی کر رہی ہے جبکہ پاکستان کی معیشت مسلسل بحرانوں کا شکار رہنے کے باعث ترقی کی شرح محض 4-4.5 کے درمیان ہی رہی ہے۔ جنوبی ایشیا کے ان دونوں ملکوں کے دفاعی اخراجات کے بارے میں دنیا بھر میں بالعموم اور امریکہ اور چین میں بالخصوص بے پناہ دلچسپی پائی جاتی ہے جس کی کلیدی وجوہات میں دونوں ملکوں کا ایٹمی قوت ہونا اور اس خطے میں موجود دیگر سیکورٹی خدشات ہیں۔ اعدادوشمار سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بھارت جدید اسلحہ کی خریداری کے سلسلے میں زیادہ وسائل رکھتا ہے جبکہ پاکستان کو اپنی دفاعی ضروریات کیلئے امریکہ اور چین کی  مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ پاکستان اور بھارت کے مابین دو جنگیں اور کرگل کا معرکہ ہو چکا ہے  اور جنوبی ایشیا  میں سیکورٹی کے خدشات بدستور موجود ہیں ، دفاعی اخراجات اور جدید اسلحہ کی خریداری میں بڑی حد تک مقابلہ بازی کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ دفاعی اخراجات میں مسلسل اضافے  کی  اصل وجہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ ہے یا پھر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا۔ اس سلسلے میں پہلے بھارت کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں۔ بھارت میں دفاعی حکمت عملی کے دو اہم پہلو دکھائی دیتے ہیں جن میں دفاعی صلاحیت کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور اسٹریٹجک بنیادوں پر مقابلہ بازی شامل ہیں۔ رواں مالی سال کے دفاعی بجٹ کی تفصیلات واضح طور پر ان دونوں پہلوؤں  کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ سب سے پہلے تو بھارتی مسلح افواج کے پاس موجودفرسودہ اسلحے کی جگہ فوج کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ موجودہ  اسلحے کی فرسودگی کو ختم کیا جا سکے۔ یوں اس کی جگہ خریدا گیا نیا اسلحہ زیادہ جدید ہو گا جس سے دفاعی صلاحیت بھی بہتر ہو گی۔ تاہم دفاعی ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ فرسودگی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے لڑاکا ہتھیاروں کی اشد ضرورت ہو گی  جو بھارت کی حربی صلاحیت کے معیار کو بھی بلند درجے تک لیجا سکے۔بھارت کے انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انیلسز سے وابستہ دفاعی امور کے ماہر ریٹائرڈ بریگیڈئر گرمیت کنول کا کہنا ہے کہ بھارت اس وقت مؤخر الذکر اقدام کا متحمل نہیں ہو پا رہا کیونکہ فی الوقت تمام دستیاب دفاعی وسائل اسلحے کی فرسودگی کو ختم کرنے پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی موجودہ حکومت نے حربی صلاحیت کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے کچھ کوششیں شروع تو کی ہیں لیکن اُن کی رفتار انتہائی سست ہے۔ اگر بھارت کی دفاعی خریداری کے رجحان کو دیکھا جائے تو جدید اسلحے کے حصول کے زیادہ  تر اقدامات توپ خانے کے شعبے میں دکھائی دیتے ہیں۔1986 میں بوفرز 155 بھاری توپیں متعارف کرائے جانے کے بعد اس سال امریکہ سے سینکڑوں  جدید ترین M777 توپوں کے آرڈر دئے جا چکے ہیں۔ تاہم اب بھی کئی ہزار فرسودہ بوفر گنز توپ خانے کا حصہ ہیں۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ MBT ٹینک اور فضائیہ کے مگ 27 خاصی حد تک فرسودہ ہو چکے ہیں اور اُن کی جگہ جدید تر ٹینکوں اور جہازوں کے حصول کیلئے خاطر خواہ کوششیں دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ اسی طرح امریکہ سے جدید ترین گلوب ماسٹر، اپاچی، چنوک  اور روس سے کیموف ہیلی کاپٹروں کے معاہدے ہو چکے ہیں لیکن اُنکی ترسیل ابھی شروع نہیں ہوئی ہے۔ تاہم زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ اگنی VI میزائلوں کی تیاری مکمل ہو چکی ہے اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ ایک یا دو سال کے اندر یہ فوج کے حوالے کر دئے جائیں گے۔ ان میزائلوں کی فراہمی کے بعد کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فارغ کر دئے جائیں گے۔ 3,500 کلومیٹر تک مار کرنے والے بیلسٹک مزائل جانچ کے مرحلے سے گزر رہے ہیں اور جلد ہی فوج کے حوالے کر دئے جائیں گے۔ بھارت نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق اسٹریٹجک پلاننگ شعبہ تشکیل دے دیا ہے اور جوہری ہتھیاروں کو 5,000 کلومیٹر دور تک لیجانے کی صلاحیت کے حامل بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کا کام  بھی جاری ہے۔ ان تمام اقدامات کے باوجود بظاہر بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل  سے متعلق بیانیے میں فی الوقت کوئی تبدیلی محسوس نہیں کی جا رہی ہے۔   تاہم پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک مقابلے بازی کی فضا  بھی بدستور موجود ہے۔ لیکن کشمیر کے معاملے میں بھارت کی حکمت عملی واضح طور پر تبدیل ہو گئی ہے۔ بھارت میں تاثر یہ ہے کہ بھارتی  کشمیر میں جاری مزاحمت اب ’پراکسی وار ‘ نہیں رہی اور مبینہ طور پر اس میں پاکستان ’براہ راست   ملوث ‘ ہو چکا ہے۔لہذا بھارت اب کشمیر میں جارحانہ انداز اختیار چکا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ برس اوڑی میں ایک بھارتی فوجی اڈے پر حملے کے بعد بھارت نے دعویٰ کیا کہ اُس کی فوج نے کنٹرول کے پار پاکستانی کشمیر کے علاقے میں سرجیکل اسٹرائیکس کیں تاہم پاکستانی فوج نے اس سے انکار کیا ہے۔   کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت کا دعویٰ درست ہے تو اُسے اس کا ثبوت پیش کرنا چاہئیے لیکن وہ اب تک ایسا نہیں کر پایا ہے۔ بھارتی دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ جامع مزاکرات  بھی اُس وقت تک منقطع رکھے جائیں گے جب تک بقول اُس کے سرحد پار سے دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہو جاتا۔لیکن غیر جانبدار تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے رویے میں اس تبدیلی کی ایک وجہ پاکستان کی چین سے بڑھتی ہوئی قربت بھی ہے۔ بھارت میں پاکستان۔چین اقتصادی راہداری منصوبے کے بارے میں  خاصی پریشانی پائی جاتی ہے۔ جاری ہے۔۔۔۔۔

Read More »

میموریل ڈے: سابقہ فوجیوں کی بیش بہا خدمات اجاگر کرنے کا دِن

امریکی سربراہ کی حیثیت سے پہلی میموریل ڈے تقریب میں شرکت کرتے ہوئے، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے واشنگٹن سے کچھ ہی دور واقع ’آرلنگٹن نیشنل سیمیٹری‘ میں نامعلوم سپاہی کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی

Read More »

موجودہ حالات میں دوطرفہ کرکٹ سیریز کا انعقاد ممکن نہیں: بھارت

بھارتی وزیر کھیل نے الزام عائد کیا ہے کہ ’’پاکستان نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے اور سرحد پار کی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ اس لیے دونوں ملکوں کے براہ راست کھیلنے کا امکان نہیں ہے‘‘

Read More »

پاکستان: میدانی علاقے شدید گرمی کی لیپٹ میں

پاکستان کے بیشتر میدانی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور کئی علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث عام لوگوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ شدید گرمی اور ماہ رمضان میں بجلی کی غیر اعلانیہ بندش پر اگرچہ ملک کے مختلف علاقوں میں لوگ سراپا احتجاج ہیں لیکن ملک کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں اس کے اثرات زیادہ نظر آئے جہاں ان احتجاجی مظاہروں میں تشدد کا عنصر بھی نظر آیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے علاقے تربت میں پیر کو درجہ حرارت 53 سینیٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جب کہ سبی میں 51 اور لسبلیہ میں درجہ حرارت 49 سینیٹی گریڈ رہا۔ اس کے علاوہ صوبہ سندھ کے اضلاع دادو، حیدرآباد، بدین جب کہ پنجاب میں بہاولپور، بہاولنگر، ڈیر غازی خان بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ ملک میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بجلی کی طلب اور رسد میں فرق چار ہزار میگاواٹ تک ہے، جس کے وجہ سے پہلے سے اعلان کردہ شیڈول کے علاوہ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ بھی جاری ہے۔ حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر سحر کامران نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ شدید گرمی اور پھر لوڈشیڈنگ نے عام شہریوں کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ’’لوگ ایک ایسے اذیتی امتحان سے گزر رہے ہیں، گھنٹوں گھنٹوں بجلی چلی جاتی ہے اور کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کب واپس آئے گی۔‘‘ سینیٹر سحر کامران کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے 2013 کے عام انتخابات میں ووٹ اس بنیاد پر مانگا تھا کہ اقتدار میں آنے بعد ملک سے بجلی کی قلت کا خاتمہ کیا جائے گا لیکن اُن کے بقول حکومت اس وعدے میں ناکام رہی ہے۔ ’’چار سال مکمل کرنے اور پانچواں بجٹ پیش کرنے کے بعد حکومت کہاں کھڑی ہے، وہ تمام وعدے کھوکھلے ثابت ہوئے۔‘‘ پاکستان کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے حالیہ برسوں میں بجلی کی پیداوار کے بہت سے منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے، اُن میں سے اگرچہ کئی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں لیکن بیشتر منصوبے زیر تکمیل ہیں۔ حکومت کی طرف سے کہا جاتا رہا ہے کہ آئندہ سال تک قومی گرڈ میں مزید 8 سے 10 ہزار میگاواٹ بجلی شامل ہو سکے گی جس سے ملک میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ممکن ہو گا۔ دیگر ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے علاوہ حکومت کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ 2050ء تک ملک میں مجموعی طور پر 40 ہزار میگاواٹ بجلی جوہری توانائی سے حاصل ہو سکے گی۔

Read More »

تحقیقاتی ٹیم کے ارکان پر حسین نواز کے اعتراضات مسترد

عدالت عظمیٰ نے شریف خاندان کے غیر ملکی اثاثوں کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان پر وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم اپنا کام جاری رکھے۔ حسین نواز کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں ٹیم میں اسٹیٹ بینک او سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ارکان کی غیرجانبداری پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ پیر کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے حسین نواز کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جائزہ لیا۔ وزیراعظم کے صاحبزادے کی طرف سے خواجہ حارث وکیل کے طور پر پیش ہوئے جنہوں نے بینچ کو بتایا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان کا رویہ توہین آمیز ہے۔ اس پر جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ یہ ٹیم سپریم کورٹ نے منتخب کی ہے اور کسی بھی رکن کی دیانت پر شبہ ہو تو اسے سامنے لایا جائے اور ان کے بقول ٹیم کے ارکان کے خلاف تحفظات کا قابل جواز ہونا ضروری ہے۔ حسین نواز کو اعتراض تھا کہ دو ارکان شریف خاندان سے مخاصمت رکھنے والوں کے مبینہ قرابت دار ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے تو اپنا فیصلہ سنا دیا لیکن حسب روایت عدالتی کارروائی کے بعد حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور اس کی سب سے بڑی ناقد حزب مخالف کی پاکستان تحریک انصاف کے راہنماؤں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے علیحدہ علیحدہ گفتگو میں ایک دوسرے کے خلاف الزامات پر مبنی بیانات کا سلسلہ جاری رکھا۔ تحریک انصاف کے ایک راہنما فواد چودھری کا کہنا تھا کہ حسین نواز نے ان دو ارکان پر اعتراض کیا جو ملک میں وائٹ کالر جرائم کی تحقیقات کے ماہر تسلیم کیے جاتے ہیں اور کسی پر صرف اس بنا پر اعتراض کرنا کہ اس کا کہیں نہ کہیں دو پار سے تعلق تحریک انصاف سے نکلتا ہے یہ ان کے بقول صرف تحقیقاتی ٹیم پر اثر انداز اور کارروائی کو طول دینے کی کوشش ہے۔ تاہم وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو میں اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ حسین نواز اعتراض کے باوجود اتوار کو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے اور اپنے اعتراضات پر قانون کے مطابق عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور شریف خاندان ہر طرح سے تحقیقات میں تعاون کرنے کے عزم پر قائم ہے۔ سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو پاناما پیپرز کے معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے غیر ملکی اثاثوں کی مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔ یہ کمیٹی اپنا کام شروع کر چکی ہے اور اسے 60 روز میں اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں پیش کرنی ہے۔

Read More »

خیبرپختونخواہ: لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے، دو افراد ہلاک

خیبر پختونخواہ میں بجلی کی بندش کے خلاف مظاہرے پیر کو بھی جاری رہے اور اس دوران پولیس کے ساتھ مظاہرین کی ہونے والی جھڑپ میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق پیر کو مالاکنڈ میں درگئی کے علاقے میں سیکڑوں مشتعل افراد نے ایک گرڈ اسٹیشن کے علاوہ سرکاری دفاتر اور پولیس کی چوکیوں پر دھاوا بولا اور توڑ پھوڑ کی۔ اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق مظاہرین کی طرف سے بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے ایک دفتر کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی جس دوران سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ شروع کر دی جس سے ایک شخص ہلاکاور متعدد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ مرکزی شہر پشاور میں بھی ایسے ہی مظاہرے دیکھنے میں آئے جہاں صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی فضل الہی کی زیر قیادت مظاہریں نے رنگ روڈ کو بلاک کر دیا۔ بعد ازاں مظاہرین نے واپڈا کے دفتر کی طرف بڑھنا شروع کیا لیکن یہاں پولیس کی بھاری نفری نے پہنچ کر ہجوم کو عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا۔ گزشتہ دو روز کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ اور غیر اعلانیہ تعطل کے خلاف شہری سراپا احتجاج ہیں اور صوبائی حکومت کی طرف سے ان مظاہروں کو روکنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختوںخواہ کے مشیر شوکت یوسفزئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں تحریک انصاف کے راہنماؤں کی طرف سے مظاہرین کی قیادت کیے جانے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشتعل افراد کو قابو رکھنے کے لیے ایسا کیا گیا بصورت دیگر ان کے بقول مظاہرین زیادہ خطرناک اقدام کر سکتے ہیں۔ "یہ کافی مشکل صورتحال ہے وفاق یا واپڈا کو اسے بڑے طریقے سے حل کرنا پڑے گا صوبائی حکومت اس میں ہر طرح کے تعاون کو تیار ہے۔" مرکزی حکومت کے عہدیدار یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت اس معاملے پر سیاست کر رہی ہے اور مسئلے کو ان کے ساتھ بیٹھ کر حل کیا جائے۔ وزیراعظم نواز شریف نے ملک میں لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر منگل کو ایک خصوصی اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔

Read More »

یورپ، امریکہ اور برطانیہ پر ‘مکمل انحصار’ نہیں کر سکتا: مرکل

جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بطور امریکی صدر منتخب ہونے اور برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے ووٹ کے بعد یورپ امریکہ اور برطانیہ پر مزید "کلی طور پر" انحصار نہیں کر سکتا۔ اتوار کو میونخ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مرکل کا کہنا تھا کہ جہاں امریکہ اور برطانیہ جیسے اتحادیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات انتہائی اہم ہیں وہیں اب وہ ان پر مزید انحصار نہیں کرسکتیں اور یورپیوں کو "اپنا مستقبل" اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا۔ "وہ وقت جب ہم مکمل طور پر دوسروں پر اںحصار کر سکتے تھے اب ختم ہو رہا ہے، گزشتہ چند دنوں میں مجھے یہ تجربہ ہوا ہے۔" مرکل کا مزید کہنا تھا کہ "ہم یورپیوں کو اپنا مستقبل صحیح معنوں میں اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا۔" لیکن یورپ کے دورے سے واپس امریکہ پہنچنے والے صدر ٹرمپ کا اپنے دورے کے بارے میں خیال جرمن چانسلر سے مختلف ہے۔ ایک ٹوئٹ میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "ابھی یورپ سے واپسی ہوئی۔ یہ دورہ امریکہ کے لیے زبردست کامیابی تھا۔ کڑی محنت تھی لیکن بڑے نتائج تھے۔" مرکل کا یہ بیان سیسلی میں دنیا کے ساتھ بڑی ملکوں کے راہنماؤں کے ہونے والے اس اجلاس کے ایک روز بعد سامنے آیا جس میں یہ ممالک ماحولیاتی تبدیلی کے پیرس معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے متفق نہیں ہوسکے تھے جب کہ تجارت اور پناہ گزینوں کے امور پر بھی ان میں اختلاف دیکھا گیا۔ گزشتہ ہفتے برسلز میں یورپی یونین کے راہنماؤں سے ملاقات میں ٹرمپ نے خاص طور پر جرمنی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ نیٹو اتحاد کے دفاعی اخراجات کی ضروریات کو پورا نہیں کیا جا رہا۔

Read More »

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow