Author Archives: imraneditor

’پدماوت‘ کے ڈیزائنرز کے ملبوسات میں صبا قمر کی ریمپ پر واک

پہلی بار پاکستان کا دورہ کرنے والے ہرپیت اور رمپل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ''ہماری جڑیں پاکستان میں ہیں۔ ہمارے بزرگ متحدہ پنجاب میں رہتے تھے اور بنیادی طور پر ہم گوجرانوالہ کے ہیں۔ پاکستان آکر جو محبت، پیار، اپنائیت اورگرم جوشی ملی وہ غیر معمولی ہے۔‘'

Read More »

قندھار: پولیس سربراہ کے گھر پر خودکش حملہ، جنرل رازق محفوظ رہے

مقامی حکام نے کہا ہے کہ حملے میں افغان پولیس کے دو ارکان بھی ہلاک ہوئے۔ حملے کے وقت جنرل رازق قندھار شہر میں موجود تھے۔ اُنھوں نے بتایا ہے کہ اُن کے اہل خانہ محفوظ ہیں

Read More »

بلوچستان میں دو کوئلہ کانوں میں حادثات سے 19 کان کن ہلاک

ضلعی انتظامیہ کے مطابق، کوئٹہ کے علاقے مارواڑ میں ایک کوئلہ کان کے اندر ہفتے کو صبح 35 کان کن داخل ہوئے تھے۔ دوپہر 12 بجے کان کے اندر گیس کے باعث زوردار دھماکہ ہوا اور کان بیٹھ گئی اور اس میں داخل ہونے کے راستے بھی بند ہوگئے۔ضلع کوئٹہ ہی کے علاقے سپین کاریز میں دوسری کوئلہ کان بیٹھ گئی

Read More »

ایم کیو ایم کا ووٹ بینک ایک ہے، ایک ہی رہے گا: فاروق ستار

انہوں نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ''ہمیں پاپا, پھپھو اور پپو والی پارٹی نے للکارا ہے۔ دس سال سے پاکستان کی واحد خاتون وزیر اعظم کے قاتل کیوں نہ پکڑے گئے۔ کوٹہ سسٹم نے آج بھی جکڑا ہوا ہے''

Read More »

امریکہ، پاکستان اور افغانستان قیام امن کے لئے کوشاں

افغان تجزیہ کار انیس الرحمٰن نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان رابطوں اور ہم آہنگی سے صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے

Read More »

عراق: امریکی قیادت والے اتحاد کا افواج کی تعداد میں کمی لانے کا فیصلہ

اتحاد نے پیر کے روز بغداد میں ایک تقریب میں اعلان کیا کہ فوج کا ہیڈکوارٹر بند کیا جا رہا ہے۔ اعلان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں عراق اور شام میں داعش کے خلاف بڑی حربی کارروائیاں بند ہوں گی، جب کہ اتحاد کی ذمہ داریاں تبدیل ہو جائیں گی

Read More »

کنٹرول لائن پر امن کے باعث پاکستانی کشمیر میں سیاحوں کی آمد میں اضافہ

محکمہ سیاحت کے حکام نے بتایا ہے کہ گزشتہ برس 'سیز فائر لائن' کے بعض سیکڑوں میں گولہ باری اور نیلم میں ہونے والے فائرنگ کے ایک واقع کے باوجود 15 لاکھ سیاحوں نے پاکستانی کشمیر کے مختلف سیاحتی علاقوں کی سیر کی اور ان میں 40 فیصد سے زائد نے وادی نیلم کا رخ کیا

Read More »

میں کسی کی جوتیاں اٹھانے والا نہیں: چوہدری نثار

''مسلم لیگ (ن) کے موجودہ 70 فیصد سے زیادہ رہنماؤں نے پارٹی چھوڑی اور پھر جوائن کی۔ نواز شریف کہتے ہیں پہلے نہیں تھے اب نظریاتی ہوگئے ہیں۔ ان کے اس بیان پر افسوس ہوا۔ نواز شریف واضح کریں کہ ان کا نظریہ کیا ہے۔ کہیں وہ محمود اچکزئی کا نظریہ تو نہیں؟''

Read More »

ڈو مور کے امریکی مطالبے کو دباؤ نہیں سمجھنا چاہیے: مبصر

امریکہ اور پاکستان کے مابین بعض امور پر اختلافات اور کسی قدر تناؤ کے باوجود دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ روابط جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے آ رہے ہیں اور غیر جانبدار حلقوں کے خیال میں خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ان کا باہمی تعاون اور ایک دوسرے پر اعتماد بہت ضروری ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے بعد محکمہ دفاع کی طرف سے بھی ایسا بیان سامنے آیا ہے کہ امریکہ، پاکستان کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنا چاہتا ہے۔ پینٹاگان کی ترجمان ڈانا وائٹ نے ایک نیوز بریفنگ کے دوران پاکستان کی طرف سے انسداد دہشت گردی میں امریکہ کی معاونت سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر کہا کہ ان کا ملک سمجھتا ہے کہ پاکستان مزید اقدام بھی کر سکتا ہے اور ہم ان کی طرف دیکھیں گے کہ خطے میں مزید سلامتی کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے مواقع ڈھونڈنے پر کام کریں گے۔ دونوں ملکوں کے کشیدہ تعلقات میں تناؤ میں اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب رواں سال کے آغاز پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر امریکہ کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس پر اسلام آباد کی طرف سے ناراضی کا اظہار تو کیا گیا لیکن حکومتی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہت اہم ہیں اور دوطرفہ رابطوں کے ذریعے غلط فہمیوں کو دور کرنے پر کام کیا جاتا رہے گا۔ دیگر اعلیٰ سطحی رابطوں کے علاوہ اعلیٰ امریکی سفارتکار ایلس ویلز نے گزشتہ ماہ دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور اس میں بھی مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر اے زیڈ ہلالی کہتے ہیں کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ کی طرف سے 'ڈو مور' کا مطالبہ کسی طرح کا دباؤ ہے۔ ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ "ڈو مور کو منفی انداز میں نہیں لینا چاہیے، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان تھوڑا آگے بڑھے اور ہمارے ساتھ افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں مزید تعاون کرے۔۔۔شاید پاکستان کے ارباب اختیار میں کسی حلقے کا یہ مخصوص ذہن ہو کہ ڈو مور ایک پریشر ہے ہماری کارکردگی کو اس سے نتھی کیا جا رہا ہے، میں نہیں سمجھتا کہ نتھی کیا جا رہا ہے۔" ڈاکٹر ہلالی کے خیال میں امریکہ شاید یہ سمجھتا ہے کہ پاکستانی اپنی موثر حکمت عملی سے اس علاقے میں امن کے لیے بہتر کردار ادا کر سکتا ہے اور اس کی صلاحیتوں کو استعمال کیا جائے۔ پاکستان یہ کہہ چکا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام خود اس کے اپنے مفاد میں ہے اور وہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کی حمایت کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

Read More »

سپریم کورٹ کا خاران میں مزدوروں کے قتل کا از خود نوٹس

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بلوچستان کے ضلع خاران کے علاقے لیجے میں نامعلوم شرپسندوں کی فائرنگ سے 6 مزدوروں کی ہلاکت کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔  رجسڑار سپریم کورٹ کی طرف سے ہفتہ کو جاری اعلامیہ میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس نے خاران کے علاقے میں چھ مزدروں کے قتل کا از خود نوٹس لیا اورآئی جی بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئےانہیں ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔ ازخود نوٹس کی سماعت 11 مئی کو کوئٹہ رجسٹری میں ہوگی۔  صوبہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو فرقہ وارانہ کشیدگی اور شدت پسندوں کی سرگرمیوں کا شکار چلا آ رہا ہے۔ یہاں مختلف تعمیراتی کاموں میں مصروف مزدوروں، سرکاری افسران اور حکومتی عہدیداروں کے اغوا اور قتل کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ بلوچستان میں متعدد کالعدم گروپ اور علیحدگی پسند بلوچ تنظیمیں بھی مسلح کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ان کارروائیوں میں عام شہریوں سمیت سیکڑوں لیویز، ایف سی اور پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف آپریشنز اور کارروائیوں کا آغاز کر رکھا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں کی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک اور گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جاچکا ہے۔ چار مئی کو خاران میں مزدور علاقے میں قائم ایک موبائل ٹاور پر کام کر رہے تھے کہ مسلح شر پسندوں نے ان پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 6 مزدور موقع پر ہی دم توڑ گئے اور ایک شدید زخمی ہوگیا تھا۔ ان تمام مزدوروں کا تعلق پنجاب کے علاقے اوکاڑہ سے تھا۔  سپریم کورٹ کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے ڈیڑھ سال قبل اغوا ہونے والے خاران کے ضلعی چیئرمین کو بھی تاحال بازیاب نہیں کروایا جا سکا اور اس پر بھی صوبائی حکومت اور آئی جی سے جواب طلب کرلیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے دسمبر 2017ء میں ہونے والےکوئٹہ چرچ حملے کے متاثرینکوامداد نہ ملنے پر بھی از خود نوٹس لیا ہے جبکہ بلوچستان حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چیف سیکرٹری کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ اساز خود نوٹس کی سماعت بھی 11 مئی کو کوئٹہ رجسٹری ہو گی۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے زرغون روڑ میں واقع بیتھل میموریل میتھوڈسٹ چرچ میں خودکش دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 3 خواتین سمیت 9 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ 4 دہشت گردوں نے چرچ پر حملہ کیا تھا، جن میں سے ایک کو سیکیورٹی اہلکاروں نے چرچ کے دروازے پر فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔ دوسرے مسلح دہشت گرد نے خود کو چرچ کے دروازے پر دھماکا خیز مواد سے اڑا لیا جبکہ دیگر دو حملہ آور سیکیورٹی اہلکاروں کو دیکھ کر فرار ہوگئے تھے۔  وفاقی اور بلوچستان حکومت نے متاثرین کیلئے امداد کا اعلان کیاتھا جو تاحال انھیں فراہم نہیں کی گئی ہے۔  چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بلوچستان میں پانی کی قلت کا ازخود نوٹس بھی لیا ہے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اور چیف سیکرٹری بلوچستان سمیت سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور ثناء اللہ زہری کو نوٹسز جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔ نوٹس کی سماعت 9 مئی کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کرے گا۔ ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ پر از خود نوٹس کی سماعت بھی گیارہ مئی کو کوئٹہ میں ہوگی۔

Read More »

11 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے 11 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ' آئی ایس پی آر کے مطابق یہ شدت پسند افراد فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور درسگاہوں پر حملوں میں ملوث تھے اور ان دہشت گردوں نے 60 افراد کو قتل کیا جن میں 36 عام شہری اور 24 کا تعلق فوج اور قانون نافذ کرنے والےاداروں سے تھا۔ ان دہشت گردوں کے مقدمات فوجی عدالتو میں چلائے گئے جہاں سے انھیں سزائے موت سنائی گئی۔  بیان میں بتایا گیا کہ  فوجی عدالتوں نے  سزائے موت پانے  11  مجرموں  کے علاوہ تین کو عمر قید کی سزا بھی سنائی۔ ان سب  کا تعلق کالعدم تنظیموں سے بتایا گیا ہے اور انہوں نے عدالت کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف بھی کیا تھا۔  جن مجرموں کی سزائے موت کی توثیق کی گئی ان میں برہان الدین، شاہیر خان، گل فراز، محمد زیب، سلیم، عز ت خان، محمد عمران، یوسف خان، نادر خان، محمد عارف اللہ خان اور بخت محمد خان شامل ہیں۔ بیان کے مطابق برہان الدین، شاہیر خان اور گل فراز نے مردان میں ایک جنازے پر دہشت گرد حملہ کرنے کے جرم کا ارتکاب کیا جس میں 30 عام شہری ہلاک ہوئے جن میں خیبر پختونخواہ کی صوبائی اسمبلی کے رکن عمران خان مہمند بھی شامل تھے۔ واضح رہے کہ فوج کے سربراہ جنرل باجوہ نے گزشتہ ماہ کے اوائل میں بھی 62 مختلف افراد کے قتل میں ملوث 10دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کی تھی۔ ان میں پاکستان کے معروف قوال امجد صابری کے قاتل بھی شامل تھے۔ دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد آئین میں ترمیم کر کے دو سال کے لیے فوجی عدالتوں میں غیر فوجی افراد کے مقدمات چلانے کی منظوری دی گئی تھی اور گزشتہ سال اس مدت میں مزید اضافہ کر دیا گیا تھا۔ یہ عدالتیں اپنے قیام سے اب تک دو سو سے زائد مجرموں کو سزائے موت سنا چکی ہیں۔  انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیمیں فوجی عدالتوں کے قیام کی آغاز ہی سے یہ کہہ کر مخالفت کرتی آئی ہیں کہ ان عدالتوں کی کارروائی ان کے بقول شفاف نہیں۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کامران مرتضیٰ نے ہفتے کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے فوجی عدالتوں میں مقدمات  کی شفاف کارروائی کو یقینی بنانا  بہت ضروری ہے۔ تاہم حکومت اور فوج دونوں ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ ان عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے دوران ملزمان کو ناصرف  وکیل کی خدمات حاصل ہوتی ہیں بلکہ انہیں اپنی صفائی کا پورا موقع بھی دیا جاتا ہے جب کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف وہ ملکی اعلیٰ عدلیہ میں اپیل کا حق بھی رکھتے ہیں۔

Read More »

بحریہ ٹاؤن کو فراہم کی گئی زمینوں کی چھان بین کا حکم

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے ایک بڑے ادارے 'بحریہ ٹاؤن' کے خلاف زمینوں کی خریدوفروخت سے متعلق تین مختلف مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے ادارے کی طرف سے زمینوں کی خریدوفروخت کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ان مقدمات کا فیصلے جاری کیے جن سے بینچ میں شامل جسٹس فیصل عرب تو متفق تھے لیکن تیسرے رکن جسٹس مقبول باقر نے اختلاف کیا۔ عدالت عظمیٰ نے ادارے کو بحریہ ٹاؤن کراچی منصوبے میں زمینوں کی فروخت یا الاٹمنٹ سے اس بنا پر روک دیا کہ یہ زمین سندھ حکومت سے غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی تھی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ "سرکاری زمین حکومت کے پاس واپس جائے گی اور جس زمین کے بدلے بحریہ ٹاؤن کو یہ زمین دی گئی تھی وہ بحریہ ٹاؤن کو واپس کی جائے۔" جن لوگوں کو بحریہ ٹاؤن پہلے ہی یہاں زمین فروخت کر چکا ہے اس بابت عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا کہ چونکہ یہاں بحریہ ٹاؤن کی طرف سے قابل ذکر ترقیاتی کام کیا جا چکا ہے اور سیکڑوں لگوں کو الاٹمنٹ ہو چکی ہے لہذا یہ ادارے کو فراہم کرنے کے لیے بورڈ آف ریونیو قانون کے مطابق نئے سرے سے اجازت دے۔ بینچ نے اس مقصد کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کی کہ وہ ایک بینچ تشکیل دے کر اس فیصلے کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔ مزید برآں احتساب کے قومی ادارے "نیب" کو ہدایت کی بگئی ہے کہ وہ اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف چھان بین کر کے کارروائی کرے۔ بینچ نے فیصلے میں کہا کہ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ سرکاری اراضی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سمیت مختلف ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کو بحریہ ٹاؤن کی نسبت زیادہ کم نرخ پر فروخت کی گئیں، لہذا اگر یہ درست ہے "تو ہم چیف جسٹس سے درخواست کرتے ہیں کہ اس کا از خود نوٹس لیا جائے۔" اسی طرح بحریہ ٹاؤن کو اسلام آباد کے قریب واقع ایک علاقے میں محکمہ جنگلات کی زمین پر تجاوزات کا ذمہ دار بھی قرار دیا گیا اور عدالت عظمیٰ کے بینچ نے زمین کے اس تبادلے کو غیرقانونی قرار دے دیا۔ اس معاملے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بحریہ ٹاؤن نے اپنی ملکیت میں موجود 765 کنال اراضی محکمہ جنگلات کو دی تھی اور محکمے کی ایک ہزار کنال سے زائد زمین حاصل کی تھی۔ بینچ نے محکمہ جنگلات، محکمہ محصولات اور سروے آف پاکستان کو علاقے کی از سر نو حد بندی کرنے کا حکم بھی دیا۔ بینچ نے ایک تیسرے مقدمے میں نیو مری ڈویلپمنٹ پراجیکٹ پر بھی کام بند کرنے کا حکم دیا۔ اس منصوبے سے پر ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کی طرف سے بھی کڑی تنقید دیکھنے میں آ چکی ہے۔

Read More »

افغان امن عمل کے لیے انڈونیشیا میں علماء کے اجلاس کی تیاری

انڈونیشیا کی حکومت نے افغانستان، پاکستان اور انڈونیشا کے علما کے سہ فریقی اجلاس کی میزبانی 11 مئی کو جکارتہ میں کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے  جس کا مقصد افغان جنگ کا پرامن حل تلاش کرنا ہے۔ افغان صدر کے ایک معاون اکرم خپلواک نے اس بات کا انکشاف جمعہ کو دیر گئے جکارتہ میں انڈونشیا کے رہنماؤں سے بات چیت کے بعد کیا ہے۔ انڈونیشیا کے صدر نے رواں سال جنوری میں علما کے سہ فریقی اجلاس کی تجویز پیش کی تھی۔ خپلواک نے اپنے متعدد ٹوٹئر پیغامات میں کہا کہ "افغانستان، پاکستان اور انڈونیشیا کے معروف علماء اس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ "  انہوں نے افغانستان میں قیام امن کے لیے انڈونیشیا کی سنجیدہ کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے علما کا ایک 20 رکنی وفد اس اجلاس میں شرکت کرے گا۔ انڈونیشیا کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس اجلاس میں ہونے والے مباحثے کے بعد ایک متفقہ فتوے کی توقع کرتے ہیں جس کے ذریعے طالبان کو تشدد ختم کر کے کے افغان حکومت کے ساتھ پرامن مذاکرات پر قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ طالبان کا وفد بھی اس کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ تاہم طالبان نے پہلے ہی اس مجوزہ کانفرنس کو مسترد کرتے ہوئے علما سے کہا ہے کہ وہ کانفرنس میں شرکت نا کریں۔ رواں سال مارچ میں طالبان نے کہا تھا کہ اس اجلاس کا مقصد افغانستان پر حملہ کرنے والی غیر ملکی فورسز کی موجودگی کو قانونی جواز فراہم کرنا ہے، ان کا اشارہ افغانستان میں موجود امریکی فورسز کی طرف ہے۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ اس " گمراہ کن" کوشش کا مقصد غیر ملکی قبضے کے خلاف جاری "مقدس جہاد" کو" غیر قانونی" قرار دینا ہے۔ بیان میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ "افغانستان میں حملہ کرنے والے کو یہ موقع نا دیں کہ وہ آپ کے نام اور آ پ کی اس (اجلاس) میں شرکت کو اپنے غلط عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کرے۔" انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے دنیا میں سب سے بڑا مسلمان ملک ہے اور تقریباً 26 کروڑ کی آبادی کے اس ملک میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 87 فیصد ہیں۔ افغانستان کے عہدیدار طالبان کے خلاف انڈونیشیا کے علماء کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان نے بھی انڈونیشیا کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے سہ فریقی اجلاس کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔ پاکستان پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ طالبان کی حمایت کرتا ہے تاہم اسلام آباد افغان طالبان کی حمایت کرنے کے الزام کو مسترد کرتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ پاکستان کے استحکام کے لیے ہمسایہ ملک میں امن ضروری ہے۔ دوسری طرف طالبان کا موقف کہ وہ اس وقت تک لڑائی ختم کر کے افغان حکومت سے بات چیت شروع نہیں کریں گے جب تک غیر ملکی فورسز افغانستان نے نکل نہیں جاتی ہیں۔  افغانستان کے 407 اضلاع میں سے نصف پر یا تو باغیوں کا کنٹرول ہے یا وہاں لڑائی جاری ہے اور حالیہ ہفتوں میں انھوں نے اپنی عسکری کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ دوسری طرف افغان فورسز نے امریکی فورسز کی فضائی مدد کے ساتھ ملک بھر میں عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی کارروائیاں بھی تیز کر دی ہیں۔

Read More »

سری نگر میں کشیدگی اور تناؤ میں پھر اضافہ

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے گرمائی صدر مقام سری نگر میں ہفتہ کو اُس وقت بڑے پیمانے پر تشدد بھڑک اُٹھا جب شہر کے چھتہ بل علاقے میں ایک مکان میں محصور تین مشتبہ عسکریت پسندوں کو حفاظتی دستوں نے ایک آپریشن کے دوران ہلاک کردیا۔ پندرہ لاکھ آبادی والے شہر کی سڑکوں پر تعینات پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتعل افراد کی طرف سے سنگباری کے واقعات میں اُس وقت شدت آگئی اور بھارت مخالف مظاہروں کا دائرہ مزید علاقوں تک پھیل گیا جب یہ خبر پھیل گئی کہ سرینگر کے نور باغ علاقے میں پولیس نے پتھراؤ کرنے والوں پر اپنی گاڑی چڑھا دی جس کے نتیجے میں ایک نوجوان بُری طرح زخمی ہونے کے بعد اسپتال میں چل بسا۔ پولیس نے تاہم اسے محض ایک سڑک حادثہ قرار دیتے ہوئے لوگوں سے افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل کی۔ عینی گواہوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں زخمی ہونے والے نوجوان عادل احمد یڈو کو سری نگر کے سرکاری ایس ایم ایچ ایس اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا۔ اسپتال کے باہر جمع ہونے والے لوگوں کے جمِ غفیر نے جب نوجوان کی نعش کو وہاں سے جلوس کی صورت میں اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی تو پولیس نے اُس پر دھاوا بول دیا اور اشک آور گیس کا استعمال کرتے ہوئے لاش اپنے قبضے میں لے لی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ چھتہ بل کے گاسی محلہ میں لشکرِ طیبہ کے ضلع کمانڈر برائے سری نگر معراج الدین بنگرو اور اُس کے ایک ساتھی کے ایک گھر میں موجود ہونے کہ مصدقہ اطلاع ملنے کے فورا" بعد حفاظتی دستوں نے علاقے کو گھیرے میں لیکر آپریشن شروع کردیا۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر امتیاز اسماعیل پّرے نے بتایا کہ جونہی گھیرا تنگ کیا گیا اور اُس مکان کی طرف پیش قدمی شروع کی گئی تو انہوں (عسکریت پسندوں) نے حفاظتی دستوں پر گولی چلادی اور اس کے ساتھ ہی طرفین کے درمیان جھڑپ شروع ہوگئی۔ پولیس سربراہ شیش پال وید نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ تینوں عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں بھی کہا کہ "چھتہ بل میں انکاؤنٹر اختتام کو پہنچا ہے۔ جموں وکشمیر پولیس اور (وفاقی) سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے اس صاف آپریشن کے دوران ہلاک کئے گئے تین دہشت گردوں کی لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں۔ شاباش میرے لڑکو!"۔ سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے انسپکٹر جنرل روی دیپ ساہی نے بھی تین عسکریت پسندوں کے مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شناخت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اگرچہ آپریشن اختتام کو پہنچا ہے، علاقے میں تلاشی کارروائی جاری ہے۔" عہدیداروں نے یہ بھی بتایا کہ جھڑپ کے دوران بھارت کی وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف کا ایک افسر ( اسسٹنٹ کمانڈنٹ) زخمی ہوا ہے۔ چھاپہ مار کارروائیوں، مظاہرین اور حفاظتی دستوں کے درمیان جاری جھڑپوں کے دوراں شہر کے کئی علاقوں میں بازار بند کردئے گئے ہیں اور سڑکوں پر سے گاڑیاں ہٹالی گئی ہیں۔ بیشتر اسکولوں اور کالجوں کو بھی بند کرکے طالبعلوں کو گھر بھیج دیا گیا ہے۔ حکام نے ہائی اسپیڈ موبائیل فون انٹرنیٹ سروسز بند کردی ہیں تاکہ ان کے بقول افواہوںکو روکا جاسکے۔ اس سے پہلے پولیس نے جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے چئیرمین محمد یاسین ملک کو سری نگر کے ما ئسومہ علاقے میں اُن کے گھر پر چھاپہ مارکر حراست میں لے لیا تھا جبکہ دو اور سرکردہ آزادی پسند راہنما ؤں سید علی شاہ گیلانی اور میرواعظ محمد عمر فاروق کو اُن کے گھروں میں نظر بند کردیا گیا ہے۔ یہ تینوں ہفتہ کو شہر کے ایک ہوٹل میں پریس کانفرنس کرنے والے تھے۔ اس دوراں پولیس نے بتایا کہ جنوبی ضلع پلوامہ میں مشتبہ عسکریت پسندوں نے ایک اسپیشل پولیس افسر شوکت احمد ڈار کو ایک پٹرول پمپ پر گولی مارکر ہلاک کردیا۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ دہشت گردوں نے جن کا تعلق لشکرِ طیبہ سے ہونے کی اطلاع ہے شمالی ضلع بانڈی پور کے حاجن علاقے میں ایک 45 سالہ شہری غلام حسن ڈار عرف حسن رسہ اور اس کے 26 سالہ بھتیجے بشیر احمد ڈار کو اُن کے گھروں میں زبردستی گھس کر اغوا کرلیا اور پھر دونوں کو قتل کردیا۔ پولیس کے مطابق چچا، بھتیجے کی گولیوں سے چھلنی لاشیں حاجن کے رحیم ڈار محلے میں سڑک پر ملی ہیں۔ یہ علاقے میں حالیہ ہفتوں میں پیش آنے والا اس نوعیت کا چوتھا واقعہ ہے۔ اس طرح کے پہلے واقعات میں پانچ افراد مارے گئے تھے۔

Read More »

شمالی و جنوبی کوریا کا ٹائم زون ایک ہو گیا

شمالی کوریا نے ہفتہ کو اپنے معیاری وقت کو جنوبی کوریا سے ہم آہنگ کر لیا جس کا فیصلہ گزشتہ ہفتے دونوں ملکوں کے صدور کے درمیان ہونے والی تاریخی ملاقات میں کیا گیا تھا۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے جنوبی کوریا کے صدر مون جئی ان سے ملاقات میں اس عزم کا اقدام کیا تھا اور ہفتہ کو شمال کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ اس کا باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔ دونوں کوریائی ملک دہائیوں تک ایک ہی ٹائم زون کے مطابق چل رہے تھے لیکن 2015ء میں شمالی کوریا نے 'پیانگ یانگ ٹائم' کے نام سے اپنی الگ ٹائم زون بناتے ہوئے اپنے معیاری وقت کو جنوبی کوریا اور جاپان سے 30 منٹ پیچھے کر لیا تھا۔ اُس وقت یہ کہہ کر یہ تبدیلی کی گئی تھی کہ اس کا مقصد جزیرہ نما کوریا میں 1910 سے 1945 تک ٹوکیو کے نو آبادیاتی دور کی نشانی کو ختم کرنا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا تھا کہ وقت کو ہم آہنگ کرنا صدور کی تاریخی ملاقات میں شمالی و جنوبی کوریا کو قریب لانے کے مختلف فیصلوں کے تناظر میں "پہلا عملی اقدام" ہے۔ شمالی کوریا نے حال ہی میں اپنے جوہری اور میزائل تجربات کو معطل کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

Read More »

ٹیلیگرام پر عدالتی پابندی جمہوریت کے منافی ہے: روحانی

ایران کے صدر حسن روحانی نے عدالت کی طرف سے انٹرنیٹ پر پیغام رسانی کی سروس 'ٹیلیگرام' پر پابندی عائد کیے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت اس اقدام کی حمایت نہیں کرتی۔ اپنے انسٹاگرام پر روحانی کا کہنا تھا کہ "حکومت ایک محفوظ انٹرنیٹ چاہتی ہے نہ کہ کنٹرول شدہ۔" انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کے لیے نہ تو حکومت نے حکم دیا اور نہ ہی وہ اس کی توثیق کرتی ہے۔ "ہم معلومات کی آزادانہ فراہمی کے ساتھ ساتھ انتخاب کی آزادی کے شہری حقوق چاہتے ہیں، یہ اقدام جمہوریت کے منافی ہے۔" ایران کی میڈیا و ثقافت کی عدالت نے گزشتہ ہفتے یہ کہہ کر کر ٹیلیگرام پر پابندی عائد کر دی تھی کہ یہ ایران کی سلامتی کے لیے خطرے پر مبنی اقدام کے استعمال کی جاتی رہی جن میں گزشتہ دسمبر اور رواں سال جنوری میں ہونے والےمظاہروں، پارلیمنٹ پر حملے اور گزشتہ جون میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے مزار پر حملے پر اکسانے میں استعمال کی گئی۔ عدالت کی طرف سے اس پابندی کے لیے کئی ماہ تک ملک کی مذہبی اشرافیہ اور حکومت میں سخت گیر موقف رکھنے والے اس اقدام کے لیے زور دیتے آ رہے تھے۔ گو کہ صدر روحانی اس عدالتی حکم کو تنقید کر رہے ہیں لیکن 'الجزیرہ نیٹ ورک' کے مطابق ایران میں بہت سے لوگ اس پر روحانی کو ہی ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایران کی آبادی کا ایک بڑا حصہ 'ٹیلیگرام' کو اپنے کاروباری اور تفریحی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ٹوئٹر، فیس بک اور یوٹیوب پر بھی ایران میں حکومت نے کئی سال تک پابندی عائد کیے رکھی تھی۔ ٹیلیگرام روس میں بھی بہت مقبول ہے اور وہاں بھی حال میں پابندی عائد کی تھی جس پر مظاہرے بھی دیکھنے میں آ چکے ہیں۔

Read More »

عدالتی فیصلے کی غلط رپورٹنگ پر 17 ٹی وی چینلز پر جرمانہ

ٹیلی وژن چینلز کے نمائندوں کے دلائل سننے کے بعد پمرا نےیہ محسوس کیا کہ انہوں نے الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی خلاف ورزی کی ہے اور اس سلسلے میں اتھارٹی کی جانب سے 6 اپریل کو جاری کیے جانے والی ہدایت کو نظر انداز کیا ہے۔

Read More »

افغان ضلع کو ہستان پر طالبان کا قبضہ، سیکیورٹی فورسز پسپا ہو گئیں

بدخشاں صوبائی کونسل کی ایک رکن طاہرہ صباح عالمیار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دو اہم ضلعی عمارتوں کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ طالبان نے ٹیلی مواصلات کا نظام بھی کاٹ دیا ہے۔

Read More »

علاج کے لیے پانچ ماہ کی بیٹی بیچ دی

اپنے دیور کے علاج کے لیے رقم کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے عبیدہ نے اپنی پانچ ماہ کی بیٹی مہربان ایک ایسے جوڑے کے ہاتھ  بیچ دی جن کی اولاد نہیں تھی۔

Read More »

مانسہرہ میں ایک خواجہ سرا کا قتل

ایک غیر سرکاری تنظیم بلیو  وینز کے اعداد وشمار کے مطابق صرف خیبر پختون خوا میں 2015 کے آغاز سے اب تک تقریباً 57 خواجہ سراؤں کو قتل کیا جا چکا ہے۔

Read More »

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow