اخبار

امریکہ کی جانب سے برطانیہ میں ’’خوفناک پُرتشدد حرکات‘‘ کی مذمت

ٹِلرسن نے کہا ہے کہ ’’ہم تشدد کےخوفناک عمل کی مذمت کرتے ہیں، چاہے یہ حرکات کوئی پریشان حال فرد کرے یا پھر یہ دہشت گردوں کی کارستانی ہو، متاثرین کے لیے اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘

Read More »

پارلیمان احاطے میں فائرنگ ’’دہشت گرد‘‘ حملہ قرار، کم از کم چار افراد ہلاک

برطانوی پارلیمان کے قریب لندن میں بدھ کے روز ہونے والے حملے میں، کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے، جن میں مشتبہ حملہ آور اور ایک پولیس اہل کار شامل ہے، جسے حکام دہشت گرد واقعہ قرار دے رہے ہیں۔ کمانڈر، بی جے ہیرنگٹن نے بدھ کے روز ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ متعدد ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں، جن میں پولیس اہل کار بھی شامل ہیں۔ لیکن، اس مرحلے پر، ہم مرنے والوں کی تعداد یا زخموں کی نوعیت کی تصدیق نہیں کر سکتے‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’حالانکہ واقعے کا محرک جاننے کے لیے کھلے ذہن سے چھان بین کی جا رہی ہے، انسداد دہشت گردی کی تفتیش کے معاملے کی چھان بین کی جائے گی‘‘۔ ادھر، گولیاں چلنے کے واقعے کے فوری بعد، بدھ کو علاقہ بند کر دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حملہ آور ادھیڑ عمر کا مرد تھا، جس نے پارلیمان کے احاطے میں موجود پولیس اہل کار پر چاقو سے وار کیا جس کے بعد پولیس نے اُسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ ’اسکائی ٹی وی‘ نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ’’دو افراد ہلاک ہوئے ہیں‘‘۔ ایک اعلیٰ پولیس اہل کار نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ اب تک وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ واقعے میں ایک ہی حملہ آور ملوث تھا، ’’لیکن، اب یہ لگ رہا ہے کہ حملہ تین سمتوں سے کیا گیا‘‘۔ عینی شاہدین کے مطابق، لندن کے وقت کے مطابق، دوپہر دو بج کر 38 منٹ پر ایوان زیریں کی عمارت کے اندر گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں، ایسے میں جب قانون ساز پینشن اصلاحات پر ایک بِل پر مباحثہ جاری تھا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ تقریباً نصف درجن گولیاں چلائی گئیں۔ عینی شاہد، توحید تنیم نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’جہاں میں کام کرتا ہوں، میں وہاں سے نکلا ہی تھا کہ ایک کار کو روکا گیا، اور پھر میں نے گولیوں کی آوازیں سنیں، اور لوگ اِدھر اُدھر بھاگنے لگے‘‘۔ اس کے آغاز میں ’ویسٹ منسٹر برج‘ سے ایوانِ زیرین کی جانب ایک ’ایس یو وی‘ داخل ہوئی؛ جو تیزی سے رُکی اور یوں، کئی راہگیروں سے جا ٹکرائی۔ اس سے قبل موصولہ اطلاعات کے مطابق، لندن کی میٹرو پولیس نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کو دہشت گرد حملہ قرار دے کر تفتیش کر رہے ہیں؛ جب تک اِس کے برعکس اطلاعات موصول نہیں ہو جاتیں، یہ کہتے ہوئے کہ صورت حال ابھی واضح ہو رہی ہے اور لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مضافاتی علاقوں سے دور رہیں۔ برطانوی پارلیمان کے ایوانِ زیریں کے قائد، ڈیوڈ لِڈنگٹن نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ  کمپلیکس کے اندر تشدد کی ایک اور کارروائی کی اطلاع ہے۔ عینی شاہدین اور جاری کی گئی ابتدائی تصاویر سے پتا چلتا ہے کہ ویسٹ منسٹر برج کے قریب دو افراد خون میں لپ پت پڑے ہیں، جہان لندن پولیس نے کہا ہے کہ اہل کاروں نے ’’گولیاں چلنے کے واقعے‘‘ کے بعد کارروائی کی۔ ابھی یہ بات حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکی آیا کتنے افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ نے تصدیق کی ہے کہ ’’وزیر اعظم تھریسا مئی محفوظ ہیں‘‘۔ وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو لندن پارلیمان کی صورتِ حال پر بریفنگ دی گئی ہے۔ لندن میٹرو پولٹن پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’اہل کار، جن میں مسلح اہل کار شامل ہیں، واقعے کے مقام پر تعینات کیے گئے ہیں۔ لیکن، وہ اِسے دہشت گرد حملہ سمجھ رہے ہیں، تاوقتیکہ اس کے برعکس اطلاعات موصول ہوں‘‘۔ یہ واقعہ برسلز میں ہونے والے حملوں کی پہلی برسی کے دِن ہوا ہے، جن حملوں میں 32 افراد ہلاک ہوئے تھے، اور جنھیں داعش کے شدت پسندوں نے کیا تھا۔ پارلیمان کی عمارت میں موجود ’رائٹرز‘ کے نمائندوں نے بتایا ہے کہ اُنھوں نے دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں، جس کے بعد اُنھوں نے دو افراد کو عمارت کے احاطے میں زمین پر گرا ہوا دیکھا۔ ’رائٹرز‘ کے فوٹوگرافر نے بتایا ہے کہ پارلیمان کے قریب ہی ’ویسٹ منسٹر برج‘ پر کم از کم ایک درجن افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اُن کی تصاویر میں افراد زمین پر گرے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں، جن میں سے کئی ایک خون میں لت پت ہیں، جب کہ ایک بس کے نیچے پڑا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔      

Read More »

امریکی سینیٹ میں گورسچ کی توثیقی سماعت میں سخت سوالات

گورسچ نے اس بارے میں کسی قیاس آرائی سے انکار کر دیا کہ وہ ٹرمپ کے، مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی سے لے کر مشتبہ دہشت گردوں پر اذیت رسانی کے طریقے دوبار شروع کرنے تک کے متنازع انتخابی وعدوں کے بارے میں کیا فیصلہ دے سکتے ہیں ۔

Read More »

برطانوی پارلیمنٹ کے قریب فائرنگ، کم ازکم 12 افراد زخمی

اطلاعات کے مطابق لندن کے ویسٹ منسٹر پل پر فائرنگ کے  بعد کم ازکم ایک درجن افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ خبررساں ادارے روئیٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ کےایوان زیریں کے قائد نے بتایا کہ  باہر پولیس نے ایک حملہ آور کو گولی مار دی۔ یہ واقعہ بدھ کے روز پارلیمنٹ کے باہر ایک گونج دار دھماکے کی آواز کے بعد پیش آیا۔ روئیٹرز کے فوٹو گرافر کا کہنا ہے کہ کم از کم ایک درجن افراد زخمی بھی ہوئے۔ اس سے قبل پارلیمنٹ کے ایک عہدے دار نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کے باہر دو افراد کو گولی مار دی گئی اور عمارت کوبند کر دیا گیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد ایوان زیریں کی کارروائی معطل کر دی گئی اورچیمبر میں موجود ارکان سے کہا گیا کہ وہ باہر نہ نکلیں۔ پولیس نے کہا ہے کہ انہیں ویسٹ منسٹر برج پر ایک حادثے کی اطلاع دی گئی۔ پولیس اہل کار موقع پر موجود ہیں اور اس  معاملےسے آتشیں  ہتھیاروں کے واقعہ کے طورپر نمٹا جا رہا ہے۔ عمارت میں موجود روئیٹرز کے رپورٹر نے بتایا کہ طبی عملہ پارلیمنٹ کے گیٹ کے اندر دو افراد کی مرہم پٹی کر رہا ہے۔ ویسٹ منسٹر کے قریب سے گذرنے والی زیر زمین ٹرین کے اسٹیشن کو پولیس کی درخواست پر بند کر دیا گیا ہے۔

Read More »

فوجی عدالتوں میں توسیع کا بل، سینیٹ سے منظوری موخر

پاکستان کے ایوان بالا ’سینیٹ‘ نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل کو تو کثرت رائے سے منظور کر لیا، لیکن فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کے لیے توسیع سے متعلق 28 ویں آئینی ترمیم پر رائے شماری آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔ فوجی عدالتوں کی بحالی اور توسیع سے متعلق آئینی ترمیم کو بدھ کی شب قومی اسمبلی کے دو تہائی سے زائد اراکین نے منظور کر لیا تھا، جس کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ اس بل کو با آسانی سینیٹ سے بھی منظور کرا لیا جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سینیٹ کے اجلاس میں حکومت کی دو اتحادی جماعتوں جمعیت علماء اسلام (ف) اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے بھی آئینی ترمیم کے مسودے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر عطاء الرحمٰن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اُن کی جماعت یہ سمجھتی ہے اسلام کے نام پر دہشت گردی ایسے الفاظ قانون کا حصہ نہیں ہونے چاہیئں۔ ’’ہم نے پھر درخواست کی کہ (ایسی اصطلاح) کو نکال دیا جائے اور صرف دہشت گردی کہا جائے۔‘‘ سینیٹر عطا الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’’ جو لوگ دین کے نام پر دہشت گردی کرتے ہیں جو مورچے میں بیٹھ کر بندوق کے نام پر اسلام چاہتے ہیں ہم ان کی مخالفت کر رہے لیکن اس کے باجود اسلام اور مذہب کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ زیادتی ہے کسی فرد اور لوگوں کے طبقے کے نام پر قانون نہیں بننا چاہیے قانون جب بھی بنے وہ سب کے لیے یکساں ہونا چاہیئے۔‘‘ انسانی حقوق کی تنظیموں کی مخالفت کی باوجود پیر کو قومی اسمبلی کے 255 اراکین نے فوجی عدالتوں کی بحالی اور توسیع سے متعلق مسودہ قانون کی منظوری دی جب کہ چار اراکین نے مخالفت کی۔ حقوق انسانی کی تنظیم ’ہیومین رائیٹس کمیشن آف پاکستان‘ کی چیئرپرسن زہرہ یوسف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ملک میں سویلین عدالتی نظام کو موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ ’’جب پہلی بار فوجی عدالتوں اور ملٹری ایکٹ کی ترامیم آئیں تھیں، اس وقت سے ہم اس کی مخالفت کر رہے ہیں کہ ان کی وجہ سے جو انصاف کی اصولوں کے تقاضے ہیں وہ پورے نہیں ہوتے ہیں اور اب بھی ہمارا موقف وہی ہے اور افسوس یہ ہے کہ حکومت نے دو سال گزارے اور جو انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ (سویلین) عدالتی نظام میں اصلاحات لائیں گے اس طرف انہوں نے کچھ نہیں توجہ دی۔‘‘ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ فوجی عدالتوں میں توسیع سے متعلق ترمیمی بل میں اس مرتبہ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ کسی بھی ملزم کو گرفتاری کے 24 گھنٹوں کے اندر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا، جب کہ ملزم کو یہ بھی بتانا ضروری ہو گا کہ اُسے کس الزام میں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملزم اپنی مرضی کے وکیل کی خدمات بھی حاصل کر سکے گا۔ پشاور میں دسمبر 2014ء میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے مہلک حملے کے بعد ملک میں دو سال کی مدت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم منظور کی گئی تھی۔ جنوری 2015ء میں قائم کی گئی فوجی عدالتوں کی دو سالہ مدت رواں سال سات جنوری کو ختم ہو گئی تھی جس کے بعد سے ان عدالتوں میں توسیع کے لیے حکومت نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت شروع کر دی تھی۔ حکومت کا موقف رہا ہے کہ وہ فوجی عدالتوں میں توسیع سے متعلق آئین میں ترمیم کی منظوری اتفاق رائے سے چاہتی ہے تاکہ یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ دہشت گردی کے خلاف تمام جماعتیں متحد ہیں۔

Read More »

‘سوشل میڈیا مذہب اور ایمان سے زیادہ اہم نہیں’

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مذہب سے متعلق توہین آمیز مواد کی بندش کے لیے مسلمان ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔ ملک میں سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کو روکے جانے سے متعلق ایک درخواست بھی اسلام آباد کی عدالت عالیہ میں زیر سماعت جب کہ گزشتہ ہفتے ہی وزیراعظم نواز شریف نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت کی تھی کہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی نشاندہی کر کے انھیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ بدھ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتا ہے لیکن اگر مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کی تضحیک نہ روکی گئی تو ان کے بقول سوشل میڈیا "مذہب اور ایمان سے زیادہ" اہم نہیں ہے۔ "میں (اسلام آباد میں) مسلم ممالک کے سفیروں کو مدعو کروں گا تاکہ اس کا بطور امہ مقابلہ کیا جائے۔ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے یہ سارے عالم اسلام کا مسئلہ ہے۔۔ وہ (سفراء) اپنے اپنے ممالک کو اس سے آگاہ کریں اور پاکستان کا یہ نقطہ ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے ناموس کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کریں۔" انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر خاص طور پر بین الاقوامی سوشل میڈیا کی ویب سائٹس نے اس پر توجہ نہ دی تو پھر ان کی طرف سے سخت اقدام سامنے آئے گا۔ تاہم وفاقی وزیر نے اس کی وضاحت نہیں کی۔ قبل ازیں بدھ ہی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ عدالت آئندہ سماعت تک یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ ملک میں توہین آمیز مواد والے سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جانی چاہیے یا نہیں۔ انھوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کو حکم دیا کہ وہ اس سلسلے میں اب تک کی کارگزاری سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔ اس معاملے کی سماعت اب 27 مارچ کو ہوگی۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے "ایف آئی اے" نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد شیئر کرنے والے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا جا چکا ہے جب دیگر ایسے لوگوں پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ ملک میں انسانی حقوق اور خاص طور پر انٹرنیٹ صارفین کے حقوق سے متعلق سرگرم کارکنان یہ کہتے آرہے ہیں کہ سوشل میڈیا تک رسائی پر مکمل پابندی کسی صورت بھی اس مسئلے کا حل نہیں ہے اور ماضی میں جس طرح ساڑھے تین سال تک وڈیو شیئرنگ کی معروف سائیٹ یوٹیوب کو پاکستان میں بند رکھا گیا تھا اگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی ایسی ہی قدغن لگتی ہے تو یہ درست نہیں ہو گا۔ انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کی ایک سرگرم کارکن نگہت داد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پابندی مسئلے کا حل نہیں اس کے لیے لوگوں کو آگاہی فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا جانا چاہیے۔ "ضروری ہے کہ آپ لوگوں میں آگاہی پیدا کریں کہ وہ اس طرح کے مواد تک جائیں ہی نہ، میں ایک مسلمان ہوں تو میں کبھی بھی توہین مذہب والے مواد تک نہیں جاؤں گی۔ فیس بک کو بند کرنے سے یہ مواد ختم نہیں ہو جائے گا کوئی بھی گوگل کرتا ہے تو اس پر ایسا مواد آ جائے گا تو اس کا کیا مطلب ہے کہ آپ گوگل پر پابندی لگا دیں گے۔" بدھ کو عدالت عالیہ میں زیر سماعت درخواست کی پیروی کرنے والے وکیل طارق اسد نے جج سے کہا کہ ایسے بیانات سامنے آرہے ہیں کہ اگر سوشل میڈیا پر پابندی لگی تو اس کے خلاف احتجاج کیا جائے گا جس پر  عدالت کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں ریفرنڈم کروانے کا بھی کہہ سکتی ہے۔   چودھری نثار نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کسی پر قدغن نہیں لگانا چاہتی لیکن آزادی رائے کی بنیاد پر دھمکیوں کو بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ "کونسا فریڈم آف ایکسپریشن، اگر ہولوکاسٹ کے بارے میں کوئی شک کا اظہار کرتا ہے تو مغربی دنیا میں قیامت ٹوٹ پڑتی ہے۔۔۔دنیا میں ایک اندازے کے مطابق ایک ارب سے زائد مسلمان ہیں تو یہ ایک ایک مسلمان کی عزت و ناموس کا مسئلہ ہے۔" تاہم انھوں نے میڈیا کے ذریعے لوگوں سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ توہین مذہب کے معاملے پر اپنی اس ذمہ داری کا پاس بھی کریں کہ کسی بھی طرح کسی شخص پر اس کا غلط الزام نہیں لگنا چاہیے۔ پاکستان میں توہین مذہب ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور اگر کسی پر یہ الزام ثابت ہو جائے تو قانون کے مطابق اس کی سزا موت ہے۔ لیکن ایسا دیکھنے میں آتا رہا ہے کہ ان الزامات کا سامنا کرنے والوں کو مشتعل ہجوم قانون کی گرفت میں پہنچنے سے پہلے ہی تشدد کر کے ہلاک کر دیتا رہا ہے۔

Read More »

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow