اخبار

‘ملک میں جمہوریت نہیں، چیف جسٹس کی آمریت ہے’

سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی آمریت قائم ہے اور ان کے بقول ملک میں جو ہو رہا ہے وہ کسی جوڈیشل مارشل لاء سے کم نہیں۔ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں اپنے منصب سے علیحدہ ہونے والے نواز شریف اس سے قبل بھی اعلیٰ عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے تندوتیز بیانات دیتے رہے ہیں اور بظاہر چیف جسٹس کئی ایک تقاریب میں اپنے خطاب کے دوران اس کا جواب بھی دیتے نظر آئے۔ دو روز قبل ہی چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ جوڈیشل مارشل لاء کا تصور نہ تو ملک کے آئین میں ہے اور نہ ہی ان کے ذہن میں۔ لیکن پیر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اتنی پابندیاں مارشل لاء میں نہیں لگائی گئیں جو ان کے بقول اب دیکھنے میں آ رہی ہیں اور آئے روز ایسے فیصلے دئے جاتے ہیں جن کی کوئی منطق نہیں ہوتی۔ انھوں نے ملک کے اعلیٰ ترین منصف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار روز اسپتالوں کا دورہ کرتے ہیں، سبزیوں کے نرخ پر بات کرتے ہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ کسی ایسے مظلوم کے گھر بھی جائیں جس کے مقدمے کا فیصلہ 20 سال سے نہیں ہوا۔ ادھر حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چیف جسٹس پر تنقید سے تو گریز کیا لیکن مشورے کے طور پر ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو اپنے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے ملک کی عدالتوں میں زیر التوا 18 لاکھ مقدمات کو نمٹانے پر بھی غور کرنا چاہیے جن کے فیصلوں کے لیے لوگ دہائیوں سے منتظر ہیں۔ ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ بہترین کام کر رہی ہے اور وہ چیف جسٹس کو از خود نوٹس لینے سے نہیں روک سکتے۔ تاہم اگر وہ ہمارا کام کرنا چاہتے ہیں تو شوق سے کریں۔ لیکن اپنا کام بھی طریقے سے انجام دیں کیونکہ اگر آپ یہ کام نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا۔ بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ وہ کسی کو روک نہیں سکتے ہیں لیکن تجویز ہے کہ اگر جج صاحبان تقاریر کے ذریعے اپنی باتیں کریں گے تو دوسروں کو ان پر تنقید کا موقع ملے گا۔ سیاسی امور کے سینیئر تجزیہ کار وجاہت مسعود کے خیال میں ایک ایسے وقت جب انتخابات میں کچھ ہی وقت رہ گیا ہے، ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں اور عدلیہ کی طرف سے ایسی بیان بازیاں صورتحال میں بگاڑ کا باعث بن سکتی ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس وقت عبوری محسوس ہو رہی ہے۔ "جو سوالات اور تحفظات لے کر ہمارے چیف جسٹس صاحب چل رہے ہیں عملی طور پر وہ ہی حکومت چلا رہے ہیں۔ حکومت کوئی کمیٹی بناتی ہے وہ اس کے ارکان کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ مرغی کے گوشت سے لے کر اسپتالوں کے معائنوں تک وہ سب نمٹا رہے ہیں تو یہ بڑی عجیب و غریب سی صورتحال ہے خاص طور پر اس لیے کہ یہ فعالیت ایک خاص وقت میں اچانک نمودار ہوئی ہے۔ اس وقت جب منتخب وزیراعظم کو نا اہل قرار دیا گیا۔ اس وقت جو حکومت ہے دراصل وہ عبوری حکومت ہے۔ وہ انتظار میں ہے کہ معیاد ختم ہو تو نئے انتخابات کروائے جائیں۔" وجاہت مسعود نے کہا کہ اگر آئین کے مطابق شہریوں کو فوج اور عدلیہ پر تنقید کا حق نہیں تو اسی آئین میں ان دو اداروں کا دائرہ اختیار بھی درج ہے اور ان کے خیال میں عدلیہ کا وقار مجروح ہو رہا ہے۔ "چیف جسٹس کا کام مکالمے ادا کرنا نہیں ہے۔ وہ عدل کے سب سے بڑے منصبدار ہیں۔ جس طرح کے ریمارکس اور موضوعی ریمارکس وہ دے رہے ہیں اس سے عدلیہ کی ساکھ واقعتاً مجروح ہو رہی ہے۔" چیف جسٹس ثاقب نثار اپنے ایک حالیہ خطاب میں بظاہر ایسی تنقید کے جواب میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ہر عدالت میں جا کر اس کی کارکردگی بھی دیکھ رہے ہیں۔

Read More »

سینئر امریکی سفارت کار کا ایک ماہ  میں پاکستان کا دوسرا دورہ

امریکی محکمہ خارجہ کی سینیئر عہدیدار برائے جنوبی و وسط ایشیائی امور سفیر ایلس ویلز  نے پیر کو اسلام آباد میں پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ  سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے دوطرفہ اُمور کے علاوہ علاقائی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔ رواں ماہ کے دوران ایلس ویلز کا پاکستان کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل اُنھوں نے اپریل کے پہلے ہفتے میں پاکستان کا سات روزہ دورہ مکمل کیا تھا۔  ایلس ویلز ایسے وقت پاکستان پہنچی ہیں جب امریکی حکام نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ امریکہ میں تعینات پاکستانی  سفاتکاروں  کی نقل و حرکت یکم مئی سے ایک مخصوص حد تک محدود کی جا رہی ہے۔  امریکہ نے یہ پابندی پاکستان کی جانب سے امریکی سفارت کاروں کی بلا اجازت نقل و حرکت پر عائد پابندی کے جواب میں لگائی ہے۔  پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل کہہ چکے ہیں کہ دونوں ممالک اس بارے میں رابطے میں ہیں اور اُن  کے بقول توقع ہے کہ معاملہ حل کر لیا جائے گا۔ تجزیہ کار ظفر جسپال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایلس ویلز کا دورہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دونوں ملک ایک صفحے پر آنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔  ’’دونوں ممالک میں یہ کوشش ہو رہی ہے کہ کسی طریقے سے تعلقات بہتری کی طرف جائیں لیکن وہ نہیں ہو پا رہے ہیں اور یہ (ایلس ویلز) اُسی کو سلجھانے کے لیے یہاں آئی ہیں۔‘‘ اپنے گزشتہ دورہ پاکستان میں سفیر ایلس ویلز نے جنوبی ایشیا کے بارے میں امریکہ کی حکمت عملی، پاکستان کی اپنی سرحدوں کے اندر موجود تمام دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کے عزم اور دونوں ملکوں کے مابین مفید باہمی اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ پر بات چیت کی تھی۔  پاکستانی عہدیدار بھی یہ کہتے رہے ہیں کہ واشنگٹن اور اسلام آباد مل کر کام کرنے کے لیے مشترکہ راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے اُسی کوشش کا حصہ ہیں۔

Read More »

شادی سے انکار پر نذرِ آتش کی گئی مسیحی لڑکی دم توڑ گئی

عاصمہ کے والد یعقوب مسیح نے وائس آف امریکہ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ رضوان نامی ملزم ان کی بیٹی کو پسند کرتا تھا اور اس سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن عاصمہ نے شادی سے انکار کردیا تھا۔

Read More »

نواز اور مریم احتساب عدالت میں پیش ہونے کیلئے پاکستان روانہ

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی مریم نواز احتساب عدالت میں پیش ہونے کیلئے اتوار کے روز لندن سے واپس پاکستان روانہ ہو گئے۔ وہ پیر کے روز عدالت میں پیش ہوں گے۔ مریم نواز نے روانگی کے وقت ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ اور نواز شریف پاکستان واپس آنے کیلئے لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ پہنچ چکے ہیں۔ احتساب عدالت نے جمعہ کے روز ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کیس کیلئے نواز شریف اور مریم نواز کی طرف سے  حاضری  کیلئے   27 اپریل تک استثنا دینے کی درخواست نا منظور کرتے ہوئے صرف سے  ایک دن کا  استثنا دیا تھا۔ نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز بیگم کلثوم نواز کی عیادت کیلئے مختصر دورے پر لندن گئے تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی طبیعت بگڑنے کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد نواز شریف اور مریم نواز فوراً لندن روانہ ہو گئے جہاں بیگم کلثوم نواز زیر  علاج ہیں۔ مریم نواز نے جمعہ کے روز ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ایک بیٹی اپنی والدہ کی عیادت کیلئے نہیں جا سکتی اور تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف بھی اپنی بیگم کی عیادت کیلئے لندن نہیں جا سکتے۔ ایک اور ٹویٹ میں مریم نواز نے کہا تھا کہ اُن کی والدہ کی حالت بگڑ گئی اور وہ بہت کمزور ہو گئی ہیں۔  وہ بغیر سہارے کے چل نہیں سکتیں۔ اُنہوں نے لوگوں سے اُن کی صحت یابی کیلئے دعا کرنے کی درخواست کی تھی۔ نواز شریف نے ہفتے کے روز لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر کینسر دوبارہ اُبھر آیا تو پھر سرجری کی ضرورت ہو گی۔ اُنہوں نے کہا کہ ریڈیو تھریپی سے معلوم ہو سکے گا کہ سرجری کی ضرورت ہو گی یا نہیں۔ احتساب عدالت میں 27 اپریل تک استثنا دینے کی مخالفت کرتے ہوئے احتساب  عدالت کے خصوصی تفتیشی افسر افضل قریشی  نے مؤقف  اختیار کیا تھا کہ پیر کے روز حاضری کے بعد اُن کے پاس لندن جانے کیلئے کافی وقت ہو گا۔ احتساب عدالت نے استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء کو العزیزیہ کیس میں بیان ریکارڈ کرانے کیلئے طلب کیا ہے۔

Read More »

سٹیٹ چاہیے، نیشنل سکیورٹی سٹیٹ نہیں، عصمت جہاں

پشتون تحفظ موومنٹ کی راہنما، عوامی ورکرز پارٹی کی لیڈر عصمت شاہ جہاں نے وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں بتایا ہے کہ منظور پشتین کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک میں جو نعرہ مقبول ہوا ہے اس کی خالق وہ ہیں اور انہوں نے سال 2007 میں سب سے پہلے یہ نعرہ لگایا تھا۔ ان کے بقول آج ملک بھر سے لوگ اس نعرے کے گرد جمع ہو رہے ہیں۔ بہت سے تجزیہ کاروں کے نزدیک پاکستان کی فوج کو براہ راست ہدف بنانے والا یہ وہی نعرہ ہے جس کے سبب پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز اور میڈیا پی ٹی ایم کی کوریج سے گریزاں ہے۔ لاہور میں جلسے سے کیا مقاصد حاصل کیے جا سکتے تھے؟ اس بارے میں عصمت شاہ جہاں نے کہا کہ مقصد پنجاب کے عوام تک پہنچنا اور ریاست کے ایک خاص بیانیے کو چیلنج کرنا تھا۔ ’’لاہور میں جلسے کا مقصد یہ تھا کہ ہم بنیادی طور پر پنجاب کے سامنے ، لاہور اور اہل لاہور کے سامنے اپنا مقدمہ رکھنا چاہتے ہیں کہ اس ضمن میں ہم پر کیا بیتی۔ ہماری آواز دبانے کے لیے چونکہ میڈیا بلیک آوٹ ہے اس لیے ہم جگہ جگہ جا کر اپنا موقف بیان کرنا چاہتے ہیں۔ پنجاب چونکہ پاور اسٹرکچر کا، اسٹیبلشمنٹ کا دل ہے، اس لیے ان کو ہمارا آنا بہت ناگوار گزر رہا تھا ۔ جیسے ایک حاکم اور محکوم، کسان مزدور اور فیکٹری مزدور کا اپنے جاگیردار اور مالک سے رویہ ہوتا ہے ، اسی رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ہم سے کہا ہم دہشتگرد ہیں اور یہاں کیسے آ گئے۔ ہم نے جلسے کے لیے موچی گیٹ کا انتخاب اس لیے کیا کہ یہیں سے (سابق فوجی آمر) ضیاءالحق کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا تھا۔ جو اسٹیبلشمنٹ خود پنجاب کے عوام اور پشتون کے درمیان نفرت کا بیج بوتی ہے، پشتونوں کے ساتھ جس طرح نسلی بنیادوں پر سلوک کیا جاتا ہے جو ریاست کا بیانیہ ہے اور ہم اس بیانیہ کو توڑنے کے لیے یہاں آئے ہیں‘‘۔ عصمت شاہ جہاں کے بقول اس جلسے کا مقصد پشتون کا پنجاب کے عوام اور بائیں بازو کے ساتھ رشتہ جوڑنا بھی مقصود تھا۔ لاہور میں منظور پشتین کے سخت لب و لہجے کے بارے میں سوال پر عصمت شاہ جہاں نے کہا کہ بہت سی سیاسی پارٹیاں خاکی وردی پر سوار ہو کر آتی ہیں، اس لیے وہ ہماری حمایت نہیں کر سکتی ہیں۔ ان کے بقول یہ ایک جدلیاتی عمل ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہمیں سٹیٹ چاہیے، سکیورٹی سٹیٹ نہیں۔ ہمارے بچے مارے گئے ہیں ، گھر بار تباہ ہوئے ہیں، ہمارے بچوں کو طالبان بنایا گیا ہے۔  لہٰذا یہی وہ نعرہ ہے جس کے گرد لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اس بیانیے سے بات بن رہی ہے، بہت سے لوگ جمع ہو رہے ہیں۔ کوئی بھی ادارہ، کوئی بھی پرچم ان کے بقول کسی بھی انسان کی آزادی اور جمہوری حقوق سے مقدم نہیں ہوتا۔ تجزیہ کار صحافی فخر کاکا خیل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ کوئی شک نہیں کہ منظور پشتین کی باتیں سخت ہیں۔  ان کو چاہیے کہ ملک کے اندر قربانیاں دینے والے فوجی جوانوں اور افسروں کی قربانیوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کے مطالبات کی شاید ہی کوئی مخالفت کرتا ہو۔ جہاں تک سخت لب و لہجے کی بات ہے، اس سے صرف نظر یہ سوچ کر کیا جا سکتا ہے کہ منظور پشتین نے اپنے سر ڈرون اور جیٹ دیکھے ہیں، میتوں کے انبار دیکھے ہیں، وہ  ذہبی صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ ملک میں ایسی اور کئی تنظیمیں ہیں جو سوشل میڈیا پر قومی اداروں کے لیے اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ استعمال کر رہی ہیں۔ تجزیہ کار اور کالم نگار رانا محبوب نے کہا کہ لاہور نے پشتین کو سنا ہے، امید ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی سنے گی۔ رانا محبوب اور فخرکاکا خیل نے امید ظاہر کی   کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے مطالبات کو میز پر آنے دیا جائے گا اور معاملہ گفتگو کے ذریعے حل ہو گا۔ ادھر منظور پشتین نے اپنے خطاب میں متنبہ کیا تھا کہ ان کا احتجاج پر امن ہے لیکن احتجاج میں شامل زیادہ تر لوگ  نوجوان ہیں جو زیادہ دیر پرامن نہیں رہا کرتے۔ اُدھر پاکستان کی فوج کے ترجمان  میجر جنرل آصف غفور نے  ایک بیان میں کہا  ہے کہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر شمالی وزیرستان میں عمائدین کے ساتھ ایک جرگہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق کوئی ایسا مسئلہ موجود نہیں ہے جس کو افہام و تفہیم اور بات چیت کے ذریعے حل نہ کیا جا سکتا ہو۔ قبل ازیں پاکستانی  فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ ایسے میں جبکہ فوج نے بڑی قربانیوں کے بعد امن بحال کیا ہے، بعض شرپسند عناصر قبائلی علاقوں میں تحریک شروع کیے ہوئے ہیں۔ حکومت پنجاب سے اس مسئلے پر بات کے لیے کوئی راہنما دستیاب نہ ہو سکا جبکہ وائس آف امریکہ اردو سروس کی نمائندہ ثمن خان نے بتایا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے لاہور جلسے میں کم و بیش 10 ہزار افراد موجود تھے جن میں لاہور سے تعلق رکھنے والی بائیں بازو کی اور انسانی حقوق کی نمایاں شخصیات بھی شامل تھیں۔

Read More »

شمالی وزیرستان کے متاثرہ تاجروں اور دکانداروں کے ازالے کی یقین دہانی

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے تاجروں اور دکانداروں کا حکام کے ساتھ اتوار کے روز پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر میں  ایک جرگہ  ہوا جس میں شمالی وزیرستان کے تقریباً 30 دکانداروں کے علاوہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ متاثرہ دکانداروں کے نقصانات کے تخمینے کیلئے دو کمیٹیاں پولیٹیکل ایجنٹ شمالی وزیرستان کی سربراہی میں تشکیل دی  گئیں۔  کمیٹی میں متاثرہ دکانداروں کے نمائندے شامل ہونگے۔  جرگے کے اختتام پر شمالی وزیرستان کے تاجروں کی تنظیم کے سربراہ اجمل بلوچ نے انتظامیہ اور ریاستی اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا۔ جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ متاثرہ دکانداروں کے ازالے تک کمیٹی کا اجلاس ہفتہ وار  بنیادوں پر منعقد ہوگا۔ کچھ روز قبل شمالی وزیرستان کے متاثرہ تاجروں اور دکانداروں نے اسلام آباد میں ایک احتجاجی دہرنا دیا تھا ۔ مظاہرین نے احتجاج اعلیٰ حکام بالخصوص چیف آف آرمی سٹاف کی یقین دہانی پر ختم کیا تھا۔ 15 جون 2014 کو عسکریت پسندوں کے خلاف   اپریشن کے دوران شمالی وزیرستان کے دواہم قصبوں میران شاہ اور میر علی میں ہزاروں کی تعداد میں دکانیں اور مارکیٹیں  مسمار ہوئی تھیں۔  بعد میں حکام نے وہاں پر جدید طرز کی مارکیٹ اور بازار تعمیر کئے۔  متاثرہ دکانداروں کا مطالبہ ہے کہ تعمیر شدہ مارکیٹوں اور بازاروں میں ان کو دکانیں الاٹ کی جائیں۔

Read More »

عامر خان کی شاندار فتح کے ساتھ رنگ میں واپسی

پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے کنیڈا کے باکسر لو گریکو کو 39 سیکنڈ میں ناک آؤٹ کر دیا۔   31  سالہ عامر خان کا  یہ گزشتہ دو سالوں میں پہلا بین الاقوامی مقابلہ تھا ۔ اس سے پہلے اُن کا مقابلہ  مئی 2016 میں لاس ویگس میں  ہوا تھا جس میں وہ سول کینیلو الویریز سے شکست کھا گئے تھے۔ ہفتے کے روز سوپر ویلٹر ویٹ کیٹگری کے اس مقابلے میں عامر خان نے اپنے کینڈین حریف لو گریکو  پر شروع ہی سے تابڑ توڑ حملے شروع کر دئے اور مقابلے کے پہلے 30 سیکنڈ کے اندر اُنہوں نے لوگریکو کو لڑکھڑانے پر مجبور کر دیا۔ اُس کے بعد عامر خان نے اپنے حریف لو گریکو  رنگ کو  رسے کی جانب دھکیلتے ہوئے  شدید حملوں سے ناک آؤٹ کر دیا۔ اس فتح کے بعد  برطانوی باکسر  کیل بروک کے ساتھ اُن کے آئیندہ مقابلے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ کیل بروک یہ مقابلہ دیکھنے کیلئے خود بھی رنگ میں موجود تھے۔ مقابلے کے بعد عامر خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ دو سال سے رنگ سے باہر تھے۔ تاہم اس دوران وہ جم میں سخت  ٹریننگ کر رہے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان دو سالوں میں اُنہوں نے ایک دن کیلئے بھی اپنی ٹریننگ نہیں چھوڑی۔  عامر کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے 12 راؤنڈ کیلئے ٹریننگ کی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ  گریکو ایک خطرناک حریف تھا۔ تاہم اس فتح سے اُنہیں بہت خوشی ہوئی ہے اور وہ اس سال یا آئیندہ برس تک دوبارہ عالمی چیمپین بننا چاہتے ہیں۔ عامر خان کہتے ہیں کہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ بہتر باکسر ہیں اور اب وہ برطانوی باکسر کیل بروک سے مقابلے کے منتظر ہیں۔

Read More »

کوئٹہ: مسلح حملے میں ہزارہ برادری کے دو افراد ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے تازہ واقعے میں شیعہ ہزارہ برادری کے دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔   پولیس حکام کے مطابق شیعہ ہزارہ برادری کے تینافراد مو ٹر سائیکلوں پر ہزارہ ٹاﺅن سے سبزی منڈی کی طرف جارہے تھے کہ راستے میں مغربی بائی پاس پر نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ کی جس سے دو نوجوان موقع پر ہلاک اور ایک شدید زخمی ہو گیا۔  حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے کے بعد پولیس اور فرنٹیر کور بلوچستان کے حکام موقع پر پہنچ گئے اور جائے وقوع سے شواہد جمع کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لئے کارروائی شروع کردی گئی۔ ہلاک ہونے والوں میں علی رضا اور سید زمان شامل ہیں جبکہ زخمی کا نام سفرعلی بتایا گیا ہے۔ سر کاری ذرائع کے مطابق علی رضا بلوچستان شیعہ کانفرنس ہزارہ ٹاﺅن یونٹ کا سیکورٹی انچارج اور سید زمان 'شہید ویلفئیر فاﺅنڈیشن آرگنا ئزیشن' ہزارہ ٹاﺅن کا عہدیدار تھا۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی۔ صوبائی دارالحکومت کے علاقے سٹیلائٹ ٹاﺅن میں رواں ہفتے کے دوران ایک دُکان پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے بھی شیعہ ہزارہ برادری کا ایک نوجوان ہلاک جبکہ اس سے پہلے شہر کے مرکزی علاقے باچا خان چوک پر ایک گاڑی پر نا معلوم افراد کی فائرنگ سے اسی برادری کا ایک اور شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔ کو ئٹہ اور صوبے کے دیگرعلا قوں میں شیعہ ہزارہ برادری کے لوگوں کو ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعاتگزشتہ ڈیڑھ عشرے سے جاری ہیں۔ حکومت کی طرف سے قائم کر دہ نیشنل کمیشن فار ہیومین رائٹس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 16 سالوں کے دوران ہزارہ قبیلے کے افراد پر ہونے والے حملوں میں 525 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ شیعہ ہزارہ برادری کی دو آبادیوں کی سیکورٹی کےلئے فرنٹیر کور بلوچستان کے اہلکاران کی چوکیاں قائم کی گئی ہیں جبکہ اطلاع ملنے پر ایران جانے والے شیعہ برادری کے قافلوں کو مکمل سیکورٹی بھی فراہم کی جاتی ہے۔

Read More »

آسیہ بی بی کی اپیل پر سماعت جلد متوقع

پاکستان کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی توہین مذہب کے جرم میں سزا یافتہ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت شروع کریں گے۔ 51 سالہ آسیہ بی بی کو 2010ء میں ایک ماتحت عدالت نے سزائے موت سنائی تھی جسے 2014ء میں لاہور ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا جس کے بعد اس سزا کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی۔ ہفتہ کو سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں انسانی حقوق سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے کمرہ عدالت میں موجود آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی اپیل کی جلد سماعت کریں گے۔ اتوار کو وائس آف امریکہ  سے گفتگو میں سیف الملوک نے بتایا کہ "انھوں (چیف جسٹس) نے کہا کہ میں یہ کیس بھی لگا رہا ہوں اور بینچ کی سربراہی میں خود کروں گا، آپ تیاری کرو۔" وکیل دفاع کے مطابق توقع ہے کہ ایک مہینے سے بھی کم وقت میں اس اپیل کی شنوائی شروع ہو جائے گی۔ 2016ء میں اس اپیل پر سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں بینچ تشکیل دیا گیا تھا لیکن اس میں شامل ایک جج جسٹس اقبال حمید الرحمٰن نے یہ کہہ کر خود کو سماعت سے علیحدہ کر لیا تھا کہ وہ پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے مقدمہ قتل کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت سے بھی وابستہ رہے ہیں اور دونوں مقدمات کا آپس میں تعلق ہونے کی وجہ سے وہ اس کی شنوائی میں شامل نہیں ہوں گے۔ اس کے بعد اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی۔ آسیہ بی بی پر الزام ہے کہ انھوں نے 2009ء میں پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے ایک گاؤں میں مسلمان خواتین کے ساتھ بحث و تکرار کے دوران اسلام  اور پیغمبر اسلام کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ آسیہ اس الزام کو مسترد کرتی آئی ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا جب اُس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثر نے جیل میں آسیہ بی بی سے ملاقات کی اور بعد ازاں توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اس پر نظر ثانی کیے جانے کے بارے میں بیان بھی دیا۔ ان کے اس بیان پر مذہبی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید دیکھنے میں آئی اور جنوری 2011ء میں سلمان تاثیر کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ممتاز قادری نے انھیں فائرنگ کر کے ہلاک کردیا۔ ممتاز قادری کو عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائی گئی جس پر فروری 2016ء میں عملدرآمد ہوا۔ مذہبی حلقے خصوصاً ممتاز قادری کے حامیوں کی طرف سے حکومت سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ آسیہ بی بی کی سزا موت پر جلد عملدرآمد کیا جائے۔

Read More »

لاہور میں پشتون تحفظ موومنٹ کا جلسہ

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے اتوار کو پولیس کے ساتھ مذاکرات کے بعد پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں اپنا اعلان کردہ جلسہ منعقد کیا جس میں مقررین نے ملک میں لاپتا افراد کی بازیابی کے مطالبات کو دہرایا ہے۔ پی ٹی ایم نے تاریخی موچی گیٹ کے مقام پر جلسے کا اہتمام کیا لیکن اس طرف جانے والے راستوں کو انتظامیہ نے جگہ جگہ کنٹینرز اور رکاوٹیں لگا کر بند کر رکھا تھا جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس کی اضافی نفری بھی جلسہ گاہ کے ارد گرد تعینات ہے اور یہاں آنے والوں کو تلاشی کے بعد ہی جلسے میں جانے دیا جا رہا ہے۔ جلسے میں لاپتا افراد کے اہل خانہ کے علاوہ انسانی و سماجی حقوق کے سرگرم کارکنان کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ لاہور میں پی ٹی ایم کے جلسے میں مشہور شاعر حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ جالب بھی شامل ہوئیں جنھوں نے مشہور نظم دستور کو جلسے میں پڑھ کر شرکاء کا لہو گرمایا۔ منظور پشتین نے اپنا خطاب شروع کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی ایم کی ‘دلی خواہش ہے’ کہ میڈیا اور عوام سے چھپائی گئی صورت حال کو لاہور کے لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں پی ٹی ایم کی جانب سے راؤ  انوار کی گرفتاری اور لاپتہ افراد کی بازیابی سمیت دیگر مطالبات پیش کرنے کے  حوالے سے وضاحت کی۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے کہا کہ پوری قوم نے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوا رکی گرفتاری کی صورت میں پی ٹی ایم کے پہلے مطالبے کا نتیجہ دیکھا ہے اور اب یہاں تک کہ عدالت بھی کہہ رہی ہے کہ راؤ  انوار دہشت گرد تھا اور پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے والے وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نقیب اللہ محسود کو معصوم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر پاکستان پرویز مشرف نے پاکستانیوں کو پیسوں کے عوض امریکہ کے حوالے کیا ہے۔ ’’لاپتہ افراد کو کتنے پیسوں کے عوض بیچا گیا تاکہ ہم وہ رقم جمع کریں اور آپ کو دیں تاکہ آپ ان کو واپس لا سکیں اور اگر انھوں نے کوئی جرم کیا ہے تو انھیں رہا بھی نہ کریں، صرف عدالت میں پیش کریں۔‘‘ منظور پشتین نے  جلسے سے خطاب کرتے ہوئے  لاہور میں پی ٹی ایم کے حامی طلبا کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ’’ہم پرامن ہیں لیکن یہ نہ بھولیے کہ ہم نوجوان ہیں اور نوجوان زیادہ تحمل مزاج نہیں ہوتے۔ ہم اب جبر  کے خلاف اٹھ چکے ہیں۔  ہمیں اپنی جان کا خوف نہیں ہے”۔ منظور پشتین نے اعلان کیا کہ تحریک  کا اگلا جلسہ سوات میں ہوگا اور 12 مئی کو کراچی میں جلسہ ہوگا جہاں 2007 میں اسی روز 40 شہریوں کو  دن دیہاڑے قتل کر دیا  گیا تھا۔ منظور پشتین نے جلسے میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گلہ کیا کہ وہ انہیں غیر جانبدار انداز میں کور نہیں کرتے۔ ’’ہم آپ کی عزت کرتے ہیں لیکن آپ دوغلے پن کا مظاہرہ کررہے ہیں۔‘‘ لاہور کی ضلعی  انتظامیہ نے پشتون تحفظ موومنٹ کو لاہور میں جلسہ کرنے کی اجازت  نہیں دی تھی، جس کے بعد تحریک کے کچھ لوگوں کو پولیس نے اپنی حراست میں بھی لیے رکھا۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسہ میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے ارکان بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ ضلعی انتظامیہ نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اس جلسے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن پشتون تحفظ موومنٹ جلسے کے منتظمین میں شامل فاروق طارق نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے ساتھ مذاکرات اچھے رہے اور انہوں نے پولیس اور انتظامیہ کو لکھ کر دے دیا ہے کہ جلسے کی وجہ سے یا جلسے کے دوران کسی بھی طرح کے امن وامان میں خلل کی صورت میں ان کی جماعت ذمہ دار ہو گی۔

Read More »

‘پولیس مقدمہ درج نہیں کر رہی’

انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم 'ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان' کے ترجمان آئی اے رحمٰن نے کہا ہے کہ پولیس ان کی ایک کارکن کو ڈکیتی کے انداز میں ہراساں کیے جانے کا مقدمہ درج نہیں کر رہی۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہایچ آر سی پی کی کارکن آمنہ حسن کو 19 اپریل کو ہراساں کیا گیا اور اسے ڈکیتی کا رنگ دینے کے لیے مریم حسن کے گھر آئے افراد جاتے ہوئے کچھ نقدی، موبائل فونز، لیپ ٹاپ ساتھ لے گئے۔ “اگر ان افراد نے چوری کرنا ہوتی تو اسی وقت کرتے جب دو دن قبل بھی دو افراد مریم حسن کے گھر ان کی غیر موجودگی میں آئے تھے، اس وقت تو انہوں نے کسی چیز کو ہاتھ تک نہ لگایا”۔ آئی اے رحمٰن نے بتایا کہ ان کی ساتھی نے اس واقعہ پر پولیس سے رابطہ کر کے مقدمہ درج کرانا چاہا تو پولیس نے ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ “پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دے رکھی ہے لیکن وہ ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے پولیس بھی اس معاملے پر بے بس ہے اور ایف آئی آر درج کرنا نہیں چاہتی”۔ ایچ آر سی پی کے چئیرمین ڈاکٹر مہدی حسن نے اپنی ساتھی مریم حسن کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ انتہائی قابل افسوس واقعہ ہے جس کے مقاصد ان کے بقول کچھ اور لگتے ہیں۔ “ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے”۔ پولیس کا ردعمل جاننے کے لیے وائس آف امریکہ کی طرف سے رابطہ کیے جانے پر ایس پی ماڈل ٹاؤن فیصل شہزاد نے بتایا کہ انہیں اس سلسلے میں کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔ جیسے ہی کوئی تحریری درخواست موصول ہو گی تو وہ اس پر قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جس نے حال ہی میں اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان بھر سے لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست، معاشرتی نا انصافیوں اور انسانی حقوق کی پامالی سمیت دیگر معاشرتی رویوں پر کی نشاندہی کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس رپورٹ کی تیاری میں مریم حسن بھی شامل تھیں۔

Read More »

جوہری معاہدے کے خاتمے کی صورت میں ایران کا ‘انتباہ’

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے اگر امریکہ کثیر القومی جوہری سمجھوتے سے الگ ہوتا ہے تو اس کے ردعمل میں ایران کا جوہری ادارہ "متوقع اور غیر متوقع" اقدام کے لیے تیار ہے۔ خبر رساں ادارے 'روئٹرز'  کے مطابق روحانی نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر میں ٹرمپ کی طرف سے آئندہ ماہ اس سمجھوتے سے الگ ہونے کے ممکنہ فیصلے کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ "ہماری جوہری توانائی کی تنظیم پوری طر ح تیارہے۔۔ان تمام اقدامات کے لیے جن کی انہیں توقع ہے یا انہیں توقع نہیں ہے۔" تاہم انہوں نے ان اقدامات کی تفصیل بیان نہیں کی۔ یہ جوہری سمجھوتہ ایران، امریکہ اور پانچ دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان 2015ء میں طے پایا تھا جس کی وجہ سے تہران پر اقتصادی تعزیرات اٹھائے جانے کے عوض ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی پابند ی قبول کی۔ ٹرمپ اس سمجھوتے کو انتہائی خراب قرار دے چکے ہیں۔ رواں سال جنوری میں انہوں نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر زور دیا تھا کہ وہ اس سمجھوتے سے متعلق ان امور کو صحیح کرنے پر اتفاق کریں جو امریکہ کے نزدیک اس کی خامیاں ہیں، بصورت دیگر وہ امریکہ کی طرف سے تعزیرات سے استثنیٰ میں توسیع نہیں کریں گے۔ تحفیف اسلحہ سے متعلق امریکہ کے سفیر رابرٹ وڈ نے جمعرات کو کہا کہ واشنگٹن 12 مئی کی ڈیڈ لائن سے پہلے یورپی اتحادیوں کے ساتھ "شدومد" سے بات چیت کر رہا ہے۔ اگر صدر ٹرمپ نے نیا استثنیٰ جاری نہ کیا تو ایران کے خلاف تعزیرات دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔ ایران نے کہا کہ وہ اس وقت تک اس سمجھوتے کی پابندی کرے گا جب تک دیگر فریق اس کا احترام کریں گے لیکں اگر امریکہ اس سے الگ ہوتا ہے تو وہ بھی اس سمجھوتے کو ختم کر دے گا۔ ایران کے سرکاری ٹی وی نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی نیویارک میں ایک گفتگو کے حوالے سے بتایا کہ "اگر امریکہ اس سمجھوتے سے الگ ہو جاتا ہے تو (اس صورت میں) ایران کے پاس کئی آپشنز ہیں۔ امریکہ کے اس سمجھوتے سے الگ ہونے پر ایران کا ردعمل ناخوشگوار ہوگا۔ "

Read More »

بھارتی سکھ یاتری پاکستان میں ‘لاپتا’

بیساکھی تہوار منانے کے لیے بھارت سے آنے والا سکھ یاتری پاکستان میں لا پتا ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی شہری امر جیت سنگھ بھارت کے شہر امرتسر کے محلہ نرنجن پورہ کا رہنے والا ہے جو 12 اپریل کو خصوصی ریل گاڑی کے ذریعے دیگر سکھ یاتریوں کے ہمراہ واہگہ کے راستے پاکستان پہنچا تھا۔ امر جیت سنگھ اسی روز خصوصی ریل گاڑی ہی کے ذریعے سکھ عقائد کے مطابق مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے حسن ابدال روانہ ہو گیا تھا اور 15 اپریل کو وہاں ننکانہ صاحب چلا گیا تھا جس کے بعد اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ امرجیت سنگھ کی گمشدگی کا متروکہ وقف املاک کے نمائندوں کو اس وقت پتا چلا جب سکھ یاتری ہفتہ کو خصوصی ریل گاڑیوں کے ذریعے واپس جا رہے تھے اور امر جیت سنگھ اپنا بھارتی پاسپورٹ لینے متروکہ وقف املاک کے دفتر نہیں پہنچا۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کے سیکرٹری محمد طارق خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ امرجیت سنگھ کی گمشدگی کی اطلاع پولیس کو کر دی گئی جس کے ملنے کی تاحال کوئی اطلاع نہیں ملی۔ بیساکھی تہوار منانے کے لیے آنے والے سکھ یاتریوں کو واپس لے جانے والی خصوصی ریل گاڑی جب بھارت کے علاقے اٹاری پہنچی تو سکھوں کی گنتی میں دو سکھ یاتری کم ہونے پر پاکستانی حکام سے رابطہ کیا گیا۔ اس پر پاکستانی حکام نے بتایا کہ امر جیت سنگھ لا پتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امرجیت سنگھ کا اپنے گھر والوں سے آخری مرتبہ رابطہ 12 اپریل کو ہوا تھا۔ گنتی میں دوسری کم ہونے والی سکھ یاتری کرن بالا تھیں جنہوں نے پاکستان پہنچ کر اسلام قبول کیا اور محمد اعظم نامی شخص سے شادی کر لی تھی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد کرن بالا کا نیا نام آمنہ بی بی رکھا گیا ہے۔ امر جیت سنگھ اور آمنہ بی بی کے ویزے کی معیاد 21 اپریل کو ختم ہو گئی تھی۔ آمنہ بی بی نے اپنے ویزے کی معیاد بڑھانے کے لیے بھارتی سفارتخانے میں درخواست دے رکھی ہے۔

Read More »

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow