ماہر تعلیم و دانشور چیرمین غیاث الدین بلبن کی شعبہ تعلیم میں گرانقدخدمات لائق تحسین ہیں۔کرکٹر توفیق عمر

ماہر تعلیم و دانشور چیرمین غیاث الدین بلبن کی شعبہ تعلیم میں گرانقدخدمات لائق تحسین ہیں۔کرکٹر توفیق عمر

جہلم(محمدشہباز بٹ)علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے نبی کریمٌ نے فرمایا ماں کی گود سے گور تک علم حاصل کرو ، جس طرح دیگر شعبہ جات میں پاکستانی More »

جہلم میں ڈکیتی میں ملوث آکاش گینگ کے دوڈکیت گرفتار،ملزمان کے کئی ڈکیتیوں کے انکشافات

جہلم میں ڈکیتی میں ملوث آکاش گینگ کے دوڈکیت گرفتار،ملزمان کے کئی ڈکیتیوں کے انکشافات

جہلم(محمدشہباز بٹ)تھانہ سٹی پولیس نے مشین محلہ نمبر 2 میں ڈکیتی کرنے والے آکاش گینگ کے دو ملزمان گرفتار کر لیے،ایک عدد پستول اور نقدی برآمد ،ابتدائی تفتیش میں ڈکیتی کی وارداتوں More »

وائیٹ کالر کا خاتمہ میری اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم حسن اسد علوی

وائیٹ کالر کا خاتمہ میری اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم حسن اسد علوی

جہلم( چوہدری عابد محمود +اکرم حسین شاہ) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم حسن اسد علوی نے کہا کہ وائیٹ کالر کا خاتمہ میری اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔عوام اور پولیس کا چولی More »

میری شرت کو نقصان پہنچانے کے لئے مخالفین اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ۔خادم بٹ

میری شرت کو نقصان پہنچانے کے لئے مخالفین اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ۔خادم بٹ

جہلم( چوہدری عابد محمود +مرزا قدیر بیگ) میری شہرت کو نقصان پہنچانے کے لئے مخالفین اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ، عزت اور زلت مالک کائنات کے پاس ہے ، ان More »

تحریک انصاف پنجاب کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری حاجی عمران اسلم کی پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارک باد

تحریک انصاف پنجاب کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری حاجی عمران اسلم کی پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارک باد

جہلم( فضل الرحمن جنجوعہ +سید مظہر عباس ) پاکستان تحریک انصاف شمالی پنجاب کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری حاجی عمران اسلم نو منتخب عہدیداروں کو مبارک باد پیش کرنے کے لئے پریس کلب More »

جہلم ہومیوپیتھک میڈیکل کالج جہلم میں پی ایچ ایم اے ایجوکیشنل ونگ ضلع جہلم کے زیر اہتمام ماہانہ تدریسی پروگرام کا انعقاد

جہلم ہومیوپیتھک میڈیکل کالج جہلم میں پی ایچ ایم اے ایجوکیشنل ونگ ضلع جہلم کے زیر اہتمام ماہانہ تدریسی پروگرام کا انعقاد

جہلم( چوہدری عابد محمود +عمیر احمد راجہ) جہلم ہومیوپیتھک میڈیکل کالج جہلم میں پی ایچ ایم اے ایجوکیشنل ونگ ضلع جہلم کے زیر اہتمام ماہانہ تدریسی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس More »

بلدیہ حدود میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ، محلہ حسن آباد میں بااثر شخص نے 10 فٹ گلی بندکرنا شروع کردی

بلدیہ حدود میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ، محلہ حسن آباد میں بااثر شخص نے 10 فٹ گلی بندکرنا شروع کردی

جہلم( چوہدری عابد محمود +عمیر احمد راجہ) بلدیہ حدود میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ، محلہ حسن آباد میں بااثر شخص نے 10 فٹ گلی بند کرنے کے لئے کام More »

پریشر ہارن کا استعمال ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

پریشر ہارن کا استعمال ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

جہلم( چوہدری عابد محمود +چوہدری ظفر نور) پریشر ہارن کا استعمال ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ جہلم شہر و گردونواح میں شور شرابا کرنیوالے پریشر ہارن مکینوں کا More »

جہلم اندرون شہر کے علاقوں میں آوارہ کتوں کی بہتات ، شہری آوارہ کتوں کے کاٹنے کے باعث پریشان

جہلم اندرون شہر کے علاقوں میں آوارہ کتوں کی بہتات ، شہری آوارہ کتوں کے کاٹنے کے باعث پریشان

جہلم( چوہدری عابد محمود +عبدالغفار آزاد)جہلم اندرون شہر کے علاقوں میں آوارہ کتوں کی بہتات ، شہری آوارہ کتوں کے کاٹنے کے باعث پریشان ، ٹی ایم اے لاوارث ، آوارہ کتوں More »

حقو ق العباد بھی وہی پورے کرتا ہے جو حقو ق اللہ پورے کر رہا ہو ۔مولانا امیر محمد اکرم

حقو ق العباد بھی وہی پورے کرتا ہے جو حقو ق اللہ پورے کر رہا ہو ۔مولانا امیر محمد اکرم

جہلم( چوہدری عابد محمود +افتخار الحق) حقو ق العباد بھی وہی پورے کرتا ہے جو حقو ق اللہ پورے کر رہا ہو ۔مولانا امیر محمد اکرم اعوان انسان کو اللہ کریم نے More »

 

Category Archives: اخبار

افغانستان: مہاجرین کے کیمپ میں چھت گرنے سے 6 افراد ہلاک

حکام کے مطابق یہ چھت پیر کو الاصبح گری اور اُس وقت گھر میں موجود افراد سو رہے تھے۔

افغان عہدیدار کے مطابق ملک کے مشرقی حصے میں مہاجرین کے ایک کیمپ میں چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد ہلاک ہو گئے، جن میں دو خواتین اور دو بچے شامل ہیں۔

یہ واقعہ صوبہ ننگرہار میں پیش آیا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹیڈ پریس‘ نے صوبہ ننگرہار کے ترجمان عطااللہ خوگیانی کے حوالے سے بتایا کہ اس واقعہ میں خاندان کے چار دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔

حکام کے مطابق یہ چھت پیر کو الاصبح گری اور اُس وقت گھر میں موجود افراد سو رہے تھے۔

بتایا جاتا ہے جس خاندان کے افراد چھت گرنے سے ہلاک ہوئے، وہ حال ہی میں پڑوسی ملک پاکستان سے افغانستان واپس آئے تھے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ’یو این ایچ سی آر‘ کے مطابق پاکستان میں اب بھی لگ بھگ 13 لاکھ اندراج شدہ افغان پناہ گزین آباد ہیں جب کہ پاکستانی حکام کے مطابق تقریباً 10 لاکھ افغان شہری بغیر دستاویزات کے یہاں رہ رہے ہیں۔

پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران سے واپس آنے والے شہریوں کی آباد کاری کے لیے افغان حکومت کوششوں میں مصروف ہے اور عموماً اُنھیں ٹھہرانے کے لیے جلدی میں کیمپ قائم کیے جاتے ہیں جن میں سے ایک مشرقی صوبے ننگر ہار میں بھی واقع ہے۔

بنگلہ دیش کے کرکٹر عرفات سنی گرفتار

بنگلہ دیش کی قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی عرفات سنی کو فیس بک پر جعلی اکاؤنٹ بنا کر اپنی دوست کی نجی تصاویر جاری کرنے کے الزام میں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

ڈھاکا پولیس کے مطابق 30 سالہ باؤلر کو امین بازار کے علاقے میں واقع ان کے گھر سے اتوار کو حراست میں لیا گیا۔

ان کی ایک دیرینہ خاتون دوست نے دو ہفتے قبل اس بابت شکایت درج کروائی تھی جس پر پولیس نے یہ کارروائی کی۔

پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار جمال الدین میر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی “اے ایف پی” کو بتایا کہ سنی کی دوست نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا تھا کہ “سنی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر اس کا ایک جعلی اکاؤنٹ بنایا اور دونوں کی نجی تصاویر اس پر اپ لوڈ کیں جو خاتون کے مطابق جارحانہ اور ہتک آمیز تھیں۔”

عرفات سنی کو سائبر قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا اور ان پر یہ الزام ثابت ہو جاتا ہے کہ انھیں 14 سال قید یا ایک لاکھ 26 ہزار 340 ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

میر کا کہنا تھا کہ سنی کو گرفتار کر کے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مزید پوچھ گچھ کے لیے انھیں پانچ دن پولیس کی تحویل میں رکھنے کی اجازت دی جائے۔

بنگلہ دیش کے کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو نظام الدین چودھری نے “اے ایف پی” کو بتایا کہ “یہ (سنی کا) ذاتی معاملہ لگتا ہے، ہم اس پر رائے نہیں دینا چاہتے۔ تاہم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔”

بائیں ہاتھ سے گیند کرنے والے اسپنر عرفات سنی نے اب تک اپنے ملک کی طرف سے 16 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں شرکت کر رکھی ہے جس میں انھوں نے 24 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ 10 ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچوں میں بھی حصہ لے کر دس وکٹیں اپنے نام کر چکے ہیں۔

2016ء کے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کے دوران ان کا باؤلنگ ایکشن غیر قانونی قرار دیے جانے پر انھیں بین الاقوامی میچوں میں شرکت سے معطل کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ بنگلہ دیش کی مقامی کرکٹ میں ہی حصہ لیتے آرہے ہیں۔

حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش کے وہ تیسرے قومی کرکٹر ہیں جنہیں پولیس نے گرفتار کیا ہے۔

قبل ازیں فاسٹ باؤلر روبیل حسین کو 2015ء میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ان کی منگیتر ہونے کا دعویٰ کرنے والی ایک اداکارہ نے الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے اس سے جنسی زیادتی کی ہے۔

روبیل کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا جب کہ بعد ازاں خاتون نے اپنا الزام واپس لے لیا تھا۔

ایک اور قومی کھلاڑی شہادت حسین اور ان کی اہلیہ کو پولیس نے 11 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ مقدمے کی کارروائی کے بعد عدالت نے دونوں میاں بیوی کو بری کر دیا تھا۔

امریکہ: جنوبی حصوں میں بگولوں اور طوفانوں سے 18 ہلاک

امریکہ کے جنوبی خطے میں طوفانوں اور بگولوں کے باعث کم ازکم 18 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ محکمہ موسمیات نے مزید مہلک طوفانوں کی پیش گوئی کی ہے۔

نیشنل ویدر سروس نے اتوار کو کہا کہ جنوبی جارجیا، شمالی فلوریڈا اور جنوب مشرقی الاباما کے کچھ حصوں کو طاقتور بگولوں، آندھی اور ژالہ باری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کئی کلومیٹرز کا احاطہ کرنے والے بگولے زیادہ خطرے کا سبب بن سکتے ہیں۔

اختتام ہفتہ جارجیا کے مختلف حصوں میں شدید طوفانوں اور بگولوں کے باعث 14 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے۔ دیگر چار افراد کی ہلاکت کی اطلاع میسسیپی سے موصول ہوئی جو بگولے کا نشانہ بنے۔

جارجیا کے گورنر نیتھن ڈیل نے ریاست کی ان سات کاؤنٹیز میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے جہاں اموات کے علاوہ طوفانوں سے املاک کو بھی نقصان پہنچا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے متاثرہ علاقوں میں “تمام دستیاب ممکنہ وسائل” بروئے کار لا رہے ہیں اور “ہماری دعائیں طوفان سے متاثر ہونے والوں کے لیے ہیں۔”

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جارجیا کے گورنر سے اتوار کو بات کی اور بگولوں سے ہونے والے نقصان پر ان سے تعزیت کا اظہار کیا۔

ٹرمپ نے بگولوں کو “وحشی اور طاقتور” قرار دیا۔ یہ بات انھوں نے وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں کام کے دوران کہی جہاں منصب صدارت سنبھالنے کے بعد اںھوں نے اپنا دوسرا مکمل دن گزارا۔ صدر کا کہنا تھا کہ وہ فلوریڈا کے گورنر رک اسکاٹ سے بھی بات کریں گے۔

مئی، ٹرمپ ملاقات میں ‘تجارت، نیٹو اور دہشت گردی’ پر بات چیت متوقع

برطانوی وزیر اعظم نے ‘بی بی سی’ کو بتایا ہے کہ ”خواتین کے حوالے سے ڈونالڈ ٹرمپ کے چند بیانات ناقابلِ قبول ہیں، جن میں سے چند کے لیے اُنھوں نے خود معذرت کر لی ہے”

برطانوی وزیر اعظم تھریسا مئی نے اتوار کے روز کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اگر اُنھیں محسوس ہوا کہ کوئی ناقابلِ قبول بات کہی گئی، تو اُنھیں اِس کی نشاندہی کرنے میں کوئی عار نہیں ہوگا۔

مئی جمعے کے دِن واشنگٹن میں ٹرمپ سے ملاقات کریں گی۔

اُنھوں نے بتایا کہ اس موقع پر وہ امریکہ اور برطانیہ کے مابین آئندہ کے تجارتی تعلقات، کے ساتھ ساتھ نیٹو اور چیلنج، مثال کے طور پر، دہشت گردی کو شکست دینے سے متعلق گفتگو کریں گی۔

ہفتے کے روز یورپی دارالحکومتوں کی سڑکوں پر ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے ٹرمپ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے، خاص طور پر وہ بیانات جنھیں خواتین کے لیے نازیبا قرار دیا جا رہا ہے۔

مئی نے ‘بی بی سی’ کو بتایا کہ ”خواتین کے حوالے سے ڈونالڈ ٹرمپ کے چند بیانات ناقابلِ قبول ہیں، جن میں سے چند کے لیے اُنھوں نے خود معذرت کر لی ہے”۔

اُن کے الفاظ میں ”جب میں اُن (ڈونالڈ ٹرمپ) کے ساتھ گفتگو کروں گی، تو میرے خیال میں یہ بذاتِ خود واضح ہے کہ میں بحیثیت ایک خاتون وہاں بیٹھوں گی، یہ حقیقت ہے کہ میں ایک خاتون وزیر اعظم ہوں۔۔۔ جب بھی ایسی کوئی بات ہوتی ہے جو میرے خیال میں ناقابلِ قبول ہوگی، تو مجھے ڈونالڈ ٹرمپ سے اس بات کا اظہار کرنے میں کوئی خوف نہیں ہوگا”۔

یروشلم: اسرائیل کا ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ

وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے یروشلم میں اپنی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کا آغاز اسرائیل کے انتہائی اہم اتحادی، امریکہ اور اُس کے نئے سربراہ ڈونالڈ ٹرمپ سے رابطہ کرکے کیا۔ دونوں نے اتوار کے روز ٹیلی فون پر گفتگو کی۔

بات چیت سے قبل، وائٹ ہائوس نے بتایا کہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے سے متعلق بات ”ابھی سوچ کے انتہائی ابتدائی درجے پر ہے”۔ ٹرمپ نے ایسا کرنے پر زور دیا ہے۔

نیتن یاہو نے اتوار کی علی الصبح کہا کہ ”ہم عہدہ سنبھالنے پر صدر ٹرمپ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں”۔

اُنھوں نے کہا کہ ”میں اسرائیل کے لیے اُن کی قریبی دوستی اور ساتھ ہی شدت پسند اسلامی دہشت گردی سے پوری طاقت کے ساتھ نمٹنے کی خواہش کے اعلان کو سراہتا ہوں”۔

نیتن یاہو کو ماضی میں اعتراض رہا ہے کہ وائٹ ہائوس کے اُن کے سابق حریف، صدر براک اوباما ”شدت پسند اسلامی دہشت گردی” کی اصطلاح ادا کرنے سے انکار کرتے رہے تھے۔

اسرائیلی سربراہ سمجھتے ہیں کہ شدت پسند اسلام یہودی ریاست اور مغرب دونوں کے لیے یکساں طور پر خطرے کا باعث ہے۔ لیکن، اوباما فلسطین کے معاملے سے اسے علیحدہ کرنے کے خواہاں رہے، جسے وہ آزادی کی جائز جدوجہد قرار دیتے تھے۔ یہ کئی ایک معاملات میں سے ایک معاملہ تھا جس پر دونوں رہنمائوں کے درمیان نااتفاقی قائم رہی۔

دوسرا معاملہ امریکہ اور عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کا جوہری سمجھوتا تھا، جسے نیتن یاہو ایک تباہ کُن غلطی خیال کرتے ہیں، جو اسرائیل کی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایران کئی معاملوں میں سے ایک معاملہ ہے جو نئی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کے ایجنڈا میں سرِ فہرست ہے۔

قزاقستان: شام امن مذاکرات میں شرکت کے لیے وفود کی آمد

توقع ہے کہ پیر کے روز ہونے والی اِس بات چیت میں دھیان دسمبر میں روس، ایران اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے سمجھوتے کے تحت ملک بھر میں نافذ کی گئی جنگ بندی کو مضبوط کرنے پر مرتکز رہے گا، جو کافی حد تک کامیاب رہی ہے

شامی حزب مخالف اور سرکاری وفود اتوار کے روز قزاقستان کے دارالحکومت، آستانہ پہنچے، جس کے ایک ہی روز بعد امن مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ توقع ہے کہ ایک سال کے بعد دشمن فریق کے درمیان یہ پہلی بالمشافیٰ ملاقات ہوگی۔

روسی ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ اتوار کی رات گئےمذاکرات کے منتظمین روس، ایران اور ترکی کے نمائندوں کے درمیان ایک سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا۔

روس اور ایران صدر بشارالاسد کی قیادت والی شام کی سرکاری افواج کے حامی ہیں، جب کہ ترکی اور امریکہ باغیوں کی حمایت کرتے ہیں، جو اُنھیں اقتدار سے ہٹانے کےخواہاں ہیں۔

توقع ہے کہ پیر کے روز ہونے والی اِس بات چیت میں دھیان دسمبر میں روس، ایران اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے سمجھوتے کے تحت ملک بھر میں نافذ کی گئی جنگ بندی کو مضبوط کرنے پر مرتکز رہے گا، جو کافی حد تک کامیاب رہی ہے۔

تمام فریق نے، جن میں امریکی قیادت والا بین الاقوامی اتحاد بھی شامل ہے، کہا ہے کہ وہ شام میں دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جیسا کہ داعش اور القاعدہ کے دھڑے، جنھیں امن مذاکرات میں مدعو کیا گیا ہے، جو جنگ بندی کے سمجھوتے میں شامل نہیں ہیں۔ تاہم، شام اور اُس کے حامی روس اور ایران بھی مبینہ طور پر معتدل باغیوں کو نشانہ بناتے ہیں، جو چھ برس سے جاری تنازع کے دوران اسد سے نبرد آزما ہیں۔

اس سے پہلے کی جانے والی جنگ بندی کی کوششیں، جن میں امریکہ اور اقوام متحدہ شامل تھے، فوری طور پر ناکام رہیں چونکہ لڑائی میں ملوث فریق گولیوں کا تبادلہ کرتے اور ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے۔

پُرامن احتجاج جمہوریت کا حسن ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اِس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک روز قبل ملک کے کئی شہروں میں لاکھوں افراد نے اُن کی نئی انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ کیا۔

وائٹ ہائوس سے ایک ٹوئٹر پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ ”کل احتجاجی مظاہرے دیکھے، لیکن میرا تاثر یہی تھا کہ ابھی تو انتخاب ہوا ہے۔ اِن لوگوں نے ووٹ کیوں نہیں دیا؟ مشہور شخصیات مقصد کو بُری طرح سے نقصان پہنچاتی ہیں”۔

حقوق نسوان کی مشہور حامی، گلوریا اسٹائنم؛ پاپ گلوکارہ میڈونا؛ اکٹریس اسکارلیٹ جانسن اور دیگر معروف شخصیات نے ہفتے کے روز واشنگٹن میں خواتین کی ریلی کی قیادت کی، جس کا مقصد جمعے کے روز ٹرمپ کی جانب سے عہدہ صدارت کا حلف لینے پر برہمی کا اظہار تھا۔

دو گھنٹے بعد، ٹرمپ نے ایک اور ٹوئیٹ میں کہا کہ ”پُرامن مظاہرے ہماری جمہوریت کا حسن ہے۔ اگر میں اِس سے اتفاق نہ بھی کروں، تو بھی میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ لوگوں کو اپنے خیالات کے اظہار کا حق حاصل ہے”۔

گیمبیا: جمیع ملک بدر، امریکہ کا اقتدار کی منتقلی کا خیرمقدم

گیمبیا کے انتخابات میں ہارنے والے رہنما، یحیٰ جمیع نے ہفتے کے روز جلاوطنی اختیار کی، جس کے بعد 22 سال سے جاری من مانی کے دور اور سیاسی تعطل کا خاتمہ ہوا، جس کے نتیجے میں مغربی افریقہ کا یہ ملک علاقائی فوجی مداخلت کی ابتدا کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔

ایسے میں جب وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بنجال کے ہوائی اڈے پر بغیر نمبر والے ایک طیارے میں سوار ہوئے، جمیع نے کوئی پیغام نہیں دیا؛ اور کئی گھنٹوں بعد گِنی سے خبر موصول ہوئی کہ اُن کی پرواز وہاں اتر چکی ہے۔

اِس سفر کے دوران، گِنی کے صدر الفا کونڈے اُن کے ہمراہ تھے، جنھوں نے حالیہ دِنوں اُن کی جلا وطنی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی تھی۔

جمیع نے 1994ء کی فوجی بغاوت میں اقتدار پر قبضہ جما لیا تھا۔ جمیع کی ملک بدری کے بعد ہفتوں سے جاری تنائو کا ماحول ختم ہوا جو اُس وقت شروع ہوا تھا جب یکم دسمبر کے قومی انتخابات میں حیران کُن شکست کے بعد اُنھوں نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس کے نتیجے میں فوجی اقدام کا خطرہ ٹل گیا ہے، جس سے قبل سینیگال اور نائجیریا کی 7000 فوج جمعرات کو گیمبیا میں داخل ہوچکی تھی، جس نےدھمکی دی تھی کہ جمیع کی وفادار فوج کا مقابلہ کیا جائے گا۔

افریقی یونین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل دونوں نے مجوزہ مداخلت کی حمایت کی تھی۔

جمیع کے ملک بدر ہونے کے نتیجے میں آدما بارو کو اقتدار کی منتقلی کا راستہ ہموار ہوگیا، جنھوں نے سات ہفتے قبل عہدہ صدارت کا انتخاب جیتا تھا۔ باور نے جمعرات کو ہمسایہ ملک سینیگال میں قائم گیمبیا کے سفارت خانے میں اپنے عہدے کا حلف لیا تھا۔ توقع ہے کہ وہ ملک واپس آ جائیں گے۔

امریکہ نے گیمبیا کی حالات کی پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کےقائم مقام ترجمان، مارک ٹونر نے کہا ہے کہ ”امریکہ گیمبیا میں اقتدار کی پُر امن منتقلی کے جاری سلسلے کا خیر مقدم کرتا ہے اور حلف لینے پر صدر آدما بارو کو مبارکباد پیش کرتا ہے۔”

ترجمان نے کہا کہ ”ہم جمہوریت کے لیے عزم کا خیرمقدم کرتے ہیں اور گذشتہ ہفتوں کے دوران گیمبیا کے عوام کی جانب سے دکھائے گئے تحمل و برداشت کے جذبے کو سراہتے ہیں”۔

لاپتا افراد کے والدین کی حکومت اور فوج سے اپیل

رواں ماہ کے اوائل میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں سے چار مختلف سماجی کارکنوں کی گمشدگی کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوا کہ گزشتہ سال لاپتا ہونے والے چار دیگر افراد کے اہل خانہ بھی اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے ذرائع ابلاغ کے ذریعے حکومت اور فوج سے مدد کی درخواست کرتے نظر آرہے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران گزشتہ سال لاپتا ہونے والے چار افراد کے والدین نے بتایا کہ ان کے بیٹے پنجاب کے مختلف شہروں سے اگست اور ستمبر کے درمیان “لاپتا” ہوئے۔

لاپتا ہونے والے راغب عباس خان کے والد ساجد حسین نے بتایا کہ ان کا بیٹا نیم سرکاری بیمہ کمپنی میں ملازمت کرتا تھا جسے مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار 21 ستمبر کو فیصل آباد میں واقع اس کے گھر سے ساتھ لے گئے تھے۔

بعد ازاں اس کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہ کیے جانے پر ساجد حسین نے عدالت سے رجوع کر کے بیٹے کی گمشدگی کی رپورٹ پولیس تھانے میں درج کروائی۔

ایک سابق فوجی اہلکار واجد علی نے کہا کہ ان کے دو بیٹوں وقار حیدر اور اکبر عمران کو بھی اسی طرح اگست میں لے جایا گیا تھا لیکن اب تک ان کا کچھ پتا نہیں چلا کہ وہ کس کی تحویل میں ہیں۔

چوتھا شخص ملک شبیر حسین آہیر سرگودھا سے لاپتا ہے۔

ان افراد کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ اگر ان کے بیٹوں نے کوئی غیرقانونی کام کیا ہے تو انھیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ انھوں نے حکومت اور فوج سے درخواست کی کہ وہ ان افراد کو منظر عام پر لانے میں مدد کریں۔

تاحال اس بارے میں حکام کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن ماضی میں مختلف افراد کی جبری گمشدگی کے الزامات عموماً ملک کے حساس اداروں پر عائد کیے جاتے رہے ہیں جنہیں حکام مسترد کرتے ہیں۔

پاکستان میں جبری گمشدگیوں خصوصاً جنوب مغربی صوبہ بلوچستان سے لوگوں کے لاپتا ہونے کا معاملہ ایک عرصے سے حکومت پر تنقید کا باعث بنا ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں ایک کمیشن بھی تشکیل دیا جا چکا ہے جس کی مداخلت سے اب تک درجنوں لاپتا افراد کا پتا چلایا جا چکا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی سربراہ زہرہ یوسف کہتی ہیں کہ ایسی گمشدگیوں کے معاملات جمہوریت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

“لوگوں کے اس طرح اٹھائے جانے کا سلسلہ کافی سالوں سے ہے مگر اس میں نیا پہلو یہ ہے کہ وہ (لوگ ) جو سماجی میڈیا پر سرگرم تھے ان کو اب اٹھا یا جارہا ہے اور اختلاف رائے اور تنقید کو اگر حکومت اور ریاستی ادارے برداشت نہیں کریں گے تو یہ جمہوریت کے لیے بہت خطرہ ہے۔”

ان کے بقول حکومت کو اس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا تھا کہ رواں ماہ لاپتا ہونے والوں کی بازیابی کے لیے کوششوں میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی یہ لوگ اپنے خاندان سے واپس جا ملیں گے۔

شام کے لیے ‘جنگجو’ بھرتی کرنے والی شدت پسند تنظیم کالعدم قرار

پاکستان کی حکومت نے ایک غیر معروف شدت پسند مذہبی تنظیم کو مبینہ طور پر لوگوں کو شام میں لڑائی کے لیے بھرتی کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق ‘انصار الحسین’ نامی تنظیم پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخواہ اور ملحقہ قبائلی علاقے میں سرگرم تھی اور یہ پاڑا چنار اور کوہاٹ کے علاقوں سے لوگوں کو بھرتی کر کے انہیں شام میں لڑائی کے لیے بھیجنے کے کام میں سرگرم تھی۔

وزارت داخلہ کے دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے نیکٹا کی ویب سائیٹ پر کالعدم تنطمیوں کی فہرست کے مطابق اس تنظیم پر 30 دسمبر 2016ء کو پابندی عائد کی گئی تھی تاہم یہ بات اتوار کو منظر عام پر آئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ تنظیم شدت پسند گروپ داعش کے خلاف لڑائی کے لیے خاص طور شیعہ مسلک کے لوگوں کو بھرتی کرنے میں مبینہ طور پر ملوث تھی۔

پاکستان میں اب تک ایسی 64 تنظیموں پر پابندی عائد کر کے انہیں کالعدم قرار دیا جا چکا ہے جو شدت پسندی و دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

بین الاقوامی امور کے معروف تجزیہ کار حسن عسکری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ایسی تنظیمیں سرگرم تھیں جو شام وعراق کے لیے لوگوں کو بھرتی کرتی رہیں ہیں اور ان کے بقول یہ بھی ایک ایسی ہی تنظیم ہے۔

” یہی تو سب سے بڑا خطرہ جو (شام) وہاں کا تجربہ لے کر آتے ہیں جو گئے ہیں وہ ظاہر ہے کہ وہ متحرک ہیں اور اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ جب وہ واپس آئیں گے تو اسی قسم کی عسکری کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔”

تاہم حسن عسکری نے کہا کہ اس تنظیم پر پابندی اس وقت لگنی چاہیئے تھی جب ایسی انٹیلی جنس اطلاعات مل رہی تھیں کہ یہ لوگوں کو شام کے لیے بھرتی کر رہی ہے۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ متعدد ایسے افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جو لوگوں کو عراق و شام بھیجنے کے لیے بھرتی کر رہے تھے تاہم وہ اس بات کی بھی تصدیق کر چکے ہیں کہ اب تک کئی پاکستانی شہری شدت پسند گروہ داعش میں شامل ہونے کے لیے شام جا چکے ہیں۔

پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے موثر اقدام کر رہی ہے اور اس ضمن میں قومی لائحہ عمل کے تحت دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور منافرت پھیلانے والوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں اب تک سیکڑوں لوگوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات بنائے جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں حکومت نے دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک منحرف دھڑا “جماعت الاحرار” اور لشکر جھنگوی العالمی نامی تنظیمیں پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔

پاڑا چنار بم حملہ، ‘فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش ہو سکتا ہے’

افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکے میں اتوار کو ہلاکتوں کی تعداد 25 ہو گئی جب کہ درجنوں زخمی اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

مرکزی قصبے پاڑا چنار میں ہفتہ کی صبح ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری کالعدم لشکر جھنگوی العالمی نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو کہ اس سے قبل بھی خاص طور پر شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں پر ہلاکت خیز حملے کر چکی ہے۔

کرم ایجنسی ایک عرصے تک فرقہ وارانہ کشیدگی کا شکار رہی جہاں شیعہ اور سنی فرقوں کے متحارب گروپ ایک دوسرے پر مہلک حملے کرتے رہے ہیں۔

تاہم مقامی عمائدین اور حکومت کی کوششوں سے 2010ء کے بعد یہاں فرقہ وارانہ کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہوا تھا۔

ہفتے کو ہونے والے بم دھماکے کے ہلاک شدگان میں قابل ذکر تعداد کا تعلق شیعہ برادری سے تھا۔

اتوار کو پاڑا چنار کی فضا سوگوار رہی جب کہ مرنے والوں کے لیے مرکزی امام بارگاہ میں اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا۔

تشدد کے اس تازہ واقعے سے ایسے خدشات نے جنم لیا ہے کہ یہ کرم ایجنسی میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

دفاعی امور کے تجزیہ کار اور قبائلی علاقوں کے سابق سیکرٹری محمود شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ کرم اور اورکزئی کے قبائلی علاقوں میں فرقہ واریت کا خطرہ موجود ہے اور حکام کو چاہیئے کہ ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدام کریں۔

“قبائلی علاقوں میں اصلاحات بھی میرا خیال ہے قومی لائحہ عمل کا حصہ تھیں ان پر حکومت کی طرف سے ہچکچاہٹ دکھائی دیتی ہے۔۔۔میرا خیال ہے یہاں اصلاحات کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تنظیم نو کی بھی ضرورت ہے۔”

کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے رکن سجاد حسین کا کہنا ہے کہ امن دشمن عناصر اس علاقے میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش تو ضرور کرتے ہیں لیکن ان کے بقول شیعہ برادری نے اپنے لوگوں سے صبروتحمل سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سینیٹر سجاد حسین نے بتایا کہ سنی مسلک کے مقامی قبائلیوں کی طرف سے بھی ہفتہ کو ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کی گئی ہے اور دونوں مسالک کے عمائدین علاقے میں امن بحال رکھنے کے لیے رابطے میں ہیں۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے اس دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردوں کو ان کے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اسلام آباد میں تعینات امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ہیل نے بھی ٹوئٹر پر ایک پیغام میں پاڑا چنار بم حملے کی مذمت کی ہے۔

پاکستان چوتھا ون ڈے ہار گیا، 86 رنز سے شکست

سڈنی میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان اتوار کو کھیلا جانے والا ایک روزہ انٹرنیشنل میچ آسٹریلیا نے 86 رنز سے جیت لیا۔ پاکستان کی ٹیم نے مجموعی طور پر 267 رنز بنائے جبکہ جیت کے لئے اسے 354 رنز بنانا تھے۔

چوتھے ایک روزہ میچ کے ساتھ ہی پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز بھی پاکستان کے ہاتھوں سے نکل گئی۔ پاکستان نے صرف ایک میچ میں فتح حاصل کی تھی جبکہ باقی میچز آسٹریلیا نے جیتے۔

اتوار کے میچ میں آسٹریلیا کی جانب سے چھ وکٹ کے نقصان پر 354 رنز کا دیا جانے والا ہدف حاصل کرنا بالآخر پاکستان کے لئے نا ممکن ثابت ہوا۔ آج بولرز کے ساتھ ساتھ فیلڈرز نے بھی ناقص کارکردگی دکھائی جس کا آسٹریلیا کے بیٹسمین نے بھر پور فائدہ اٹھایا۔ پاکستانی فیلڈرز نے کئی آسان کیچ چھوڑ دیئےجس کے سبب ڈیوڈ وارنر نے 130 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔

ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز ایک بار پھر مایوس کن ثابت ہوا اور کپتان اظہر علی صرف 7 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ بابر اعظم نے شرجیل خان کے ساتھ مل کر پراعتماد انداز میں اننگز کو آگے بڑھایا اور اسکور 88 رنز تک پہنچایا تاہم بابر اعظم 31 رنز بنا کر ہیڈ کی گیند پر ہیزل ووڈ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

شرجیل خان نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے 6 چوکوں اور 2چھکوں کی مدد سے اپنی نصف سنچری مکمل کی، جو ایک روزہ میچوں میں ان کی پانچویں نصف سنچری ہے۔ شرجیل خان اسپنر ایڈم زمپا کی ایک گیند کو گراؤنڈ سے باہر پھینکنے کی کوشش میں باؤنڈری لائن پر وارنر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ انہوں نے 47گیندوں پر 74 رنز بنائے۔

محمد حفیظ 40 اور شعیب ملک 47 رنز بناکر آؤٹ ہوئےجبکہ عمر اکمل زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور صرف 11 رنز بنا کر پویلین کی راہ لی۔ محمد عامر5، عماد وسیم 25 اور جنید خان بغیر کھاتہ کھولے آؤٹ ہوئے، اس طرح پوری ٹیم 43.5 اوورز میں 267 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور آسٹریلیا نے میچ 86 رنز سے اپنے نام کر لیا۔

آسٹریلیا کی طرف سے ایڈم زمپا اور ہیزل ووڈ نے تین، تین ہیڈ نے 2 جب کہ کومینز اور اسٹارک نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

ڈیوڈ وارنر کو شاندا 130 رنز بنانے پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

آسٹریلیا کی اننگز
اس سے قبل اتوار کی صبح جب میچ کا آغاز ہوا تو آسٹریلوی کپتان اسٹیون اسمتھ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ اوپنر ڈیوڈ وارنر اور عثمان خواجہ نے دھواں دار بیٹنگ سے اننگز کا آغاز کیا۔ دونوں نے 92 رنز اسکور کئے۔ اس میں عثمان خواجہ کے 30 رنز شامل تھے۔ وہ حسن علی کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

وارنر نے جارحانہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور کسی بھی پاکستانی بولر کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے دلکش اسٹروکس کھیل کر ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں اپنی 12 ویں سنچری مکمل کی۔ اس سنچری میں 9 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ 111 رنز پر حسن علی نے ڈیوڈ وارنر کا ایک آسان کیچ ڈراپ کیا۔

وارنر 119 گیندوں پر 130 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ حالیہ سیزن کی صرف 13 اننگز میں وارنر کی یہ 5 ویں سنچری بنائی ہے۔

وارنر اور کپتان اسمتھ نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 120 رنز کا اضافہ کیا۔ اسمتھ 49 رنز بنا کر حسن علی کا شکار بنے۔ ٹریوس ہیڈ 36 گیندوں پر تیز رفتار 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

گلین میکسویل نے صرف 44 گیندوں پر 78 رنز کی اننگز کھیلی۔ یوں آسٹریلیا نے مقررہ پچاس اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 353 رنز بنا لئے۔

میزبان ٹیم کا اسکور یہاں تک پہنچانے میں فیلڈرز نے بھی اہم کردار ادا کیا، گرین شرٹس نے ناقص فیلڈنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہاتھوں میں آئے کئی آسان کیچ ڈراپ کیے۔

پاکستان کی طرف سے حسن علی نے 5 اور محمد عامر نے ایک وکٹ حاصل کی۔

افغان اعلیٰ امن کونسل کے سربراہ انتقال کر گئے

افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے سربراہ پیر سید احمد گیلانی 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی “ایسوسی ایٹڈ پریس” سے بات کرتے ہوئے کونسل کے ایک نائب سربراہ محمد کریم خلیلی نے بتایا کہ احمد گیلانی کی وفات جمعہ کو کابل کے ایک اسپتال میں ہوئی۔

بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک عرصے سے بیمار تھے لیکن اس کی مزید تفصیل سامنے نہیں آ سکی ہے۔

صدر اشرف غنی کونسل کے نئے سربراہ کا تقرر کریں گے لیکن تاحال اس بارے میں واضح نہیں کہ اس کے لیے کس شخصیت کا انتخاب کیا جائے گا۔

گیلانی طالبان کے ساتھ افغان حکومت کے مذاکرات کے بڑے حامی رہے ہیں۔

پاکستان نے افغان اعلیٰ امن کونسل کے سربراہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کو دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ احمد گیلانی ایک بااثر مذہبی راہنما تھے اور انھیں افغانستان میں بحالی امن کی کوششوں کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

احمد گیلانی 1980ء کی دہائی میں روسی افواج کے خلاف ایک مزاحمتی راہنما کے طور پر ابھرے تھے اور انھوں نے نیشنل اسلامک فرنٹ نامی ایک گروپ تشکیل دیا تھا۔

یہ روسی افواج سے برسرپیکار امریکہ کے حمایت یافتہ سات گروپوں میں سے ایک تھا۔

انھیں گزشتہ سال ہی افغان امن کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

ستمبر 2010ء میں تشکیل پانے والی اس امن کونسل کے پہلے سربراہ سابق افغان صدر برہان الدین ربانی تھے جو 2011ء میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

صدر ٹرمپ کا میڈیا پر ‘غلط بیانی’ کا الزام

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ذرائع ابلاغ پر حقائق کے منافی خبر دینے کا الزام عائد کیا جسے اپنی صدارتی مہم کے دوران میڈیا کے خلاف ان کی شکایات کی ایک تازہ کڑی سمجھا جا رہا ہے۔

ہفتہ کو امریکی انٹیلی جنس ایجنسی “سی آئی اے” کے صدر دفتر کے دورے کے موقع پر اپنے خطاب میں انھوں نے میڈیا پر دو بڑے اعتراضات اٹھائے، جن میں ایک ان کی تقریب حلف برداری کے وقت لوگوں کی تعداد کو ان کے بقول غلط بتانا اور دوسرا اوول آفس سے مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی مورتی کو ہٹانے کی غلط خبر چلانا شامل تھے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے تقریر کی تو ان کے سامنے اندازاً دس لاکھ، پندرہ لاکھ نظر آرہے تھے۔

“ایک نیٹ ورک نے کہا کہ “یہاں ڈھائی لاکھ لوگ آئے۔ ٹھیک ہے کہ یہ کوئی اتنی بری تعداد نہیں، لیکن یہ جھوٹ ہے۔”

صدر نے دعویٰ کیا کہ ڈھائی لاکھ کے قریب لوگ تو مرکزی اسٹیج کے پاس موجود تھے جب کہ “دیگر 20 بلاکس کے علاقے میں، واشنگٹن مونیئومنٹ تک کھچا کھچ بھرے تھے۔”

ٹرمپ نے کہا کہ “لہذا ہم نے ان کا (جھوٹ) پکڑ لیا اور میرا خیال ہے انھیں اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔”

ٹرمپ کے اس دعوے سے متعلق حاصل کی گئی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ یہ غلط ہے۔

2009 اور 2017 میں صدر کی حلف برداری کے موقع پر لی گئی تصاویر کا جائزہ-ایسوسی ایٹڈ پریس

2009 اور 2017 میں صدر کی حلف برداری کے موقع پر لی گئی تصاویر کا جائزہ-ایسوسی ایٹڈ پریس

جمعہ کو صدر کی تقریب حلف برداری کے موقع پر نیشنل مال کی حاصل کردہ تصاویر سے پتا چلتا ہے کہ لوگوں کا ہجوم واشنگٹن مونیئومنٹ تک نہیں تھا۔ اس کے بیچ بہت سی خالی جگہیں دکھائی دیتی ہیں۔

ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں واقع ہوٹلز سے بھی پتا چلا کہ ان کے ہاں بھی کمرے خالی تھے جو کہ عموماً نئے صدور کی افتتاحی تقاریب کے موقع پر بھرے ہوئے ہوتے تھے۔

واشنگٹن کے میٹرو نظام کے اعدادوشمار بھی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ماضی کی نسبت جمعہ کو خاصی کم تعداد میں لوگوں نے سفر کیا۔

ٹرانزٹ سروس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق 20 جنوری کو دن 11 بجے تک ایک لاکھ 93 ہزار لوگوں نے سفر کیا ۔ آٹھ سال قبل یہ تعداد پانچ لاکھ 13 ہزار تھی جب کہ چار سال قبل جب براک اوباما نے دوسری مدت صدارت کے لیے حلف لیا تو یہ تعداد تین لاکھ 17 ہزار تھی۔

2005ء میں صدر جارج ڈبلیو بش کی افتتاحی تقریب میں دن گیارہ بجے اس ذریعے سے سفر کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ 97 ہزار بتائی گئی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر نے دعویٰ کیا کہ پہلی مرتبہ نیشنل مال کی گھاس کو محفوظ رکھنے کے لیے وہاں سفید چادریں بچھائی گئی تھیں جس سے ایسا لگا کہ کافی جگہ پر لوگ موجود نہیں تھے۔

لیکن چار سال قبل بھی ایسا ہی اہتمام کیا گیا تھا۔

شان سپائسر (فائل فوٹو)

شان سپائسر (فائل فوٹو)

سپائسر کا مزید کہنا تھا کہ “پہلی مرتبہ دھات کی نشاندہی کرنے والے آلات کا استعمال کیا گیا جس سے لاکھوں لوگ ماضی کی نسبت نیشنل مال تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ نیشنل مال کے گرد سکیورٹی کے لیے باڑ لگائی گئی تھی لیکن دھات جانچنے والے آلات کا استعمال نہیں کیا گیا۔

صدر کا ٹرمپ کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ ایک صحافی نے یہ غلط خبر دی کہ اوول آفس سے مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی مورتی ہٹا دی گئی ہے۔

اس صحافی نے بعد ازاں اس غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا سیکرٹ سروس کے ایک ایجنٹ اور دروازے کی وجہ سے وہ یہ مورتی نہیں دیکھ پائے اور انھوں نے اسے ہٹائے جانے کی خبر دے دی تھی۔

اوول آفس میں سابق صدر اوباما کے عقب میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی مورتی (فائل فوٹو)

اوول آفس میں سابق صدر اوباما کے عقب میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی مورتی (فائل فوٹو)

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “لیکن اس سے پتا چلتا ہے کہ میڈیا کتنا بددیانت ہے، ایک بڑی خبر اور پھر اس کی تردید۔ لیکن یہ (تردید) کیا ہے کہ ایک آدھ لائن اور بس۔”

صدر ٹرمپ کا سی آئی اے کے صدر دفتر کا دورہ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے خفیہ ادارے ‘سی آئی اے’ کے ارکان کے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بھر پور حمایت ان کے ساتھ ہو گی

ٹرمپ نے یہ بات ہفتہ کو سی آئی اے کے ہیڈکوارٹر کے دورے کے دوران اہلکاروں سے خطاب کے دوران کہی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ “میں جانتا ہوں کہ بعض اوقات آپ کو وہ حمایت نہیں ملی جس کے آپ متمنی تھے لیکن (اب) آپ کو بہت زیادہ حمایت ملے گی۔ شاید آپ یہ کہیں براہ کرم ہماری اتنی زیادہ حمایت نا کریں۔”

سی آئی اے کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر کا خطاب سننے کے لیے سی آئی اے اسٹاف کے تقریباً چارسو اراکان موجود تھے۔

ٹرمپ نے یہ واضح کیا کہ شدت پسند گروپ داعش کے خلاف جنگ ان کی اولین ترجیح ہو گی اور ان کی انتظامیہ اس معاملے سے نمٹنے کی طریقہ کار کو اور مضبوط کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ “ہم نے جتنی بھی جنگیں لڑی ہیں ان میں سے یہ جنگیں ہم ایک طویل عرصے سے لڑ رہے ہیں۔ ہم نے اپنی حقیقی صلاحیتوں کا استعمال نہیں کیا ہے ہم نے تحمل سے کام لیا۔ ہمیں داعش سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے، داعش کو ختم کرنا ہے ۔ ہمارے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔”

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر کا سی آئی اے کے صدر دفتر کا دورہ کرنا بظاہر معاملات کو بہتر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ قبل ازیں ٹرمپ امریکہ کے انٹیلیجنس اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

ٹرمپ نے عہدہ صدارت پر فائز ہونے سے قبل کئی ماہ تک سی آئی اے اور وفاقی تحقیقاتی ادارے’ ایف بی آئی’ کی ان رپورٹس سے اتفاق کرنے سے انکار کیا کہ روس نے امریکی انتخاب میں مداخلت کرنے کے لیے ڈیموکریٹک نیشنل کنوینشن ( ڈی این سی) کی ای میلز کی ہینکنگ کی تھی ۔

تاہم 11 جنوری کی اپنی پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے یہ تسلیم کیا کہ “میرے خیال میں یہ روس تھا” جس نے ڈی این سی کی ہیکنگ کی لین بعد ازاں انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ شاید چین سمیت کوئی دوسرا (ملک) بھی ہو سکتا ہے۔

امریکہ کے نئے صدر یہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں کہ ماسکو نے یہ حملے ان کی سابق ڈیموکریٹک حریف ہلری کلنٹن کو ناکام بنانے کے لیے کیے تاکہ وائٹ ہاؤس جانے میں ان (ٹرمپ) کی مدد کی جا سکے۔

وہ بارہا انٹیلیجنس ادارواں کی ماضی کی غلطیوں کا ذکر کر چکے ہیں اور انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ امریکہ کی انٹیلیجس برادری نے شاید یہ غیر مصدقہ رپورٹ افشا کی ہو کہ روس کے پاس ان کے خلاف پریشان کن معلومات ہیں۔

ہفتے کو اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کا یہاں آنے کا مقصد ”میڈیا کے ساتھ طویل عرصے سے جاری لڑائی ہے” اور ان کے بقوال انہوں (ذرائع ابلاغ) نے یہ تاثر دیا ہے جیسے میری انٹیلیجنس اداروں کے ساتھ کوئی لڑائی ہے۔”

ٹرمپ نے ایک ایسے وقت سی آئی اے کے صدر دفتر کا دورہ کیا جب کانگرس کے ڈیموکریٹک ارکان ٹرمپ کے سی آئی اے کے نامزد ڈائریکٹر، ایوان نمائندگان کے رکن مائیک پامپیو کی توثیق کے لیے ہونے والی سماعت کو پیر تک موخر کروانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

دوسری طرف ریپبلکن قانون سازوں نے اس معاملےکو موخر کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اختتام ہفتہ خفیہ ادارہ بغیر سربراہ کے ہو گا۔

ٹرمپ نے پامپیو کو سراہتے ہوئے سی آئی اے کے اسٹاف کو کہا کہ ان کے نامزد ڈائریکٹر اس عہدے کے لیے موزوں (شخص) ہیں۔ انہوں ںے کہا کہ وہ ایک باکمال شخص ہیں۔

سی آئی کے صدر دفتر کے دورے سے پہلے نئے صدر نے اپنی اہلیہ، نائب صدر مائیک پینس اور ان کہ اہلیہ کیرن کے ہمراہ واشنگٹن کے نیشنل کیتھیڈرل میں ایک دعائیہ تقریب میں شرکت کی۔

ہفتہ کو قبل ازیں ٹرمپ نے ٹوئیٹر پر امریکی عوام کا جمعہ کو ہونے والی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا اس ساتھ انہوں نے ذرائع ابلاغ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے عمومی طور پر بطور صدر ان کے پہلے خطاب کو سراہا ہے۔

بھارت: ریل حادثے میں کم ازکم 27 افراد ہلاک

بھارت میں ایک مسافر ریل گاڑی کے حادثے میں کم ازکم 27 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

ریاست آندھرا پردیش میں حکام کے مطابق ہفتہ کو دیر گئے جگدلپور سے بھوبنیشور جانے والی ریل گاڑی کا انجن اور نو بوگیاں ویزیانگرم ضلع میں پٹڑی سے اتر گئیں۔

ایسٹ کوسٹ ریلوے کے عہدیدار جے پی مشرا نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ حادثہ کنیرو اسٹیشن کے قریب پیش آیا جہاں انجن کے علاوہ دو سلیپر کوچز اور ایک اے سی کوچ سمیت نو بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔

اس ریل گاڑی میں 22 بوگیاں شامل تھیں۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیموں اور متعلقہ حکام جائے وقوع پر پہنچ گئے لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ زخمیوں کی تعداد ایک سو کے قریب ہے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

حکام کے بقول حادثے کی وجہ سے ریاگادا اور وجیاناگرم روٹ پر ریل گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی۔ اس روٹ پر تین ریل گاڑیوں کو منسوخ جب کہ آٹھ کو متبادل روٹ پر بھیجا گیا۔

حادثے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکی ہیں۔

بھارت کا ریلوے نظام دنیا کے بڑے ٹرین نیٹ ورکس میں سے ایک ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق روزانہ دو کروڑ لوگ ریل کا سفر کرتے ہیں۔ یہاں ریلوے کے پرانے نظام، گاڑیوں اور پٹڑیوں کی نامناسب دیکھ بھال اور بعض اوقات ڈرائیوروں کی غفلت کی بنا پر حادثات بھی ہوتے رہتے ہیں۔

گزشتہ نومبر میں کانپور کے قریب ایک مسافر ریل گاڑی کے پٹڑی سے اتر جانے سے کم از کم 115 افراد ہلاک اور دو سے لگ بھگ زخمی ہو گئے تھے۔

کینیا دس لاکھ ڈیجیٹل روزگار پیدا کرے گا

اس وقت کینیا میں اندازً 40 ہزار افراد آن لائن سافٹ ویئر بنا کر روزگار کما رہے ہیں۔

کینیا نے ڈیجٹیل شعبے میں مہارت پیدا کرنے کے لیے ایک تربیتی پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت ایک سال میں دس لاکھ نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جائے گی۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے نوجوان انٹرنیٹ پر فری لانس کے طور پر کام کر کے روزگار کما سکیں گے۔

حکام کا خیال ہے کہ اس پروگرام کی مدد سے ملک کے نوجوانوں میں شدید بے روزگاری کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

کینیا مشرقی افریقہ کا ایک ایسا ملک ہے جہاں نوجوانوں میں بے روزگاری کی سطح سب سے زیادہ ہے۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ کینیا میں کام کرنے کے اہل 17 فی صد نوجوان بے روزگار ہیں۔جب کہ ہمسایہ ممالک تنزانیہ اور یوگنڈہ میں بے روزگاری کا تناسب بالترتیب ساڑھے پانچ اور 6 اعشاریہ 8 فی صد ہے۔

اس وقت کینیا میں اندازً 40 ہزار افراد آن لائن سافٹ ویئر بنا کر روزگار کما رہے ہیں۔

کینیا اپنے ملک کو براعظم افریقہ میں ایک ڈیجیٹل مرکز بنانا چاہتا ہے۔

کینیا میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد ملکی آبادی کے 85 فی صد سے زیادہ ہے ۔ جب کہ براعظم افریقہ میں یہ تناسب28 فی صد کے لگ بھگ ہے۔

واشنگٹن مارچ کے ساتھ یک جہتی، دنیا بھر میں خواتین کے مظاہرے

ایک ایسے وقت میں جب کہ واشنگٹن میں بڑی تعداد میں خواتین اپنے حقوق کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے جمع ہیں، ان کے ساتھ یک جہتی کے لیے امریکہ کے کئی دوسرے شہروں سمیت دنیا بھر خواتین مظاہرے کر رہی ہیں۔

یہ مظاہرے صدر ڈونلڈٹرمپ کے اپنی چار سالہ مدت کے لیے عہدے سنبھالنے کے ایک روز بعد ہو رہے ہیں۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے لگ بھگ 30 گروپس کو صدارتی حلف برداری اور اس کے بعد مظاہروں کے اجازت نامے جاری کیے ہیں۔

سان فرانسسکو میں حواتین کا مظاہرہ- 21 جنوری 2017

سان فرانسسکو میں حواتین کا مظاہرہ- 21 جنوری 2017

جمعے کے دن ڈونلڈٹرمپ کی حلف برداری کے موقع پر بھی دارالحکومت واشنگٹن ڈی میں ہزاروں لوگوں نے مظاہرے کیے جو کئی مقامات پر تشدد میں بدل گئے۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ عمارتوں کے شیشے توڑے اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور درجنوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔

واشنگٹن میں احتجاجی مظاہروں کی طرح خواتین کی حقوق کی تنظیموں اور شہریوں کے حقوق کے سرگرم کارکنوں اور ماحولیات کے لیے کام کرنے والوں نے صدر ٹرمپ کا اقتدار شروع ہونے کے ساتھ دنیا بھر میں مظاہرے کیے۔

لاس اینجلس میں خواتین کا مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017

لاس اینجلس میں خواتین کا مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017

یہ مظاہرے مسٹر ٹرمپ کے ان تبصروں کے خلاف ہیں جو وہ اپنی طویل انتخابی مہم اور مختلف موقعوں پر خواتین، تارکین وطن، مسلمانوں، نسلی گروپوں، ہم جنس پرستوں، ماحولیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لیے کام کرنے والوں اور کئی دوسروں کے بارے میں کرتے رہے ہیں۔

آسٹریلیا میں ہزاروں مظاہرین نے سنڈنی میں امریکی قونصیلت تک مارچ کیا اور نئے صدر کے خلاف بقول ان کے نفرت پر مبنی بیانات پر احتجاج کیا اور انہیں جنس اور نسل کی بنیاد پر تعصب برتنے والی شخصیت قرار دیا۔

سپین کے شہر بارسلونا میں خواتین کا مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017

سپین کے شہر بارسلونا میں خواتین کا مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017

آسٹریلیا کے ٹیلی وژن کی معروف شخصیت اور مصنفہ ٹریسی سپائسر نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب عالمی تحریک کا حصہ ہیں اور سات براعظموں کے 600 سے زیادہ شہروں میں ہونے والے احتجاج میں ہماری آواز شامل ہے۔

نیروبی میں احتجاجی مارچ کی ایک منتظم ریچل مویکالی نے خبررساں ادارے روئیٹرز سے کہا کہ امریکی خواتین اس تحریک میں اکیلی نہیں ہیں۔ ہم سب ا ن کے ساتھ ہیں۔

ڈبلن آئر لینڈ میں خواتین کا مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017

ڈبلن آئر لینڈ میں خواتین کا مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017

نائیجیریا، جنوبی افریقہ ، ملاوی اور مڈغاسکر سمیت کئی دوسرے افریقی ملکوں میں بھی احتجاجی مظاہرے ترتیب دیے گیے ہیں۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے انٹارکٹیکا سمیت دنیا کے ہر براعظم میں مظاہروں کا بندوبست کیا ہے اور دنیا کے ہر حصے کی خواتین اپنے حقوق کے دفاع کے لیے متحد اور یک زبان ہیں۔

لندن میں ہزاروں خواتین نے امریکی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا ۔ایمسٹرڈم، ہیگ اور برلن سمیت یورپ کے کئی دوسرے شہروں میں بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔

برسلنز مین خواتین کا مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017

برسلنز مین خواتین کا مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017

لاکھوں افغانوں کی مدد کے لیے 55 کروڑ ڈالر کی اپیل

ایازگل

اقوام متحدہ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اسے انسانی ہمدردی کی بنیاد لاکھوں بے یارومددگار افغانوں کی مدد کے لیے 2017 میں 55 کروڑ ڈاالر کی ضرورت ہے۔

اپیل میں کہا گیا ہے لڑائیوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ اور دوسرے ملکوں سے وطن واپس آنے والے لاکھوں افغان باشندے امداد کے منتظر ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی امداد کے کوآرڈی نیٹر مارک بروڈن نے اٖٖفغان دارالحکومت کابل میں اپنی اپیل میں کہا کہ ایک اندازے کے مطابق 57 لاکھ افغان باشندے انتہائی کسمپرسی میں اپنی زندگی گذار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق پچھلے سال دس لاکھ افغان پناہ گزین ہمسایہ ممالک پاکستان اور ایران سے وطن واپس آئے، جب کہ 6 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو لڑائیوں اور انتہاپسندوں کے حملوں کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے۔

اقوام متحدہ کے عہدے دار کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اتنی بڑی تعداد میں بے گھر ہونے والوں کی شام کے علاوہ اور کوئی مثال موجود نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ لوگوں کی نقل مکانی نے بڑے پیمانے پر ان کی امدادی ضرورتوں میں اضافہ کیا ہے ، ہمیں یہ چیز نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ لڑائیوں سے سب سے زیادہ عام شہری ہی متاثر ہوئے ہیں جن میں عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد ہے اور کمزور ہونے کے ناطے انہیں سب سے زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے عہدے دار بروڈن کا کہنا تھا کہ اندازً 93 لاکھ افراد کو، جو افغانستان کی کل آبادی کا ایک تہائی ہیں، سن 2017 میں انسانی ہمدردی کی امداد درکار ہوگی۔ یہ تعداد ایک برس پہلے کے مقابلے میں 13 فی صد زیادہ ہے۔

انسانی ہمدردی کی مدد کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ غربت اور بڑے پیمانے پر جاری تشدد نے افغانستان کے لوگوں کے لیے صحت کی بنیادی سہولتوں تک رسائی مشکل بنا دی ہے۔ تقریباً 40 فی صد آبادی صحت کی دیکھ بھال کے قومی پروگرام سے محروم ہے اور لگ بھگ دس لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں

برف میں دبے ہوٹل سے مزید چار افراد کو نکال لیا گیا

اٹلی میں امدادی کارکنوں نے برفشارسے تباہ ہونے والے ہوٹل کے ملبے سے مزید چار افراد کو زندہ نکال لیا ہے۔

برف کھودنے کی رات بھر جاری رہنے والی امدادی کارروائیوں کے بعدمزید چار افراد کونکال کر اسپتال پہنچا دیا گیاجس کے بعد بدھ کے روز برفانی تودے گرنے سے تباہ ہونے والے ہوٹل میں زندہ بچ جانے والے افراد کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔

اٹلی کے ایک تفریحی قصبے میں واقع ریگوپیانو ہوٹل میں حادثے کے وقت 30 افراد ٹہرے ہوئے تھے۔

اٹلی میں امدادی کارکن ملبے میں پھنس جانے والے افراد کو تلاش کررہے ہیں

اٹلی میں امدادی کارکن ملبے میں پھنس جانے والے افراد کو تلاش کررہے ہیں

دو افراد اس وقت زندہ بچ جانے میں کامیاب ہوگئے جب برفانی تودے گرنے کے دوران وہاں سے نکل گئے۔ ان میں ہوٹل کا شیف گیامپیرو شامل ہے جو اپنے خاندان کے ساتھ ہوٹل میں ٹہرا ہوا تھا۔اس نے فوری طور پر ہوٹل کے مالک کو فون کر کے برفانی تودے گرنے کی اطلاع دی تھی۔

ہفتے کے روز ملبے سے نکالے جانے والے دو بچوں کے بعد ان کا خاندن زندہ بچنے میں کامیاب ہوگیا۔

فائر فائٹر محکمے کے ترجمان البرٹو مائولو نے کہا ہے کہ ہوٹل کے ملبے سے چار نعشیں نکال لی گئیں ہیں۔ جب کہ چار افراد کو برف کھود کر زندہ نکالا گیا۔

اٹلی کے قصبے فارینڈولا میں برفانی تودوں کا نشانہ بننے والا ہوٹل

اٹلی کے قصبے فارینڈولا میں برفانی تودوں کا نشانہ بننے والا ہوٹل

برفشار اور برفانی تودوں کے طوفان سے ہوٹل 5 میٹر اونچی برف کے نیچے دب گیا۔

یہ مقام روم سے 180 کلو میٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ برف کی موٹی تہوں سے گھرے ہوئے اس علاقے میں بدھ کے رو ز زلزلے کے جھٹکے آئے تھے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا برفشار اور برفانی تودے گرنے کا سبب زلزلہ ہی تھا۔

ہوٹل کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ برفانی تودے گرنے سے پہلے ہی ہوٹل میں ٹہرے ہوئے تمام مہمان جانے کے لیے تیار بیٹھے تھے اور سٹرک پر سے برف ہٹائے جانے کا انتظار کر رہے تھے لیکن برف صاف کرنے والے نہیں آئے اور برف کا طوفان آگیا۔